ذیشان خان

Administrator
بسم اللہ الرحمن الرحیم،
از : توقیر احمد عبد الفتاح ندوی
مسقط ،عمان

✒ رسولِ رحمت، النبی الخاتم اور کتابِ سیرت، الرحیق المختوم
کتاب الرحیق المختوم کا ایک علمی جائزہ __،،

دسیوں سال سے دروسِ سیرت کے سلسلے میں جن کتابوں سے خوب استفادہ کیا گیا،، ان پر بطورِ جذبۂ احسانمندی کچھ سطریں قلمبند کرنے کا کبھی خیال بھی پیدا نہیں ہوتا،، مگر کچھ یارانِ حق نواز و مردان حقیقت شناس نے اطلاع دی کہ چہروں کی کتاب "فیس بک"
پر کتاب " الرحیق المختوم " کا غلط چہرہ پیش کیا جارہا ہے،،
چونکہ ناچیز اس چہروں کی دنیا سے دور ہے، اس لئے براہ راست مطلع نہ ہوسکا، البتہ ایک تحریر بھی اس کتاب کی تنقیص پر نظر سے گذری، جس نے کتاب کی اہمیت اور اس کی جامعیت پر تعصب سے بالاتر ہوکر حقیقت شناسی کی خراجِ امانت کے بطور کچھ لکھنے پر مجبور کر دیا،،
ہم پہلے اپنی اس کمزوری کا محاسبہ کرتے ہیں جو اکثر کسی اہم شخصیت اور قابلِ قدر خدمت کی تنقیص یا تردید کا محرک بنتی ہے،،
کیا اس کے کچھ اصول و حدود ہیں، یا ہر کس و ناکس کسی بھی شخصیت اور خدمت پر کھلی تنقید و تردید کا آزادانہ حق رکھتا ہے؟؟ ظاہر سی بات ہے ایسا نہیں ہے، انبیاء کی تکذیب ہوئی، کتب سماویہ کی تکذیب ہوئی، مگر کسی کو بھی اس تکذیب کا حق نہیں تھا،، قرآن نے ان کے اس رویہ کو
" ما ضل صاحبکم وما غوی، وما ینطق عن الھوی، إن ھو إلا وحي یوحی"
کہہ کر کالعدم کردیا،، اور بات یہاں ختم نہیں ہوگئی، بلکہ اس رویے پر روز قیامت ان کے لئے سخت سزا کا فیصلہ بھی ہوا،، یہ تو کفر و ایمان کی بات تھی،، مگر جب ایمان کے ذیلی ابواب میں تردید و تنقیص کا معاملہ آئے گا تو بھی قرآن نے ایک بہت بنیادی اصول کا ہم کو پابند کردیا ہے، "ما یلفظ من قول إلا لدیہ رقیب عتید"
تو کیا ہم کچھ بھی کہہ سکتے ہیں؟ اس کی آزادی کے حدود کا اشارہ مذکورہ آیت میں موجود ہے، اس آیت کی روشنی میں انسان کے لئے از بس ضروری ہے کہ ہمیشہ قلم و زبان کو حرکت دیتے وقت اس کا پاس و لحاظ رکھے،،
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نبی آخر الزماں ہیں،، آپ کی نبوت اور شریعت سابقہ نبوت و شریعت کی ناسخ ہے،، اس کے باوجود یہ الفاظ بار بار دہرائے جا رہے ہیں،،، " مصدقا لما بین أیدیکم" یعنی حق کا مزاج ہے حق کی تصدیق کرنا،
جب ہم قرآن و حدیث کا دم بھرتے ہیں تو کیا اس کے جملہ حقوق اپنے ادارے یا اپنے حلقے کے بنام محفوظ کردیئے گئے ہیں؟؟ یا وہ پوری امت اسلامیہ ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کے بنام نعمت عام ہے؟
کہیں ہم "نحن أبناء اللہ وأحباؤہ" یا " لن تمسنا النار إلا أیاما معدودۃ" کی ہمنوائی تو نہیں کررہے ہیں؟؟
اس ضروری وضاحت کے بعد ہم کتاب کا علمی تجزیہ اور مصنف کی شان تصنیف پر بات کرتے ہیں:
مصنف کا جذبۂ دروں:__
کسی بھی کتاب کا مقدمہ اس کتاب کا چہرہ ہوتا ہے، مصنفِ کتاب مولانا صفی الرحمن مبارکپوری رح مقدمہ میں اپنی خوش بختی کا اظہار ان الفاظ میں کرتے ہیں :
إن من سعادتي وحسن حظي أني أساهم في تلك المسابقة المباركة، ولكن أين أنا حتى ألقي ضوءاً على حياة سيد الأولين والآخرين صلى الله عليه وسلم؟ وإنما أنا رجل يرى لنفسه كل السعادة والفلاح أن يقتبس من نوره، حتى لا يتهالك في دياجير الظلمات، بل يحيا وهو من أمته، ويموت وهو من أمته ويغفر الله له ذنوبه بشفاعته.

ترجمہ : اس مقابلے میں شرکت میرے لئے انتہائی سعادت کی بات ہے، مگر سرکار دوعالم کی زندگی پر کچھ کہنا ! میری کیا بساط؟ میرے لئے تو سراپا نجات ان کے نور رسالت سے زندگی کو روشن کرنے میں ہے، اور حیات و موت کی قیمت ان کی امت ہونے میں ہے، اور ان کی شفاعت کی برکت سے مغفرت حاصل ہونے میں!!
یہ جملے ان کی وارفتگی اور عشق رسول کو ظاہر کر رہے ہیں،،

کتاب کی خصوصیات __

سیرت کے طالبعلم کو یہ الجھن ہمیشہ دامنگیر رہتی ہے کہ واقعات کی صحیح ترتیب کیا ہے؟ وہ مصنف کو بھی پیش آئی، اسی طرح سیرت کے ایک ادنی طالب علم ہونے کی حیثیت سے ہم بھی اکثر اس الجھن سے آزاد نہ ہوسکے، اس پریشانی کے متعلق مصنف کہتے ہیں :
"ولكني كثيرا ما رأيت في المصادر اختلافا كثيرا في ترتيب الوقائع أو في تفصيل جزئياتها، وفي مثل هذا المواقع قمت بالتحقيق البالغ، وأدرت في جميع جوانب البحث، ثم أثبتت في صلب المقالة ما ترجح لدي بعد التحقيق،"

ترجمہ : واقعات کی ترتیب اور جزئی تفاصیل میں روایات باہم بہت مختلف ہیں، جس کی وجہ سے مجھے بڑی دقیق النظری سے کام لینا پڑا،، اور تمام روایات کی جملہ تفاصیل کی روشنی میں جو راجح نظر آیا اسی رائے کو ترجیح دی،،،
مصنف کا یہ دعویٰ آپ کو کتاب کے مطالعے میں نمایاں نظر آئے گا،، لہٰذا ظہور قدسی اور انسانیت کے لئے ساعت ہمایوں سے قبل سرزمین عرب کے احوال اور طرزِ زندگی کے تمام پہلوؤں پر جس اختصار اور جامعیت کے ساتھ روشنی ڈالی ہے وہ مطالعے سے واضح ہوجائے گا،،
مواقع العرب و أقوامھا
الحکم والإمارۃ فی العرب
دیانات العرب
صور من المجتمع العربي الجاهلي
سینکڑوں صفحات کا خلاصہ چوبیس صفحات پر مشتمل ان چار ابواب میں بیان کردیا گیا ہے،، اب ہماری یہ بات مبالغہ اور غلو ہے یا حقیقت! یہ ذیل کی تفصیل سے واضح ہوجائے گا کہ :
علامہ سہیلی نے الروض الأنف میں ان پر تقریبا ساڑھے چار سو صفحات مکمل کئے، ابن کثیر نے البدایۃ والنہایۃ میں سو سے زائد صفحات طلب کر لئے،، اسی طرح دیگر متعدد سیرت کی مراجع کتب میں یہ معلومات سینکڑوں صفحات میں بکھری ہوئی ہیں،، ان کے مطالعے سے حقیقت صاف ہوجائے گی،،،

ایک اور مثال کے ذریعے کتاب کی جامعیت اور کمال تصنیف پر روشنی ڈالتے ہیں، مضمون سیرت میں غزوۂ بدر اپنی فیصلہ کن حیثیت کی بنا پر انتہائی اہم باب ہے،، سیرت کی نمایاں اور مراجع تصانیف کا مطالعہ کرجائیں، مگر مدینہ سے روانگی اور مقام بدر میں پڑاؤ تک نیز میدان کارزار اور واپسی کی تفاصیل میں آپ ایک ایسا مرتب خاکہ قائم کرسکیں جو من حیث الوقوع أقرب إلی الصواب ہو، انتہائی مشکل کام ہے،، جبکہ سیرت کی تمام مراجع کتب میں وہ تفاصیل مذکور ہیں، آخر ان کی ترتیب تو ہوگی؟---- مثلاً ؛
اس غزوے میں صحابہ کی رائے اور ان کا عندیہ معلوم کرنے کے لئے آپﷺ نے ہنگامی اجتماع فرمایا،، اس موقع پر حضرت مقداد بن عمرو اور حضرت سعد بن معاذ کی تقریر جس نے ایک تاریخی اور جاں نثارانہ بیان کی بے مثال حیثیت حاصل کی، اس اجتماع کی حیثیت اس مہم میں نقطۂ انقلاب کی ہے، اسی اجتماع میں اس قافلہ کا رخ لشکر میں تبدیل ہوتا ہے،، بدر کا لمحہ لمحہ اللہ اوراس کے دین اور نبی کے نام پر فنائیت کی آخری درجہ کی مثالیں ہیں،، اس لئے اس اجتماع اور تقریر کو ویسا ہی مقام حاصل ہے، اب یہ تقریر کب ہوئی؟ یہ اجتماع آپ نے کب طلب کیا؟؟ ملاحظہ فرمائیں :
سیرت النبی /علامہ شبلی رح کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بوقت روانگی از مدینہ!
فقہ السیرۃ / الغزالی :
"استشارۃ النبی لأصحابه" کا عنوان قائم کیا ہے، مگر موقع اور مقام دونوں ذکر سے خالی ہے، بلکہ اس کے مطالعے سے خلط مبحث پورے طور پر ظاہر ہوگا،،
سیر أعلام النبلاء /للذھبي :
تقریر کی مختصر تفصیل ہے، مگر سیاق و سباق ندارد،
البدایۃ والنھایۃ / ابن کثیر : ان کا بھی زیادہ اعتماد ابن اسحاق پر ہے، مگر خود بھی مؤرخ و مفسر ہیں، صاحب الرائے ہیں، ان کے ہاں جمع روایات پر خوب زور ہے، مگر ترتیب واقعات بڑا دشوار مرحلہ ہے،، اس کے باوجود بہت سی کتابوں سے البدایۃ کا رتبہ بہت بلند اور مفید ہے،،
اختصار کو مد نظر رکھتے ہوئے عرض یہ ہے کہ دسیوں سیرت کی کتابوں میں غزوۂ بدر کو پڑھا جائے، تو الرحیق المختوم کے مصنف کے انداز اور کاوش پر آپ کو ہزار رشک آئے گا،، اس ترتیب میں انہوں نے اجتہاد نہیں کیا ہے، بلکہ ان معلومات کی کڑیوں کو باہم مربوط کیا ہے، جو بہت سی اہم کتابوں میں موجود تو تھیں، مگر مرتب نہ تھیں،،
ابن ہشام اور زاد المعاد نے اس تقریر کا موقع و مقام بہت وضاحت کے ساتھ ذکر کیا ہے کہ یہ مقام صفراء کے قریب ذفران کے مقام پر بدر پہنچنے سے دو یا تین روز قبل پیش آیا،، جس کو بڑے کمال کے ساتھ اس کتاب میں ذکر کیا گیا ہے،،
جس دقت نظری اور تحقیق کے ساتھ سیرت کے واقعات کو مرتب کیا گیا ہے، یہ اس کتاب کا خاصہ ہے،، یہی وجہ ہے کہ یہاں عمان میں جب سالانہ عالمی کتابوں کی نمائش لگتی ہے تو عرب ناشرین میں جو کتاب تقریباً ناشرین کے اسٹال پر نظر آئے گی وہ یہ کتاب ہے، یہ انعام یافتہ ہونے کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس کے فنی امتیازات کی وجہ سے،،
زمانہ گذر گیا، انعام دینے اور پانے والے دونوں بحیات نہیں ہیں،، مگر کتاب کی مقبولیت قابل رشک ہے!
*مصنف کی اپنی صراحت کے مطابق ساٹھ کتابوں سے استفادہ کیا،، بشمول کتاب اللہ، احادیث و سیرت کی امہات الکتب اور متداول مراجع سے عرق ریز رجوع کے بعد یہ کتاب مرتب ہوئی ہے،، اور فن سیرت و تاریخ کے معاصر ماہرین نے اس کتاب کی اہمیت پر بہت کچھ اظہار خیال کیا، ان کا ذکر ہمارے لئے باعث طوالت ہے،،

اب رہا مسئلہ اس کی زبان اور معیار ادب کا تو ایک اقتباس کے بعد مضمون کو مکمل کرتے ہیں،
صلح حدیبیہ کے بعد سیرت ایک نئی سمت اختیار کرتی ہے،، اس پر مصنف کے تبصرہ کا انداز دیکھیں :
أما اليهود فكانوا قد جعلوا خيبر بعد جلائهم عن يثرب وكرا للدس والتآمر، وكانت شياطينهم تبيض هناك وتفرخ، وتؤجج نار الفتنة، وتغري الأعراب الضاربة حول المدينة، وتبيت للقضاء على النبي صلى الله عليه وسلم والمسلمين، أو لإلحاق الخسائر الفادحة بهم، ولذلك كان أول إقدام حاسم من النبي صلى الله عليه وسلم بعد هذا الصلح هو شن الحرب الفاصلة على هذا الوكر‏.‏..
اس عبارت میں ادب، لغت اور سلاست کی روح کیسے باہم دگر متآنس ہے وہ اصحاب ذوق ہی محسوس کرسکتے ہیں،،
یہ انداز پوری کتاب کا ہے، اور زبان و ادب کے اعتبار سے یہ کتاب بہت معیاری ہے،،

اسی تناظر میں ایک مثال __،،
بعض حضرات نماز میں رفع یدین کے مسلک کی تنقیص یہ کہتے ہوئے کرتے ہیں کہ یہ ہاتھ جھاڑنے والے لوگ ہیں،،

احادیث میں اس کا کثرت ذکر بتاتا ہے کہ آپﷺ نے رفع یدین کیا ہے، تفصیل میں اختلاف کی گنجائش کے باوجود یہ کسی نہ کسی شکل میں نبی کا عمل ہوا، اب یہ تنقیص کس کی ہورہی ہے؟؟ کہیں نادانستہ نبی کی ذات نشانہ تو نہیں بن رہی ہے؟؟ ذرا غور کریں!
ہم مسلک اور مکتب کے تعصب میں بہت کچھ بھول جاتے ہیں،،
یہی معاملہ کسی قابلِ قدر کتاب اور شخصیت کا ہے،
کتاب الرحیق المختوم پر کچھ تبصرہ کرنے سے پہلے اس کو پڑھ لینا تھا اور دیگر مرجع کتابوں سے موازنہ بھی کرلینا تھا،،،
بے بنیاد تبصرہ صاحب تبصرہ کی بنیاد کو کمزور کرتا ہے،،
اس تحریر میں سیرت کے طالبعلم، مصنف اور محقق ہر ایک کے لئے ہمدردانہ مشورہ ہے کہ اس کتاب کو عربی میں ضرور پڑھیں،، بلا مبالغہ کہا جا سکتا ہے کہ یہ کتاب خود مرجع کی حیثیت رکھتی ہے،، اس پر خاطر خواہ تبصرہ کے لئے ایک مختصر رسالہ درکار ہے،،
ہم رسول رحمت کے نام پر کچھ پیش نہ کرسکے تو کم از کم ان نذرانوں کے قدرشناس تو بنیں، جن کی دوسروں کو توفیق مل گئی،،، یہ تو رشک کی بات ہے کہ اللہ نے کسی سے کوئی کام لے لیا،،
ہر خدمت کے پس پردہ کوئی محرک ہوتا ہے، مقابلہ میں شرکت بھی ایک کارآمد محرک ہے،، اسی لئے تو یہ آزمائے جاتے ہیں،، ہماری یہ تحریر بھی اسی اجر کی امید میں ہے کہ خیر کے نام پر اور نبی کی شان میں جو خدمات اور قربانیاں پیش ہوئیں، ان کی تأیید، تذکرہ اور رہنمائی کے توسط سے اللّٰہ ہمیں بھی شریک اجر کرلے،،

رحمت خدا بہانہ می جوید،
إن اللہ مع الذین اتقوا والذین ہم محسنون،،
______________
 
Top