ذیشان خان

Administrator
گھر میں موجود کیڑے مکوڑوں کو گرم پانی سے مارنا

از قلم : عبدالرزاق عبدالنور فیضی
نچلول مہراج گنج اترپردیش
========================

📚 وضاحت 📚

شیخ عبد المحسن العباد (محدث مدینہ) حفظہ اللہ فرماتے ہیں :

کیڑے مکوڑوں کو گرم پانی سے مارنا جائز نہیں ہے، کیونکہ آگ کے ذریعہ عذاب دینے سے حدیث میں منع کیا گیا ہے.
👇🏻
شرح سنن ابی داود درس نمبر 596.

مچھر، مکھی اور دیگر حشرات الارض جو انسانی جان کے لیے نقصاندہ ہوں ان کو مارنے کا حکم ہے، اور مارنے میں احسان کی تلقین کی گئی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز میں احسان (حسن) فرض کیا ہے اس لیے جب تم لوگ کسی جانور کو مارو تو اچھے طریقے سے (ایک ہی وار میں) مارو اور جب ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چھپکلی کو مارنے کا حکم دیا تو ایک ہی وار میں مارے کی ترغیب دلائی۔

شریعت میں آگ سے کسی چیز کو مارنا منع ہے۔
جیسے کہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا فرمان ہے:
(بیشک آگ کا عذاب صرف اللہ تعالی ہی دے سکتا ہے)
👇🏻
بخاری: حدیث نمبر 3016.

آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے چیونٹیوں کی ایک آبادی دیکھی جسے کچھ صحابہ نے آگ سے جلا دیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا:

(بیشک یہ بات بالکل بھی مناسب نہیں ہے کہ آگ کے پروردگار کے علاوہ کوئی اور بھی آگ کا عذاب دے)
👇🏻
ابو داود : حدیث نمبر 2675.

واللہ اعلم بالصواب ھذا ما عندی
جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء فی الدارین
 
Top