حدیث : سبحي الله مئة تسبيحة؛ فإنها تعدلُ لكِ مئة رقبةٍ تعتقينها مِن ولد إسماعيل... کی تحقیق و تخریج

بقلم : مامون رشید ہارون رشید سلفی

قارئین کرام یہ مہینہ چونکہ نیکیوں کآ موسم بہار رمضان المبارک کا مہینہ ہے اس لیے لوگ اس ماہ مبارک میں عبادت وریاضت , ادعیہ واذکار اور تسبیح وتہلیل وغیرہ امور پر خاصی توجہ دیتے ہیں ان پر خود عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو عمل کی دعوت دینے کے لیے تمام وسائل نشر اور ذرائع ابلاغ و ترسیل پر ان چیزوں کو نشر بھی کرتے ہیں... انہی ادعیہ واذکار میں سے ایک یہ مذکورہ بالا دعا بھی ہے چونکہ یہ دعا کثیر الفضائل اور جامع المحاسن ہے اس لیے اس کی نشر و اشاعت کا کام بھی خوب زور و شور سے کیا جا رہا ہے .... چنانچہ جب یہ دعا میرے پاس پہنچی اور میں نے دیکھا کہ اس میں تو فضائل اور ثواب کی بھرمار ہے ( سو بار سبحان اللہ کہو تو سو غلام آزاد کرنے کا ثواب وہ بھی اولاد اسماعیل علیہ السلام سے.. سو بار الحمد للہ کہو تو سو گھوڑے فی سبیل اللہ صدقے میں دینے کا ثواب... سو بار اللہ اکبر کہو تو سو اونٹنیاں صدقہ کرنے کا ثواب... ) تو مجھے کھٹکا کہ اتنے تھوڑے عمل پر اتنا زیادہ ثواب معاملہ تحقیق طلب ہے کیونکہ امام ابن القیم وغیرہ نے المنار المنیف ...کے اندر ذکر کیا ہے: موضوع حدیث کی علامتوں میں سے یہ ہے کہ عمل قلیل پر آخر عظیم کا وعدہ کیا گیا ہو... اور یہاں بھی معاملہ ایسا ہی ہے گرچہ اللہ کی نعمتوں اور رحمتوں کی وسعت لا محدود ہے ...

اس لیے میں تحقیق میں لگ گیا اور نتیجہ بالتفصیل آپ کے سامنے ہے :

اولا مکمل عربی متن حدیث :

عن أم هانئ بنت أبي طالب، قالت: مر بي ذات يوم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: يا رسول الله: إني قد كبرت وضعفت، أو كما قالت، فمرني بعمل أعمله وأنا جالسة، قال: " سبحي الله مائة تسبيحة، فإنها تعدل لك مائة رقبة تعتقينها من ولد إسماعيل، واحمدي الله مائة تحميدة، فإنها تعدل لك مائة فرس مسرجة ملجمة، تحملين عليها في سبيل الله، وكبري الله مائة تكبيرة،فإنها تعدل لك مائة بدنة مقلدة متقبلة، وهللي الله مائة تهليلة، قال ابن خلف: أحسبه قال، تملأ ما بين السماء والأرض، ولا يرفع يومئذ لأحد مثل عملك إلا أن يأتي بمثل ما أتيت به "

ترجمہ : حضرت ام ہانی رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک روز رسول اکرم صل اللہ علیہ والہ و سلم میرے پاس سے ہو کر گزرے تو میں نے کہا ائے اللہ کے رسول میری عمر دراز ہو چکی ہے اور میں بوڑھی اور کمزور بھی ہو گئی ہوں لہٰذا آپ مجھے کوئی ایسا کام بتائیں جسے میں بیٹھے بیٹھے کیا کروں چنانچہ آپ نے فرمایا : تم سو مرتبہ سبحان اللہ کہا کرو کیونکہ یہ اولاد اسماعیل(علیہ السلام) میں سے سو گردنیں آزاد کرنے کے برابر ہے اسی طرح “سو مرتبہ الحمدللہ “کہا کرو کیونکہ یہ سو عدد زین اور لگام پہنائے ہوئے( تیار شدہ)گھوڑوں کے برابر ہے جس پر تم اللہ کے راستے میں سوار کرو گی.. اور سو مرتبہ اللہ اکبر کہا کرو کیونکہ یہ ثواب میں سو نکیل ڈالی ہوئی مقبول اونٹنیوں کے برابر ہے_
اور سو مرتبہ لا الہ الا اللہ کہا کرو کیونکہ یہ آسمان و زمین کو نیکیوں سے بھر دے گا۰ اور بروز قیامت کسی شخص کا عمل اتنا بلند نہیں ہو گا سوائے اس شخص کے جو اس طرح کہے۔

تخریج :
اس حدیث کو (١) امام نسائی نے سنن النسائی الکبریٰ ( حدیث نمبر : (10680)

(٢) اور عمل الیوم واللیلۃ (843 ) کے اندر ،

(٣) امام ابن ماجہ نے اپنی سنن ( 3810 ) کے اندر،

(٤) امام احمد بن حنبل نے اپنی مسند( 26911 ) کے اندر، ( یہ الفاظ مسند امام احمد ہی کے ہیں)

(٥)امام طبرانی نے المعجم الكبير (1008 / 1060) اور المعجم الاوسط (6313 )

(٦) اور " الدعاء " (328) کے اندر،

(٧) امام ہثیمی نے مجمع الزوائد (10/95 ) کے اندر،

(٨) امام حاکم نے مستدرک (1893) کے اندر،

(٩) امام بیہقی نے شعب الایمان (612) کے اندر ،

(١٠) امام بخاری نے التاريخ الكبير" ( 2/254-255) کے اندر روایت کیا ہے.

اور امام منذری نے الترغيب والترھیب (2/351 ) کے اندر اور امام شوکانی نے تحفۃ الذاکرین (ص : 349 )کے اندر ذکر کیا ہے..

مسند أحمد کی سند اس طرح سے ہے :

حدثنا سعيد بن سليمان، قال: حدثنا موسى بن خلف، قال: حدثنا عاصم بن بهدلة، عن أبي صالح، عن أم هانئ بنت أبي طالب قالت : مر بي ذات يوم رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: .....
دراسة الإسناد :
(1) سعيد بن سليمان : حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے :سعيد بن سليمان الضبي أبو عثمان الواسطي نزيل بغداد البزاز لقبه سعدويه ثقة حافظ من كبار العاشرة مات سنة خمس وعشرين وله مائة سنة روى له الجماعة. .تقريب (رقم الترجمة : 2329 )
(2) موسى بن خلف : حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا ہے :موسى بن خلف العمي، بتشديد الميم، أبو خلف البصري: صدوق عابد له أوهام، من السابعة. خت دس.

اس پر تعاقب کرتے ہوئے " تحرير تقريب التهذيب " کے مؤلفین نے فرمایا :بل: صدوق حسن الحديث، وقوله: "له أوهام" لا معنى

له بعد أن أنزل إلى مرتبة الصدوق، فقد روى عنه جمع من الثقات، منهم: عفان، وأثنى عليه ثناء حسنا، ووثقه العجلي، ويعقوب بن شيبة، وقال أبو حاتم: صالح الحديث. واختلف فيه قول يحيى، فروي عنه أنه قال: ليس به بأس، وفي رواية: ضعيف، وقال أبو داود: ليس به بأس، ليس بذاك القوي. ونحوه قال الدارقطني، إذ قال: ليس بالقوي، يعتبر به. وضعفه ابن حبان، فذكره في "المجروحين"، على أن ابن عدي، قال: لا أرى برواياته بأسا. (تحرير تقريب التهذيب رقم الترجمة 695 ) یعنی مذکورہ راوی صدوق اور حسن الحدیث ہیں.

(3) عاصم بن بهدلة : حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا :عاصم بن بهدلة، وهو ابن أبي النجود، بنون وجيم، الأسدي مولاهم، الكوفي، أبو بكر المقرئ: صدوق له أوهام، حجة في القراءة، وحديثه في "الصحيحين" مقرون، من السادسة، مات سنة ثمان وعشرين. ع.( تقريب التهذيب رقم الترجمة: 3054 )
اس پر تعاقب کرتے ہوئے " تحرير تقريب التهذيب " کے منصفین نے فرمایا : بل: ثقة يهم، فهو حسن الحديث، وقوله: "صدوق له أوهام" ليس بجيد، فقد وثقه يحيى بن معين، وأحمد بن حنبل، وأبو زرعة الرازي، ويعقوب بن سفيان، وابن حبان. وجعله ابن معين من نظراء الأعمش، وإن فضل هو وأحمد الأعمش عليه. وكل هؤلاء وثقوه مع معرفتهم ببعض أوهامه اليسيرة.(تحرير تقريب التهذيب رقم الترجمة: 3054 )

(4) أبو صالح : حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فرمایا :" باذام بالذال المعجمة ويقال آخره نون أبو صالح مولى أم هانئ ضعيف [مدلس] يرسل من الثالثة ٤ " ( تقريب التهذيب رقم الترجمة : 634 )

(5) أم هانئ : حافظ ابن حجر تقریب میں فرماتے ہیں : أم هانئ بنت أبي طالب الهاشمية، اسمها: فاختة، وقيل: هند: لها صحبة وأحاديث، ماتت في خلافة معاوية. ع.( 8778 )

حکم : قلت : هذا حديث ضعيف ، یہ حدیث ضعیف ہے کیونکہ اس کے علاوہ اس حدیث کی جتنی سندیں ہیں سب کے سب سخت ضعیف اور نا قابل اعتبار واستشہاد ہیں .. جیسا کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلۃ الأحاديث الصحيحة (3/303 ) کے اندر فرمایا ہے : وجملة القول: أن الاعتماد في تقوية الحديث إنما هو الطريق الأول، والطرق الأخرى إن لم تزده قوة، فلن تؤثر فيه وهنا.
حدیث کو قوی قرار دینے میں اعتماد صرف پہلی سند پر ہے ... اور دوسری سندیں گرچہ حدیث کو تقویت نہ پہنچائے لیکن اس کی تضعیف میں بھی اثر انداز نہیں ہوتی ہیں. ....انتھی
چنانچہ جب اصل اور قابل اعتماد سند ہی ضعیف ہے جس پر اعتماد کرتے ہوئے بعض محدثین نے اسے حسن قرار دیا ہے اور دوسری سندیں بھی ضعیف ترین ہیں تو ان سے اس ضعیف حدیث کو تقویت نہیں مل سکتی ہے اور نہ ہی یہ حدیث ضعف کی کھائی سے اٹھ کر حسن اور صحت کی بلندی تک پہنچ سکتی ہے...

حدیث مذکور کو ضعیف قرار دینے والے محدثین :

(1) إمام بخاري رحمہ اللہ :
" ولا يصح هذا عن أم هانئ"( التاريخ الكبير :2/254-255)

(2) حافظ زبیر علی زئی پاکستانی انوار الصحیفۃ (ص: 513 ) کے اندر ،

(3) شیخ شعیب الأرنؤوط سنن ابن ماجه كی تحقیق میں حدیث نمبر (3810 ) کے تحت...


البتہ بعض لوگوں کے نزدیک یہ حدیث حسن درجے کی ہے کیونکہ متعدد محدثین کرام نے اسے صحیح یا حسن قرار دیا ہے :

(1) امام حاکم " مستدرك على الصحيحين (1893 ) " فرمایا "هذا حديث صحيح الإسناد "

(2) امام منذري " الترغيب والترهيب (2/351) " فرمايا : " إسناده حسن "

(3) امام دمياطي " المتجر الرابح (217) " فرمايا : إسناده حسن "
(4) امام هيثمي " مجمع الزوائد ومنبع الفوائد (10/95 ) فرمايا : أسانيدهم حسنة.

(5) إمام الباني " سلسلة الأحاديث الصحيحة (1326 ) فرمايا : إسناده حسن رجاله ثقات ... اولا امام البانی نے ضعیف الجامع (3234) کے اندر حدیث مذکور کو ضعیف قرار دیا تھا پھر صحیحہ کے اندر آپ نے اس سے رجوع کر لیا ہے..

سبب اختلاف :
ائمہ حدیث کے ما بین اس حدیث کے حکم میں اختلاف کا سبب یہ ہے کہ : اس کی سند میں ابو صالح نامی جو راوی ہے اس کی تعیین میں محدثین کرام کے بیچ اختلاف ہے :
چنانچہ جن لوگوں نے یہ سمجھا کہ یہ " ابو صالح السمان ذكوان الزيات " ہیں ان لوگوں نے حدیث مذکور کو حسن قرار دیا ہے کیونکہ یہ " ابو صالح " ثقہ ہیں حافظ ابن حجر فرماتے ہیں : " ذكوان أبو صالح السمان الزيات المدني ثقة ثبت وكان يجلب الزيت إلى الكوفة من الثالثة مات سنة إحدى ومائة ع " ( تقريب التهذيب رقم الترجمة : 1841 )
جیسا کہ علامہ البانی نے " صحیحہ " کے اندر اس بات کی صراحت کی ہے چنانچہ آپ فرماتے ہیں : " وأما أبو صالح فهو ذكوان السمان الزيات، وكنت قديما قد
سبق إلى وهلي أنه أبو صالح باذان مولى أم هاني، فأوردت الحديث من أجل ذلك في
" ضعيف الجامع الصغير " برقم (٣٢٣٤) ، فمن كان عنده فليتبين هذا، ولينقله
إلى " صحيح الجامع " إذا كان عنده. (ربنا لا تؤاخذنا إن نسينا أو أخطأنا) "
( شیخ اس حدیث کے روات پر کلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : جہاں تک ابو صالح کی بات ہے تو وہ ذکوان السمان الزیات ہیں , میں پہلے یہ سمجھتا تھا کہ یہ ابو صا

لح باذان مولی ام هانئ ہیں اس لیے میں نے حدیث کو " ضعيف الجامع الصغير " کے اندر ذکر کر دیا تھا......)

اور جن لوگوں نے یہ سمجھا ہے یہ " أبو صالح باذام( اور باذان بھی کہا گیا ہے) " ہیں ان لوگوں نے حدیث کو ضعیف قرار دیا ہے کیونکہ یہ ابو صالح ضعیف ہیں...

*ترجیح :*
ان اختلافات کے بیچ میرے نزدیک راجح یہ ہے کہ یہ " أبو صالح باذام مولى أم هانئ " ہیں.
اس ترجیح کے چند دلائل پیش خدمت ہیں :

(1) پہلی دلیل : امام بخاری نے " التاريخ الكبير " کے اندر اپنی سندوں میں " أبو صالح مولى أم هانئ " کی صراحت کر رکھی ہے :
امام بخاری کی سندیں اس طرح ہیں:

﴿١﴾ پہلی سند : امام بخاری نے فرمایا ( التاريخ الکبیر : 2/254) : قال لنا موسى حدثنا جرثومة قال سمعت ثابتا قال حدثني مولى أم هانئ عن أم هانئ أن النبي صلى الله عليه و سلم قال لها...... فذکر الحدیث ...

موسی یہ موسی بن اسماعیل ہیں اور جرثومۃ ثقہ ہیں امام ابن معین نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے ( دیکھئے :الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 2/547.)

﴿۲﴾ دوسری سند : امام بخاری نے فرمایا ( التاريخ الکبیر : 2/254) : وقال لي عبد السلام بن مطهر ثنا موسى بن خلف عن عاصم بن بهدلة عن أبي صالح مولى أم هانئ عن أم هانئ عن النبي صلى الله عليه و سلم ..

(2) دوسری دلیل : امام طبرانی نے بھی ( المعجم الكبير حديث نمبر : 1008 ) میں " أبو صالح مولى أم هانئ " کی صراحت کر رکھی ہے :
المعجم الکبیر کی سند اس طرح ہے : حدثنا محمد بن الفضل السقطي، ثنا سعيد بن سليمان الواسطي، ثنا موسى بن خلف العمي، ثنا عاصم ابن بهدلة، عن أبي صالح، مولى أم هانئ، عن أم هانئ بنت أبي طالب، قالت: .....


(3) تیسری دلیل : تھذیب الکمال وغیرہ کتب تراجم میں " أم هانئ " رضی اللہ عنہا سے روایت کرنے والوں میں جس " أبو صالح " کا ذکر ہے وہ " أبو صالح باذام " ہیں ان سے روایت کرنے والوں میں ان کے علاوہ کسی اور ابو صالح کا ذکر نہیں ہے جیسا کہ تھذیب الکمال (35/ 389 ) میں ہے : روى عنها: مولاها أبو صالح باذام (ت س) ،
اسی طرح " ابو صالح باذام " کے ترجمے میں بھی انہوں نے جن سے روایت کیا ہے ان میں ام ہانی رضی اللہ عنہا کا ذکر ہے...
لیکن نہ تو ابو صالح ذکوان کے ترجمے میں انہوں نے جن سے روایت کیا ہے ان میں ام ہانی رضی اللہ عنہا کا ذکر ہے اور نہ ہی ام ہانی سے رویت کرنے والوں میں ابو صالح ذکوان کا ذکر ہے...

تنبیہ : تاریخ اصبھان ( 1/213) میں اس حدیث کی سند میں " أبو صالح " کے ساتھ اس کا نام ذکوان وارد ہوا ہے :
تاریخ اصبھان کی سند اس طرح ہے : حدثنا القاضي أبو أحمد محمد بن أحمد بن إبراهيم، ثنا أبو عبد الله محمد بن أحمد بن عمرو الأبهري , ثنا إبراهيم بن عون المديني، ثنا سلم بن سليم الضبي، ثنا فائد أبو الورقاء، عن ذكوان أبي صالح، عن أم هانئ، قالت:
لیکن عرض ہے کہ اس سند کے اندر ابو صالح سے روایت کرنے والے راوی " فائد أبو الورقاء " متروک ہے : جیسا کہ تھذیب الکمال (23/ 138-140) میں ہے :
قال عبد الله بن أحمد بن حنبل، عن أبيه: متروك الحديث.
وقال عباس الدوري ، عن يحيى بن معين: ضعيف، ليس بثقة، وليس بشيء.
وقال البخاري: منكر الحديث.
وقال أبو داود : ليس بشيء.
وقال الترمذي : يضعف في الحديث.
وقال النسائي: ليس بثقة.
وقال في موضع آخر: متروك الحديث.
وقال ابن حبان : لا يجوز الاحتجاج به .

چنانچہ امام المحدثین والنقاد محمد بن اسماعیل بخاری کے مقابلے میں ایک متروک اور متہم راوی کی بات کی کوئی وقعت اور حیثیت نہیں ہے ....شاید امام البانی رحمہ اللہ نے اسی طرح کی صراحت اور وضاحت کی وجہ سے اپنے پہلے موقف تضعیف حدیث سے رجوع کر لیا اور حدیث مذکور کی تحسین کے قائل ہو گئے.. .. عفا اللہ عنہ وغفر لہ.. .

لہذا خلاصہ بحث یہ ہے کہ مذکورہ بالا تمام تفصیلات سے یہ امر واضح ہو گیا کہ حدیث مذکور ضعیف ہے اور جن لوگوں نے اس کی تصحیح یا تحسین کی ہے انہیں غلطی لگی ہے اور یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کیونکہ کوئی انسان غلطی اور نسیان سے محفوظ نہیں ہے اور نہ ہی اس سے کسی کی تنقیص لازم آتی ہے..

فللہ الحمد والمنۃ
 
Top