حدیث "من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه" کی تحقیق وتخریج

✍: مامون رشید ہارون رشید سلفی.

قارئین کرام احادیث نبویہ پر عمل کرنے کے سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ پہلے اس حدیث کی تحقیق کر لی جائے جس پر عمل کرنا مقصود ہو اگر حدیث صحیح ہوئی تو بات عمل تک پہنچے گی ورنہ اسے دیوار پر مار دیا جائے گا...یہی سلف کا طریقہ ہے جو صحیح اور اجماع امت کے موافق ہے...

آج کل جو احادیث معاشرے میں لوگوں کی زبانوں پر عظیم شہرت حاصل کر چکی ہیں خطبا وعلما نے جنہیں اپنی تقریروں نصیحتوں اور مشوروں کی ریڑھ کی ہڈی بنائے رکھا ہے ان میں سے ایک مذکورہ بالا حدیث "من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه" ہے یہ حدیث بہت عام اور معروف ہے بیشتر طلبہ علم اسے اپنے سینوں میں محفوظ کئے ہوئے ہیں، مدرسوں میں پڑھائی جانے والی حدیث کی ابتدائی کتاب "متن الأربعين النووية" کے اندر یہ موجود ہے، بعض اہل علم نے اسے رسول اللہ صل اللہ علیہ و سلم کے جوامع الکلم کا حصہ بتایا ہے،اور امام ابو داؤد نے تو اسے ان چار احادیث میں شمار کیا ہے جو ان کے نزدیک انسان کے دین سمجھنے کے لیے کافی ہیں...(امام صاحب کی یہ بات محل نظر ہے کیونکہ دین سمجھنے کے لیے اور بھی احادیث کی ضرورت ہے ورنہ ایک مسلمان نماز زکات حج اور روزے کی تفصیلات صرف ان چار احادیث سے نہیں حاصل کر سکتا، امام ابو داؤد سے ایک دوسری روایت میں یہی بات ان الفاظ کے ساتھ مروی ہے کہ "اصول السنن چار ہیں" اور اس پر کوئی اعتراض نہیں)

اس حدیث کا معنی بھی نہایت خوبصورت ہے قرآن کی بہت ساری آیات جیسے:"والّذین هُم عَن ٱللَّغۡوِ مُعرضون"( فلاح پانے والے مؤمنین وہ ہیں جو لغویات سے اعراض کرتے ہیں)

﴿وإذا سمعُوا۟ ٱللغۡوَ أَعۡرَضُوا۟ عَنه وَقالُوا۟ لنا أَعۡمـلنا ولكمۡ أَعۡمَـٰلُكُمۡ سلَـٰمٌ عَلَیۡكُمۡ لا نَبۡتَغِی ٱلجـهلِین﴾ (القصص :55) (اور جب بیہوده بات کان میں پڑتی ہے تو اس سے کناره کر لیتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ ہمارے عمل ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم پر سلام ہو، ہم جاہلوں سے (الجھنا) نہیں چاہتے)

"وَالَّذِينَ لَا يَشْهَدُونَ الزُّورَ وَإِذَا مَرُّوا بِاللَّغْوِ مَرُّوا كِرَامًا"(الفرقان :74) (اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے اور کسی لغو چیز پر ان کا گزر ہو جائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں.)

اسی طرح دیگر بہت ساری احادیث، روح اسلام اور مقصد شارع سے بالکل یہی معنی حاصل ہوتا ہے کہ ایک اچھے مسلمان کی علامت یہ ہے کہ وہ لا یعنی اور بے فائدہ چیزوں کو چھوڑ دے......لیکن ان تمام باتوں کے باوجود یہ حدیث ان الفاظ کے ساتھ سندا صحیح اور ثابت نہیں ہے، اور یہ بات مسلم ہے کہ جمہور محدثین کے ہاں متن سے قبل سند کو دیکھا جاتا ہے اور اس کی تحقیق کی جاتی ہے، متن کا خوبصورت ہونا معانی کا عقل و حس کے موافق ہونا حدیث کی تصحیح پر کوئی اثر نہیں ڈالتا کیونکہ بہت سارے عام انسان بھی حکمت آمیز اور خوبصورت معانی سے لبریز باتیں کر جاتے ہیں لیکن ان باتوں پر عمل کرنا شرعا کوئی حکم نہیں رکھتا اور نہ ہی انہیں احادیث کا درجہ دیا جاتا ہے جبکہ اللہ کے رسول کی باتوں پر عمل کرنا واجب ہے چاہے وہ عمل کسی کام کے کرنے سے متعلق ہو یا چھوڑنے سے کسی چیز سے محبت کرنے کی صورت میں ہو یا نفرت کی شکل میں....چنانچہ علامہ البانی فرماتے ہیں:"ونحن على الصحة التي تقتضيها صحة الإسناد،
لا نخرج عنها إلا بحجة بينة" ہم اس تصحیح کے قائل ہیں جس کا تقاضا صحت اسناد کرتی ہے، اور سوائے واضح دلیل کی بنیاد پر ہم اس سے عدول نہیں کرتے،(سلسلة الأحاديث الصحيحة :6/39) اس کے بعد امام النقاد والمحدثین یحییٰ بن سعید القطان کا قول نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:"لا تنظروا إلى الحديث، ولكن انظروا إلى الإسناد، فإن صح الإسناد، وإلا؛ فلا تغتروا بالحديث إذا لم يصح الإسناد "
(ائے محدّثین کی جماعت تم حدیث کی طرف نہ دیکھو، بلکہ اسناد کی طرف دیکھو، اگر سند صحیح ہوئی تو حدیث کی طرف دیکھو ورنہ اگر سند صحیح نہ ہو تو حدیث سے دھوکہ نہ کھاؤ) (الجامع لأخلاق الراوي:2/102 ،سير أعلام النبلاء:9 / 188)

أمير المؤمنين في الحديث شعبة بن الحجاج فرماتے ہیں: "إنما يعلم صحة الْحَدِيْث بصحة الإسناد"کہ اسناد کی صحت سے حدیث کی صحت کا پتا چلتا ہے(التمهيد لابن عبد البر:1/57)
امام ابن الاثیر فرماتے ہیں:" اعلم أنّ الإسناد في الحديْث هو الأصل، وعليه الاعتماد، وبه تعرف صحته وسقمه" جان لو کہ حدیث میں اسناد ہی اصل ہے، سارا اعتماد اسی پر ہے،اسی کے ذریعے حدیث کی صحت اور ضعف کا پتا چلتا ہے.(جامع الاصول:1/9)

ائمہ کرام کے ان نقول سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حدیث کی تصحیح و تضعیف میں نقد متن کا مرحلہ ثانوی ہے اصل اہمیت سند کی ہے، سب سے پہلے سند کی تحقیق کی جائے گی اگر سند صحیح نکلی پھر متن کی تحقیق کی جائے گی ورنہ اگر سند ہی ضعیف ہو متابعات وشواہد سے بھی تقویت نہ ملتی ہو تو متن کی خوبصورتی کا کوئی فائدہ نہ ہوگا اور نہ ہی متن کی طرف دیکھنے کی ضرورت پیش آئے گی....تحقیق حدیث کے باب میں یہ ایک اہم ترین قاعدہ ہے جس کی رعایت لازمی ہے کیونکہ کسی بھی قول کی نسبت اللہ کے رسول کی طرف کرنے کا معاملہ بڑا سنگین ہے، اللہ کے رسول فرماتے ہیں:"من يَقُلْ عَلَيَّ مَا لَمْ أَقُلْ فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ" جو شخص میری طرف وہ بات منسوب کرے جو میں نے نہیں کہی، وہ اپنا ٹھکانا آگ میں بنا لے۔‘‘(صحيح البخاري حديث:109)

واضح رہے کہ ہمارا طریقہ ان لوگوں کی طرح نہیں ہے جو اسناد کو خاطر میں نہیں لاتے بلکہ ان کا سیدھا نشانہ متن پر ہوتا ہے اگر انہیں متن پسند آ گیا یا ان کے ناقص عقل کے موافق ہو گیا تو اسے قبول کر لیتے ہیں چاہے سند ضعیف سے ضعیف تر ہی کیوں نہ ہو...اور اگر انہیں متن راس نہ آیا تو باطل تاویلات کے ذریعے اسے رد کر دیتے ہیں خواہ حدیث متفق علیہ ہی کیوں نہ ہو....بلکہ ہمارا طریقہ یہ ہے کہ ہم پہلے سند کی تحقیق کرتے ہیں اگر سند صحیح ہوئی تو پھر متن حدیث کی تحقیق کرتے ہیں اس کے بعد حدیث پر صحت یا ضعف کا حکم لگاتے ہیں اور اگر سند صحیح نہ ہو تو اس کے متابعات کا جائزہ لیتے ہیں، اگر وہ بھی صحیح نہ ہوں تو شواہد کی طرف دیکھتے ہیں اگر کسی بھی طور پر حدیث سندا قابل احتجاج نہ ہو تو ہم متن کی جانب توجہ نہیں دیتے کیونکہ اصل سند ہی ہے کما مر....

مذکورہ بالا حدیث "من حسن إسلام المرء تركه مالا يعنيه" کا معنی ومفہوم گر چہ خوبصورت اور مقصد شارع کے موافق ہے لیکن یہ صحیح سند کے ساتھ اللہ کے رسول سے ثابت نہیں ہے بلکہ اس کی سند ضعیف اور نا قابل احتجاج ہے لہذا اللہ کے رسول کی طرف اس کی نسبت کرنا صحیح نہیں ہے، اور ہمیں اس ضعیف سند والی حدیث کی ضرورت بھی نہیں ہے اس لیے کہ بہت ساری آیات قرآنیہ میں یہ معنی موجود ہے جو ہمارے لیے کافی ہیں..

بالاختصار حدیث کی تخریج ملاحظہ فرمائیں:
قارئین یہ حدیث بہت ساری سندوں سے آئی ہوئی ہے تقریبا دس سے زائد صحابہ سے موصولا مروی ہے اور ایک تابعی نے اسے مرسلا روایت کیا ہے،ساتھ ہی اس کی اسانید میں بہت زیادہ اختلاف بھی ہے:
اس حدیث کو روایت کرنے والے صحابہ کرام یہ ہیں: (1)ابو بکر صدیق (2)علی بن ابی طالب (3) حسین بن علی (4) ابو ہریرہ (5) انس بن مالک (6) زید بن ثابت (7) اسامہ بن زید (8) حارث بن ہشام (9) ابو امامہ الباہلی (10) ابو ذر غفاری (11) عبد اللہ بن عمر .

مرسلا رویت کرنے والے تابعی علی بن حسین بن علی بن ابی طالب زین العابدین رحمہ اللہ ہیں.

من جملہ تمام روایتوں میں سب سے قوی علی بن حسین کی مرسل روایت ہے، اسی طرح موصول روایتوں میں سب سے قوی حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت ہے ان دونوں کے علاوہ باقی روایتوں کی سندیں یا تو غلط ہیں یا منقطع ومعضل ہیں یا ان کے رواۃ کذابین متروکین اور ضعفاء ہیں جن سے حدیث کو تقویت ملنے کے بجائے حدیث کے ضعف میں مزید اضافہ ہوتا ہے.....لہذا اس مختصر سی تحریر میں میں انہی دونوں کی سندوں پر کلام کروں گا:

اولا: علی بن حسین بن علی بن ابی طالب کی اللہ کے رسول سے مرسل روایت.

یہ روایت "عن علي بن حسين عن النبي" کے طریق سے مرسلا اور "عن علي بن حسين عن أبيه عن النبي" کے طریق سے موصولا دونوں طرح مروی ہے.....چونکہ محدّثین کے نزدیک اس کا مرسل ہونا ہی راجح ہے اس لیے میں نے اس کا نام "علی بن حسین کی مرسل روایت" لکھا ہے.

تفصیل یہ ہے:
اس روایت کو علی بن حسین سے دو لوگوں (1) امام زہری اور (2) یحییٰ بن سعید الانصاری نے روایت کیا ہے...

اول:زہری عن علی بن حسین کی سند سے مروی حدیث.
اس حدیث کی سند میں کئی جگہ پر اختلاف اور وصل اور ارسال میں تعارض واقع ہوا ہے.

پہلا اختلاف:امام زہری سے روایت کرنے میں ان کے تلامذہ کا اختلاف ہے بعض نے موصولا روایت کیا ہے اور بعض نے مرسلا.
امام زہری کے کبار اور اوثق تلامذہ نے اسے عن الزہری عن علی بن حسین عن النبی کے طریق سے مرسلا روایت کیا ہے جن میں:

(1)امام مالک بن انس رحمہ اللہ "عن ابن شهاب عن علي بن حسين بن علي بن أبي طالب أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : "من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه"( موطأ امام مالک ت اعظمی:5/1328)

دوسرا اختلاف:امام زہری سے روایت کرنے والے راوی امام مالک بن انس سے روایت کرنے میں ان کے تلامذہ نے بھی اختلاف کیا ہے، بعض نے موصولا روایت کیا ہے جبکہ بعض نے مرسلا.
ان کے اکثر اور احفظ واوثق تلامذہ جن میں:
🔹یحییٰ بن یحییٰ اللیثی( موطأ امام مالک ت اعظمی:5/1328)،
🔹ابو مصعب زہری،(شرح السنة:14/321 حدیث:4133).
🔹محمد بن الحسن شیبانی،(موطأ محمد حدیث: 837)
🔹سوید بن سعید حدثانی، (الموطا بروایۃ سوید حدیث:650 ص472)
🔹عبد اللہ بن مسلمہ قعنبی،(المعرفة والتاريخ: 1/175، "الضعفاء الكبير للعقيلي"2/9)"شعب الإيمان":10806)
🔹عبد اللہ بن وہب ،(الجامع لابن وهب حديث:297 ص: 410)
🔹ابو نعیم فضل بن دکین،(المدخل للبيهقي:288) "الأربعين"ص107-108).
🔹اسحاق بن عیسی طباع، (المحدث الفاصل:ص206).
🔹اسماعیل بن ابی اویس،(الأربعين للبيهقي ص:107-108).
🔹اسماعیل بن موسی الفزاری،(عوالي مالك لأبي أحمد الحاكم ص:71 ح:43)
🔹خلف بن ہشام البزار،(الصمت لابن أبي الدنيا ح:107)
🔹عبد اللہ بن يوسف التِّنّيسي،(التاريخ الكبير للبخاري 4/220)
🔹عليّ بن الجعد الجوْهري،(الجعديات:2/376)
🔹قتیبہ بن سعید ،(جامع الترمذي:2318)
🔹كامل بن طلحہ جحدری،( عوالي مالك لأبي أحمد الحاكم ح: 136)
🔹وکیع بن الجراح،(الزهد لوكيع ح:364)
🔹یحییٰ بن عبد اللہ بن بکیر،(المعرفة والتاريخ للفسوي :1/175)
🔹حماد بن مسعدہ،(الطيوريات حديث:750)
🔹محرر بن عون (عوالي مالك لأبي اليمن الكندي ح:64ص:358)،
🔹 خالد بن خداش (ابن أبي الدنيا في الصمت ح:107)،
🔹امام اوزاعی (ابو الشیخ فی الاقران ح:120) وغیرہم ہیں،ان سب نے عن مالك عن الزهري عن علي بن الحسين عن النبي کی سند سے مرسلا روایت کیا ہے چنانچہ موطا روایت کرنے والے راویوں کی جماعت نے اسی طرح روایت کیا ہے جیسا کہ امام ابن عبد البر نے فرمایا ہے(5/195) گویا کہ امام مالک سے تواتر کے ساتھ یہ روایت مرسلا مروی ہے.

جبکہ امام مالک کے تلامذہ میں سے چند نے جو تعداد اور حفظ ہر اعتبار سے کم ہیں اسے عن مالك عن الزهري عن علي بن الحسين عن أبيه عن النبي کی سند سے متصلا روایت کیا ہے.
اور وہ خالد بن عبد الرحمن خراسانی (اس روایت کو ابن عدی نے الكامل:3/37 کے اندر، اور مخلص نے "مخلصيات" :3/2069-2071 کے اندر،اور ابن عبد البر نے "التمهيد":9/195 کے اندر، اور ابو أحمد الحاكم نے "عوالي مالك کے اندر روایت کیا ہے)
اور موسی بن داود ضبی (اسے ابن عبد البر نے التمهيد (9/197) کے اندر روایت کیا ہے) ہیں.امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہے: وهما (أي: خالد وموسى) جميعا لا بأس بهما إلا أنهما ليس بالحجة على جماعة رواة الموطأ الذين لم يقولوا فيه عن أبيه. ان دونوں (یعنی خالد اور موسی) سے روایت لینے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن یہ دونوں موطا کے راویوں کی جماعت کے خلاف حجت نہیں بن سکتے جنہوں نے اپنی روایتوں میں "عن ابیہ" نہیں کہا ہے. (التمھید:9/195)
خالد بن عبد الرحمن خراسانی صدوق ہیں لیکن ان سے وہم ہو جایا کرتا تھا انہوں نے چند منکر روایتیں بھی بیان کر رکھی ہے..(ملاحظہ فرمائیں"الکامل لابن عدی:3/38)

اسی طرح اس حدیث کو روایت کرنے میں خالد خراسانی اضطراب کا شکار ہیں ایک مرتبہ انہوں نے عن مالک عن الزہری کی سند سے روایت کیا جبکہ دوسری مرتبہ عن عبد اللہ عمر العمری کی سند سے روایت کیا ہے جیسا کہ مخلص کی (المخلصیات: 2/2070) کے اندر موجود ہے.

خلاصہ: امام مالک رحمہ اللہ کے ثقہ شاگردوں کی جماعت کے مقابلے میں ایک دو کی روایت کا کوئی اعتبار نہیں خاص کر اس وقت جب کہ وہ وہم اور سہو سے متہم ہوں. ...لہذا امام مالک سے روایت کرنے والوں میں سے جن راویوں نے مرسلا روایت کیا ہے انہی کی روایت راجح ہے.

امام زہری سے مرسلا روایت کرنے والے بقیہ روات:

(2) معمر بن راشد الازدی عن الزهري عن علي بن الحسين عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا. ان کی حدیث کو عبد الرزاق نے "جامع معمر بن راشد" کے اندر(11/307 ح:20617) اور بیہقی نے "شعب الایمان" ح:4986) کے اندر روایت کیا ہے.

(3) زیاد بن سعد عن الزهري عن علي بن الحسين عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا. اسے ابن أبي عمر العدني نے "الإيمان" (ص111) اور ابن أبي عاصم نے "الزهد" (103) اور ابن طاهر نے "صفة التصوف (754) اور ابن عبد البر نے "التمهيد (9/197) کے اندر روایت کیا ہے.

(4) یونس بن یزید الأیلی عن الزهري عن علي بن الحسين عن النبي صلى الله عليه وسلم مرسلا.اسے قضاعی نے "مسند الشھاب"(ح:193) اور عبد اللہ بن وہب نے "جامع" (ح:297) کے اندر روایت کیا ہے...

یہ چاروں امام زہری کے اوثق اثبت اور کبار تلامذہ میں سے ہیں خاص کر امام مالک معمر بن راشد اور یونس بن یزید جو امام زہری کے طبقہ اولی کے تلامذہ ہیں اور آپ سے روایت کرنے میں اوثق الناس ہیں..ان چاروں نے اس روایت کو عن الزہری عن علی بن حسین عن النبی کی سند سے مرسلا روایت کیا ہے اسی طرح ان کے علاوہ اور بہت سارے راویوں نے بھی اسے امام زہری سے مرسلا روایت کیا ہے جن میں:عبد اللہ بن عمر العمری، ابراہیم بن سعد، شعيب بن أبي حمزة الحمصي، عبيد اللہ بن عمر العمري، يعلى بن عطاء،شعيب بن خالد، اوزاعي،معتمر ، اور سفيان بن حسين وغیرہم شامل ہیں.

ان کے مقابلے میں چند راویوں نے اسے "عن الزهري عن علي بن الحسين عن أبيه عن النبي صلى الله عليه وسلم کے طریق سے موصولا روایت کیا ہے.. جن میں :
(1) عبید اللہ بن عمر العمری عن الزهري عن علي بن الحسين عن أبيه موصولا .اسے طبراني نے "المعجم الأوسط" (8/8402) اور المعجم الصغير (2/1080)، اور قضاعی نے "مسند الشهاب" (1/194) اور أبو نعيم نے "معرفة الصحابة" (2/1804) اور أبو أحمد الحاكم نے "عوالي مالك" (1/161) کے اندر روایت کیا ہے .
یہ سند صحیح نہیں ہے کیونکہ گرچہ عبید اللہ ثقہ ہیں لیکن ان سے روایت کرنے والے راوی قزعۃ بن سوید ضعیف ہیں جیسا کہ امام احمد نے فرمایا:"مضطرب الحدیث"(الجرح والتعديل: 7 / الترجمة 782)،نیز فرمایا:"ان سے روایت کرنے والے بہت ہی کم ہیں، وہ شبہ متروک ہیں"(تاريخ ابن معين برواية الدارمي (702) وبرواية الدوري (3484)اسی طرح امام ابو داؤد اور امام نسائی نے بھی انہیں ضعیف کہا ہے (تهذيب الكمال 23/593)

(2) عبد الله بن عمر عن الزهري عن علي بن الحسين عن أبيه عن النبي موصولا.اسے امام أحمد نے "مسند"(1737)، طبرانی نے "المعجم الکبیر" (3/128)، عقيلی نے "الضعفاء الکبیر" (2/9) اور ابن عبد البر نے "تمهيد" (9/197) کے اندر روایت کیا ہے.
یہ عبد اللہ العمری ضعیف ہیں (ملاحظہ فرمائیں:تهذيب التهذيب: 5/ 326 -328 تقريب آلتهذيب :3489)


(4) روح بن غطيف عن الزهري عن علي بن الحسين عن أبيه. اسے خطیب بغدادی نے " المتفق والمفترق" (3/1561) کے اندر روایت کیا ہے .اور وروح بن غطيف متروك ہے.

(5)عبد الرحمن بن إسحاق عن ابن شهاب عن علي بن الحسين عن أبيه عن النبي موصولا. اسے ابن طاھر نے صفۃ التصوف کے اندر روایت کیا ہے جیسا کہ "تخریج الاربعین السلیمۃ(ص:89) کے کے اندر ہے.... شیخ صالح العصیمی حفظہ اللہ فرماتے ہیں "وإسناده ساقط لا يثبت" (الدرء لتصحيح حديث من حسن إسلام المرء ص:16-17)

اسی طرح اور بھی راویوں نے روایت کیا ہے اور عجیب و غریب سندیں بیان کی ہیں.

عن الزہری عن علی بن حسین عن النبی کی سند سے مروی مرسل روایت کی ترجیح:

محدثین کرام کا یہ اصول ہے جس حدیث کو روایت کرنے میں ضعیف راوی منفرد ہو یا ثقہ کی مخالفت کرے تو اس کی روایت چھوڑ دی جاتی ہے اسی طرح اگر ثقہ راوی جماعت ثقات کی مخالفت کرے تو اس کی حدیث کو بھی دیوار پر مار دیا جاتا ہے...
اور یہ بھی مسلم ہے کہ ثقہ روات بھی غلطی کرتے ہیں کیونکہ غلطی سے کوئی محفوظ نہیں ہے اور ائمہ علل کی مہارت ثقات کی غلطیاں ڈھونڈ نکالنے کے وقت ظاہر ہوتی ہے ورنہ ضعفاء کی غلطیاں تلاش کرنا تو آسان ہے..

حدیث مذکور میں اختلافات کا مدار امام زہری پر ہے انہی سے روایت کرنے میں ان کے تلامذہ کا اختلاف ہے.... اور محدثین نے امام زہری کے شاگردوں کو پانچ طبقات میں تقسیم کیا ہے جن میں سے پہلے طبقے میں:"امام مالك، ابن عيينة، عبيد الله بن عمر، معمر، يونس، عُقيل، شعيب وغيرہم ہیں(ملاحظہ فرمائیں: شرح علل الترمذی لابن رجب: 1/251) اس طبقاتی تقسیم کا فائدہ یہ ہے کہ اگر طبقہ اولی اور ثانیہ یا اولی اور ثالثہ وغیرہا کے راویوں میں تعارض ہو تو طبقہ اولی کے راویوں کو ترجیح حاصل ہوگی. اور یہاں آپ دیکھ رہے ہیں کہ امام زہری کے طبقہ اولی کے پانچ شاگردوں امام مالک ، يونس ، معمر ، شعيب اور عبید اللہ بن عمر العمری نے اسے مرسلا روایت کیا ہے جبکہ متصلا روایت کرنے والے یا تو ضعفاء ہین یا اگر ثقات ہیں تو ان تک سند صحیح اور ثابت نہیں ہے، اور محدثین کے نزدیک یہ بھی ایک قاعدہ ہے کہ تعارض اسی وقت واقع ہوگا جب دونوں طرف کے روات ایک ہی درجے کے ہوں یا دونوں طرف کے راویوں کی حفظ کے ساتھ ساتھ تعداد بھی برابر ہو ورنہ اگر ایک طرف کے روات ثقات ہوں اور دوسری طرف کے ضعفاء تو نہ تو تعارض واقع ہوگا اور نہ ہی اضطراب بلکہ ثقات کی روایت کو ترجیح حاصل ہوگی..... اور یہاں بھی وہی صورت حال ہے کہ مرسل روایت کرنے والے حفظ میں بڑھے ہوئے ہیں اور تعداد میں بھی زیادہ ہیں لہذا مرسل روایت ہی کو ترجیح حاصل ہوگی.
اس ترجیح پر علما کے اقوال:
امام بخاری التاريخ الکبیر (4/220) کے اندر فرماتے ہیں: ولا يصح إلا عن علي بن حسين عن النبي"یہ حدیث عن علی بن حسین عن النبی کی سند سے (مرسلا) ہی صحیح ہے.
امام ترمذی "سنن ترمذي (حديث: 2318) کے تحت فرماتے ہیں:"وهكذا روى غير واحد من أصحاب الزهري: عن الزهري عن علي بن حسين عن النبي نحو حديث مالك مرسلا وهذا عندنا أصح من حديث أبي سلمة عن أبي هريرة.اسی طرح اس حدیث کو امام زہری کے ایک سے زائد تلامذہ نے عن الزہری عن علی بن حسین عن النبی کی سند سے امام مالک کی طرح مرسلا روایت کیا ہے، اور یہی ہمارے نزدیک ابو سلمہ عن ابی ہریرہ کی حدیث سے زیادہ صحیح ہے.

امام عقيلي رحمہ اللہ فرماتے ہیں: والصحيح حديث مالك، صحیح امام مالک کی (مرسل) حدیث ہے.(الضعفاء الكببر :2/9)
اسی طرح کی بات مام طبرانی نے "المعجم الاوسط"(1/22/2) کے اندر کہی ہے کہ ہمارے نزدیک زہری عن علی بن حسین کی مرسل روایت ہی صحیح ہے.

امام دار قطنی "العلل الواردۃ... "(8/27) کے اندر فرماتے ہیں: والصحيح حديث الزهري عن علي بن الحسين مرسلا. صحیح زہری عن علی بن حسین عن النبی کی سند سے مروی مرسل روایت ہے.
اسی طرح فرماتے ہیں :"ان لوگوں کی بات صحیح ہے جنہوں نے علی بن حسین عن النبی کی سند سے مرسل روایت کیا ہے.(العلل الواردۃ... :3/110)

امام بیہقی "الأربعون الصغرى" (51) کے اندر فرماتے ہیں: هذا هو الصحيح مرسلا. یہ روایت اسی طرح مرسلا ہی صحیح ہے.
امام ابو نعيم "معرفة الصحابة" (2/671) کے اندر فرماتے ہیں: اختلف على الزهري فيه على أقاويل، وصوابه مرسل.اس حدیث میں امام زہری پر اختلاف واقع ہے، درست مرسل ہونا ہے.
خطیب بغدادی تاريخ بغداد (12/64) کے اندر فرماتے ہیں: الصحيح عن مالك عن الزهري عن علي بن الحسين مرسلا عن النبي . صحیح عن مالك عن الزهري عن علي بن الحسين عن النبي کی سند سے مرسل ہونا ہے.

امام ابو طاہر سلفی فرماتے ہیں:"وأصحها حديث مالك، عن الزهري، عن علي بن الحسين عن رسول الله " ان روایتوں میں سب سے صحیح مالک عن الزہری عن علی بن حسین عن النبی کی سند سے مروی روایت ہے.

امام ابن طاہر المقدسي صفة التصوف" حدیث: 752) کے تحت فرماتے ہیں:وحكم جماعة الحفاظ أن هذا الحديث إنما صح من رواية الزهري، عن علي بن الحسين مرسلا، وكذلك رواه عنه مالك في الموطأ، وجميع ما تقدم وَهَمٌ وخطأ. حفاظ کی جماعت نے یہ حکم لگایا ہے کہ یہ حدیث امام زہری عن علی بن حسین کی سند سے مرسلا ہی صحیح ہے، اسی طرح زہری سے امام مالک نے موطا میں روایت کیا ہے، اس کے علاوہ جتنی بھی روایتیں گزریں وہ وہم اور خطأ ہیں.
امام منذری "الترغيب والترهيب" (3/345) کے اندر فرماتے ہیں: قال جماعة من الأئمة: الصواب أنه عن علي بن حسين عن النبي مرسل، كذا قال أحمد وابن معين والبخاري وغيرهم. ائمہ کی ایک جماعت نے فرمایا:صحیح یہ ہے کہ یہ حدیث عن علی بن حسین عن النبی کی سند سے مرسل ہے، اسی طرح کی بات امام احمد ابن معین اور بخاری نے کی ہے.

امام ابن رجب نے بھی اسی طرح کی بات ذکر کی ملاحظہ فرمائیں "جامع العلوم والحکم(حدیث:12 کے تحت)

ان تمام تفصیلات سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ امام زہری کی یہ حدیث مرسلا ہی صحیح ہے.

دوم:یحییٰ بن سعید الانصاری عن علی بن حسین کی سند سے مروی حدیث.
اسے امام ابن طاہر مقدسی نے ھشام بن خالد عن یحییٰ بن سعید عن علی بن حسین عن النبی کی سند سے مرسلا روایت کیا ہے (صفة التصوف حدیث: 754 ) گویا یہ امام زہری کی متابعت ہے لیکن اس میں ایک ایسا راوی ہے جس پر میں واقف نہ ہو سکا.....اور اگر سند صحیح ہو تو امام زہری کو کسی متابعت کی ضرورت نہیں ہے.
یہاں پر علی بن حسین کی مرسل روایت پر بحث مکمل ہوئی.

ثانیا:ابو ہریرہ کی اللہ کے رسول سے موصول روایت.
یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ سے ان کے چار شاگردوں (1) ابو سلمہ (2) سلیمان بن یسار (3) سعید بن المسیب (4) ابو صالح السمان کے طریق سے مروی ہے.

اول: ابو سلمہ عن ابی ہریرہ کی سند سے مروی حدیث.

یہ زہری عن ابی سلمہ عن ابی ہریرہ کی سند سے مروی ہے اسے امام زہری سے روایت کرنے میں راویوں کا شدید اختلاف ہے امام زہری سے مختلف سندوں سے آئی ہوئی ہے:
تفصیل ملاحظہ فرمائیں:
(1) اوزاعی عن قرۃ بن عبد الرحمن عن الزہری بہ (أي بالإسناد الذي مر قبل هذا )
اس حدیث کو امام زہری سے ان کے بہت سارے شاگردوں نے روایت کیا ہے جن میں :

🔹اسماعیل بن سماعۃ ( جامع الترمذی ح:2317 کے اندر )
🔹محمد بن شعيب ( سنن ابن ماجه 3976 اور صحیح ابن حبان :229 کے اندر)
🔹ولید بن مزید (مسند الشهاب:192 اور شعب الایمان :4987 کے اندر)
🔹علی بن محمد بن لؤلؤ بغدادی (تمهيد 9/198 کے اندر) وغیرہم ہیں....
امام اوزاعی سے یہی روایت ثابت اور مشہور ہے لیکن اس کی سند قابل حجت نہیں ہے کیونکہ اس میں قرة بن عبد الرحمن بن حَيْوِيل بن ناشرة المعافري المزني المصري نامی راوی ہے جس کے بارے میں امام احمد فرماتے ہیں :"قرة بن عبد الرحمن صاحب الزهري، منكر الحديث جداً" قرۃ بن عبد الرحمن یہ زہری کا شاگرد ، اور بہت ہی زیادہ منکر روایتیں بیان کرنے والا ہے"
اسی طرح امام یحییٰ بن معین، ابو حاتم رازى ،نسائی اور ابو داؤد نے اسے ضعیف قرار دیا ہے.
امام ابو زرعہ رازی فرماتے ہیں:"وہ جو حدیثیں بیان کرتا ہے وہ منکر ہوتی ہیں" (ملاحظہ فرمائیں:التاريخ الكبير (7/183) الجرح والتعديل (7/131) المعرفة والتاريخ (2/267) سؤالات الآجري (1525) الضعفاء (3/485) الكامل (6/53) ثقات العجلي (1518) وابن حبان (7/342) تهذيب الكمال (23/581).


(2) اوزاعی عن الزہری عن ابی سلمہ بہ....

یہ ابھی گزرنے والی روایت ہے لیکن اسے امام اوزاعی سے ان کے بعض شاگردوں نے اوزاعی اور زہری کے بیچ قرۃ کے واسطہ کے بغیر روایت کیا ہے جن میں:

🔹بقية بن الوليد (جسے ابن بطة نے الإبانة :1/41 ح:323 کے اندر روایت کیا ہے) اس سند میں کئی علتیں ہیں: ایک تو ابن بطہ کے شیخ أبو علي إسحاق بن إبراهيم الحلواني اور شیخ الشیخ یعقوب بن یوسف بن دینار کی کسی نے توثیق یا تجریح نہیں کی ہے،ساتھ ہی بقیہ بن الولید خود تدلیس تسویہ کرنے والے مدلس ہیں. شاید انہوں نے ہی تدلیس کرتے ہوئے قرۃ کو حذف کر دیا ہے.

🔹عمر بن عبد الواحد عن الاوزاعی عن الزہری بہ.... اسے امام دار قطنی نے (العلل (8/25 کے اندر ) ذکر کیا ہے ...مجھے اس کی سند کی نہیں ملی.

🔹ابو المغیرۃ عن الاوزاعی عن الزہری بہ....
اسے مخلص نے "المخلصیات" حديث:2068 کے تحت "حدثنا عبدالله قال: حدثنا إسماعيل بن حصن أبوسليم قال: حدثنا أبوالمغيرة: حدثنا الأوزاعي، عن الزهري، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة" کی سند سے روایت کیا ہے.

ابو المغیرۃ عبد القدوس بن الحجاج یہ ثقہ اور صحیحین کے راوی ہیں،عبد اللہ یہ أبو بكر عبد اللہ بن محمد بن زياد نيسابوري ہیں بڑے حافظ اور متقن تھے.(ملاحظہ فرمائیں: تاريخ بغداد (10/119) وسير أعلام النبلاء (15/65) اور اسماعیل بن حصن ابو سلیم یہ ضعیف ہیں امام دار قطنی اور ابن عدی نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور زکریا ساجی نے منکر الحدیث کہا ہے.

(3) مالک بن انس عن الزہری عن ابی سلمہ بہ .....

اسے خطیب بغدادی نے "تاریخ بغداد"(12/64) کے اندر علي بن محمد بن حفص ، عن العباس بن عبد الله بن أبي عيسى ( الترقفي)، عن محمد بن المبارك ( الصوري)، عن الإمام مالك عن الزهري به کی سند سے روایت کیا ہے.

شیخ عبد اللہ بن یوسف الجدیع فرماتے ہیں: یہ صاف ستھری سند ہے جسے روایت کرنے میں علی بن محمد بن حفص منفرد ہیں ، ان کے بارے میں خطیب فرماتے ہیں: کہ اگر وہ جویباری نہ ہوئے تو میں انہیں نہیں پہچانتا"
میں کہتا ہوں: اگر یہ جویباری ہوں تو مجہول ہیں، اور اگر کوئی دوسرا ہو تو خطیب بھی اسے پہچان نہ سکے اور جسے خطیب نہ پہچان سکے تو میں نہیں سمجھتا کہ اسے پہچانا جا سکتا ہے" (تحقیق الرسالۃ المغنیۃ فی السکوت ولزوم البیوت ص:51).

(4) عبد الرزاق بن عمر عن الزهري عن ابی سلمہ عن ابی ہریرہ عن النبي موصولا. اسے خطیب بغدادی نے "تاریخ بغداد" (4/308-309) کے اندر اور طبرانی نے المعجم الاوسط (حدیث:359) کے تحت روایت کیا ہے.
امام طبرابی فرماتے ہیں :"لم يرو هذا الحديث عن الزهري عن أبي سلمة إلا عبد الرزاق بن عمر، وقرة بن عبد الرحمن" اس حدیث کو زہری عن ابی سلمہ کے طریق سے سوائے عبد الرزاق بن عمر اور قرۃ بن عبد الرحمن کے اور کسی نے روایت نہیں کیا ہے.(المعجم الاوسط :1/115)
گویا انہوں نے علی بن محمد اور زہری کی بلا واسطہ روایت کا سرے سے اعتبار ہی نہیں کیا.
میں کہتا ہوں: یہ سند بھی باطل ہے کیونکہ عبد الرزاق متروک ہے اور بقول امام ابو زرعہ یہ بالخصوص امام زہری سے مقلوب روایتیں بیان کرتا تھا، امام بخاری اور ابو حاتم نے اسے منکر الحدیث قرار دیا ہے اور یہ امام بخاری کے نزدیک شدید ترین جرح ہے...اسی طرح امام نسائی نے اسے متروک کہا ہے... (ملاحظہ فرمائیں:التاريخ الكبير (1934) الجرح والتعديل (6/39) سؤالات الآجري (1586) الضعفاء والمتروكين (378) سؤالات البرقاني (333) تهذيب الكمال (18/48) تهذيب التهذيب (6/277) تقريب التهذيب وتحرير تقريب التهذيب(4062)

(5) اسی طرح اس حدیث کو بعض راویوں نے زہری عن ابی سلمہ کے بجائے عن الاوزاعی عن یحییٰ بن ابی کثیر عن ابی سلمہ کے طریق سے کیا ہے....اور وہ:

(1) اسماعیل بن عیاش (جیسا کہ امام دار قطنی نے ذکر کیا ہے (العلل :1389) لیکن مجھے یہ سند نہیں ملی).

(2)اور محمد بن کثیر المصیصی ہیں... اسے تمام الرازی نے (فوائد تمام :1/205 ح:481) کے اندر "ابو الحسن خيثمة بن سليمان، ثنا أحمد بن محمد بن أبي الخناجر، ثنا محمد بن كثير، عن الأوزاعي، عن يحيى بن أبي كثير، عن أبي سلمة، عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم" کی سند سے روایت کیا ہے...

یہ سند بھی باطل ہے کیونکہ اس کا راوی محمد بن کثیر ضعیف جدا منکر الحدیث ہے...عبد اللہ بن احمد بن حنبل فرماتے ہیں میرے والد نے محمد بن کثیر کا ذکر کیا اور اس کی شدید تضعیف کی، معمر سے اس کی روایت کی شدید تضعیف کی اور کہا کہ :یہ منکر الحدیث ہے منکر چیزیں روایت کرتا ہے "
اسی طرح ابن عدی نے بھی بالخصوص معمر اور اوزاعی سے روایت کرنے میں اس کی تضعیف کی ہے.(تفصیل کے لیے ملاحظہ فرمائیں:الجرح والتعديل (8/69) الثقات (9/70) الكامل (6/254) تهذيب الكمال (26/329) تهذيب التھذیب (9/369)

علی بن حسین کی مرسل روایت کو ذکر کرنے کے بعد ابو سلمہ عن ابی ہریرہ کی سند سے مروی اس حدیث کے بارے میں امام بخاری فرماتے ہیں:"وقال بعضهم عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه وسلم، ولا يصح إلا عن علي بن حسين عن النبي صلى الله" بعض لوگوں نے اسے عن الزہری عن ابی سلمہ عن ابی ہریرہ عن النبی کے طریق سے روایت کیا ہے، حالانکہ یہ صرف علی بن حسین عن النبی کی سند سے صحیح ہے. (التريخ الكبير 4/220)

اسی طرح کا قول امام ترمذی سے بھی منقول ہے جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے...

دوم: سلیمان بن یسار عن ابی ہریرہ عن النبی کی سند سے مروی حدیث. اسے ابن ابی الدنیا نے ("الصمت"حدیث:750) کے تحت عبد الله بن إبراهيم، عن الحر بن عبد الله الحذاء، عن صفوان بن سليم، عن سليمان بن يسار به.کی سند روایت کیا ہے.

یہ سند بھی باطل ہے کیونکہ عبد اللہ بن ابراہیم متروک اور متہم بالکذب ہے (ملاحظہ فرمائیں :الكامل(4/189) الضعفاء (2/233) المجروحين (569) تهذيب الكمال (14/274).
اسی طرح حر بن عبد اللہ بھی غیر معروف ہے اس کا ترجمہ کتاب الصمت کے محقق کو بھی نہیں ملا.

سوم: سعید بن المسیب عن ابی ہریرہ عن النبی کی سند سے مروی حدیث.
اسے ابن عبد البر نے "التمهيد" :9/197) کے اندر " عبد الجبار بن أحمد السمرقندي، عن محمد بن عبد الله بن يزيد المقري، عن سفيان بن عيينة، عن زياد بن سعد، عن الزهري، عن سعيد بن المسيب، به. کے طریق سے روایت کیا ہے.
امام ابن عبد البر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:"جہاں تک بات عبد الجبار کی ہے تو اسی نے اس میں غلطی کی ہے اور حدیث کو معضلا روایت کیا ہے اس حدیث میں سعید بن مسیب کی کوئی گنجائش نہیں ہے"
مزید یہ کہ اس عبد الحبار کے سلسلے میں جرح و تعدیل کا کوئی کلمہ نہیں ملا لہذا یہ روایت بھی ضعیف ہے.

چہارم:ابو صالح عن ابی ہریرہ عن النبی کی سند سے مروی حدیث.
اسے امام ابن أبي الدنيا نے "الصمت" (108) ابن عدي نے "الكامل"(4/277)، خطيب نے "تاريخ بغداد" (5/172) اور طبراني نے المعجم الاوسط" (2881) کے اندر روایت کیا ہے، امام طبرانی اس کی تخریج کے بعد فرماتے ہیں:"لم يرو هذا الحديث عن سهيل إلا عبد الرحمن بن عبد الله" اس حدیث کو سہیل سے صرف عبد الرحمن بن عبد اللہ نے روایت کیا ہے.
اس کی سند بھی باطل ہے کیونکہ اس کی سند میں ایک راوی عبد الرحمن بن عبد اللہ بن عمر العمری متروک الحدیث اور کذاب ہے.... امام ابو حاتم ابو زرعہ اور نسائی نے اسے متروک قرار دیا ہے جبکہ امام احمد نے کذاب کہا ہے. (ملاحظہ فرمائیں:الضعفاء والمتروكين للنسائي (356) الضعفاء للعقيلي (2/338) الكامل (4/276) المجروحين (591) الميزان (4905) تهذيب الكمال (17/234)

اس طریق کے بارے میں امام ابو حاتم رازی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:" هذا حديث منكر جدا بهذا الإسناد"اس سند سے یہ حدیث سخت منکر ہے. (علل ابن ابی حاتم حدیث:1888).

ابو ہریرہ کی حدیث کے سلسلے میں مذکورہ بالا تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے:
اول: ابو سلمہ کے طریق سے یہ روایت صحیح نہیں ہے کیونکہ قرۃ ضعیف ہے اور اس نے امام زہری کے ثقہ شاگردوں کی مخالفت کی ہے.
امام اوزاعی کی قرۃ کی متابعت بھی ثابت نہیں ہے، اسی طرح امام مالک کی متابعت بھی امام مالک تک سند ضعیف ہونے کی وجہ سے ثابت نہیں ہے،عبد الرزاق بن عمر کی متابعت بھی اسے تقویت نہیں پہنچائے گی کیو نکہ عبد الرزاق متروک ہے اور بالخصوص زہری سے روایت کرنے میں متکلم فیہ ہے....مزید یہ کہ امام بخاری اور امام ترمذی نے بھی خصوصاً اس طریق پر کلام کیا ہے.

دوم:ابو صالح کی روایت بھی ثابت نہیں ہے کیونکہ عبد الرحمٰن بن عبد اللہ متروک ہے.
سوم:سعید بن المسیب کی حدیث بھی باطل ہے کیونکہ اس میں عبد الجبار نے غلطی کی ہے ساتھ ہی سند معضل ہے.
چہارم:سلیمان بن یسار کی روایت بھی سخت ضعیف ہے کیونکہ عبد اللہ بن ابراہیم المدنی متروک ہے..

لہذا اس سے واضح ہو گیا کہ یہ حدیث حضرت ابو ہریرہ سے کسی بھی طور پر ثابت نہیں ہے ان کے طریق سے مروی تمام روایات غیر ثقہ راویوں کی غلطیاں اور اوہام ہیں اس بنیاد پر ان اسانید کے ذریعے مرسل سند کو تقویت نہیں دی جا سکتی.

ان دونوں صحابیوں کے علاوہ دیگر جن صحابہ سے یہ حدیث مروی ہے ان کی سندوں کی حالت بھی ابو ہریرہ کی حدیث سے مختلف نہیں ہے بلکہ وہ تو اور زیادہ ضعیف ہیں آپ خود ہی سوچیں جب سب سے قوی حدیث کی اسانید کا یہ حال ہے تو اس سے کم تر درجے کی حدیثوں کی اسانید کا کیا حال ہوگا... !!!؟

جو ان صحابہ کی روایات کا حال جاننا چاہتا ہو وہ شیخ صالح بن عبد اللہ بن حمد العصیمی کی کتاب"الدرء لتصحيح حديث من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه" کا مراجعہ کرے...

اخیر میں بطور خلاصہ عرض ہے کہ اس حدیث کی تمام سندوں میں مالک عن الزہری عن علی بن حسین عن النبی کے طریق سے مرسلا یہ روایت صحیح ہے، اور مرسل منقطع، معضل، مدلس اور معلق کی طرح ضعیف حدیث کی ایک قسم ہے...

امام مسلم نے اپنی کتاب (الصحیح) کے مقدمے میں کہا ہے :"بیشک ہمارے اور علمائے حدیث کے قول میں مرسل حجت نہیں ہے"(صحیح مسلم 1/20) اور اسی طرح ابن عبد البر نے اسے اصحاب الحدیث کی جماعت سے نقل کیا ہے. (1/17) ابن الصلاح نے کہا:"ہم نے مرسل کے ضعیف اور ساقط از احتجاج ہونے کی بات کہی ہے، اسی پر جماعت حفاظ حدیث اور ناقدین آثار کا اتفاق ہوا ہے اور اسے ہی انہوں نے اپنی کتابوں میں لکھا ہے"( الباعث الحثيث ص:48)
امام ابن ابی حاتم رازی فرماتے ہیں"میں نے اپنے والد (ابو حاتم رازی) اور ابو زرعہ سے کہتے ہوئے سنا کہ مرسل حدیث سے احتجاج نہیں کیا جا سکتا بلکہ احتجاج صرف صحیح اور متصل اسانید سے ہی کیا جا سکتا ہے"(المراسيل:ص: 7)

یہی راجح ہے نقاد فن، ماہرین علل اور محدثین عظام نے مرسل ہی کو راجح قرار دیا ہے جن میں امام بخاری،امام احمد بن حنبل، امام یحییٰ بن معین، امام ترمذی،امام طبرانی، امام عقیلی، امام دار قطنی، بیہقی، خطیب بغدادی، ابو نعیم اصبہانی،منذری،ابو طاہر سلفی، ابن طاہر دمشقی اور ابن رجب حنبلی وغیرہم ہیں(فمن بعد هؤلاء یعنی ان کے جہابذہ نقاد کے بعد اور کس کی بات سنی جائے) اسی طرح معاصرین میں سے مقبل بن هادي الوادعي، عصام مرعی، صالح العصيمي، عبد الله بن یوسف الجديع، ابو اسحاق الحوینی، عبد الله السعد، سلیمان العلوان، مصطفی العدوی، مصطفی باحو،دكتور عبد الله محمد حسن دمفو، محققين "الطيوريات للسلفي" وغیرہم نے اسے مرسل اور ضعیف قرار دیا ہے .
ان کے مقابلے میں چند متاخرین محققین نے اس کی تصحیح یا تحسین کی ہے جو جمہور نقاد اور اصول تحقیق کے مخالف ہونے کی وجہ سے قابل اعتنا نہیں ہے.

اخیر میں تلخیصا امام ابن رجب کا قول نقل کر کے میں اس بحث کو مکمل کرتا ہوں، آپ رحمہ اللہ اوزاعی عن قرة بن عبدالرحمن عن الزهري عن أبي سلمة عن أبي هريرة رضي الله عنہ کی سند سے مروی حدیث کے بارے میں فرماتے ہیں:اکثر ائمہ نے کہا کہ یہ حدیث اس سند سے محفوظ نہیں ہے، بلکہ یہ عن الزہری عن علی بن حسین عن النبی کی سند سے مرسلا محفوظ ہے،............ اور جن محدّثین نے کہا ہے کہ یہ علی بن حسین سے مرسلا ہی صحیح ہے ان میں امام احمد بن حنبل، یحییٰ بن معین، بخاری اور دارقطنی ہیں، امام زہری سے روایت کرنے میں، اس کی سند میں ضعیف راوت تخلیط فاحش کے شکار ہیں اس میں صحیح مرسل ہونا ہے،..............یہ حدیث اللہ کے رسول سے اور بھی دوسری اسانید سے مروی ہے لیکن وہ سب کے سب ضعیف ہیں.(جامع العلوم والحكم : 1 / 287 ،حديث: 12 )

اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں علم صحیح کے ساتھ عمل صالح کی بھی توفیق عطا فرمائے آمین.
 
Top