ذیشان خان

Administrator
اللہ بہترین رزق مہیا کرنے والا ہے ..
بیشک !

نفع و نقصان اللہ کے اذن کے بغیر کوئی اور پہنچانے پہ قدرت نہ رکھتا ہے ..
یقینا !
...
اور حلال رزق کے حصول کے لیے تگ و دو کرنے والے کی مخالفت اسوجہ سے شروع کر دی کہ وہ میرے مقابلے میں آیا ہے یا آ رہا ہے .. بڑا ہی گھٹیا آدمی ہے ...
لہذا، اس کا بندوبست کرکے اب بتایا جائے گا کہ اس نے حلال کمانے کا وہ سبب کیوں اختیار کیا جسے میں نے اختیار کیا - کیا صرف یہی ایک کام باقی بچا ہے کہ جس میں اب سب نے شریک ہونا ہے ؟
...
لیکن، آپ تو وہی موحد ہیں جس کا کل تک تو یہ دعوی تھا رزاق آسمان والا ہے، اسی تنہا نے سب کا ذمہ لے رکھا ہے۔ اسکے علاوہ کوئی دوسرا کسی کو نہ تو کچھ عطا کر سکتا ہے اور نہ ہی کچھ چھین سکتا ہے ..
اور کچھ عرصہ قبل ہی تو آپ نے "بندہ اگر اللہ کی طرف متوجہ رہے تو اللہ اپنے اس بندے کا خیال رکھتا ہے" عنوان کے تحت یہ حدیث شیئر کی تھی :
"تم اللہ کے احکام کی حفاظت کرو، وہ تمہاری حفاظت فرمائے گا، تو اللہ کے حقوق کا خیال رکھو اسے تم اپنے سامنے پاؤ گے، جب تم کوئی چیز مانگو تو صرف اللہ سے مانگو، جب تو مدد چاہو تو صرف اللہ سے مدد طلب کرو، اور یہ بات جان لو کہ اگر ساری امت بھی جمع ہو کر تمہیں کچھ نفع پہنچانا چاہے تو وہ تمہیں اس سے زیادہ کچھ بھی نفع نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے، اور اگر وہ تمہیں کچھ نقصان پہنچانے کے لیے جمع ہو جائے تو اس سے زیادہ کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتی جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دیا ہے ..."
پھر اچانک سے یہ کیا ہو گیا آپ کو ؟
اور ہر انسان کو اسکی کوشش و محنت کے مطابق ہی کم یا زیادہ دیا جاتا ہے !
...
جاؤ اپنا کام کرو .. مجھے اب توحید پہ لیکچر نہ دو ... مجھے سب سمجھ ہے۔
آدھی دنیا قبریں چاٹ رہی ہے .. انکی فکر کرو اور تم آگئے مجھ‌ توحید سے آگاہ کو سمجھانے ..
والسلام !
...
اللہ تعالی نے شرک کی تردید اور توحید الٰہی کی دلیل کے طور پر جن سوالات کو بار بار پوچھا، ان میں : "آسمان و زمین سے رزق کون دیتا ہے ؟
آسمان سے بارش برسانے والا اور زمین سے تمھارے کھانے اور ضرورت کی ہر چیز پیدا کر کے تمھیں روزی دینے والا کون ہے ؟" خصوصی طور پر شامل ہیں۔
اسکے ساتھ ہی مشرکوں تک کے رسپانس کو ذکر کیا گیا کہ وہ بھی ضرور ان سوالات کے جواب میں کہیں گے کہ : یہ سب صرف اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔

اللہ ہی سچا پالنے والا ہے، اور حق کے بعد گمراہی کے سوا ہے ہی کیا ؟ .. [یونس : ۳۲]
یعنی اللہ کے رب ہونے پہ مکمل ایمان نہ لانے والا گمراہی کی راہ کا مسافر ہے۔ بھلے اسکا دعوی کچھ بھی ہو، کیونکہ حق کے مقابلے میں گمراہی کے سوا کچھ نہیں !
...
شیخ عبدالرحمن بن ناصر السعدی رحمہ اللہ ایمان نافع کے بارے میں کہتے ہیں کہ ؛ اس معاملے میں قطعی یقین سے بہرہ ور ہونا، جس پر اللہ تعالیٰ نے ایمان رکھنے کا حکم دیا ہے، جس میں کسی لحاظ سے بھی شک و شبہ کا شائبہ نہ ہو۔ [تفسیر السعدی]

محمد یاسر خلیل ....
 
Top