ذیشان خان

Administrator
" صحابہ کرام کے تحریری مجموعے"

(1) صحیفہ صادقہ :مرتبہ عبداللہ بن عمرو بن عاص، یہ صحیفہ ایک ہزار احادیث پر مشتمل تھا اور اب یہ مسند احمد میں بہ تمام و کمال مل سکتا ہے اس صحیفہ کو دیکھ کر ان کے پڑپوتے عمرو بن شعیب حدیثیں روایت کیا کرتے تھے اور اکابر محدثین مثلا امام بخاری، مالک، احمد بن حنبل، إسحق بن راہویہ وغیرھم ان کی مرویات پر اعتماد کرتے تھے

(2) صحیفہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ:

جب عمر بن عبدالعزيز نے احادیث کی جمع وتدوین کا حکم دیا تو عمر رضی اللہ عنہ کی یہ کتاب ان کے خاندان سے ملی اس کتاب میں صدقات و زکوۃ کے احکامات درج تھے امام مالک فرماتے ہیں کہ میں نے عمر رضی اللہ عنہ کی یہ کتاب پڑھی تھی.

(3)صحیفہ عثمان رضی اللہ عنہ :اس صحیفہ میں بھی زکوٰۃ کے جملہ احکام درج تھے .

(4)صحیفہ علی رضی اللہ عنہ :امام بخاری کی تصریح سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ مجموعہ کافی ضخیم تھا (کتاب العلم)
اس میں زکوٰۃ، صدقات، قصاص, حرمت مدینہ, خطبہ حجة الوداع اور اسلامی دستور کے نکات درج تھے یہ اپ کے بیٹے محمد بن حنفیہ کے پاس تھا پھر امام جعفر کے پاس آیا اسی کی نقل انہوں نے حارث کو لکھ کر دی تھی

(5)صحیفہ انس بن مالک رضی اللہ عنہ:
وہ صحیفہ جسے آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا کر اس کی تصویب بھی فرمائی تھی.

(6)خطبہ فتح مکہ : جسے آپ نے ابو شاہ کی درخواست پر اپنا مفصل خطبہ قلمبند کرنے کا حکم دیا یہ خطبہ حقوق انسانی کی اہم تفصیلات پر مشتمل ہے.

(7) مسند ابی ہریرہ رضی اللہ عنہ :اس کے نسخے عہد صحابہ ہی میں لکھے گئے تھے. اس کی ایک نقل عمر بن عبدالعزیز کے والد عبدالعزیز بن مروان گورنر مصر کے پاس بھی تھی عمر بن عبدالعزیز نے کثیر بن مرہ کو لکھا تھا کہ صحابہ کرام سے جو حدیثیں تمہارے پاس موجود ہیں وہ ہمیں لکھ کر بھیجیں مگر ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی مرویات بھیجنے کی ضرورت نہیں کیونکہ وہ ہمارے پاس پہلے ہی لکھی ہوئی موجود ہیں.

(8) صحیفہ ہمام بن منبہ: ہمام بن منبہ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں جنہوں نے 138 احادیث کا ایک صحیفہ تیار کیا تھا. یہ صحیفہ ڈاکٹر حمید اللہ صاحب نے حیدر آباد دکن سے شائع کیا ہے یہ صحیفہ تمام مسند احمد بن حنبل میں مندرج ہے.

(9) صحیفہ بشیر بن نہیک :یہ بھی ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے شاگرد ہیں انہوں نے بھی ایک مجموعہ احادیث مرتب کیا تھا اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پر پیش کرکے اس کی تصویب کروائی تھی.

(10)صحیفہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ :یہ مجموعہ مناسک حج اور حجة الوداع پر مشتمل تھا اس کو آپ کے شاگرد وہب بن منبہ اور سلیمان بن قیس لشکری نے مرتب کیا .

(11) عائشہ رضی اللہ عنہا کی مرویات جو ان کے شاگرد عروہ بن زبیر نے قلمبند کی تھیں.

(12)عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی مرویات جنہیں سعید بن زبیر تابعی نے مرتب کیا ایک دفعہ طائف کے چند لوگ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آئے تو آپ نے اپنا جزدان نکالا اور اس میں سے چند احادیث انہیں املاء کرائیں.

(13) صحیفہ عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ :جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یمن کا گورنر بنا کر بھیجا تو فرائض و سنن اور صدقات و دیات پر مشتمل احکام لکھوا کر دیے بعد میں انہوں نے مزید اکیس فرامین نبوی شامل کرکے ایک اچھی خاصی کتاب مرتب کرلی .

(14)رسالہ سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ : یہ رسالہ روایات کے ایک بڑے ذخیرے پر مشتمل تھا جو بعد میں ان کے بیٹے کو وراثت میں ملا.

(15)صحیفہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ :جس کے متعلق ان کے بیٹے عبدالرحمن نے حلفیہ بیان دیا کہ وہ ان کے باپ نے اپنے ہاتھ سے لکھا تھا.

(16)رسالہ سعد بن عبادہ :ان کے پاس بھی احادیث نبویہ کا ایک رسالہ موجود تھا ...

حوالہ جات:
(تاریخ الحدیث والمحدثین)
(موطا امام مالک ص109)
(بخاری کتاب الجہاد)
(بخاری کتاب العلم)
(تدوین حدیث برہان دہلی ص315)
(اسد الغابہ ج٣ ص٢٣٣)
(مستدرک حاکم ج٣ص ٥٧٤)
(طبقات ابن سعد ج٧ص١٥٧)
(جامع بیان العلم ج١ص٧٢)
(تہذیب التہذیب ج٤ص٢١٥، ترمذی،باب ما جاء فی ارض المشترك)
(دارمی ص٦٨)
(تاریخ الحدیث والمحدثین ص٣٠٣)
(ضمیمہ اعلام السائلین من کتب سید المرسلین، ابن طولون)
تہذیب التہذیب ج٤ص١٣٦)
طبقات ابن سعد ج ٣ ص ١٤٢)

( مولاناعبدالرحمن کیلانی بتصرف یسیر )
 
Top