کیا حضرات دیوبندیہ اہل سنت ہیں؟

✍ مامون رشید ہارون رشید سلفی.

دور حاضر میں سوائے چند مخصوصین ومتبحرین کے بالعموم اہل حدیث علما اور عوام کی یہ عام رائے ہے کہ دیوبندیوں اور اہل حدیثوں میں مسائل اعتقاد سے متعلق کچھ خاص اختلاف نہیں ہے دونوں فریق عقائد میں باہم متفق ہیں ہاں فروعی مسائل میں تھوڑا بہت اختلاف پایا جاتا ہے جیسے اہل حدیث رفع الیدین کرتے ہیں دیوبندی نہیں کرتے اہل حدیث امام کے پیچھے سورہ فاتحہ کی تلاوت اور نماز میں پیر سٹانے کے قائل ہیں لیکن یہ لوگ ان مسائل میں ان کے مخالف ہیں، اہل حدیثوں کا اصل اختلاف تو بریلویوں اور خالص حنفیوں سے ہے....اسی طرح عام اہل علم جب بھی اہل سنت و جماعت کا ذکر کرتے ہیں اس میں اہل حدیثوں کے ساتھ ساتھ مالکیہ شافعیہ حنابلہ حنفیہ اور دیوبندیہ کا ذکر ضرور کرتے ہیں حالانکہ اہل سنت میں اہل حدیث کے ساتھ ان کا ذکر محل نظر ہے ....اگر یہ کہا جائے کہ حضرات دیوبندیہ اہل سنت نہیں ہیں اور نہ ہی ان کے عقائد بریلویوں سے مختلف ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ خطرناک ہیں تو مبالغہ نہ ہوگا بلکہ یہی عین حق وانصاف متصور ہوگا...

ان کے فاسد عقائد اور باطل ترین افکار کی مختصر مثالیں بطور دلائل میں یہاں ذکر کروں اور یہ ثابت کروں گا کہ یہ حضرات خواہ وہ تبلیغی ہوں یا غیر تبلیغی حیاتی ہوں یا مماتی بجائے فرقہ ناجیہ منصورہ اہل سنت کے ایک گمراہ ترین فرقہ ہے جس سے بچنا اور اور جس کے شرور وفتن سے امت کو بچانا ہر موحد متبع سنت رسول پر واجب اور ضروری ہے.......

قارئین کرام: فرقہ دیوبندیہ کا آغاز 15 محرم الحرام 1283 ہجری مطابق 30 مئی 1866عیسوی میں دار العلوم دیوبند کی تاسیس کے ساتھ ہوا جو کہ امداد اللہ مہاجر مکی کے مشوروں اور مولانا قاسم ناناتوی ومولانا رشید احمد گنگوہی کی مشترکہ کاوشوں کا نتیجہ تھا..... یہ فرقہ ان لوگوں کے مجموعے کا نام ہے جو علمائے دیوبند کی دعوت وتبلیغ سے متاثر ہو کر انہیں کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق اپنی فکر وعمل کی منزلیں طیے کرنے لگے اور ایک طرح سے عقیدہ اور عمل میں ان مشائخ دیوبند کے مقلد بن گئے.....اسی بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے دیوبندیوں کے پیر ومرشد مہتمم دار العلوم دیوبند قاری محمد طیب لکھتے ہیں :"علمائے دیوبند کا نقطہ آغاز دار العلوم دیوبند سے ہے، اسی کی تعلیمات اور طرز عمل سے یہ مسلک تعلیمی رنگ سے ہندوستان میں پھیلا اور علمائے دیوبند کے نام سے موسوم ہوا" ....آگے لکھتے ہیں... "اس مسلک کے لحاظ سے اگر دار العلوم کی تاریخ سامنے رکھا جائے تو اس کے اسلاف اور موسسین صرف مدعیان مسلک ہی نہ تھے بلکہ مسلک کا عملی نمونہ بھی تھے، اور بالخصوص حضرت بانی دار العلوم قدس سرہ مسلک کے ان نظری اور عملی پہلوؤں کا مجسم پیکر تھے گویا اس مسلک جامع کو اگر مجسم کہا جائے تو حضرت نانوتوی کی ذات بن جاتی ہے جس کے قول و عمل سے نہ صرف اس مسلک کے سارے گوشے واشگاف ہوئے بلکہ دار العلوم دیوبند کی بنا اغراض و مقاصد بھی اسی مسلک کی روشنی میں مشخص ہوئے جو حضرت کے ذہن مبارک میں من جانب اللہ ودیعت کئے گئے تھے"(مسلک علمائے دیوبند ص:77-78)
اس عبارت سے دو باتیں اخذ کرنا مقصود ہے :
اول: دار العلوم دیوبند کے موسسین ہی فرقہ دیوبندیہ کے مدعیان تھے اور یہ مسلک قاسم نانوتوی صاحب کی ذہنی پیداوار ہے.

دوم:جس طرح اہل سنت بلکہ عام مسلمانوں کے نزدیک اسلام کے تمام گوشے رسول کے اکرم صل اللہ علیہ وسلم کے قول و عمل سے واشگاف ہوئے اسی طرح دیوبندیوں کے نزدیک اس مسلک کے تمام گوشے نانوتوی صاحب کے قول و عمل سے واشگاف ہوئے..... نتیجہ آپ خود نکال سکتے ہیں.
فرقہ دیوبندیہ کا تعارف خود انہیں کی زبانی ملاحظہ فرمائیں قاری محمد طیب صاحب لکھتے ہیں:"اس جامع اور معتدل مسلک کا اصطلاحی الفاظ میں خلاصہ یہ ہے کہ علمائے دیوبند دینا مسلم ہیں، فرقہ اہل سنت و جماعت ہیں، مذہبا حنفی ہیں، مشربا صوفی ہیں، کلاما ماتریدی ہیں، سلوکا چشتی بلکہ جامع سلاسل ہیں، فکرا ولی اللہی ہیں، اصولا قاسمی ہیں، فروعا رشیدی ہیں اور نسبتاً دیوبندی ہیں-والحمد للہ علی ھذہ الجامعیۃ "(مسلک علمائے دیوبند ص:77)
اس عبارت میں انہوں نے بتایا کہ علمائے دیوبند اصول یعنی عقائد قاسم نانوتوی سے اخذ کرتے ہیں اور فروعی احکام رشید احمد گنگوہی سے.....قرآن و حدیث اور سلف صالحین سے نہیں...

دیوبندیوں کے ہاں ایمان اور کفر والحاد کا حسین سنگم ملاحظہ فرمائیں جو نادر ہی کہیں اور دیکھنے کو نصیب ہوگا دیوبندیوں کے متفق علیہ امام محمد یوسف بنوری لکھتے ہیں:"اکابر دیوبند کا مسلک وہی رہا جو امام ربانی مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ دہلوی اور حضرت شاہ عبد العزیز دہلوی کا تھا ....(یعنی تقلید اور تصوف) ...ایک طرف ابن تیمیہ کی جلالت قدر کا اعتراف ہو تو دوسری طرف شیخ اکبر محی الدین ابن عربی کے کمالات کا اعتراف ہو"(مسلک علمائے دیوبند ص:6)
دیکھا آپ نے یہ وہی ابن عربی ہے کہ جس کے کفر الحاد اور زندقیت پر تیسیوں علمائے اہل سنت نے اجماع نقل کر رکھا ہے لیکن کیسے یہ دیوبندی حضرات اس کے کمالات یعنی کفر اور زندیقیت کو حق ثابت کر رہے ....؟ہیں کہہ رہے ہیں جس طرح ابن تیمیہ حق پرست تھے اسی طرح ابن عربی بھی حق پرست تھے...نعوذ باللہ من الخذلان کیا اس کے بعد بھی کوئی انہیں اہل سنت کہہ سکتا ہے.

دیوبندیوں کا متفق علیہ عقیدہ ملاحظہ فرمائیں خلیل احمد سہارانپوری لکھتے ہیں:"اس سے پہلے کہ ہم جواب شروع کریں جاننا چاہیے کہ ہم اور ہمارے مشائخ اور ہماری ساری جماعت بحمد اللہ فروعات میں مقلد ہیں مقتدائے حضرت امام ہمام امام اعظم ابو حنیفہ نعمان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے اور اصول واعتقادات میں پیرو ہیں امام ابو الحسن اشعری اور امام ابو منصور ماتریدی رضی اللہ عنہما کے اور طریقہائے صوفیہ میں ہم کو انتساب حاصل ہے سلسلہ عالیہ حضرات نقشبدیہ اور طریقہ زکیہ مشائخ چشتیہ اور سلسلہ بہیہ حضرات قادریہ اور طریقہ مرضیہ مشائخ سہر وردیہ رضی اللہ عنہم کے ساتھ"(المهند على المفند ص:40-41....یہ وہی کتاب ہے جس میں موجود عقائد کے سلسلے میں ہندوستان مصر شام اور مکہ و مدینہ کے اکثر کبار علمائے دیوبند کی تصدیقات شامل ہیں جن میں شیخ الہند محمود حسن دیوبندی، سید العلماء میر احمد حسن امروہی، حکیم الامت اشرف علی تھانوی اور مفتی کفایت اللہ دہلوی وغیرہم شامل ہیں)

اس عبارت سے یہ واضح ہے کہ علمائے دیوبند عقائد میں اشعری اور ماتریدی ہیں اور یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ ماتردیہ کسی بھی طور پر اہل سنت نہیں ہے لہذا ثابت ہوتا ہے کہ فرقہ دیوبندیہ اہل سنت نہیں ہے، یہی حال عام متاخرین حنفیہ کا بھی ہے متاخرین حنفیہ کی اکثریت بھی عقائد میں ابو منصور ماتریدی کے مقلد ہیں.

ذیل میں بالاختصار حضرات دیوبندیہ کے عقائد ملاحظہ فرمائیں:

(1)یہ حضرات عقیدہ وحدت الوجود کے قائل ہیں یعنی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ دنیا میں ہر موجود شئی بذات خود اللہ ہے جیسا کہ کسی صوفی حلولی کا شعر ہے "وما الكلب والخنزير إلا إلهنا وما الله إلا راهب في كنيسة" کتا اور سور ہمارے معبود کے سوا کچھ نہیں اور اللہ کنیسہ کا راہب ہی تو ہے، اس عقیدہ کے حاملین کو "اتحادیہ" بھی کہا جاتا ہے، یہ لوگ اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالی اپنی تمام مخلوقات کے ساتھ اس طرح ملا ہوا ہے کہ تمام موجودات متعدد وجود کی بجائے ایک ہی وجود بن گیا ہے ان لوگوں کے ہاں اس عقیدے کا حامل ہی موحد ہے، حالانکہ یہ دنیا کا سب سے بڑا شرک ہے اور یہ لوگ توحید سے کوسوں دور ہیں، دیوبندیوں کے شیخ المشائخ حاجی امداد اللہ مہاجر مکی (جو کہ دیوبندیوں کے امام الائمہ ہیں، قاسم نانوتوی رشید احمد گنگوہی اور مولانا یعقوب وغیرہم نے جن کی بیعت کی ہے) کا کہنا ہے کہ :
"وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنا ہی حق اور سچ ہے" (شمائم امدادیہ ص:32)

مزید لکھتے ہیں:
"عابد اور معبود کے درمیان فرق کرنا ہی صریح شرک ہے "(شمائم امدادیہ صفحہ: 37)

بلکہ یہاں تک لکھتے ہیں کہ:"بندہ اپنے وجود سے پہلے مخفی طور پر رب تھا اور رب ہی ظاہر میں بندہ ہے"[العیاذباللہ]
(شمائم امدادیۃ "صفحہ:38 کلیات امدادیہ ص:222)

اسی طرح دیوبندیوں کے امام العصر شارح بخاری محمد انور شاہ کشمیری (متوفی1352ھ) ایک حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
"حدیث مذکور میں وحدت الوجود کی طرف چمکتا ہوا اشارہ ملتا ہے، ہمارے مشائخ شاہ عبد العزیز کے زمانے تک اس مسئلہ میں بڑے متشدد اور حریص تھے، لیکن میں اس مسئلہ میں متشدد نہیں ہوں "
دیکھیں: "فیض الباری شرح صحیح البخاری"(4/428)

دیوبندیوں کے حکیم الامت اشرف علی تھانوی امداد اللہ مکی سے بیان کرتے ہیں:"ایک موحد(وحدت الوجود کا عقیدہ رکھنے والے) سے لوگوں نے کہا اگر تمہارے نزدیک حلوہ اور غلاظت ایک چیز ہیں تو تم ان دونوں کو کھاؤ اس نے بشکل خنزیر ہو کر گوہ کھا لیا پھربصورت آدمی ہو کر حلوہ کھایا اس کو حفظ مراتب کہتے ہیں جو واجب ہے"

اشرف علی تھانوی اس حکایت پر حاشیہ لگاتے ہوئے لکھتے ہیں :"اعتراض کرنے والا بھی کوئی بے وقوف ہی تھا؛ اسی لئے موحد کو ایسا مجبوراً کرنا پڑا، ورنہ جواب تو واضح تھا، وہ یہ کہ مٹھائی اور پاخانہ حقیقت میں ایک ہی چیز ہیں اگر چہ ان کا حکم اور اثرات مختلف ہیں "
(امدادالمشتاق ص:106)

صوفی محمد اقبال مہاجر مدنی محمد زکریا کاندہلوی کی تعریف کرتے ہوئے لکھتا ہے:
"اس نے ہمیں وحدت الوجود کا راز معلوم کروایا، وہ ایسے کہ انہوں نے ہی ہمیں بتایا کہ عشق، معشوق اور عاشق سب ایک ہی ہیں "
(محبت ص: (70)

امداد اللہ مہاجر مکی لکھتے ہیں:" اول جس شخص نے اس مسئلے (وحدت الوجود) میں خوض فرمایا وہ شیخ محی الدین ابن عربی ہیں قدس سرہ، ان کا اجتھاد اس مسئلے میں اور اثبات اس مسئلے کا براہین واضحہ سے جمیع موحدان کی گردن پر روز قیامت موجب احسان ہے"(شمائم امدادیہ ص:33)
مطلب یہ کہ ابن عربی کا کفر والحاد تمام موحدین کے سر پر بار احسان ہے.. انا للہ و انا الیہ راجعون.

دیوبندیوں کے غزالی زماں احمد سعید کاظمی لکھتے ہیں:"اگر وحدت الوجود کو شرکیہ عقیدہ کہا جائے تو تمام مشائخ دیوبند کافر و مشرک قرار پائیں گے کیونکہ وہ سب وحدت الوجود پر متشدد ہیں"(دیوان محمدی از خواجہ محمد یار فریدی ص:26)
ہم اہل حدیثوں کے نزدیک وحدت الوجود دنیا کا سب سے بڑا شرک ہے لہذا خود اپنی ہی شہادت سے یہ دیوبندی حضرات کافر و مشرک ہیں ....

(2) عقیدہ تصور شیخ میں انتہا تک پہنچے ہوئے ہیں...
اس کی تفصیل کے لیے استاد محترم کی کتاب "تصوف میں شیخ اور تصور شیخ" کا مطالعہ مفید رہے گا.....اس عقیدہ کے تحت متصور شیخ کے اندر خدائی اوصاف مقام نبوت اور تصرف فی الکون کی قدرت وغیرہ ساری چیزوں پر یقین رکھا جاتا ہے....
تصور شیخ کا ایک عملی واقعہ ملاحظہ فرمائیں:’’خان صاحب نے فرمایا کہ ایک دفعہ حضرت گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ جوش میں تھے اورتصورشیخ کا مسئلہ درپیش تھا،فرمایا کہ کہہ دوں،عرض کیا گیا کہ فرمایئے،پھر فرمایا کہ کہہ دوں،عرض کیا گیا کہ فرمایئے،پھر فرمایا کہہ دوں،عرض کیا گیا فرمایئے،توفرمایا کہ:
’’تین سال کامل حضرت امداد کا چہرہ میرے قلب میں رہا ہے،اور میں نے ان سے پوچھے بغیر کوئی کام نہیں کیا،پھر اورجوش آیا،فرمایا کہہ دوں،عرض کیا گیا کہ حضرت ضرور فرمایئے،فرمایا کہ اتنے سال(راوی کہتے ہیں کہ یاد نہیں رہا کہ کتنے سال خاں صاحب نے فرمائے)حضرت صلی اللہ علیہ وسلم میرے قلب میں رہے اورمیں نے کوئی بات بغیر آپ سے پوچھے نہیں کی،یہ کہہ کر اورجوش پیدا ہوا فرمایا کہ اورکہہ دوں،عرض کیا گیا کہ فرمایئے،مگر خاموش رہے،لوگوں نے اصرار کیا توفرمایا کہ بس رہنے دو،اگلے دن بہت سے اصرار کے بعد فرمایا کہ بھائی پھراحسان کا مرتبہ رہا"(حکایات اولیاء، ص:308، حکایت نمبر:307)

یعنی جس طرح حدیث جبریل میں اللہ کے تعلق سے ایمان اسلام اور احسان کا ذکر ہے اسی طرح ان کے نزدیک متصور شیخ کے تعلق سے بھی احسان کا عقیدہ رکھنا ہے یاد رہے اگر کسی کے اندر احسان کی کیفیت پیدا ہو جائے تو اس کے اندر اسلام اور ایمان لزوما پایا جائے گا...

صوفیہ دیوبندیہ کے ہاں تصور شیخ کے تحت ایک چیز ذکر کی جاتی ہے جسے وہ توحید شیخ اور توحید مطلب کہتے ہیں...اس عنوان کو ذکر کرنے کے بعد استاذ محترم شیخ اسعد اعظمی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:"عنوان پڑھ کر یقینا آپ چونک گئے ہوں گے کہ اب تک تو توحید کی تین قسمیں جانی جاتی تھیں یعنی(1)توحید الوہیت(2)توحید ربوبیت(3)توحید الاسماء والصفات۔
مگر توحید شیخ کی یہ اصطلاح توحید کی چوتھی قسم بن کر کب سے اسلام میں داخل ہوگئی،(تصوف کا شیخ اور تصور شیخ ص:16)
توحید شیخ اور توحید مطلب یہ ہے کہ اپنے شیخ کے متعلق اس بات کا یقین رکھے کہ دنیا میں اس کے علاوہ مجھ کو مطلوب تک کوئی نہیں پہنچا سکتا گو اس زمانے میں دوسرے مشائخ بھی ہوں اور انہی اوصاف کاملہ سے متصف بھی ہوں مگر میرا منزل مقصود پر پہنچنا اسی ایک کی بدولت ہوگا۔

ایک صوفی مصنف مرید کے آ داب بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ مرید کا اعتقاد اپنے شیخ پر منحصر ہونا چاہیے اور اس کا یہ عقیدہ ہونا چاہیے کہ اس کا مطلوب ومقصد اسی شیخ کے ذریعہ حاصل ہوسکتا ہے اور اگر اس کی نظر کسی دوسرے شیخ کی طرف گئی تو اپنے اس شیخ سے محروم ہوجائے گا اور اس کا فیض اس پر بند ہوجائے گا۔‘‘ (البہجۃ السنیۃ، ص:25)
اس سلسلے میں صوفیہ کا ایک من گھڑت اصول ملاحظہ فرمائیں:
’’المرید بین الشیخین کالمرأۃ بین الرجلین‘‘(التصوف بین الحق والخلق، ص:141، حاشیہ نمبر:4)
دو شیوخ کے درمیان ایک مرید کی مثال ویسی ہی ہے جیسے کہ ایک عورت دو مردوں کے درمیان۔

بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ اپنے شیخ کے ساتھ کسی دوسرے شیخ سے ربط وتعلق کو صراحۃً شرک باللہ بتایا گیا ہے،چنانچہ شعرانی لکھتے ہیں:
’’إن من أشرک بشیخہ شیخا آخر وقع في الشرک باللّٰه‘‘(قواعد الصوفیۃ للشعرانی، ص:154، بحوالہ ہذہ ہی الصوفیۃ، ص:100)
جس نے اپنے شیخ کے ساتھ کسی دوسرے شیخ کو بھی شریک کرلیا وہ شرک باللہ میں پڑ گیا۔
’’ومن أخذ الطریق علی غیر شیخہ کان علی غیر دین‘‘ جس نے اپنے شیخ کے علاوہ کسی اور کا راستہ لیا وہ دین سے ہٹ گیا۔
(لطائف المنن:2/103، بحوالہ: ہذہ ہی الصوفیۃ، ص:100)

حاجی امداد اللہ صاحب مہاجر مکی خلوت کی شرطیں بیان کرتے ہوئے ساتویں شرط کے تحت لکھتے ہیں:
’’دل کا شیخ سے ہمیشہ رابطہ رکھنا اس خیال سے کہ اس سے مدد حاصل کرے اور اس اعتقاد سے کہ شیخ خدا کا مظہر ہے،خدا نے فیض پہنچانے کے لیے میرے اوپر اس کو متعین کیا ہے اور شیخ ہی کے ذریعہ سے خدا تک رسائی ہوسکتی ہے۔۔۔(ضیاء القلوب ص:59)
(3) یہ حضرات اپنے اولیائے کرام کی قبروں سے فیض حاصل کرتے ہیں....مشکل کے وقت انہیں پکارتے ہیں...
دیوبندی عالم مولانا اللہ یار لکھتے ہیں :"صدور مشائخ اولیائے کرام اور قبور اولیائے کرام سے فیوض باطنی کے حاصل ہونے کا عقیدہ اہل سنت میں اتفاقی اور اجماعی ہے جسے علمائے دیوبند نے ایک مستقل رسالہ "عقائد اہل دیوبند"میں تفصیل سے بیان کیا ہے پھر اس پر مختلف ملکوں کے سینکڑوں علما کی تصدیقات ہیں"( عقائد و کمالات علمائے دیوبند ص:61)
اسی طرح یہ لوگ قبر کی مٹی سے شفا حاصل کرتے ہیں قبر سے مشکل کشائی کرتے ہیں اور صاحب قبر سے گفتگو بھی کرتے ہیں...

(4)ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ وسلم کو جاگتی آنکھوں سے دیکھا جا سکتا ہے چنانچہ یہ لوگ اللہ کے رسول سے عین بیداری کی حالت میں ملتے ہیں اور ان سے احادیث سنتے ہیں اور احکام بھی حاصل کرتے ہیں...

ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں:"مولوی الیاس صاحب کے والد کی جب وفات ہوئی تو ایک صاحب ادراک بزرگ نے دیکھا،وہ کہتے ہیں مجھے جلدی لے چلو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرا انتظار کررہے ہیں(مولوی الیا س کی دینی دعوت ص 28)

اسی طرح مولوی خلیل احمد صاحب سہارانپوری مؤلف بذل المجھود فی حل ابی داؤد لکھتے ہیں ایک صالح،رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت سے مشرف ہوئے تو آپ کو اردو میں کلام کرتے دیکھ کر پوچھا آپ کو یہ کلام کہاں سے آگیاآپ تو عربی ہیں ؟(آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے)فرمایا جب سے علماء دیوبند کے مدرسے میں آناجانا ہوا ہم کو یہ زبان آگئی(براہین قاطعہ ص: 30)

جماعت دیوبند کے حکیم الامت اشرف علی صاحب فرماتے ہیں:"رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بمع صاحبین کے آسمان سے نازل ہو کر مدرسہ دیوبند کا حساب لینے آیا کرتے تھے۔(ارواح ثلاثہ حکایت نمبر:440)

حضرت نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں اکثر دیکھتا ہوں کہ حضور صل اللہ علیہ و سلم تشریف لاتے ہیں اور اور اپنی رداء مبارک میں مجھے ڈھانپ کر کبھی اندر لاتے ہیں اور کبھی باہر لے جاتے ہیں سوتے اور جاگتے یہی منظر آنکھوں کے سامنے رہتا ہے کہ حضور رداء مبارک لیے رہتے ہیں اور الگ کرنا نہیں چاہتے......مولانا اشرف علی تھانوی اس پر تعلیق لگاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ یہ ایک کشف صحیح ہے (ارواح ثلاثہ ص:434)
(5) مشائخ دیوبند بلا واسطہ اللہ رب العالمین سے قرآن کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اللہ سے بات چیت کرتے ہیں عرش کا لکھا ہوا تک دیکھ لیتے ہیں.....
ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں:"ابدال میں سے ایک شخص نے خضر علیہ السلام سے دریافت کیا کہ تم نے اپنے سے زیادہ مرتبہ والا کوئی ولی بھی دیکھا ؟فرمانے لگے ہاں دیکھا ہے۔میں ایک مرتبہ مدینہ طیبہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مسجد میں حاضر تھا میں نے امام عبدالرزاق محدث رحمہ اللہ کو دیکھا کہ وہ احادیث سنارہے ہیں اور مجمع ان کے پاس احادیث سن رہا ہے اور مسجد کے ایک کونہ میں ایک جوان گھٹنے پر سر رکھے علیحدہ بیٹھا ہے،میں نے اس جوان سے کہا تم دیکھتے نہیں کہ مجمع حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیثیں سن رہا ہے تم ان کی ساتھ شریک نہیں ہوتے،اس جوان نے نہ تو سراٹھایا اور نہ میری طرف التفات کیا اور کہنے لگا کہ اس جگہ وہ لوگ ہیں جو رزاق کے عبد سے حدیثیں سنتے ہیں اور یہاں وہ ہیں جو خود رزاق سے سنتے ہیں نہ کہ اس کے عبد سے۔خضر علیہ السلام نے فرمایا:اگر تمہارا کہنا حق ہے تو بتاؤ میں کون ہوں ؟ اس نے اپنا سر اٹھایا اور کہنے لگاکہ اگر فراست صحیح ہے تو آپ خضر ہیں۔خضر فرماتے ہیں:اس سے میں نے جانا کہ اللہ جل شانہ کے بعض ولی ایسے بھی ہیں جنکے علو مرتبہ کی وجہ سے میں ان کو نہیں پہچانتا۔(فضائل حج فصل 9 زائرین کے واقعات واقعہ 9)
اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان دیوبندیوں کو نہ تو موجودہ قرآن کی ضرورت ہے اور نہ ہی کتب احادیث کی کیونکہ یہ حضرات تو بلا واسطہ رب تعالیٰ سے علم حاصل کرتے ہیں....

(6) یہ لوگ غالی قسم کے صوفی ہیں افعال صوفیہ سے انہیں خاص شغف ہے مثلا فنا فی اللہ، کشف، مراقبہ روحانی فیوض کا حصول وغیرہ.(ملاحظہ فرمائیں "المہند علی المفند ص:43 .. الشہاب الثاقب ص:59،60،67)

"خواجہ اجمیر کے مزار پر مراقبہ"اس عنوان کے تحت مؤلف تذکرۃ الخلیل لکھتا ہے ایک بار حضرت راندیر جاتے ہوئے اجمیر اترے تاکہ شیخ الطائفہ کے مزار پر حاضر ہوں حضرت مولانا تھانوی اور بندہ مؤلف تذکرہ ساتھ تھے میزبان چونکہ مزاورین کے حالات سے واقف تھے کہ طواف اور سجدہ کراتے ہیں۔اس لئے حسن تد بیر کے ساتھ کام کیا اور بعد عصر کا وقت تجویزہوا ہم سب حاضر ہوئے اور اندرکٹہرے کے قریب کھڑے ہوگئے حضرت تو جاتے ہی بیٹھ گئے اور مراقب ہو کر ایسے مستغرق ہوگئے کہ خبر ہی نہ رہی کہاں بیٹھے ہیں۔(ص 371۔372)

(7) یہ لوگ زندہ بزرگوں سے استغاثہ کرتے ہیں مثلا کہیں کوئی کشتی ڈوب رہی ہو تو کشتی کے سوار اپنے زندہ شیخ کو مدد کے لیے آواز لگاتے ہیں اور وہ بزرگ پہنچ بھی جاتے ہیں. (کرامات امدادیہ از اشرف علی تھانوی ص:36)

(8)یہ حضرات مردوں سے بھی استغاثہ کرتے ہیں ان کا عقیدہ ہے کہ فوت شدہ بزرگان جسد عنصری کے ساتھ ان سے ملنے آتے ہیں....اور انہیں نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں. (ارواح ثلاثہ از اشرف علی تھانوی ص:261)

(9)ان کا یہ عقیدہ ہے کہ بزرگ طی الزمان ہوتے ہیں یعنی زمان و مکان کے فاصلوں کو پل بھر میں طے کر لیتے ہیں...
"رشید احمد گنگوہی روزانہ گنگوہ سے آ کر حرم مکی میں نماز ادا کرتے تھے.(تذکرۃ الرشید 2/212)

"امداد اللہ مہاجر مکی نے اپنے ایک مرید کے ساتھ ظہر کی نماز مکہ میں ادا کی، پلک جھپکتے ہی مدینہ منورہ پہنچ گئے وہاں عصر کی نماز ادا کی پھر پلک جھپکتے ہی مکہ لوٹ آئے اور مغرب کی نماز کی" (کرامات امدادیہ ص:40)

(10)مشائخ دیوبند مثلا امداد اللہ مہاجر مکی اشرف علی تھانوی اور حسین احمد مدنی کے نزدیک غیر اللہ کو پکارنا جائز ہے...(نشر الطیب ص:143، کرامات امدادیہ 3/84)

(11) ان کا عقیدہ ہے کہ بزرگوں کو علم غیب ہوتا ہے...
چند واقعات ملاحظہ فرمائیں:
مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:
’’مولانا شاہ عبد الرحیم صاحب رائے پوری کا قلب بڑا نورانی تھا،میں ان کے پاس بیٹھنے سے ڈرتا تھا کہ کہیں میرے عیوب منکشف نہ ہوجائیں‘‘(حکایات اولیاء، ص:442)
مولانا قاسم نانوتوی فرماتے ہیں:
’’مولوی محمد یعقوب صاحب دہلوی قلب کے اندر کے جو نہایت باریک چور ہوتے ہیں ان سے خوب واقف ہیں‘‘(حکایات اولیاء، ص:14)
’’مولانا عزیز الرحمن صاحب مفتی دارالعلوم دیوبند مرحوم نے فرمایا کہ مولانا رفیع الدین صاحب فرماتے ہیں کہ مجھے حضرت نانوتوی سے کچھ ایسی مناسبت تھی کہ جو کچھ مولانا کے قلب پر وارد ہوتا تھا اسی کا خیال مجھے گزرتا تھا۔اور حضرت قبلہ والد مرحوم نے اس واقعہ کو یوں بیان فرمایا کہ حضرت مولانا رفیع الدین صاحب فرماتے تھے کہ حضرت نانوتوی نے مدرسہ دیوبند کا اہتمام کبھی خود نہیں فرمایا کہ اہتمام کے لیے مجھے طلب فرمایا اور میں وہی کرتا ہوں جو انہیں مکشوف ہوتا ہے،علم ان کا ہے عمل میرا ہے،ان کی منشائے علمی و کشفی میں سمجھ کر فوراًعمل درآمد کرتا ہوں‘‘(حکایات اولیاء، ص:258)
مولانا حبیب الرحمن صاحب نے فرمایا:
’’ راؤ عبدالرحمن خان صاحب پنجلاسہ(پنجاب)میں حضرت شاہ عبدالرحیم صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے خلیفہ تھے اور بڑے زبردست صاحب کشف و حالات تھے،کشف کی حالت یہ تھی کہ کوئی لڑکا لڑکی کے لیے تعویذ مانگتا بے تکلف فرماتے جا تیرے لڑکا ہوگا،یا لڑکی ہوگی،لوگوں نے عرض کیا کہ حضرت یہ کیسے آپ بتاتے ہیں؟ فرمایا کہ کیا کروں بے محابا مولود کی صورت سامنے آجاتی ہے‘(حکایات اولیاء ص:271)
امداد اللہ مہاجر مکی صاحب فرماتے ہیں :"بعض لوگوں کا خیال ہے کہ انبیاء و اولیاء غیب نہیں جانتے ہیں، لیکن جہاں تک میری بات ہے تو میں کہتا ہوں کہ اہل حق کے لیے یہ ممکن ہے کہ وہ غیبی امور کو دیکھیں اور ان کی طرف التفات کرنے کی صورت میں ان کا ادراک کر سکیں(شمائم امدادی ص:61)

(12)ان کے حکیم الامت اشرف علی تھانوی کے فتوی کے مطابق دیوبندیوں کے نزدیک "لا إله إلا الله أشرف علي رسول الله" کہنا جائز اور درست ہے..
اس سلسلے میں کیا گیا سوال اور اس کا جواب ملاحظہ فرمائیں:سوال: کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ اشرف علی صاحب تھانوی کے ایک معتقد نے اپنے خواب و بیداری کاحال جو ذیل میں درج ہے لکھ کر تھانوی کے پاس بھیجا جس کا جواب انہوں نے رسالہ الامداد ماہ صفر 13350ہجری میں حسب ذیل الفاظ میں دیا،دریافت طلب امریہ ہے کہ یہ جواب ان کا بموجب شرع شریف کہاں تك درست اور صحیح ہے؟ نیز حضرت امام اعظم ابوحنیفہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے مسلك کے مطابق تھانوی صاحب کی نسبت حکم شرع شریف کا کیا صادر ہوا ہے؟
خلاصہ خواب:بجائے کلمہ طیبہ کے دوسرے جز کے یوں پڑھتا ہوں کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نام نامی کی جگہ تھانوی کا نام لیتا ہوں ہر چند قصد کرتا ہوں لیکن یہی زبان سے نکلتا ہے بعد بیداری اس غلطی کی تلافی میں درود شریف پڑھنا چاہا تو اس میں بھی بے اختیار تھانوی کا نام زبان پر آجاتا ہے۔[رسالہ الامداد مطبوعہ تھانہ بھون ص35]
جوابِ خواب: اس واقعہ میں تسلی ہے کہ جس کی طرف رجوع کرتے ہو وہ متبع سنت ہے[رسالہ الامداد مطبوعہ تھانہ بھون ص35 شمارہ شوال 1335ہجری]

تھانوی صاحب نے کفر والحاد سے پر اس کلمہ پر انکار کرنے کے بجائے اس کی تقریر فرمائی اور تاویل کر کے گزر گئے ایسا لگتا ہے تھانوی صاحب اس کلمے سے دل ہی دل بہت خوش تھے کہ چلو مریدوں نے مجھے مقام نبوت پر فائز کر دیا ہے.

(13) ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ کے رسول صل اللہ علیہ و سلم اپنی قبر میں زندہ ہیں اور آپ کی یہ حیات دنیا جیسی ہے برزخی نہیں.... ملاحظہ فرمائیں :(المہند علی المفند ص:34)

(14) دیوبندیوں کا عقیدہ ہے کہ تقلید واجب ہے اور اس کا ترک الحاد اور زندقہ تک پہنچا دیتا ہے.. (المہند علی المفند ص:43)

(15) اولیاء دیوبند مردوں کو زندہ کرنے اور زندوں کو مارنے کی بھی طاقت رکھتے ہیں .(فیض الباری 2/61 ...اشرف السوانح 1/127)
اسی طرح مشائخ دیوبند دلوں کے احوال (تذکرۃ الرشید 2/227، 2/95 ....ارواح ثلاثہ ص: 422) موت کا وقت (ارواح ثلاثہ ص:22) بارش نازل ہونے کے اوقات (زلزلہ 154) ماں کے پیٹ میں کیا ہے (ارواح ثلاثہ ص:185، 275 ) وغیرہ کا علم رکھتے تھے حتی کہ بارش نازل کرنے اور روکنے کی بھی ان کے پاس قدرت موجود تھی اور بعض کے پاس ابھی بھی ہے...

(16)عقیدہ ختم نبوت کی ایسی تاویل اور تحریف جو انکار تک پہچا دے..اس سلسلے میں اکابر دیوبند کے اقوال ملاحظہ فرمائیں:

مولانا قاسم صاحب نانوتوی نے( رسالہ تحذیر الناس ص 17)میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد آنے والے جھوٹے نبیوں کے لئے بھی دروازہ کھول دیا ہے۔

آپ فرماتے ہیں:بلکہ اگر بالفرض آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی کہیں اور نبی ہو جب بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم ہونا بدستور رہتا ہے۔
اور( صفحہ 17) میں لکھتے ہیں:" اور اسی طرح اگر فرض کیجئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں بھی اسی زمین یا کسی اور زمین یا آسمان میں کوئی نبی ہوتو وہ بھی اس وصف نبوت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا محتاج ہوگا"۔اور( ص: 34) میں لکھتے ہیں:" اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی بالفرض کوئی نبی پیدا ہو تو پھر بھی خاتمیت محمد میں کچھ فرق نہ آئے گا"

عبد الماجد دریا بادی صاحب لکھتے ہیں:" سنہ خوب یاد نہیں غالباً 1930ء تھا حکیم الامت تھانوی کی محفل خصوصی میں نماز چاشت کے وقت حاضری کی سعادت حاصل ہوئی تھی ذکر مرزائے قادیانی اور اس کی جماعت کا تھا اور ظاہر ہے کہ ذکر "ذکر خیر" نہ تھا، حاضرین میں سے ایک صاحب بڑے جوش سے بولے حضرت ان لوگوں کا دین بھی کوئی دین ہے نہ خدا کو مانیں نہ رسول کو حضرت نے معا لہجہ بدل کر ارشاد فرمایا کہ "یہ زیادتی ہے توحید میں ہمارا ان کا کوئی اختلاف رسالت میں ہے اور اس کے بھی صرف ایک باب میں یعنی عقیدہ ختم رسالت میں ، بات کو بات کی جگہ رکھنا چاہیے جو شخص ایک جرم کا مجرم ہے یہ تو ضرور نہیں کہ دوسرے جرائم کا بھی ہو_(سچی باتیں از عبد الماجد دریا بادی ص:213)

اسی طرح دیوبندیوں کے حکیم الاسلام قاری محمد طیب فرماتے ہیں:"تو یہاں ختم نبوت کا معنی لینا کہ نبوت کا دروازہ بند ہو چکا یہ دنیا کو دھوکہ دینا ہے، نبوت مکمل ہو گئی وہی کام دے گی قیامت تک، نہ یہ کہ منقطع ہو گئی اور دنیا میں اندھیرا پھیل گیا" (خطبات حکیم الاسلام 1/39)
ایک دوسرے مقام پر اس سے بھی واضح عبارت میں ختم نبوت کے معروف مفہوم کا انکار ملاحظہ فرمائیں طیب صاحب فرماتے ہیں:"اس سے واضح ہو گیا کہ ختم نبوت کا معنی قطع نبوت یا انقطاع رسالت کے نہیں بایں معنی کہ نبوت کی نعمت باقی نہ رہی یا اس کا نور عالم سے زائل ہو گیا بلکہ تکمیل نبوت کے ہے جس کا حاصل یہ ہوا کہ خاتم النبیین صل اللہ علیہ و سلم کی ذات پر تمام کمالات نبوت اپنی انتہا کو پہنچ کر مکمل ہو گئے جو اب تک نہ ہوئے تھے، اب جو نبوت دنیا میں قائم ہے وہ خاتم کی ہے ، اس کامل نبوت کے بعد کسی نئی نبوت کی ضرورت باقی نہیں رہی، نہ یہ کہ نبوت دنیا سے منقطع ہو گئی اور چھین لی گئی معاذ اللہ_(ختم نبوت از حکیم الاسلام قاری محمد طیب ص:2)

(17) ان کا کہنا ہے کہ جنگ آزادی میں حق انگریزوں کے پاس تھا اسی لیے اللہ نے خضر علیہ السلام کو بھیج کر انگریزوں کی مدد فرمائی تھی... ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں:"ہندوستان میں انگریزی فوج کے ساتھ جو لوگ لڑرہے تھے ان میں مولوی فضل الرحمن صاحب گنج مرادآبادی بھی تھے اچانک ایک دن مولانا کو دیکھا گیا کہ خود بھاگے جارہے ہیں اور کہتے جارہے ہیں کہ لڑنے کا کیا فائدہ خضر کو تو میں انگریزوں کی صف میں پارہا ہوں(حاشیہ سوانح قاسمی 2/103)
اب جن کا یہ عقیدہ ہو کہ حق انگریزوں کے ساتھ ہے وہ بھلا کیوں کر انگریزوں سے جہاد کریں گے؟ لیکن ستم ظریفی یہ یکھیے کہ ایک تو دشمنان اسلام نے آزادی ہند میں مسلمانوں کی حصہ داری کا انکار کر دیا اور صفحات تاریخ سے ان کا نام و نشان مٹا ڈالا ساتھ ساتھ ان نام نہاد مسلمانوں نے بھی جو انگریزوں کو حق پر سمجھتے تھے اپنی کتابوں میں اہل حدیثوں کا ذکر تک نہیں کیا اور جھوٹی سچی کہانیاں بنا کر اپنے بزرگان کی طرف منسوب کر کے انہیں مجاہدین آزادی باور کرانے بیٹھ گئے.

قارئین کرام یہ ہیں فرقہ دیوبندیہ کے عقائد جو نصوص کتاب و سنت اور عقائد سلف صالحین سے بالکل متضاد ومتصادم ہیں لہٰذا اب آپ خود فیصلہ کریں کہ کیا اب بھی دیوبندیوں کو اہل سنت اور فرقہ ناجیہ منصورہ میں شامل مانا جا سکتا ہے... ؟؟؟ اگر ان تمام فاسد عقائد کے باوجود بھی حضرات دیوبندیہ اہل سنت ہوں تو میں کہتا ہوں کہ اہل سنت ہر گز ہر گز فرقہ ناجیہ منصورہ نہیں ہو سکتا...
اس سلسلے میں مزید معلومات حاصل کرنے کے لیے درج ذیل کتابوں کا مطالعہ مفید رہے گا.
(1) الديوبندية تعريفها عقائدها (عربی) سيد طالب الرحمن.
(2)الديوبندية تعريفها عقائدها (اردو ) سيد طالب الرحمن، دونوں کتابوں کا مواد مختلف ہے.
(3)علمائے دیوبند کا ماضی حکیم محمود احمد.
(4)دیوبندی اور تبلیغی جماعت کا تباہ کن صوفیت کا عقیدہ عطاء اللہ ڈیروی.
(5) عقائد علمائے دیوبند تحقیق و تعلیق ڈاکٹر طالب الرحمن.
(6)کیا علمائے دیوبند اہل سنت ہیں ترجمہ :شیخ توصیف الرحمن راشدی.
آخیر میں اللہ رب العالمین سے دعا ہے کہ وہ ہمیں فہم سلیم اور فکر مستقیم سے نوازے آمین.
 
Top