ذیشان خان

Administrator
ایک دیوبندی مولوی کے چھ سوالات کے جوابات

تحریر :عبد الخبیر السلفی بدایونی


ہندوستان میں جب سے کتاب وسنت کی روشنی عام ہوئی ہے اور لوگ کتاب و سنت کو سمجھنے لگے ہیں تب سےتقلیدی پکڑ ڈھیلی ہوتی جا رہی ہے نتیجتا مقلدین عموماً خصوصاً احناف مقلدین اپنی مقلد عوام کو تقلیدی روش پر قائم رکھنے اور ان کو کتاب و سنت سے دور رکھنے کے لئے کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور اس کے لئے اوچھی حرکتوں پر اتر آئے ہیں اور بے جا سوالات کرکے اہل حدیثوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں لگے ہوئے ہیں ایسے ہی کچھ سوالات حافظ محمد رفیق دیوبندی کی طرف سے ملے ہیں جو بزعم خیش خادم اہل السنت و الجماعت ہیں : سطور ذیل میں ان سوالات کا مختصراً جائزہ لیا جا رہا ہے

1:سوال کا خلاصہ یہ کہ اگر مقلدین حنبلی مالکی شافعی اور حنفی تمام گمرہ اور جہنمی ہیں تو ائمہ کعبہ جو حنابلہ ہیں اور أئمہ مسجد نبوی جو مالکیہ ہیں ان مقلدین کے بارے میں کیا فتوی لگاتے ہو ؟

جواب :سب سے پہلی بات تو یہ کہ اہل حدیث منہج کتاب و سنت پر مبنی ہے اور اہل حدیث کے نزدیک تمام اہل قبلہ مسلمان ہی ہیں اور وہ ان پر بلا وجہ کفر اور شرک کا فتوی نہیں لگاتے . لہذا اگر تقلید کتاب و سنت کے مقابلہ میں نہیں ہے تو ایسی تقلیدی نسبت کو اہل حدیث گمراہی یا شرک فی الرسالت نہیں کہتے , البتہ وہ تقلید جو کتاب و سنت کے مقابلہ میں ہو جیسے اصول کرخی میں ہے وہ یقینا گمراہی ہے اس کی تفصیل اگر دیکھنا ہے تو "معیار حق "اور اہل حدیث کا مذہب وغیرہ کتب یا موجودہ دور میں رضاء اللہ عبد الکریم المدنی حفظہ اللہ کی کتاب "بارہ مسائل بیس لاکھ انعام کا حقیقت پسندانہ جائزہ "میں دیکھی جا سکتی ہے, تو پہلے تو یہ ثابت کیا جائے واقعی ائمہ حرمین کی تقلید کتاب و سنت کے مقابلہ میں ہے ؟؟؟ پھر اہل حدیث سے یہ سوال کیا جائے, یہ مت کہنا کہ مقلدین کتاب و سنت کے مقابلہ میں تقلید نہیں کرتے ہیں ,اگر اس کو دیکھنا ہے تو صرف نصب الرایہ میں ہی احادیث خصوم کا مطالعہ کافی ہوگا

دوسری بات یہ کہ اہل حدیث پر یہ الزام ہے کہ اہل حدیث کے نزدیک تمام مقلدین گمراہ ہیں ہاں بعض مقلدین گمراہ اور جہنمی ہیں , اچھا حافظ جی ! آپ اپنے حقیقی تقلیدی بھائی احمد رضا کے بارے میں کیا فتوی دوگے جس نے آپ کے تمام اکابرین کو جہنم رسید کردیا ہے ؟؟؟ جواب ذرا سوچ سمجھ کر دینا
تیسری بات یہ کہ یہ آپ کی خوش فہمی ہے کہ حرمین شریفین کے ائمہ آپ ہی کی طرح سڑے ہوئے مقلد ہیں اس غلط فہمی کو جتنا جلدی ہو سکے دور کر لیجئے آپ کے لئے اچھا ہوگا

سوال :دوسرے سوال کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کہتے ہو کہ امام ابو حنیفہ سے پہلے لوگ کس کی تقلید کرتے تھے ؟ تو آپ بو لو علامہ بخاری سے پہلے لوگ کون سی بخاری شریف پڑھتے تھے ؟

جواب :اس سوال کا جواب یہ ہے کہ ہمارے سوال کا جواب تو آپ نے دیا نہیں اور یہ آپ کے بس کا روگ بھی نہیں! جناب امام ابو حنیفہ سے پہلے ہی نہیں بلکہ بقول شاہ ولی اللہ محدث دہلوی چوتھی صدی میں مذموم تقلید کی ابتدا ہوئی ہے تفصیل کے لئے حجۃ اللہ البالغہ کا مطالعہ مفید ہوگا اور جو آپ نے بخاری شریف پر سوال اٹھایا ہے وہ آپ کی بے بسی اور محدثین کرام سے آپ کے بغض عناد پر دلالت کر رہا ہے جناب عالی ! بخاری کوئی بھی مسلمان واجب سمجھ کر نہیں پڑھتا ہے جیسا کہ آپ تقلید واجب سمجھ کر کر رہے ہیں آپ کے اس سوال سے یہ تو خوب اچھی طرح معلوم ہوگیا کہ آپ کے پاس امام ابو حنیفہ کی تقلید پر کوئی دلیل نہیں ہے اور رہی بات احادیث بخاری کی تو وہ اس وقت بھی پڑھی جا رہی تھیں جبکہ امام ابو حنیفہ پیدا بھی نہیں ہوئے تھے اچھا آپ بتلائے امام ابو حنیفہ کے بعد پانچویں صدی تک کون سی قدوری, ہدایہ, شرح الوقایہ لوگ پڑھتے تھے ؟؟؟

سوال نمبر تین کا خلاصہ یہ ہے کہ آپ کہتے ہو ہر حدیث سنت ہے حدیث اور سنت میں کوئی فرق نہیں. تو آپ بولو اگر آپ کے اصول کے مطابق ہر حدیث سنت ہے, تو بعض احادیث جو ضعیف ہیں تو کیا بعض سنتیں بھی ضعیف ہیں ؟؟

جواب اس سوال کا یہ ہے کہ اس سوال سے آپ کی جہالت اچھی طرح واضح ہوگئی اسی قابلیت کی بنیاد پر کہتے ہو فقہ حنفی قرآن و حدیث کا نچوڑ ہے تف ہے تمہاری سمجھ اور قابلیت پر! جناب یہ اصطلاحیں ہیں ان کو آپ جیسا جاہل مقلد نہیں سمجھ سکتا! محدثین کے یہاں حدیث اور سنت میں کوئی فرق نہیں ہے اگر آپ کو اتنا تمیز نہیں ہے تو بقول خود اپنے مقلد بھائی ابن حجر کی نذہۃ النظر جلال الدین سیوطی کی تدریب الراوی کا مطالعہ کرلیا ہوتا جناب کو اتنا معلوم ہونا چاہئے کہ حدیث کو ضعیف اس لئے نہیں کہا جاتا کہ وہ حدیث ہے بلکہ اس لئے کہا جاتا کہ اس کی نسبت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کمزور ہے حافظ جی ! آپ مقلد ہیں مقلد (جاہل) ہی رہیے مجتہد مت بنیے!! اچھا بتلائے کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث بھی ضعیف ہو سکتی ہے ؟؟ سوچ سمجھ کر جواب دینا.

سوال نمبر چار کا خلاصہ یہ ہے کہ
آپ کہتے ہو تقلید ہوتی کسی امتی کی بات اس حسن وظن سے بغیر طلب دلیل کے مان لینا کہ یہ جو بات کرتا ھے یہ عین مطابق شریعت کہتا ھے
تو اب آپ بتاؤ کہ محدثین نے جن احادیث کو ضعیف قرار دیا ھے
آپ نے ان محدثین پر اعتبار کرکے ان احادیث کو ضعیف مان لیا یا دلیل طلب کی اگر نہیں تو کیا یہ تقلید نہیں ۔؟
اگر یہ تقلید نہیں تو وہ تقلید کیسے ؟

جواب : اس سوال کا جواب دینے سے پہلے تقلید کس کو کہتے ہیں یہ جان لیا جائے ,حنفیوں کی معتبر کتاب ”مسلم الثبوت“ میں لکھا ہے

”التقلید: العمل بقول الغیرمن غیر حجةکا خذ العامی والمجتھد من مثلہ، فا لرجوع الی النبی علیہ الصلاٰة والسلام او الی ا الجماع لیس منہ و کذا العامی الی المفتی والقاضی الی العدول لا یجاب النص ذلک علیھما لکن العرف علی ان العامی مقلد للمجتھد، قال الامام: وعلیہ معضم الاصولین“ الخ

تقلید کسی دوسرے کے قول پر بغیر دلیل کے عمل کو کہتے ہیں۔جیسے عامی (غیر مجتہد ) اپنے جیسے عامی اور مجتھدکسی دوسرے مجتھد کا قول لے لے۔پس نبی علیہ الصلاة اولسلام اور اجماع کی طرف رجوع کرنا اس (تقلید) میں سے نہیں۔ اور اسی طرح عامی کا مفتی کی طرف رجوع کرنا اور قاضی کا گواہوں کی طرف رجوع کرنا(تقلید نہیں) کیونکہ اسے نص (دلیل) نے واجب کیا ہے لیکن عرف یہ ہے کہ عامی مجتہد کا مقلد ہے۔ امام (امام الحرمین الشافعی) نے کہا کہ” اور اسی تعریف پر علمِ اصول کے عام علماء(متفق) ہیں“۔ الخ

(مسلم الثبوت ص:289طبع 1316ھ وفواتح الر حموت ج۲ ص400)

اشرف علی تھانوی کے ملفوظات میں لکھا ہے

ایک صاحب نے عرض کیا تقلید کی حقیقت کیا ہے؟ اور تقلید کسے کہتے ہیں؟ فرمایا : تقلید کہتے ہیں: ”اُمتی کا قول بنا دلیل ماننا“ عرض کیا کہ کیا اللہ اور رسول علیہ الصلاة والسلام کی بات ماننا بھی تقلید ہے؟ فرمایا اللہ اور رسول علیہ الصلاة والسلام کی بات ماننا تقلید نہیں بلکہ اتباع ہے۔

(الافاضات الیومیہ من الافادات القومیہ ملفوظات حکیم الامت ج۳ص۹۵۱ ملفوض:۸۲۲)

مفتی احمد یار نعیمی حنفی بریلوی نے لکھا

”مسلم الثبوت میں ہے ، ”التقلید العمل بقول الغیر من غیر حجة“ اس تعریف سے معلوم ہوا کہ حضورعلیہ الصلاة والسلام کی اطاعت کو تقلید نہیں کہہ سکتے کیونکہ انکا ہر قول دلیل ِ شرعی ہے (جبکہ) تقلید میں ہوتا ہے دلیل ِ شرعی کو نہ دیکھنا لہذا ہم نبی علیہ الصلاة والسلام کے اُمتی کہلائیں گے نہ کے مقلد۔ اسی طرح صحابہ کرام اور ائمہ دین حضورعلیہ الصلاة والسلام کے اُمتی ہیں نہ کہ مقلداسی طرح عالم کی اطاعت جو عام مسلمان کرتے ہیں اس کو بھی تقلید نہ کہا جائے گا کیونکہ کوئی بھی ان علماء کی بات یا ان کے کام کواپنے لئے حجت نہیں بناتا، بلکہ یہ سمجھ کر ان کی بات مانتا ہے کہ مولوی آدمی ہیں کتاب سے دیکھ کر کہہ رہے ہوں گے۔۔۔

( جاءالحق ج۱ ص۶۱ طبع قدیم)

غلام رسول سعیدی نے لکھا ہے

تقلید کے معنی ہیں (قرآن و حدیث کے) دلائل سے قطع نظر کر کے کسی امام کے قول پر عمل کرنا اور اتباع سے مراد یہ ہے کہ کسی امام کہ قول کوکتاب و سنت کہ موافق پا کراور دلائل ِ شرعیہ سے ثابت جان کراس قول کو اختیار کر لینا
(شرح صحیح مسلم ج۵ص۳۶)
ان عبارتوں سے یہ بات بہت اچھی طرح واضح ہوگئی کہ آپ نے ہماری طرف منسوب کرکے جو بات کہی ہے وہ یقینا آپ کی اپنی بات ہے جس پر شریعت سے کوئی دلیل موجود نہیں ہے اور رہی بات محدثین کرام کی احادیث کو ضعیف قرار دینے کی تو یہ تو آپ کے اپنے علماء کی رو سے بھی تقلید نہیں ہے کیوں کہ محدثین نہ تو کسی کو بلا دلیل ضعیف کہتے ہیں اور نہ ہی ہم ان کی باتوں کو بلا دلیل مانتے ہیں جناب یہ تو ثابت ہوگیا آپ کی اپنے علماء کی عبارتوں سے کہ محدثین کی تضعیف و تصحیح تقلید نہیں ہے اور رہی بات اسسس کی تو آپ اعلان کردیجئے کہ وہ بھی تقلید نہیں ہے ہمیں اس پر کوئی اعتراض نہیں لیکن ہمیں معلوم ہے کہ آپ یہ اعلان کرکے اپنے پیر پرکلہاڑی نہیں چلائیں گے جناب! اگر ایسے ہی آپ ہر ایک کی بات ماننے کا نام تقلید رکھ دینگے تو پھر آپ یہ تو بتلائے کہ آپ کس کس کے مقلد ہو ؟؟؟ آپ اپنے ماں باپ کی بھی مانتے ہیں محلے پڑوس کے لوگوں کی بھی تو پھر دیوبندی ہی کیوں ہوئے ؟؟؟

سوال نمبر پانچ کا خلاصہ یہ ہے کہ
ایک ایت یا ایک حدیث پیش کرو
جس میں یہ حکم ہو کہ اللہ یا اللہ کے رسول ۔ ۔ کا حکم ہو ہر حدیث سنت ھے یا ہر حدیث پر عمل کرنا ثواب ھے یا حدیث کو لازم پکڑو یا حدیث کو مضبوطی سے تھامو یا حدیث کو زندہ کرو ؟
ورنہ میں ثابت کرتا ہوں
قرآن سے
اللہ تعالے نے فرمایا
جس کا حکم رسول اللہ ۔ ۔دیں اسے پکڑو
اور احادیث ثابت کرسکتا ہوں
رسول اللہ ۔ ۔نے پکڑنے کا حکم دیا ھے
من تمسک بسنتی ۔
میری سنت کو مضبوطی سے پکڑو
ترکت فیکم امرین لن تضلوا ۔ ۔ ۔ کتاب اللہ وسنت نبیہ
سنت کو لازم پکڑو
علیکم بسنتی ۔ ۔
میری سنت کو زندہ کرو
من احیاء سنتی
من حب سنتی
فمن رغب عن سنتی
یہی میرا مؤقف ھے
الحمد اللہ آج تک کوئی اس مؤقف کا توڑ نکال نہیں سکا اور
نہ ان شاءاللہ نکال سکتا ہے

جواب : اس سوال کا جواب سوال نمبر تین کے جواب میں مختصراً گذرا جناب عالی آپ یہ سوال اپنے مقلد بھائی شوافع حنابلہ وغیرہ سے بھی پوچھ لیتے لیکن آپ کی تسلی کے لئے کچھ سوالات آپ بھی حل فرما دیں مہربانی ہوگی ایک آیت یا حدیث پیش کرو جس میں ہو کی امام ابو حنیفہ, امام شافعی , مالک احمد بن حنبل کی تقلید کرنا ان ائمہ ہی سے ثابت کر دو امام ابو حنیفہ سے اپنی فقہ کا کوئی بھی مسئلہ سند متصل اور صحیح سے ثابت کردو
اچھا آپ یہ تو بتلائیں کہ کیا رسول کا حکم حدیث نہیں ہوتا ؟اور کیا اس کو لینے کا حکم قرآن نے نہیں دیا ؟؟اپنے سوال کو ایک دفع پڑھ کر جواب دینا

سوال نمبر چھ کا خلاصہ
احادیث میں موجود ھے رسول اللہ ۔ ۔نے فرمایا محشر میں 120 صفحیں ہونگی ان میں 80 صفحیں صرف میری امت کی ہوںگی باقی 40صفحیں سابقہ امیوں کی ہوںگی
اب سوال ھے غیر مقلدین سے

تمام احناف شوافعیہ مالکیہ اور حنابلہ ان تمام مقلدین کو نکال کر
ایک طرف غیر مقلدین کو رکھا جائے کیا یہ 80 صفحیں پوری کر سکتے ہیں
اگر نہیں تو کیا یہ ان کی ماں ملک وکٹوریہ کی ناجائز اولاد پورا کرئگی

جواب :یہ سوال اصل میں حافظ جی کی جہالت پر مبنی ہے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اہل حدیث تمام مقلدین کو جہنمی اور گمراہ سمجھتے ہیں جبکہ یہ مقلدین کا محض الزام ہے جس کا جواب سوال نمبر ایک کے جواب میں دیا گیا ہے اچھا مقلد صاحب آپ ذرا اس کی وضاحت فرمائیں کہ آپ کی کتابوں میں امام شافعی کو جو" أضر علي أمتي من ابليس " کہا گیا اس کے باوجود شوافعیہ اسی 80 میں کھڑے ہونگے اور آپ کے سگے مقلد بھائی احمد رضا نے جو آپ کو اور آپ کے اکابرین کو جہنم رسید کردیا اس کے بعد بھی آپ کو امید ہے آپ یا آپ کے سگے مقلد بھائی میدان محشر میں جنتیوں کی صف میں ہوں گے ؟؟؟ آپ یقین رکھئے آپ جیسے متعصب اور کھلم کھلا کتاب و سنت کی مخالفت کرنے والے مقلد ان صفوں میں نہیں ہوں گے ان شاء اللہ
رہی بات آپ کے ہمیں ملکہ وکٹوریہ کا طعنہ دینے کی تو مجھے حیرت ہوتی ہے کہ وہ لوگ ہم کو وکٹوریہ کی اولاد ہونے کا طعنہ دے رہے ہو جن کے اکابر انگریزوں کی ہمیشہ نمک حلالی کرتے رہے ہیں اور جنہوں نے حضرت خضر علیہ السلام کو بھی نہیں بخشا اور ان کو بھی انگریزوں کا سائس بنا دیا نعوذ باللہ من ذلک جناب حافظ جی صاحب اہل حدیث ہمیشہ انگریزوں کے مخالف رہے ہیں امام الہند ابو الکلام آزاد رحمہ اللہ ویسے ہی نہیں حنفیت سے تائب ہو کر آزادی کی لڑائی میں اہل حدیث کے ساتھ شامل ہوئے تھے
 
Top