ذیشان خان

Administrator
بیٹی

بقلم عمران محمدی
عفا اللہ عنہ

ہمارے معاشرے میں بیٹی کو ناپسند کرنے کی روش پروان چڑھتی جا رہی ہے بہت سے گھرانوں میں بیٹی پیدا ہونے کی وجہ سے بیوی پر جسمانی اور ذہنی تشدد , طرح طرح کی باتیں , طلاق کی دھمکیاں , گھر سے نکالنا , کوستے رہنا اور اس کی زندگی کو جہنم بنا دینا، معمول بن چکا ہے

شیخوپورہ کے ایک سنگدل نے اپنی بیوی کو صرف اس لیے قتل کر دیا تھا کہ اس کے بطن سے چھٹی بیٹی کیوں پیدا ہوئی

شیخوپورہ میں ایک باپ نے اپنی دس روز کی بیٹی کو پانی کے ٹب میں ڈبو کر قتل کر دیا
لاہور میں ایک رکشہ ڈرائیور نے دوسری بیٹی پیدا ہونے پر پہلی کو دریائے راوی میں پھینک دیا
لڑکی پیدا ہونے کی صورت میں کئی مائیں دودھ ہی نہیں پلاتیں اور یوں بیٹی کے قتل کا ارتکاب کرتی ہیں
بیٹی کی پیدائش پر اسے ہسپتال ہی چھوڑ آنا یا گاڑی کے اندر ہی چھوڑ جانا یا گلا دبا کر کوڑے کے ڈھیر میں پھینک دینا معمول کی خبریں ہیں


اللہ کے لیے بیٹیوں سے ایسا سلوک مت کریں
یہ بیٹیاں رب تعالی کی رحمت ہوتی ہیں
یہ بیٹیاں باپ کےسرکاتاج ہوتی ہیں
یہ بیٹیاں بھائیوں کاسہارا ہوتی ہیں
باپ اور بھائیوں کےفیصلےکےسامنےاپنی خواہشات کودفن کردیتی ہیں
یہ بیٹیاں ماں کےدکھ درد میں ہروقت شریک رہتی ہیں


اے انسان ذرا سوچ کہ وہ عورت جو تیری ماں کے روپ میں ہے وہ بھی کسی کی بیٹی ہے ایک ہی پیٹ سے نکلی تیری بہنیں تیری ماں کی بیٹیاں ہیں , تو نے بھی کسی کی بیٹی سے ہی نکاح کیا ہے , اگر آج اللہ نے تیرے ہی گھر رحمت نازل کی بھی ہے تو وہ تجھے اب کیوں زحمت لگنے لگی ہے۔۔۔❓


بیٹی کا قتل کبیرہ گناہ ہے

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
وَإِذَا الْمَوْءُودَةُ سُئِلَتْ
اور جب زندہ دفن کی گئی (لڑکی) سے پوچھا جائے گا۔
التكوير : 8
بِأَيِّ ذَنْبٍ قُتِلَتْ
کہ وہ کس گناہ کے بدلے قتل کی گئی؟
التكوير : 9

دوسرے مقام پر اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے
وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا
اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم ہی انھیں رزق دیتے ہیں اور تمھیں بھی۔ بے شک ان کا قتل ہمیشہ سے بہت بڑا گناہ ہے۔
الإسراء : 31

یہاں اللہ تعالیٰ نے اولاد کے قتل کا سبب موجودہ یا آئندہ فقر کا خوف بیان فرمایا ہے
آج بیٹیوں کے قتل کے پیچھے لوگوں کے ذہنوں میں یہی خوف کارفرما ہے کہ بیٹی بڑی ہو کر بوجھ بنے گی
اسے جہیز دینا پڑے گا
کما کر کھلانا پڑے گا


عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا
سَأَلْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَيُّ الذَّنْبِ أَعْظَمُ عِنْدَ اللَّهِ قَالَ أَنْ تَجْعَلَ لِلَّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ قُلْتُ إِنَّ ذَلِكَ لَعَظِيمٌ قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ تَخَافُ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ قُلْتُ ثُمَّ أَيُّ قَالَ ثُمَّ أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ
(بخاری، كِتَابُ التَّوْحِيدِ وَالرَدُّ عَلَی الجَهمِيَةِ وَغَيرٌهُم
بَابُ قَوْلِ اللَّهِ تَعَالَى: {فَلاَ تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا} [البقرة: 22]7520)
کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کون سا گناہ اللہ کے یہاں سب سے بڑا ہے؟ فرمایا یہ کہ تم اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ حالانکہ اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ میں نے کہا یہ تو بہت بڑا گناہ ہے۔ میں نے عرض کیا: پھر کون سا؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے بچے کو اس خطرہ کی وجہ سے قتل کر دو کہ وہ تمہارے ساتھ کھائے گا۔ میں نے عرض کیا کہ پھر کون؟ فرمایا یہ کہ تم اپنے پڑوسی کی بیوی سے زنا کرو


بیٹی کی پیدائش پر منہ چڑھانا کفار کا طریقہ ہے

اللہ تعالیٰ نے مشرکین مکہ کی حالت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِمَا ضَرَبَ لِلرَّحْمَنِ مَثَلًا ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ
حالانکہ جب ان میں سے کسی کو اس چیز کی خوش خبری دی جائے جس کی اس نے رحمان کے لیے مثال بیان کی ہے تو اس کا منہ سارا دن سیاہ رہتا ہے اور وہ غم سے بھر ا ہوتا ہے۔
الزخرف : 17


سورہ نحل میں ہے
وَإِذَا بُشِّرَ أَحَدُهُمْ بِالْأُنْثَى ظَلَّ وَجْهُهُ مُسْوَدًّا وَهُوَ كَظِيمٌ
اور جب ان میں سے کسی کو لڑکی کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اس کا منہ دن بھر کالا رہتا ہے اور وہ غم سے بھرا ہوتا ہے۔
النحل : 58

يَتَوَارَى مِنَ الْقَوْمِ مِنْ سُوءِ مَا بُشِّرَ بِهِ أَيُمْسِكُهُ عَلَى هُونٍ أَمْ يَدُسُّهُ فِي التُّرَابِ أَلَا سَاءَ مَا يَحْكُمُونَ
وہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے، اس خوش خبری کی برائی کی وجہ سے جو اسے دی گئی۔ آیا اسے ذلت کے باوجود رکھ لے، یا اسے مٹی میں دبا دے۔ سن لو! برا ہے جو وہ فیصلہ کرتے ہیں۔
النحل : 59

کظیم کا معنی
’’ كَظِيْمٌ ‘‘ کا معنی ’’ كَتْمٌ ‘‘ (چھپانا) ہے، یہ ’’ كَظَمَ الْقِرْبَةَ ‘‘ سے لیا گیا ہے۔ جب مشکیزہ پانی سے بھر جائے، پھر اس کا منہ باندھ دیں تو ایسے معلوم ہوتا ہے کہ ابھی پھٹ جائے گا، مراد غم سے بھرا ہوا ہے، یعنی لڑکی کی پیدائش کی خبر سن کر سارا دن غم کی وجہ سے اس کا منہ کالا رہتا ہے، مگر وہ غم سے بھرا ہونے کے باوجود اظہار نہیں کرتا۔ اپنے خیال میں اب وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہا، اس لیے اس خوش خبری کو وہ اتنا برا سمجھتا ہے کہ لوگوں سے چھپتا پھرتا ہے اور اسے سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کرے، آیا اسے اپنے پاس رکھے اور جاہل معاشرے کی نظر میں ذلیل ہو کر رہنا برداشت کرے یا اسے مٹی میں چھپا دے، یعنی زندہ دفن کر دے۔


اللہ کی مرضی ہے بیٹی عطا کرے یا بیٹا یا دونوں یا کوئی بھی نہیں

بیٹی جنم دینے میں بیوی بے قصور ہے بلکہ میاں اور بیوی دونوں ہی بے قصور ہیں کیونکہ یہ فیصلہ صرف اللہ کے اختیار میں ہے

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں
لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے۔
الشورى : 49
أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَنْ يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ
یا انھیں ملا کر بیٹے اور بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کر دیتا ہے، یقینا وہ سب کچھ جاننے والا، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔
الشورى : 50

اللہ مختار کل ہے
اس آیت میں یہ حقیقت واشگاف الفاظ میں بیان کر دی گئی ہے کہ زمین و آسمان کی بادشاہی دنیا کے نام نہاد بادشاہوں، جباروں اور سرداروں کے حوالے نہیں کر دی گئی اور نہ ہی اس میں کسی نبی یا ولی، داتا، دستگیر یا دیوی دیوتا کا کوئی حصہ ہے، اس کا مالک اکیلا اللہ تعالیٰ ہے۔ کتنے جابر بادشاہ اور سپہ سالار، کتنے انبیاء و اولیاء اور کتنے ماہر ڈاکٹر اور حکیم اولاد سے محروم رہے، کتنے لڑکے کو ترستے رہے اور کتنے لڑکی کی خواہش دل میں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے۔
اللہ تعالیٰ جسے چاہے دیتا ہے اور جو چاہے دیتا ہے، چنانچہ وہ جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے، یا لڑکے لڑکیاں دونوں عطا کر دیتا ہے اور جسے چاہے مرد ہو یا عورت عقیم (بانجھ) بنا دیتا ہے، کسی کو اس پر اعتراض یا شکوے کا کوئی حق نہیں
اگر مشرکین اس حقیقت کو سمجھ لیں تو کبھی شرک کی حماقت نہ کریں۔

بیٹی اللہ تعالیٰ کا تحفہ ہے
’’ يَهَبُ لِمَنْ يَّشَآءُ اِنَاثًا ‘‘ میں لڑکیوں کو اللہ تعالیٰ کا عطیہ قرار دیا گیا ہے۔
جو لوگ لڑکیوں کو نحوست یا عار کا باعث سمجھتے ہیں انھیں ان الفاظ پر غور کرنا چاہیے اور سوچنا چاہیے کہ وہ کسی عام ذات نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ تحفہ پر منہ چڑھانے کی وجہ سے کہیں اس کے غضب کا شکار نہ بن جائیں
اور کسی ایسے جوڑے کے احساسات معلوم کرنے چاہییں جنھیں لڑکی بھی عطا نہیں ہوئی۔

بیٹی کا ذکر بیٹے سے پہلے کیوں

اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے پہلے بیٹیوں کا ذکر فرمایا، پھر بیٹوں کے عطا فرمانے کا ذکر کیا۔
فرمایا
يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ الذُّكُورَ
امام ابن قیم اس بارے لکھتے ہیں:
’’أَنَّہ سُبْحَانَہُ قَدَّمَ مَا کَانَتْ تُؤَخِّرُہُ الْجَاھِلِیَّۃُ مِنْ أَمْرِ الْبَنَات، حَتَّی کَأَنَّ الْغَرَضَ بَیَانُ أَنَّ ھٰذَا النَّوْعَ الْمُؤَخَّرَ الْحَقِیْرَ عِنْدَکُمْ مُقَدَّمٌ عِنْدِيْ فِيْ الذِّکْرِ۔‘‘
(التفسیر القیم ص ۴۳۳؛ وتحفۃ المودود بأحکام المولود ص ۲۷ بحوالہ ڈاکٹر فضل الہی حفظہ اللہ تعالیٰ )

[ اللہ سبحانہ نے بیٹیوں کو مقدم کیا ہے، جن کو اہل جاہلیت مؤخر کرتے تھے، گویا کہ یہ بیان کرنا مقصود تھا، کہ تمہاری طرف سے نظر انداز کی ہوئی یہ حقیر قسم میرے نزدیک ذکر میں مقدَّم ہے]

بیٹیاں محبت کرنے والی ہوتی ہیں

امام احمد اور امام طبرانی نے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’لَا تَکْرَھُوْا الْبَنَاتِ فَإِنَّہُنَّ الْمُؤْنِسَاتُ الْغَالِیَاتُ۔‘‘
[بیٹیوں کو ناپسند نہ کرو، کیونکہ یقینا وہ تو پیار کرنے والیاں اور قیمتی چیز ہیں]

نوٹ، یہ روایت ضعیف ہے
اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی بجائے اقوال زریں کے قبیل سے دیکھا جائے بہرحال اس کا مضمون درست ہے کیونکہ بیٹیاں حقیقت میں پیار کرنے والیاں اور قیمتی چیز ہیں


بیٹیاں ہی دکھ درد میں والدین کی زیادہ خدمت کرتی ہیں عورت فطری طور پر محبت کی مٹی میں گوندھی ہوتی ہے مامتا اس کا بنیادی وصف ہے وہ بہن کے روپ میں بھی مامتا سے مالا مال ہوتی ہے چھوٹے بہن بھائیوں سے اس کا طرز عمل ماں جیسا ہوتا ہے


ایسے واقعات بہت ہیں کہ بہن مالدار ہوتو بھائیوں کا ضرور خیال رکھتی ہے لیکن ایسا بہت کم ہے کہ بھائی مالدار ہوں اور بہن کا خیال رکھتے ہوں


بہت جگہوں پر مشاہدہ کیا گیا ہے مثال کے طور پر ایک شخص مریدکے میں رہتا ہے اس کے چار بیٹے اور چار ہی بیٹیاں ہیں
ایک بیٹی کی شادی لاہور دوسری کی شیخوپورہ تیسری کی گوجرانوالہ اور چوتھی کی شادی نارووال میں کی گئی ہو جب کبھی وہ شخص بیمار ہو یا ان بیٹیوں کی ماں بیمار ہو تو گھر میں موجود چاروں بیٹے تو شاید خدمت کریں یا نہ کریں لیکن وہ چاروں بیٹیاں ضرور حاضر خدمت ہوں گی چاہے وہ اکٹھی آجائیں یا آپس میں باری مقرر کرکے ایک ایک ہفتہ آتی رہیں

یہ سب
الْمُؤْنِسَاتُ الْغَالِیَاتُ کی عملی تصویر ہے


بیٹیاں دوزخ کی آگ کے سامنے پردہ بن کر حائل ہوجائیں گی

اسلام نے بیٹیوں کے حقوق کما حقہ ادا کرنے والوں کو اس قدر خوشخبریاں دی ہیں کہ اتنی خوشخبریاں دس بیٹے رکھنے والوں کو بھی نہیں دی گئی

حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان کیا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
’’مَنْ کَانَ لَہُ ثَلَاثُ بَنَاتٍ، فَصَبَرَ عَلَیْہِنَّ، وَأَطْعَمَھُنَّ، وَسَقَاہُنَّ، وَکَسَاھُنَّ مِنْ جِدَتِہِ کُنَّ لَہُ حِجَابًا یَوْمَ الْقِیَامَۃِ۔‘
أخرجه أحمد (17403)، والبخاري في "الأدب المفرد" (76)،
تحقيق الألباني:صحيح، الصحيحة (294)
[جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں، اور وہ ان پر صبر کرے، انہیں اپنی استطاعت کے مطابق کھلائے، پلائے اور پہنائے، تو وہ اس کے لئے روزِ قیامت پردہ ہوں گی (یعنی دوزخ کی آگ کے درمیان پردہ بن کر حائل ہوجائیں گی۔)]

امام بخاری اور امام مسلم نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت نقل کی ہے، کہ انہوں نے بیان فرمایا: ’’میرے پاس ایک عورت اپنی دو بیٹیوں کے ہمراہ آئی۔ اس نے مجھ سے سوال کیا، لیکن اس نے میرے پاس سوائے ایک کھجور کے اور کچھ نہ پایا۔ میں نے اس کو وہی دے دی۔ اس نے اس کو لے کر ان دونوں میں تقسیم کردیا اور خود اس میں سے کچھ نہ کھایا۔ پھر وہ اٹھی اور اپنی دونوں بیٹیوں کے ہمراہ چلی گئی۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا واقعہ سنایا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
’’مَنْ ابْتُلِيَ مِنَ الْبَنَاتِ بِشَيْئٍ، فأَحْسَنَ إِلَیْھِنَّ، کُنَّ لَہُ سِتْرًا مِنَ النَّارِ۔
[جس شخص کو ان بیٹیوں میں سے کسی چیز کے ساتھ آزمائش میں ڈالا گیا اور اس نے ان کے ساتھ احسان کیا، تو وہ اس کے لیے [جہنم کی] آگ کے مقابلے میں رکاوٹ ہوں گی۔‘‘]

متفق علیہ: صحیح البخاري، کتاب الأدب، باب رحمۃ الولد وتقبیلہ ومعانقتہ، رقم الحدیث ۵۹۹۵، ۱۰/۴۲۶؛ وصحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل الإحسان إلی البنات، رقم الحدیث ۱۴۷۔(۲۶۲۹)، ۳/۲۰۲۷۔ الفاظ حدیث صحیح مسلم کے ہیں

اکثر روایات میں لفظ [الإحسان] آیا ہے۔
اور ترمذی کی ایک روایت میں ہے:
(فَصَبَرَ عَلَیْہِنَّ)
[اس نے ان پر صبر کیا]
سنن ابن ماجہ میں ان الفاظ کا اضافہ ہے:
(وَأَطْعَمَہُنَّ، وَسَقَاہُنَّ، وَکَسَاھُنَّ)
[اس نے انہیں کھلایا، انہیں پلایا اور انہیں پہنایا]
اور طبرانی میں ہے:
’’فَأَنْفَقَ عَلَیْہِنَّ، وَزَوَّجَہُنَّ ، وَأَحْسَنَ أَدَبَہُنَّ‘‘
[پس اس نے ان پر خرچ کیا، ان کی شادی کی اور انہیں اچھے آداب سکھلائے]
مسند احمد اور الأدب المفرد میں ہے: ’’یُؤْوِیْہُنَّ، وَیَرْحَمُہُنَّ، وَیَکْفُلُہُنَّ‘‘
[وہ انہیں جگہ دیتا ہے، ان پر شفقت کرتا ہے اور ان کی کفالت کرتا ہے]
اور طبرانی، ترمذی اور الأدب المفرد میں ہے:
’’فَأَحْسَنَ صُحْبَتَہُنَّ، وَاتَّقَی اللّٰہ فِیْہِنَّ۔‘‘
’’وہ ان کے ساتھ عمدہ طرز عمل اختیار کرتا ہے اور ان کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتا ہے۔‘‘



بیٹیاں جنت میں لے جائیں گی

حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
مَا مِنْ رَجُلٍ تُدْرِكُ لَهُ ابْنَتَانِ فَيُحْسِنُ إِلَيْهِمَا مَا صَحِبَتَاهُ أَوْ صَحِبَهُمَا إِلَّا أَدْخَلَتَاهُ الْجَنَّةَ
(ابن ماجة، كِتَابُ الْأَدَبِ، بَابُ بِرِّ الْوَالِدِ وَالْإِحْسَانِ إِلَى الْبَنَاتِ،حسن، 3670)

جس شخص کی دوبیٹیاں جوان ہوجائیں اور وہ ان سے اس وقت تک اچھا سلوک کرتا رہے جب تک وہ اس کے ساتھ رہیں،یا جب تک وہ ان کے ساتھ رہے ، وہ اسے جنت میں ضرور داخل کردیں گی۔


(جب تک وہ اس کے ساتھ رہیں۔)
کا مطلب یہ ہے کہ ان کا نکاح ہو جانے تک ، یا نکاح سے پہلے فوت ہو جانے تک ان سے اچھا سلوک کرے، ان کی اچھی تربیت کرے، ان کی جائز ضروریات پوری کرے۔
(جب تک وہ ان کے ساتھ رہے۔)
کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان کا نکاح کرنے سے پہلے فوت ہو جائے اور اپنی وفات تک ان سے اچھا سلوک کرتا رہے تو جنت میں داخل ہو جائے گا۔


بیٹیوں کی پرورش اور تربیت کرنے والا جنت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایسے ہوگا جیسے ہاتھ کی ایک انگلی دوسری کے ساتھ ہوتی ہے

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے بیان کیا:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’مَنْ عَالَ جَارِیَتَیْنِ حَتَّی تَبْلُغَا جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ، أَنَا وَھُوَ،‘‘ وَضَمَّ أَصَابِعَہُ۔‘‘
صحیح مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب فضل الإحسان إلی البنات، رقم الحدیث ۱۴۹
[’’جس شخص نے دو بیٹیوں کی، بلوغت کو پہنچنے تک، پرورش اور تربیت کی، وہ قیامت کے دن [اس طرح] آئے گاکہ میں اور وہ۔‘‘
اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کو [ایک دوسری سے] ملا دیا۔]

(وضَمّ أصَابِعَہُ)
اس سے مراد یہ ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دو انگلیوں یعنی شہادت اور درمیانی انگلیوں کو آپس میں ملایا اور اس میں اس بات کی طرف اشارہ ہے، کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ اور اس کے درجہ میں اسی قدر تفاوت ہوگا، جس قدر فاصلہ ان دونوں انگلیوں کے درمیان ہوتا ہے۔
یہ بھی احتمال ہے، کہ اس سے مراد یہ ہو، کہ جنت میں داخلہ کے وقت وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس قدر قریب ہوگا۔
اور اس بات کا بھی احتمال ہے، کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اشارے کا مقصود دونوں باتیں ہی ہوں، کہ وہ جنت میں بہت جلدی داخل ہوجائے گا، کیونکہ وہ اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہوگا اور اس کا مقام و مرتبہ بھی جنت میں بہت بلند ہوگا

بيٹی کی پرورش کرنے والی ماں جنت میں داخل ہو گی

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا:
میرے پاس ایک مسکین عورت آئی جس نے اپنی دو بیٹیاں اٹھائی ہوئی تھیں، میں نے اس کو تین کھجوریں دیں، اس نے کہا ان میں سے ہر ایک کو ایک ایک کھجور دی، (بچی ہوئی) ایک کھجور کھانے کے لیے اپنے منہ کی طرف لے گئی، تو وہ بھی اس کی دو بیٹیوں نے کھانے کے لیے مانگ لی، اس نے وہ کھجور بھی جو وہ کھانا چاہتی تھی، دو حصے کر کے دونوں بیٹیوں کو دے دی۔ مجھے اس کا یہ کام بہت اچھا لگا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا تو آپ نے فرمایا:
إِنَّ اللَّهَ قَدْ أَوْجَبَ لَهَا بِهَا الْجَنَّةَ أَوْ أَعْتَقَهَا بِهَا مِنْ النَّارِ
(مسلم، كِتَابُ الْبِرِّ وَالصِّلَةِ وَالْآدَابِ،بَابُ اسْتِحْبَابِ مُجَالَسَةِ الصَّالِحِينَ، وَمُجَانَبَةِ قُرَنَاءِ السُّوءِ6694)
"اللہ نے اس (عمل) کی وجہ سے اس کے لیے جنت پکی کر دی ہے یا (فرمایا: ) اس وجہ سے اسے آگ سے آزاد کر دیا ہے۔"


’’انبیاء علیہم السلام بیٹیوں کے باپ تھے۔‘‘

امام احمدکے صاحبزادے صالح بیان کرتے ہیں، کہ جب ان کے ہاں بیٹی کی ولادت ہوتی ، تو وہ فرماتے:
’’ اَ لْأَنْبِیَائُ کَانُوا آبَاء بَنَاتٍ۔‘‘
[’’انبیاء علیہم السلام بیٹیوں کے باپ تھے۔‘‘]

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور بیٹیاں

بیٹی کی پرورش کے حوالے سے یہی بات بہت بڑی ہے کہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی چار بیٹیوں کے باپ تھے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف لے جایا کرتے۔ عموماً سفر سے واپسی پر ازواج مطہرات کے حجروں میں جانے سے پہلے انہی کے گھر جاتے۔

آپ اپنی صاحبزادی کے استقبال کے لیے اٹھ کر آگے بڑھتے انہیں خوش آمدید کہتے۔ انہیں بوسہ دیتے۔ ان کا ہاتھ تھام لیتے اور مجلس میں اپنی دائیں یا بائیں جانب بٹھاتے۔ بیٹی کے استقبال میں ان سب باتوں کا اہتمام آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا عام معمول تھا۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کو اپنا جگر گوشہ قرار دیتے ہوئے بیٹی کی تکلیف کو اپنی تکلیف قرار دیا
فرمایا
فاطمۃ بضعۃ منی من اغضبھا فقد اغضبنی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیٹی کو تھکاوٹ کی پریشانی کا تریاق بتاتے ہوئے نماز کے بعد اور بستر پر آنے کے بعد پڑھنے والے کلمات بھی سکھلائے۔

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی صاحبزادیوں کی عائلی زندگی کے معاملات کی طرف خصوصی توجہ فرماتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی شادیوں کا خود اہتمام فرمایا،
رخصتی کے وقت بیٹی کو تحائف دئیے، بیٹی کی عائلی زندگی میں ہونے والے نزاع کی اصلاح فرمائی۔ داماد کو رہا کرتے وقت بیٹی کو بھیجنے کی شرط لگائی

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صاحبزادی کو دنیاوی زیب و زینت سے دور رکھنے کی سعی فرمائی،
بیٹی کو باپ پر آس لگانے کی بجائے خود دوزخ کی آگ سے بچاؤ کی خاطر کوشش کرنے کی تلقین فرمائی۔

بیٹی کی وفات پر شدتِ غم کی بنا پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہتے رہے، لیکن زبان سے صبر کے منافی ایک لفظ بھی نہ نکالا۔ صاحبزادیوں کی وفات پر شدتِ الم و رنج کے باوجود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان کی تجہیز، تکفین اور تدفین کا بندوبست ذاتی نگرانی میں کرواتے۔

اپنی بیٹیوں کو صبر کی تلقین فرماتے۔ صاحبزادی کو اپنی وفات کی قبل از وقت خبر دیتے وقت تقویٰ اور صبر کی تلقین فرمائی۔

بیٹے اور بیٹی میں تقابل

عموماً دیکھا گیا ہے کہ اگر بیٹا والدین کے سامنے بہنوں کو مار رہا ہو یا گالیاں دے رہا ہو تو والدین کچھ بھی نہیں کہتے لیکن اگر کبھی بیٹی ایسا کرے تو فوراً ٹوک دیتے ہیں

بیٹا غلطی کرے تو پیار سے سمجھاتے ہیں بیٹی غلطی کرے تو ڈانٹتے ہیں

بیٹا بیمار ہو تو والدین کی جان پر بن جاتی ہے بیٹی بیمار ہو تو فکر ہی نہیں ہوتی

عام طور پر بیٹے کو ترجیح اس لیے دی جاتی ہے کہ وہ معاشی سہارا بنتا ہے اور سمجھا جاتا ہے کہ بیٹی کچھ بھی نہیں کماتی
حالانکہ اگر بیٹی کچھ نہیں کماتی تو بیٹے بھی جب کمائی کے قابل ہوتے ہیں تو اکثر والدین کو ان کی کمائی پر اختیار ہی نہیں ہوتا

بلکہ یہ بھی عین ممکن ہے کہ گھر میں رزق بیٹی ہی کی وجہ سے آ رہا ہو کیونکہ بیٹی کمزور ہوتی ہے اور حدیث میں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا( تم اپنے کمزوروں کی وجہ سے رزق دیئے جاتے ہو)


بیٹی کے متعلق خیال ہوتا ہے کہ اس نے پرائے گھر چلے جانا ہے جبکہ اکثر بیٹے بھی شادی کے بعد الگ گھر آباد کرلیتے ہیں

اگر بیٹی کی حفاظت ایک داخلی معاملہ ہے تو بیٹے کو کنٹرول کرنا ایک خارجی اور اس سے بھی سخت معاملہ ہے

بیٹی کو جہیز دینا پڑتا ہے تو بیٹے کے لیے بھی بھری چڑھانا پڑھتی ہے دونوں کی شادی کے اخراجات تقریباً برابر ہیں اس پر مستزاد یہ کہ بیٹے کو مہنگا مکان بنا کر دینا پڑھتا ہے

لوگ کہتے ہیں کہ بیٹے سے نسل چلتی ہے، یہ تصور انتہائی فرسودہ ہے لوگوں کو دوسری تیسری نسل میں دادا پردادا کا نام تک یاد نہیں رہتا اور اتنی کو دیر تو لڑکی کی اولاد یعنی نواسے نواسیاں بھی یاد رکھ لیتی ہیں

کہتے ہیں کہ بیٹا بڑا ہو کر باپ کی جگہ کام کرتا ہے لیکن یہ نہیں سوچتے کہ بیٹی بھی بڑی ہو کر ماں کی جگہ کام کرتی ہے نہیں تو کسی ایسے جوڑے سے مل کر ان کے حالات پوچھ لیں جن کے چھے سات بیٹے ہوں اور بیٹی کوئی بھی نہ ہو

معروف بات ہے کہ اگر بیٹا نعمت ہے تو بیٹی رحمت ہے

بعض اوقات بیٹی، بیٹے سے بہتر ہوتی ہے

قرآن میں اللہ تعالیٰ نے عمران کی بیوی کا تذکرہ کیا ہے اس نے اللہ تعالیٰ سے بیٹا مانگا تھا لیکن اللہ نے اس کو بیٹے سے بھی اچھی نیک اور بلند مرتبہ والی بیٹی عطا فرمائی وہ کہنے لگی
اے میرے رب! یہ تو میں نے لڑکی جنی ہے
تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا
وَلَيْسَ الذَّكَرُ كَالْأُنْثَى
آل عمران : 36
اور لڑکا اس لڑکی جیسا نہیں

ہمارے استاذ گرامی حافظ عبدالسلام بن محمد حفظہ اللہ
(وَ لَيْسَ الذَّكَرُ كَالْاُنْثٰى:)
کے متعلق لکھتے ہیں
بظاہر تو کہنا چاہیے تھا کہ لڑکی لڑکے جیسی نہیں مگر الٹ فرمایا، یعنی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ لڑکا جو عمران کی بیوی کے ذہن میں تھا اس لڑکی جیسا نہیں ہو سکتا جو انھیں عطا کی گئی۔


اور وہ لڑکی واقعی کمال ثابت ہوئی بلکہ بہت سے مردوں سے مقام و مرتبہ میں بلند ہے
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
[كَمُلَ مِنَ الرِّجَالِ كَثِيْرٌ وَلَمْ يَكْمُلْ مِنَ النِّسَاءِ إِلَّا آسِيَةُ امْرَأَةُ فِرْعَوْنَ وَمَرْيَمُ بِنْتُ عِمْرَانَ وَ إِنَّ فَضْلَ عَائِشَةَ عَلَی النِّسَاءِ كَفَضْلِ الثَّرِيْدِ عَلٰی سَائِرِ الطَّعَامِ ]
[بخاري، أحادیث الأنبیاء، باب قول اللہ تعالٰی : « و ضرب اللہ مثلا…» : ۳۴۱۱، عن أبي موسیٰ رضی اللہ عنہ ]
’’مردوں میں سے بہت سے کامل ہوئے ہیں، مگر عورتوں میں فرعون کی بیوی آسیہ اور عمران کی بیٹی مریم کے سوا کوئی کامل نہیں ہوئی اور عائشہ کی عورتوں پر برتری ایسے ہی ہے جیسے ثرید کی برتری تمام کھانوں پر۔‘‘

ایسی کمال کہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کے لیے مثال کے طور پر فرعون کی بیوی آسیہ اور مریم بنت عمران کا بیان فرمایا ہے کہ دونوں اعلیٰ درجے کے ایمان والی تھیں۔

فرمایا
وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا لِلَّذِينَ آمَنُوا امْرَأَتَ فِرْعَوْنَ إِذْ قَالَتْ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ وَنَجِّنِي مِنْ فِرْعَوْنَ وَعَمَلِهِ وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
اور اللہ نے ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے فرعون کی بیوی کی مثال بیان کی، جب اس نے کہا اے میرے رب! میرے لیے اپنے پاس جنت میں ایک گھر بنا اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچالے اور مجھے ظالم لوگوں سے نجات دے۔
التحريم : 11
وَمَرْيَمَ ابْنَتَ عِمْرَانَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِنْ رُوحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَبِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ
اور عمران کی بیٹی مریم کی (مثال دی ہے) جس نے اپنی شرم گاہ کی حفاظت کی تو ہم نے اس میں اپنی ایک روح پھونک دی اور اس نے اپنے رب کی باتوں کی اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت کرنے والوں میں سے تھی۔
التحريم : 12

کبھی ایسے بھی ہوتا ہے کہ بیٹی کی وجہ سے بیٹے سے بھی اچھا داماد مل جاتا ہے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات یعنی امھات المؤمنین کی مثال ہمارے سامنے ہے
امھات المؤمنین کے وہ والدین اور بہن بھائی جو مسلمان تھے وہ کتنے خوش نصیب ہیں جن کے گھروں میں ایسی بیٹیوں اور بہنوں نے جنم لیا کہ جو بعد میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح میں آ کر امھات المؤمنین کے لقب سے سرفراز ہوئیں
اور ایسا مقام ملا کہ کائنات میں ممتاز ہو گئیں
اللہ تعالیٰ نے فرمایا
يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَعْرُوفًا
اے نبی کی بیویو! تم عورتوں میں سے کسی ایک جیسی نہیں ہو، اگر تقویٰ اختیار کرو تو بات کرنے میں نرمی نہ کرو کہ جس کے دل میں بیماری ہے طمع کر بیٹھے اور وہ بات کہو جو اچھی ہو۔
الأحزاب : 32

ابو بکر صدیق، عمر فاروق، ابوسفیان اور ان کی بیوی ھند رضی اللہ عنہم اجمعین کتنے خوش نصیب لوگ ہیں جن کے گھروں میں ایسی بیٹیوں نے جنم لیا کہ انہیں ان بیٹیوں کی وجہ سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسا عظیم داماد ملا کہ جس پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے
اور
عبدالرحمن بن ابی بکر، عبداللہ بن عمر اور امیر معاویہ رضی اللہ عنہم اجمعین وہ خوش نصیب لوگ ہیں جو ان بہنوں کی وجہ سے خال المؤمنین کہلائے


ہند بنت عوف،بیٹیوں کی وجہ سے بننے والی دنیا کی منفرد ترین ساس

ان کی خاص بات ان کی بیٹیاں ہیں جن کی نسبت سے انہیں چند عظیم ترین داماد حاصل ہوئے۔
ان کی بیٹیوں میں ام المومنین زینب بنت خزیمہ، اور ام المونین میمونہ بنت حارث رضی اللہ عنھما شامل ہیں۔
یعنی دونوں امہات آپس میں ماں شریک بہنیں تھیں اور نبی ﷺ نے ام المومنین میمونہ ؓ سے نکاح ام المومنین زینب بنت خزیمہ ؓ کی وفات کے بعد کیا تھا۔

یعنی ہند بنت عوف وہ خاتون ہیں جو دو بیٹیوں کی نسبت سے نبی پاک ﷺ کی ساس ہیں۔


آپ کے دامادوں کی فہرست دیکھئے اور رشک کیجئے
محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم دو بار داماد ہوئے۔
حمزہ بن عبد المطلب
عباس بن عبد المطلب
علی بن ابی طالب
جعفر بن ابی طالب
عبد اللہ بن جحش احد کے شہید
عبیدہ ابن حارث بدری شہید
ابوبکر صدیق
عمر بن خطاب
ولید بن مغیرہ


نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سسرالی رشتہ دار بننے کا فائدہ

عویم بن ساعدہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
«إن الله تبارك وتعالى اختارني واختار بي أصحابا فجعل لي منهم وزراء وأنصارا وأصهارا، فمن سبهم فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه يوم القيامة صرف ولا عدل»
هذا حديث صحيح الإسناد، ولم يخرجاه
[التعليق - من تلخيص الذهبي]
٦٦٥٦ - صحيح

اللہ تعالیٰ نے مجھے چن لیا اور میرے لیے ساتھیوں کو بھی خود چنا،پھر ان میں سے میرے وزیر،انصار و مددگار اور سسرال و داماد بنائے، لہٰذا جس نے انہیں برا بھلا کہا،اس پر اللہ،فرشتوں،اور ساری کائنات کی لعنت ہو-اللہ کریم اس کا فرض و نفل کچھ بھی قبول نہیں کرے گا-
المستدرك للحاكم ج3ص632طبع دار المعرفة بيروت

معاویہ رضی اللہ عنہ کا فخر

خود معاویہ رضی اللہ عنہ اپنے متعلق کہتے ہیں
لا تجدون رجلا منزلته من رسول اللہ منزلتی...... کنت ختنہ وکنت فی کتابہ وکنت ارحل لہ راحلتہ...
تم کوئی ایسا آدمی نہیں پاؤ گے جس کی منزلت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلق میں میرے مقام کی طرح ہو
میں آپ کا برادر نسبتی ہوں
میں آپ کے کاتبوں میں سے ایک ہوں
اور میں آپ کی سواری کا انتظام کیا کرتا تھا
الشریعہ للآجری

شاہکوٹ کا ایک واقعہ

اللہ تعالیٰ نے وراثت کی آیت میں بیٹوں، بیٹیوں، خاوند ،بیوی اور والدین کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا

لَا تَدْرُونَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ لَكُمْ نَفْعًا
تم نہیں جانتے ان میں سے کون فائدہ پہنچانے میں تم سے زیادہ قریب ہے۔
النساء : 11

عین ممکن ہے بعض اوقات بیٹے میں بیٹی سے زیادہ نفع ہو اور بعض اوقات معاملہ اس سے الٹ ہوتا ہے

ایک واقعہ ملاحظہ فرمائیں
لیہ کے رہائشی ایک بزرگ کا واقعہ ہے اس کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی شاھکوٹ کے نواحی دیہاتوں میں رہتے ہیں ایک دن وہ اپنے بیٹے اور بیٹی کو ملنے ان کے علاقے کی طرف نکلا شاھکوٹ شہر میں پہنچا تو رات ہوچکی تھی اب شہر سے دیہات تک پہنچنے کے لیے سواری کا بندوبست نہ تھا
بابا جی نے پہلے اپنے بیٹے کو کال کی کہ آئیں اور مجھے شہر سے لے جائیں بیٹے نے آگے سے صاف انکار کر دیا بلکہ جھڑکتے ہوئے کہنے لگا کہ ہمارے پاس آنے کا یہ کون سا وقت ہے
بابا جی نے بیٹے سے مایوس ہو کر بیٹی کو فون کیا تو بیٹی نے فوری طور پر کہا ابا جی آپ انتظار کریں میں اپنے جلدی اپنے میاں کو بھیجتی ہوں

والدین اور بھائیوں سے گزارش

اپنی اولاد اور بہنوں میں برابری کریں

اولاد میں برابری نہ ہونے اور بیٹے کو بیٹی پر ترجیح دینے کے باعث بچیوں کی نشوونما نفسیاتی الجھنوں ، حسد اور نفرت کے ساتھ ہوتی ہے اور ایسی بچیاں بے حس اور خود غرض ہو جاتی ہیں ۔

بہت سے والدین جو اپنے بیٹے کو نازونخرے سے پالتے ہیں اس کی ہر خواہش پوری کرتے ہیں اور بیٹی کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں بات بات پہ ٹوکتے ہیں ایسی بیٹیاں احساس ذمہ داری سے محروم ہو کر احساس کمتری کا شکار ہو جاتی ہیں اور ان کی خود اعتمادی ختم ہو جاتی ہے

اللہ کے بندو ❗سسرال میں جانے کے بعد ان بیٹیوں بہنوں کو ناجانے کیا کیا مصائب سے گزرنا پڑے جب تک تمہارے ساتھ ہیں تب تک تو انہیں سکون پہنچنا چاہیے

اور جب کبھی یہ بہن بیٹی سسرال سے واپس اپنے آبائی گھر لوٹے تو تیوری چڑھانے کی بجائے خوش دلی سے ملاقات کیا کرو ہوسکتا وہ سسرال کے ہزاروں دکھوں کی ستائی ہوئی چند ٹھنڈی سانسیں لینے تمہارے گھر آئی ہو

ایک سکول ٹیچر عورت کا واقعہ

جماعت کے شعبہ عصری تعلیم کے ذمہ دار نوید قمر بھائی نے ایک واقعہ سنایا، فرماتے ہیں نارووال کے ایک سکول میں ایک لیڈی ٹیچر بچوں کو بہت مارتی تھی بار بار منع کرنے کے باوجود وہ اپنی عادت نہیں چھوڑتی تھی ایک دن اس سے اس کی وجہ پوچھی گئی تو بتانے لگی کہ میں اپنے والدین کی اکیلی بیٹی تھی میرے والدین مجھے بہت پیار کرتے تھے پانچ چھے سال تک اکیلی ہی اس پیار و محبت کا مرکز و محور بنی رہی پھر اللہ تعالیٰ نے میرے والدین کو بیٹا عطا کیا تو ان کی ساری محبتیں اور چاہتیں یکسر تبدیل ہو گئیں اب نہ صرف یہ کہ میں اس محبت سے محروم ہو گئی بلکہ مجھے ڈانٹ ڈپٹ کرنا بھی معمول بن گیا
جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ میں اپنے چھوٹے بھائی سے چِڑنے لگی پھر آہستہ آہستہ ہر چھوٹے بچے سے مجھے نفرت ہونے لگی آج تک ایسا ہے کہ کوئی بچہ بھی مجھے اچھا ہی نہیں لگتا


اس لیے ضروری ہے کہ بیٹیوں کے ساتھ محبت و شفقت کا برتاؤ کیا جائے
یہی وہ برتاؤ ہوتا ہے جس کی بناء پر بچی اپنا ہر دکھ درد ماں باپ کے ساتھ بانٹتی ہے۔یہی محبت و شفقت کا برتاؤ اس کی زندگی میں بغاوت و نفرت کو داخل ہونے نہیں دیتا۔ وہ ابتداء سے انتہا تک اپنی اپنے والدین کی اور بطور مسلم اسلام کی عزت پر آنچ آنے نہیں دیتی۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لئے کھڑے ہوجاتے اور ان کو خوش آمدید کہتے ان کی پیشانی پر بوسہ دیتے اور اپنی نشست کے پاس بٹھاتے یہاں تک کہ وہ مرض الموت کے وقت گھر میں داخل ہوئیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں خوش آمدید کہا اور آپ رضی اللہ عنہا کی پیشانی پر بوسہ دیا۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
 
Top