ذیشان خان

Administrator
رات کی نماز کے دو عظیم فائدے

📄 اللہ تعالی کا فرمان ہے: "إِنَّ نَاشِئَةَ اللَّيْلِ هِيَ أَشَدُّ وَطْئًا وَأَقْوَمُ قِيلًا" (سورۃ المزمل : ٦)
"رات کا اٹھنا یقینا (نفس کو) بہت زیر کرنے والا ہے اور قرآن پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں وقت ہے۔"

✍🏻 مولانا عبد الرحمن کیلانی رحمه اللہ مذکورہ آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :

⬅ " وَطَأ بمعنی روندنا، پامال کرنا، سب کس بل نکال دینا۔ یعنی رات کو جاگ کر اپنے نفس کو اللہ کی عبادت پر آمادہ کرنا نفس کی سرکشی کو دور کرنے اور اس کے کس بل نکالنے کے لیے بہت موثر علاج ہے۔ البتہ اس سے نفس کو کوفت بہت ہوتی ہے۔ اور (وَطَأ عَلَی الاَمْرِ) کا دوسرا معنی کسی کام کو اپنی مرضی کے موافق آسان بنالینا بھی ہے۔ گویا شب بیداری اگرچہ نفس پر بہت گراں بار ہے تاہم یہ نفس کی اصلاح کے لیے اور جس کام کے لیے ہم آپ (صلی اللہ علیه وآله وسلم) کی تربیت کرنا چاہتے ہیں، نہایت مناسب اور مفید رہے گی۔

⬅ (أقْوَمُ قِیْلاً) یعنی بات کو زیادہ درست بنانے والا۔ یعنی شب بیداری کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ اس وقت دل و دماغ تازہ ہوتے ہیں۔ شوروغل نہیں ہوتا۔ لہذا اس وقت جو قرآن پڑھا جائے گا، طبیعت پوری توجہ سے اس میں غور و فکر کرے گی۔ گویا قرآن کے مطالب سمجھنے اور اس سے اثر پذیری کے لیے یہ وقت موزوں ہے۔

📖 |[ تيسير القرآن : ٥٤١/٤ ]|
 
Top