ذیشان خان

Administrator
مریض کا پیشاب کی تھیلی لیکر مسجد جانا
================
وہ مریض جن کے پاس پیشاب یا پاخانہ کے لئے مستقل تھیلی لگی رہتی ہے ان کا اس حالت میں نماز پڑھنا درست ہے۔اگرمریض چلنے کی طاقت رکھتا ہے تو مسجد میں بھی تھیلی کے ساتھ جائے گا اور اگر اٹھنے کی طاقت نہیں تو اس حالت میں بستر پر پڑھ لے۔ وہ نجاست اس کی نماز وطہارت پہ اثر انداز نہیں ہوگی جو تھیلی میں گررہی ہے یا پہلے سے موجود ہے ۔ اللہ تعالی کا فرمان ہے :
لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا ۚ(البقرة: 286)
ترجمہ: اللہ تعالی کسی جان کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔
دوسری جگہ فرمان ہے :
يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلَا يُرِيدُ بِكُمُ الْعُسْرَ (البقرہ :185)
ترجمہ:اللہ تعالی تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اوروہ تمہیں مشکل اورسختی میں نہیں ڈالنا چاہتا ۔
اورابوہریرہرضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
إن الدينَ يُسرٌ ، ولن يُشادَّ الدينَ أحدٌ إلا غلبَه ، فسدِّدوا وقاربوا ، وأبشروا ، واستعينوا بالغدوَةِ والرَّوْحةِ وشيءٍ من الدُّلْجَةِ .(صحيح البخاري:39)
ترجمہ: بے شک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس پر غالب آ جائے گا ( اور اس کی سختی نہ چل سکے گی ) پس ( اس لیے ) اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو۔ اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ ( کہ اس طرز عمل سے تم کو دارین کے فوائد حاصل ہوں گے ) اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں ( عبادت سے ) مدد حاصل کرو۔
نماز تو ہرحال میں پڑھنا ہے اور استطاعت رکھنے والوں کو مسجد میں حاضر ہونا ہے ۔ اس لئے وہ مریض جن کے ساتھ پیشاب کی تھیلی متصل ہے انہیں مسجد میں حاضرہوکر نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے تاہم کچھ احتیاطی تدابیر اپنانے کی ضرورت ہے ۔
چند احتیاطی تدابیر
(1) ویسے عام طور سے تھیلی نکالنے کی گنجائش نہیں ہوتی جیساکہ اطباء اسے نکلنا مضر کہتے ہیں۔پھربھی اگر کسی مریض کو تھیلی نکالنے کا امکان ہو تو نماز کے وقت تھیلی نکال لے تاکہ مشقت وپریشانی اور نجاست مسجد میں لے جانے سے بچ رہے ۔
(2) نماز کے وقت تھیلی کی صفائی بآسانی ممکن ہوتو مسجد جانے سے پہلے اس کی صفائی کرلے اور اگر صفائی ممکن نہ ہوتو ویسے ہی چلاجائے ۔
(3) تھیلی کو کسی چیز سے ڈھک لے اور اس طرح سے جائے کہ نجاست تھیلی سےباہر نہ نکلے ۔
(4) تھیلی سے لگی کپڑے یا بدن کی نجاست صاف کرلے ۔
(5) سلسل بول والا ہر نماز کے لئے الگ وضو کرے گااور وضو ،نماز کا وقت ہوجائےتب کرے ۔ اس صورت میں وضو کے بعد ٹپکنے والا قطرہ ناقض وضو نہیں ہوگالیکن اگلی نماز کے لئے نیا وضو کرے گاجیساکہ استحاضہ کا مسئلہ ہے ۔
واللہ اعلم
کتبہ
مقبول احمد سلفی
 
Top