مامون رشید ہارون رشید سلفی.


میں نے اپنی پچھلی تحریر میں ذکر کیا تھا کہ محدث العصر علامہ ناصر الدین البانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے کہ میرا کوئی حقیقی شاگرد نہیں ہے حالانکہ جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں علامہ احسان الٰہی ظہیر اور ڈاکٹر لقمان سلفی وغیرہما رحمہما اللہ نے آپ سے باضابطہ کتابیں پڑھی تھی...اب اعتراض یہ ہے کہ باتوں میں دونوں میں توافق کیسے پیدا کیا جائے؟

تو عرض ہے کہ اصول ہے"الباب اذا لم تجمع طرقہ لم یتبین خطؤه" گر چہ یہ اصول تحقیق علل حدیث سے تعلق رکھتا ہے لیکن مناسبت پائے جانے کی صورت میں کہیں بھی فٹ کیا جا سکتا ہے.... لہذا اس اصول پر عمل کرتے ہوئے کسی بھی عالم کی بات کو سمجھنے کے لیے اس ضمن میں ان کی کہی گئی تمام باتوں کا احاطہ کرنا ضروری ہے ورنہ غلط فہمی اور خلط مبحث کا شکار ہونا ممکن ہے....


غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ امام البانی کی زندگی کئی مراحل سے ہو کر گزری اور آپ کئی مقامات پر اقامت پذیر رہے انہی مراحل کے حساب سے کبھی کچھ لوگ آپ کے شاگرد ہوئے اور کبھی نہیں...

پہلا مرحلہ: البانیہ میں.... یہ آپ کی زندگی کا ابتدائی دور تھا جس میں آپ خود طالب علم تھے لہذا یہاں تلامذہ ہونے نہ ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا..

دوسرا مرحلہ: دمشق میں یہ آپکی زندگی کا دوسرا اور اہم مرحلہ تھا جس میں آپ نے علم حدیث میں تبحر اور مہارت حاصل کیا ....اور لوگوں کو باضابطہ پڑھائے بھی آپ دمشق میں جو کتابیں اپنے تلامذہ کو پڑھاتے تھے ان میں زاد المعاد (لابن القيم رحمه الله) نخبة الفكر (للحافط ابن حجر العسقلانی رحمه الله ) الروضة الندية شرح الدرر البهية (لصديق حسن خان رحمه اللہ) فتح المجيد شرح كتاب التوحيد (للشيخ عبد الرحمن بن حسن بن محمد بن عبد الوهاب رحمهم اللہ) الباعث الحثيث شرح
اختصار علوم الحديث (للعلامة المحدث أحمد محمد شاكر رحمه الله) طبقات فحول الشعراء (لابن سلأم الجمحي رحمه الله) اصول الففه (لعبد الوهاب خلاف رحمه اللہ) تطهير الاعتقاد من أدران الإلحاد (للصنعاني رحمه اللّه) الترغيب والترهيب (للمنذري رحمه الله) الأدب
المفرد(للبخاري رحمه الله) منهج الإسلام في الحكم ....مصطلح التاریخ (لأسد رستم) فقه السنة (لسيد سابق رحمه الله) رياض الصالحين (للنووي رحمه الله) الإلمام في احاديث الأحكام (
لابن دقیق العید رحمه اللہ۔وغیرہ کتابیں شامل تھیں... (محمد ناصر الدين الألباني محدث العصر وناصر السنة.. محمد إبراهيم العلي ص:29)

آپ کے حقیقی شاگردوں کی اکثریت نے اسی مرحلے میں آپ سے اکتساب فیض کیا...

تیسرا مرحلہ: جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں بحیثیت مدرس.... 1381ھ سے 1383ھ تک تین سال کی مدت .... اس دورانیے میں بھی بہت سارے لوگوں نے آپ سے حصول علم کا شرف حاصل کیا جن میں علامہ احسان الٰہی ظہیر... ڈاکٹر لقمان سلفی وغیرہم ہیں.. یہ بھی آپ کے حقیقی شاگرد ہیں...


چوتھا اور آخری مرحلہ:اردن ے دار الحکومت عمان میں.....یہاں آپ نے تقریباً بیس سال یا اس سے زائد عرصہ گزار آپ کے زیادہ تر خطبات ودروس اور تصنیفات و تالیفات یہیں سے لوگوں میں عام ہوئیں.... اس مرحلے میں آپ سوائے وقتا فوقتاً تھوڑے بہت خطبات و محاضرات اور آن لائن سوالات کے جوابات دینے کے محض تحقیق وتخریج اور تصنیف و تالیف میں مشغول رہتے تھے اس لیے آپ نے یہاں کوئی مدرسہ قائم نہیں کیا اور نہ ہی طلبہ کو کوئی کتاب پڑھائی....آپ کے زیادہ تر اعتباری شاگرد یہیں آپ سے آ کر ملے جیسے علی الحلبی, ابو اسحاق الحوینی, مشہور حس آل سلمان وغیرہم...


مذکورہ تفصیل ذکر کرنے کے بعد اب اصول کی طرف لوٹتے ہیں... ملاحظہ فرمائیں ایک طرف شیخ نے دمشق اور جامعہ اسلامیہ مدینہ منورہ میں ڈھیر سارے طلبہ کو کئی ساری کتابیں پڑھائیں اور دوسری طرف آپ کہہ رہے ہیں کہ میرا کوئی حقیقی شاگرد نہیں ہے... تیسری طرف ایک بار آپ یہ بھی فرما رہے ہیں کہ عمان اردن میں میرا کوئی شاگرد نہیں ہے... ہاں دمشق میں تھے.... ان تمام باتوں کو جمع کرنے کے بعد یہ واضح ہوتا ہے کہ شیخ البانی نے جو اپنے شاگرد نہ ہونے کی بات کہی ہے وہ صرف اردن عمان کے ساتھ خاص ہے یعنی یہاں میرا کوئی شاگرد نہیں ہے ورنہ نفس امر میں غور کیا جائے تو دمشق اور جامعہ اسلامیہ کے تین سالہ دور میں بہت سارے لوگوں نے آپ سے اپنی اپنی علمی پیاس بجھائی اور محدث العصر کی شاگردیت کے شرف سے مشرف ہوئے......لیکن یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ جو لوگ ہمیشہ اپنے نام کے پیچھے شاگرد محدث العصر کا ٹیگ لگاتے ہیں جن کے نام میں نے پچھلی تحریر میں ذکر بھی کیا تھا وہ لوگ کسی طور پر شیخ البانی کے حقیقی شاگرد نہیں ہیں...

اللہ سے دعا ہے کہ وہ لوگوں کو طلب شہرت اور ناموری کے فتنہ سے محفوظ رکھے آمین.

🖊:مامون رشید ہارون رشید سلفی
 
Top