ذیشان خان

Administrator
داڑھی رکھنے، یا ٹخنے سے اوپر پینٹ، پاجامہ لنگی وغیرہ پہننے والے کا مذاق اڑانا۔

▪کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کوئی مسلمان بھائی ٹخنے کے اوپر پینٹ وغیرہ پہنتے ہیں تو کچھ لوگ مذاق کے طور پر یہ کہہ دیتے ہیں کہ (یار کپڑا کم پڑ گیا تھا کیا...) یا اسی طرح کے دوسرے جملے اسے سنا دیا جاتا ہے.

✒علامہ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں : کسی مسلمان کا اس کے دینی اور شرعی کام پر مذاق اڑانا انتہائی قبیح اور بہت بڑا گنا ہے. چنانچہ اگر کوئی شخص یہ سمجھ کر دینی کام کا مذاق اڑاتا ہے کہ یہ شرعی کام غلط اور بے وقوفی والا عمل ہے تو ایسا شخص کافر ہوجاتا ہے. جیسا کہ سورہ توبہ کی آیت نمبر (65) میں اللہ تعالیٰ نے شریعت کا مذاق اڑانے والے کو کافر بتایا ہے. اور اگر کوئی شخص کسی خاص انسان کی دینی عمل (جیسے داڑھی یا ٹخنے سے اوپر پینٹ پاجامہ پہننے) کا مذاق اڑاتا ہے لیکن اس مذاق اڑانے والے کے دل میں یہ بات ہے کہ یہ داڑھی یا ٹخنہ سے اوپر پینٹ ایک دینی عمل ہے لیکن وہ صرف کسی خاص آدمی کے ٹخنے سے اوپر پینٹ کا یا داڑھی کا مذاق اڑاتا ہے تو ایسا آدمی گرچہ کافر نہیں ہے لیکن پھر بھی اس نے ایک بہت عظیم جرم کا ارتکاب کیا ہے اس گھناؤنی اور خطرناک حرکت سے بچنا انتہائی ضروری ہے. ایک مسلمان کے اوپر یہ واجب ہے کہ وہ دینی کاموں کا احترام کرے اور اس کا مذاق نہ اڑائے. اللہ تعالیٰ ہم سب کو ایسی حرکت سے بچائے (آمین).

📚 دیکھیے : فتاویٰ نور علی الدرب - ابن باز - الشويعر - جلد (4)صفحہ (173)
 
Top