ذیشان خان

Administrator
عقیدہ اور امورِ دین وغیرہ کے بارے میں اہل سنت والجماعت کے اصول و ضوابط کیا ہیں

از قلم : عبدالرزاق عبدالنور فیضی
نچلول مہراج گنج اترپردیش

قرآن و حدیث اور خلفائے راشدین

وضاحت

جہاں تک عقائد اور دیگر امور دین وغیرہ کے بارے میں اہل سنت والجماعت کے عقیدے کا اساسی اصول وقاعدہ کا معاملہ ہے تو وہ یہ ہے کہ کتاب اللہ، سنت رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) اور خلفائے راشدین کے طریقے اور راستے کو مضبوطی سے تھام لیا جائے۔

کیونکہ ارشاد باری تعالیٰ ہے :

قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ

ترجمہ-: ’(اے پیغمبر ! لوگوں سے) کہہ دو کہ اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ بھی تمہیں دوست رکھے گا۔

سورہ آل عمران : آیت نمبر 33.

اور دوسری جگہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے
:
مَنْ یُّطِعِ الرَّسُوْلَ فَقَدْ اَطَاعَ اللّٰہَ وَمَنْ تَوَلّٰی فَمَآ اَرْسَلْنٰکَ عَلَیْہِمْ حَفِیْظًا

ترجمہ-: جو شخص رسول کی فرمانبرداری کرے گا تو بے شک اس نے اللہ کی فرمانبرداری کی اور جو نافرمانی کرے تو اے پیغمبر آپ کو ہم نے ان کا نگہبان بنا کر نہیں بھیجا۔
👇🏻
سورہ نساء : آیت نمبر 80.

اللہ تعالیٰ کے ایک اور فرمان سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے :

وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُوْلُ فَخُذُوْہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانْتَہُوْا

ترجمہ-: اور جو چیز تم کو پیغمبر دیں وہ لے لو اور جس سے منع کریں اس سے باز رہو۔
👇🏻
سورہ الحشر : آیت نمبر 07.

یہ حکم اگرچہ مال غنیمت کی تقسیم کے بارے میں آیا ہے، لیکن امور شرعیہ کے بارے میں بدرجہ أولیٰ اس کا اطلاق ہوگا، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کرتے تھے :

اَمَّا بَعْدُ: فَاِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللّٰہِ وَخَیْرَ الْہَدْیِ ہَدْیُ مُحَمَّدٍ(صلی اللّٰہ علیہ وسلم) وَشَرَّالْاُمُوْرِ مُحْدَثَاتُہَا وَکُلُّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ

ترجمہ-: حمدوثنا کے بعد بے شک بہترین بات اللہ کی کتاب ہے اور بہترین طریقہ محمدصلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے، اور بدترین امور نئے پیدا کردہ امور ہیں، یعنی بدعات ہیں اور (دین میں ایجاد کی گئی) ہر بدعت، یعنی نئی بات گمراہی ہے۔
👇🏻
صحیح مسلم : الجمعۃ‘ باب تخفیف الصلاۃ والخطبۃ : حدیث نمبر 867.

اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا ہے :

عَلَیْکُمْ بِسُنَّتِی، وَسُنَّۃِ الْخُلَفَائِ الرَّاشِدِیْنَ الْمَہْدِیِّینَ تَمَسَّکُوْا بِہَا وَعَضُّوْا عَلَیْہَا بِالنَّوَاجِذِ، وَاِیَّاکُمْ وَمُحْدَثَاتِ الْاُمُوْرِ، فَاِنَّ کُلَّ مُحْدَثَۃٍ بِدْعَۃٌ، وَکُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلَالَۃٌ

ترجمہ-: تم میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑو، اسے مضبوطی سے تھام لو اور دانتوں کے ذریعہ سختی سے پکڑ لو اور (دین میں) نئے نئے کاموں سے کنارہ کشی اختیارکرو کیونکہ (دین میں ایجاد کردہ) ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے۔

سنن ابی داود : السنۃ، باب فی لزوم السنۃ : حدیث نمبر 4607.

تھوڑی تفصیل ابھی باقی ہے

اس مسئلے سے متعلق کتاب وسنت میں اور بھی بہت سے نصوص واردہوئے ہیں، چنانچہ اہل سنت والجماعت کا طریقہ اور دستور کتاب اللہ، سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعد ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کو مکمل طور پر اختیار کرنا ہے، یہی وجہ ہے کہ اہل سنت والجماعت حسب ذیل ارشاد باری تعالیٰ پر عمل کرتے ہوئے دین کو قائم رکھتے ہیں، اور اس میں تفرقہ نہیں ڈالتے۔

ارشاد باری تعالیٰ ہے :

شَرَعَ لَکُمْ مِّنْ الدِّیْنِ مَا وَصَّی بِہٖ نُوحًا وَّالَّذِیْ اَوْحَیْنَا اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖ اِبْرٰہِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰی اَنْ اَقِیْمُوْا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ

ترجمہ-: اس نے تمہارے دین کا وہی راستہ مقرر کیا جس کے اختیار کرنے کا نوح کو حکم دیا تھا اور جس کی (اے محمد !) ہم نے تمہاری طرف وحی بھیجی ہے، اور جس کا ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو حکم دیا تھا (وہ یہ) کہ دین کو قائم رکھنا اور اس میں پھوٹ نہ ڈالنا۔
👇🏻
سورہ الشعراء : آیت نمبر 13.

باتیں کچھ کام کی

اہل سنت میں اگرچہ اجتہادی مسائل میں اختلاف ہے، تو اس اختلاف کی گنجائش ہوتی ہے، اور یہ اختلاف دلوں کے اختلاف کا سبب نہیں بنتا، یہی وجہ ہے کہ اہل سنت اجتہادی مسائل میں اختلاف کے باوجود باہم دگر الفت و محبت کے رشتوں میں منسلک ہیں۔

واللہ اعلم بالصواب ھذا ما عندی

جزاکم اللہ خیرا واحسن الجزاء فی الدارین
 
Top