ذیشان خان

Administrator
سنن مؤکدہ اور سنن غیرمؤکدہ کی تقسیم
===================
پنچ وقتوں کی نمازوں میں سنن مؤکدہ یعنی وہ سنتیں جن کی تاکید وارد ہوئی ہے یا جن پر نبی ﷺ نے مداومت کی ہے ان کی تعداد بارہ رکعات آئی ہیں۔
سیدہ اُمّ حبیبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
سمعت رسول اﷲﷺ یقول: «من صلّىٰ اثنتی عشرة رکعة في یوم ولیلة بُني له بهن بیت في الجنة» (صحیح مسلم:٧٢٨)
ترجمہ:میں نے رسول اللہﷺ سے سنا كہ جو شخص دن اور رات میں ١٢ رکعات پڑھ لے، اُن کی وجہ سے اس کے لئے جنت میں ایک محل بنا دیا جاتا ہے۔
ان بارہ رکعات سنن مؤکدہ کی تفصیل اس طرح ہے :
فجر سے پہلے دو رکعت، ظہر سے پہلے چاررکعت اور ظہر کے بعد دو رکعت، مغرب کے بعد دو رکعت اورعشا کے بعد دو رکعت۔ (بعض احادیث سے دس رکعات سنن مؤکدہ کا بھی پتہ چلتا ہے اس صورت میں ظہر کی فرض نماز سے پہلے دو رکعت ہے)
اب کچھ لوگ اُن سنتوں کا نام جن کی تاکید اِس طرح نہیں آئی ہے یا جن پر نبی ﷺ نے ہمیشگی نہیں کی ہے سنن غیرمؤکدہ رکھتے ہیں جن کا نام نوافل رکھنا زیادہ بہتر ہے ۔ بظاہر نوافل کو سنن غیرمؤکدہ کہنے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن لوگوں کے ذہن میں ایک تصور پیدا ہوتا ہےکہ سنن غیرمؤکدہ کی اہمیت نہیں ہے جبکہ نوافل بھی اللہ کے تقرب کا ذریعہ اور نامہ اعمال میں گراں قدر اضافہ کا باعث ہے۔ نیز لوگ مؤکدہ و غیرمؤکدہ کو نماز کے علاوہ دیگر مسائل پر بھی فٹ کرتے ہیں جس کی وجہ سے عوام میں اس کا اچھا اثر نہیں دیکھا جاتاہے ۔ ویسے سنت کا مفہوم ہی لوگ غلط لیتے ہیں ، نبی ﷺ کے ہرعمل کو سنت کہا جاتا ہے یعنی اس تصور کے ساتھ کہ اس پر عمل جائے تو ٹھیک نہیں کیا جائے تو کوئی حرج نہیں فرض وواجب نہیں ہے۔ یہ غلط تصور ہے ۔
مثال کے طور پر داڑھی جوکہ واجبی فریضہ ہے لوگ اسے محض سنت سمجھ کر چھوڑدیتے ہیں اور ترک واجب کی وجہ سے ہزاروں لوگ گنہگار ہورہے ہیں۔اس طرح نماز میں سنت اور اس کی تقسیم سے لوگوں میں یہ خرابی پیدا ہوئی ہے اس لئے اس تقسیم سے بچا جائے جہاں تک فقہی اصطلاح میں احکام کی تقسیم ہے اس کا معاملہ الگ ہے ۔
واللہ اعلم
کتبہ
مقبول احمد سلفی
 
Top