ذیشان خان

Administrator
قدر دانی نہیں کی، خرافات سب کر لیں!

✍ محترمہ استاذہ رضیہ مدنی لکھتی ہیں :

”بہتر یہی ہے کہ جب تقریبِ نکاح میں حق مہر مقرر کیا جائے تو تب ہی ادا کر دیا جائے۔ جہاں اتنے دوسرے اخراجات کرتے ہیں، وہاں ذہنی طور پر پہلے سے تیار رہیں کہ مہر بھی ادا کرنا ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ شادی کے موقع پر ساری رسومات تو ہم ادا کر لیتے ہیں مگر جس دلہن کو آپ گھر لا رہے ہیں اور جس کی قدر دانی کے لیے الله تعالیٰ نے حق مہر رکھا تھا، وہی قدر دانی ہم کر نہیں پائے۔ باقی ساری خرافات ہم نے کر لیں۔ نتیجتاً نکاح میں برکت نہیں رہتی۔ مہر مرد کی طرف سے بیوی کی قدر افزائی ہے، محبت کی نشانی ہے، اسے جتنی جلدی ہو سکے ادا کر دینا چاہیے۔ مگر ہمارے معاشرے میں بہت غلط رواج ہیں۔ مہر کی رقم ادا کرنے کا مرد سوچتے ہی نہیں یا معاف کروا لیتے ہیں۔“

📕 - ( الزواج : 50 )
 
Top