ذیشان خان

Administrator
عہدِ صدّیقی میں بنو امیّہ کا کردار

مرتدین کے خلاف کاروائی کرنے کے لئے ابوبکر_صدیق رضی الله عنه نے مکّہ کے اموی عامل عتاب بن اسید رضی الله عنه کو حکم دیا آپ نے پانچ سو لوگوں پر مشتمل ایک لشکر تیار کیا اور اُس کا امیر اپنے بھائی خالد بن اسید رضی الله عنه کو مقرر کیا اور پھر یمن میں مرتدین کے خلاف مشترکہ کاروائی کی حضر موت اور کندہ کے لوگوں کو دائرہ اسلام میں واپس لے آئے-

مدّعی نبوت مسیلمہ کذاب کے خلاف لڑی گئی جنگوں میں خال المومنین معاویة بن ابی سفیان رضی اللّٰه عنھما نے خود شرکت کی-

|[ الدولة الامویة المفتری علیھا صــ : ١٤٨ ]|

ارتدادی جنگوں کے بعد ایران اور روم کے دو محاذوں پر بنــــو امیّـــہ نے بڑا اہم کردار ادا کیا جس سے اُن کی اسلام سے گہری وابستگی اُبھر کر سامنے آئی-

ولید بن عقبہ بن ابو معیط نے خالد بن ولید رضی الله عنه کے ساتھ عــراق کی ابتدائی فتوحات میں شرکت کی عیاض بن غنم رضی الله عنه کے ساتھ مل کر دومة الجندل کو فتح کرلیا پھر ملکِ شام کی طرف روانہ ہوگئے-

|[ الدولة الامویة : صــ ١٤٩ ]|

خلیفةُ المسلمین صدیق اکبــر رضی الله عنه نے شام کے محاذ پر جنگ کے لئے خود پرچم یزید بن ابو سفیان رضی اللّٰه عنھما کو دیا

اِس لشکر کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ وہ پہلا لشکر تھا جسے خلیفة المسلمین نے شام کی طرف روانہ کیا اور اُسے شہر کے باہر تک جاکر الوداع کہا

خلیفة المسلمین نے جہاد کا شوق رکھنے والے بعض اور لوگوں کو بھی یزید رضی الله عنه کے لشکر کے ساتھ شامل کردیا اور اُن پر معاویة بن ابو سفیان رضی الله عنهما کو امیر مقرر فرمایا

|[ سیر اعلام النبلاء : ١/ ٣٢٨ ]|

شامی محاذ پر لڑی گئی جنگوں میں ابو سفیان بن حرب رضی الله عنه بھی شامل تھے اگرچہ وہ اس وقت بہت بوڑھے ہوچکے تھے

شام کے جہاد میں خالد بن سعید ، ابان بن سعید ، اور عمرو بن سعید رضی اللّٰه عنھم بھی شامل رہے اور اعدائے اسلام سے لڑتے لڑتے جامِ شہادت نوش کیا-

|[ النزاع والتخاصم : صــ :٤٦ ]|

جنگِ یرموک میں سپاہیوں کو آمادہِ جنگ کرنے کے لئے ابو سفیان بن حربؓ کو متعین کیا وہ لشکرِ اسلام کے سامنے کھڑے ہوکر اُن کی دینی حمیت کو اِس طرح اُبھارتے : *" اللّٰه سے ڈرو ، اللّٰه سے ڈرو تم عرب قوم کے محافظ اور اسلام کے معاون و مددگار ہو جبکہ تمہارے دشمن روم کے محافظ شرک کے انصار و معاون ہیں میرے اللّٰه ! یہ دِن تیرے دنوں میں سے ایک ہے یا الله ! اپنے بندوں کی نصرت فرما -

|[ التبیین فی انساب القرشیین: ٢٠٣ ]|
 
Top