ذیشان خان

Administrator
بھائیو! دلوں پر توجہ دو

✍امام ابن عثیمین رحمہ اللہ کی ایک قیمتی نصیحت
___________________

سورۃ الطارق میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

إِنَّهُۥ عَلَىٰ رَجۡعِهِۦ لَقَادِرࣱ. یَوۡمَ تُبۡلَى ٱلسَّرَاۤئِرُ. فَمَا لَهُۥ مِن قُوَّةࣲ وَلَا نَاصِرࣲ.

بیشک اللہ انسان کو دوبارہ لوٹانے پر قادر ہے، جس دن پوشیدہ بھیدوں کی جانچ پڑتال ہوگی اور اس دن انسان کے پاس نہ اپنی کوئی قوت ہوگی نہ کوئی اس کا مددگار ہوگا. (الطارق : 8-10)

ان آیات کی تفسیر میں علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں :

بھائیو! ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم اعضاء وجوارح کے عمل سے زیادہ اپنے دل کے عمل پر توجہ دیں. اعضاء کے عمل تو ایک ظاہری علامت ہیں لیکن دل کے عمل پر تو سارا دار ومدار ہے، اسی لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خوارج کے بارے میں صحابہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا : تم میں سے ایک شخص اپنی نماز اور روزے کو ان کی نماز اور روزے مقابلے میں حقیر سمجھے گا. یعنی خوارج ظاہری اعمال میں خوب محنت کریں گے لیکن ان کے دل نعوذبااللہ (ایمان واخلاص سے) خالی ہوں گے . اسلام ان کے گلے سے آگے نہیں بڑھے گا. يَمْرُقُونَ مِنَ الْإِسْلَامِ كَمَا يَمْرُقُ السَّهْمُ مِنَ الرَّمِيَّةِ» وہ اسلام سے ایسے ہی نکل جائیں گے جیسے تیر شکار کے آر پار نکل جاتا ہے.

لہذا بھائیو! ہمارے لیے ضروری ہے کہ ہم دل کی اصلاح پر توجہ دیں، دل کے اعمال وعقائد اور اس کے مختلف پہلوؤں پر دھیان دیں. حسن بصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں : واللهِ ما سَبَقهم أبو بكرٍ بصلاةٍ ولا صومٍ، وإنما سَبَقهم بما وَقَرَ في قلبه من الإيمان» اللہ کی قسم! ابوبکر صدیق لوگوں پر اپنی نماز اور روزے سے سبقت نہیں لے گئے بلکہ اس ایمان کی بدولت سبقت لے گئے جو ان کے دل میں بیٹھا ہوا تھا.

ایمان جب دل میں بیٹھ جائے تو وہ انسان کو عمل پر ابھارتا ہے لیکن ظاہری اعمال بسا اوقات انسان کو دل کی اصلاح پر آمادہ نہیں کرتے. لہٰذا بھائیو! دلوں کی اصلاح پر توجہ دو، اسے شرک، بدعت، کینہ، کپٹ، اللہ نے رسول پر جو شریعت نازل کی ہے اس کے متعلق کسی قسم کی کراہیت، صحابہ کرام کے تعلق سے کسی قسم کی کراہیت اور دیگر آلائشوں سے پاک رکھو جن سے دل کو پاک رکھنا واجب اور ضروری ہے.

( تفسیر ابن عثیمین، سورۃ الطارق)
 
Last edited:
Top