ذیشان خان

Administrator
جمعہ کے دن زوال کے وقت نفل پڑھنا
================
مقبول احمد سلفی

پہلے یہ جان لیں کی نماز جمعہ سے قبل سنت مؤکدہ نہیں ، نوافل ہیں ۔ جمعہ کے دن مسجد میں حاضر ہوکر جس قدر نوافل پڑھنا چاہے دو دو کرکے پڑھ سکتا ہے ۔ کم از کم دو رکعت پڑھنا چاہئے جو تحیۃ المسجد کے حکم میں ہے۔ یہاں مسئلہ یہ ہے کہ کیا جمعہ کے دن زوال کا وقت نہیں ہوتا ؟ اگر زوال ہوتا ہے توجمعہ کے دن زوال کے وقت نوافل پڑھنا کیسا ہے ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسے عام دنوں میں زوال ہوتا ہے جمعہ کے دن بھی زوال ہوتا ہے اور یہ بھی صحیح ہے کہ زوال کے وقت نوافل کی ادائیگی ممنوع ہے۔
عقبہ بن عامر جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : ثلاثُ ساعاتٍ كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ ينهانا أن نُصلِّيَ فيهنَّ . أو أن نَقبرَ فيهن موتانا : حين تطلعُ الشمسُ بازغةً حتى ترتفعَ . وحين يقومُ قائمُ الظهيرةِ حتى تميلَ الشمسُ . وحين تَضيَّفُ الشمسُ للغروبِ حتى تغربَ .(صحيح مسلم:831)
ترجمہ: نبیﷺ نے ہمیں تین اوقات میں نماز پڑھنے سے منع فرمایا: جب سورج طلوع ہو رہا ہویہاں تک کہ بلندہوجائے۔جب سورج نصف آسمان پر ہویہاں تک کہ وہ ڈھل جائے (یعنی عین زوال کا وقت) اور جس وقت سورج غروب ہونا شروع ہوجائے۔
اس حدیث کی روشنی میں زوال کے وقت نفل نماز ادا کرنا ممنوع ہے مگر اسباب والی نمازیں زوال کے وقت ادا کرنی جائز ہے مثلا تحیۃ المسجد، سنۃ الوضو، نماز طواف وغیرہ۔ اسی طرح جمعہ کے دن زوال کے وقت نوافل ادا کرنا جائز ہے ۔ اس کی واضح دلیل بخاری ومسلم کی روایت ہے ۔
عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَا يَغْتَسِلُ رَجُلٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَيَتَطَهَّرُ مَا اسْتَطَاعَ مِنْ طُهْرٍ وَيَدَّهِنُ مِنْ دُهْنِهِ أَوْ يَمَسُّ مِنْ طِيبِ بَيْتِهِ ثُمَّ يَخْرُجُ فَلَا يُفَرِّقُ بَيْنَ اثْنَيْنِ ثُمَّ يُصَلِّي مَا كُتِبَ لَهُ ، ثُمَّ يُنْصِتُ إِذَا تَكَلَّمَ الْإِمَامُ إِلَّا غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى ۔( صحیح البخاري :883 وصحیح مسلم:857)
ترجمہ:سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے کہاکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص بھی جمعہ کے دن غسل کرتا ہے ، اور ممکن حد تک پاکی حاصل کرتا ہے ، اور تیل لگاتا ہے ، یا اپنے پاس جو خوشبو میسر ہو اسکو لگاتا ہے ، پھر نماز کے لئے جاتا ہے ، دو شخصوں کے درمیان جدائی نہیں کرتا ،(یعنی اپنے لئے راستہ بنا کر آگے جانے کی غرض سے دو آدمیوں کو نہیں ہٹاتا ، بلکہ جہاں جگہ مل جائے وہیں بیٹھ جاتا ہے ) پھر توفیق کے مطابق نماز پڑھتا ہے ، پھر خاموشی سے خطبہ سنتا ہے تو اس جمعہ سے آئندہ جمعہ تک اس کے ہونے والے گناہ معاف کرئے جاتے ہیں ـ
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے فتح الباری میں اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد فوائد کے طور پہ لکھا ہے کہ اس میں جمعہ کے دن نصف النہار کے وقت نوافل ادا کرنے کا جواز ملتا ہے ۔
یہ روایت واضح طور پہ دلالت کرتی ہے کہ جمعہ کے دن نمازی مسجد میں داخل ہوکر جس قدر چاہے دو،چار، چھ، آٹھ، دس، بارہ رکعت نماز ادا کرے اور جب امام خطبہ شروع کرنے لگے تو خاموشی سے خطبہ سنے ۔ گویا بوقت خطبہ نماز سے رکنا ہے ، اس سے پہلے مسلسل نماز ادا کرسکتے ہیں ۔ اگر کوئی امام کے خطبہ دیتے وقت مسجد آئے تو دو رکعت ہلکی ادا کرکے بیٹھے ۔
اسی طرح حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے پوچھا گیا:
متى كان رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ يصلي الجمعةَ ؟ قال : كان يصلِّي . ثم نذهبُ إلى جِمالِنا فنُريحُها . زاد عبدُ اللهِ في حديثِه : حين تزولُ الشمسُ ، يعني النَّواضحَ .( صحيح مسلم:858)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کس وقت نماز جمعہ ادا کرتے تھے؟" تو انہوں نے کہا: آپ نماز جمعہ پڑھاتے پھرہم اپنے اونٹوں کے پاس جاتے اور انہیں آرام کے لئے چھوڑتے ، اسی وقت سورج ڈھلنے کا وقت ہوتا۔
حضرت عبداللہ بن سیدان سلمی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں :
شهدتُ الجمعةَ مع أبي بكرٍ الصِّدِّيقِ فكانت خطبتُه وصلاتُه قبل نصفِ النهارِ ، ثم شهِدْنا مع عمرَ فكانت خطبتُه وصلاتُه إلى أن أقولَ : انتصف النهارُ ، ثم شهدنا مع عثمانَ فكانت خطبتُه وصلاتُه إلى أن أقولَ : زال النهارُ ، فما رأيتُ أحدًا عاب ذلك ولا أنكَرَه(الأجوبة النافعة للالبانی :23 اسنادہ جسن)
ترجمہ: میں حضرت ابوبکرصدیق رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضر ہوا، ان کا خطبہ اور نماز نصف النہار سے پہلے ہوتی تھی پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضر ہوا ،ان کا خطبہ اور نماز نصف النہار کے وقت ہوتی تھی پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خطبہ میں حاضرہوا،ان کا خطبہ اور نماز زوال کے وقت ہوتی تھی ۔ میں نے کسی بھی صحابی کو ان حضرات کے فعل پر اعتراض یا احتجاج کرتے نہیں دیکھا۔
یہ ساری روایات زوال سے پہلے یا زوال کے وقت نوافل کی ادائیگی کے لئے دلیل ہیں۔
جمعہ کے دن زوال کے وقت نوافل ادا کرنے کا موقف بہت سے اہل علم نے اختیار کیا ہے جن میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ ، علامہ ابن القیم، علامہ ناصرالدین البانی اور شیخ ابن عثیمین رحمہم اللہ کا ہے ۔ متعددصحابہ کرام کےعمل سے بھی اس موقف کی تائید ہوتی ہےجیساکہ ایک روایت اوپر گذری چکی ہے ۔اس کے علاوہ شیخ البانی رحمہ اللہ نے زوجہ رسول ﷺ کے عمل سے متعلق روایت ذکر کی ہے ۔ رأيتُ صفيةَ بنتَ حُييٍّ ( وهي من أزواجِ النبيِّ صلَّى اللهُ عليهِ وسلَّم ماتت في ولايةِ معاويةَ ) صلت أربعًا قبل خروجِ الإمامِ ، وصلتِ الجمعةَ مع الإمامِ ركعتيْنِ۔
ترجمہ: راوی حدیث(صافیہ) بیان کرتی ہیں کہ میں نے صفیہ بنت حی (یہ نبی ﷺ کے ازواج مطہرات میں سے ہیں جو معاویہ رضی اللہ عنہ دورمیں وفات پاتی ہیں) کو امام کے (خطبہ دینے کے لئے) نکلنے سے پہلے چار رکعت نماز پڑھتے دیکھا اور انہوں نے امام کے ساتھ دو رکعت نماز جمعہ ادا کیں۔
اس کی سند مسلم کی شرط پہ ہے ۔ (الاجوبۃ النافعہ للالبانی :35)
خلاصہ یہ کہ جمعہ کے دن زوال کے وقت بھی نوافل ادا کی جاسکتی ہے البتہ اس عمل کی کوئی حیثیت نہیں کہ مسجد میں دیر تک بیٹھے رہے اور امام کی آمد سے چند لحظہ قبل نفل ادا کرے ۔ اسی طرح یہ عمل بھی ثابت نہیں ہے کہ لوگ مسجد میں آکر بیٹھے رہیں اور جب اذان ہو تونماز کے لئے کھڑے ہوں۔ حنفیہ کے یہاں ایسا طریقہ رائج ہے جس کا کوئی ثبوت نہیں ۔یہ بات بھی واضح رہے کہ دو اذانوں کے درمیان جو دو رکعت پڑھنے کا ثبوت ملتا ہے اس سے مراد اذان واقامت کے در ان نماز پڑھنا ہے اور جمعہ کی پہلی اذان نبی ﷺ کے دور میں نہیں تھی ۔لہذاان دو عملوں سے بچنا چاہئے ۔
 
Top