ذیشان خان

Administrator
بسم اللہ الرحمان الرحیم

کفر ؛تعریف و اقسام اوراحکام

✍حافظ محمد فیاض الیاس الاثری

(الف) کفر کی تعریف: کفر کا لغوی معنی ہے چھپانا، ڈھانپنا۔ شرعی اصطلاح میں کفر ایمان کے برعکس ہے اوراس کفر سے مقصود ہے، اللہ اور اس کے پیغمبر پر عدمِ ایمان۔ اس کفر میں تکذیب شامل ہو یا نہ ہو۔ دونوں صورتوں میں یہ کفر یکساں ہے، بلکہ ایمان میں شک و شبہ کرنا اور ترددّ کا مرتکب ہونا، ایمان سے اعراض برتنا،ایمان سے حسد کرنا،ایمان سے تکبر کرنا یا اتباعِ رسالت سے متصادم کسی خواہش کی اتباع کرنا، یہ تمام امور بھی اسی کفر میں شامل ہیں۔ اگرچہ تکذیب کرنے والا سب سے سنگین کفر کا مرتکب ہوتا ہے۔ نبوت و رسالت کو برحق سمجھتے ہوئے صرف حسد و بغض کی بنا پر انکار و تکذیب کرنے والا بھی اسی زمرے میں شامل ہے۔ (ابن تیمیہ، مجموع الفتاویٰ:۲۱/ ۵۳۳)
(ب)
کفر کی انواع: کفر کی دو انواع ہیں:

پہلی نوع: کفرِ اکبر ہے۔ اس کے ارتکاب سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے۔ اس کی پانچ اقسام ہیں:
پہلی قسم: کفرِتکذیب ہے۔ اس کی دلیل یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اَوْ کَذَّبَ بِالْحَقِّ لَمَّا جَآءَ ہٗ اَلَیْسَ فِیْ جَھَنَّمَ مَثْوًی لِّلْکٰفِرِیْنَ)(العنکبوت: 86/29)
”اس شخص سے بڑا ظالم بھلا کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے، جب کہ وہ اس کے سامنے آچکا ہو؟ کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم ہی نہیں ہے؟“
دوسری قسم: کفرِ استکبارہے۔ اس سے مراد تصدیق وتسلیم کے باوجود انکار و تکبر کرنا ہے۔ اس کی دلیل فرمان الٰہی ہے:
(وَ اِذْ قُلْنَا لِلْمَلٰٓءِکَۃِ اسْجُدُوْا لِاٰدَمَ فَسَجَدُوْٓا اِلَّآ اِبْلِیْسَ اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ وَ کَانَ مِنَ الْکٰفِرِیْن)(البقرۃ: 34/2)
”پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جھک جاؤ، تو سب جھک گئے مگرابلیس نے انکار کیا۔ وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑ گیا اور نافرمانوں میں شامل ہو گیا۔“
تیسری قسم: کفرِظن ہے۔اس کی دلیل یہ ارشادِ الٰہی ہے:
( وَ دَخَلَ جَنَّتَۃٗ وَ ھُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِہٖ قَالَ مَآ اَظُنُّ اَنْ تَبِیْدَ ھٰذِہٖٓ اَبَدًا(35) وَّ مَآ اَظُنُّ السَّاعَۃَ قَآءِمَۃً وَّ لَءِنْ رُّدِدْتُّ اِلٰی رَبِّیْ لَاَجِدَنَّ خَیْرًا مِّنْھَا مُنْقَلَبًا(36) قَالَ لَہٗ صَاحِبُہٗ وَ ھُوَ یُحَاوِرُہٗٓ اَکَفَرْتَ بِالَّذِیْ خَلَقَکَ مِنْ تُرَابٍ ثُمَّ مِنْ نُّطْفَۃٍ ثُمَّ سَوّٰیکَ رَجُلًا(37) لٰکِنَّ ھُوَ اللّٰہُ رَبِّیْ وَ لَآ اُشْرِکُ بِرَبِّیْٓ اَحَدًا(38))(الکھف: 35/15۔38)
”وہ اپنے باغ میں داخل ہوا اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا کہ میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی،مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی، تاہم اگر کبھی مجھے اپنے رب کے حضور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اِس سے سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاؤں گا۔ اس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اس سے کہا کہ کیا تو کفر کرتا ہے اس ذات کا جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور تجھے ایک پورا آدمی بنا کر کھڑا کیا؟ رہا میں، تو میرا تو وہی اللہ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔“
چوتھی قسم:
کفرِاعراض ہے۔ اس کی دلیل یہ فرمان الٰہی ہے:
(وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا عَمَّآ اُنْذِرُوْا مُعْرِضُوْنَ) (الاحقاف: 3/64)
”یہ کافر اس حقیقت سے اعراض کیے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبردار کیا گیا ہے۔“
پانچویں قسم: کفرِ نفاق ہے۔ اس کی دلیل یہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
(ذٰلِکَ بِاَنَّہُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ کَفَرُوْا فَطُبِعَ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ فَہُمْ لاَ یَفْقَہُوْنَ)(المنافقون:3/63)
”یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ ان لوگوں نے ایمان لا کر پھر کفر کیا، اس لیے ان کے دلوں پر مہر لگا دی گئی ہے۔ اب یہ کچھ نہیں سمجھتے۔“

دوسری نوع: کفرِ اصغر ہے۔ اس کے ارتکاب سے آدمی ملت سے خارج نہیں ہوتا، یہ عملی کفر ہے۔ اس سے مقصود ایسے اعمال سرانجام دینا ہے جنھیں قرآن و حدیث میں کفر قرار دیا گیا ہے، لیکن یہ کفر اکبر سے کم درجے کے ہیں۔ جیسے: کفرانِ نعمت ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(وَ ضَرَبَ اللّٰہُ مَثَلًا قَرْیَۃً کَانَتْ اٰمِنَۃً مُّطْمَءِنَّۃً یَّاْتِیْھَا رِزْقُھَا رَغَدًا مِّنْ کُلِّ مَکَانٍ فَکَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰہِ) (النحل:112/16)
”اللہ ایک ایسی بستی کی مثال دیتا ہے جو امن و اطمینان کی زندگی بسر کررہی تھی اور ہر طرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اس نے اللہ کی نعمتوں کا کفران شروع کردیا۔“
اسی طرح مسلمان سے قتال کرنا، جیسے کہ آنحضرت e کا فرمان ہے:
((سِبَابُ الْمُسْلِمِ فُسُوْقٌ وَ قِتَالُہٗ کُفْرٌ)) (صحیح البخاری: 84، و صحیح مسلم: 64)
”مسلمان کو گالی گلوچ کرنا گنا ہ ہے اور اس سے قتال کرنا کفر ہے۔“
ایسے ہی آنحضرت e کا فرمان ہے:
((لَا تَرْجِعُوْا بَعْدِیْ کُفَّارًا یَضْرِبُ بَعْضُکُمْ رِقَابَ بَعْضٍ)) (صحیح البخاری:121و صحیح مسلم: 65)
”میرے بعد کفر میں نہ پلٹ جانا کہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگو۔“
غیر اللہ کی قسم اٹھانا بھی اسی قبیل سے ہے، حدیث مبارکہ ہے:
((مَنْ حَلَفَ بِغَیْرِ اللّٰہِ فَقَدْ کَفَر أَوْ اَشْرَکَ)) (سنن الترمذی: 1535)
”غیر اللہ کی قسم اٹھانے والا کفر یا شرک کا ارتکاب کرتا ہے۔“
اللہ عزوجل نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب کرنے والے کو مومن ہی قرار دیا ہے۔ ارشاد الٰہی ہے:
(یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلٰی) (البقرۃ 178/2)
”اے ایمان والو! تمہارے لیے قتل کے مقدموں میں قصاص کا حکم لکھ دیا گیا ہے۔“
اللہ عزوجل نے قاتل کو اہل ایمان سے خارج قرار نہیں دیا،بلکہ اسے قصاص لینے والے کا بھائی قرار دیا ہے۔ فرمایا:
(فَمَنْ عُفِیَ لَہٗ مِنْ اَخِیْہِ شَیْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوْفِ وَ اَدَآءٌ اِلَیْہِ بِاِحْسَان) (البقرۃ: ۲/ 178)
”اگر کسی قاتل کے ساتھ اس کا بھائی نرمی کرنے کے لیے تیار ہو تو معروف طریقے کے مطابق خون بہا کا تصفیہ ہونا چاہیے اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خون بہا ادا کرے۔‘
بلاشبہ! یہاں اخوت سے مراد دینی اخوت ہے۔ اسی طرح ارشاد باری تعالیٰ ہے:
(وَاِِنْ طَاءِفَتَانِ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ اقْتَتَلُوْا فَاَصْلِحُوْا بَیْنَہُمَا ………… اِِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ اِِخْوَۃٌ فَاَصْلِحُوْا بَیْنَ اَخَوَیْکُمْ) (الحجرات 49/ 10،9)
”اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کراؤ۔“ ………… ”مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں لہٰذا، اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو۔“ (شرح الطحاویہ،ص:361، ملخصا)

کفر اکبراور کفر اصغر کے درمیان فرق کا خلاصہ یہ ہے:
۱۔ کفرِ اکبر کی وجہ سے آدمی ملت اسلامیہ سے خارج ہو جاتا ہے اور انسان کے اعمال بھی ضائع ہو جاتے ہیں، جب کہ کفرِ اصغر کی وجہ سے آدمی نہ تو ملت سے خارج ہوتا ہے اور نہ ہی اس کے اعمال ضائع ہوتے ہیں۔ البتہ بقدر جرم آدمی کے اعمال میں نقص ضرور واقع ہوتا ہے اور ایسے جرائم کا مرتکب وعید و سزا کا حقدار قرار پاتا ہے۔
۲۔ کفرِ اکبر کا مرتکب ہمیشہ کے لیے جہنم کا ایندھن قرار پاتا ہے،جب کہ کفرِ اصغر کرنے والا اگر جہنم رسید ہو بھی گیا تو اس میں ہمیشہ نہیں رہے گا، یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اللہ عزوجل اس پر رحم و کرم کرتے ہوئے اسے جہنم رسید ہی نہ کرے۔
۳۔ کفرِ اکبر کی وجہ سے آدمی کی جان و مال مباح ہو جاتا ہے، جبکہ کفرِ اصغر کی وجہ سے جان ومال مباح نہیں ہوتا۔
۴۔ کفرِاکبر کی وجہ سے کفر کے مرتکب آدمی اور اہل ایمان کے درمیان خاص عداوت کا ہونا ضروری ٹھہرتا ہے۔ اہل ایمان کا اس سے دلی محبت کرنا اور اس سے دوستانہ تعلقات قائم کرنا جائز نہیں ہوتا۔اگرچہ وہ اس کا قریب ترین ہی کیوں نہ ہو۔ کفر، اصغر کی وجہ سے بالکل دوستی و تعلقات کی بالکل ممانعت نہیں ہوتی۔ بلکہ آدمی کے ایمان کے بقدر اس سے دوستی اور محبت کی جا سکتی ہے اور گناہ و نافرمانی کے بقدر اس سے عداوت ونفرت رکھی جا سکتی ہے۔(ماخوذ من کتاب التوحید لمحمد الصالح الفوزان )
 
Top