ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

احسان فراموش نہ بنیں
نازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.......................................................
جب ہمارے اوپر کوئی شخص احسان کرے یا کوئی بھی بھلا کام کرے تو ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم اس کا احسان مانیں، اس کے حق میں دعا کریں، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "وَمَنْ صَنَعَ إِلَيْكُمْ مَعْرُوفًا فَكَافِئُوهُ، فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا مَا تُكَافِئُونَهُ فَادْعُوا لَهُ حَتَّى تَرَوْا أَنَّكُمْ قَدْ كَافَأْتُمُوهُ" (سنن ابوداؤد:1671/صحيح) جو اچھے سے تمہارا کام بنا دے تو تم اس کا بدلہ دو، اگر بدلہ نہ دے سکو تو تم اس کے حق میں دعا کرو، یہاں تک کہ تم یہ سمجھو کہ تم نے اس کا بدلہ چکا دیا ہے-
قارئین کرام! احسان چکانا یا اپنے محسن کے حق میں دعا کرنا یہ ہمارا واجبی فریضہ ہے اور احسان فراموشی بہت بڑا جرم ہے جہنم میں لے جانے والا عمل ہے، جیسا کہ صحيح بخاری میں ہے کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے عید کے خطبہ میں نصیحت فرمائی اور کہا: "أُرِيتُ النَّارَ فَإِذَا أَکْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَاءُ يَکْفُرْنَ قِيلَ أَيَکْفُرْنَ بِاللَّهِ؟ قَالَ يَکْفُرْنَ الْعَشِيرَ وَيَکْفُرْنَ الْإِحْسَانَ، لَوْ أَحْسَنْتَ إِلَی إِحْدَاهُنَّ الدَّهْرَ ثُمَّ رَأَتْ مِنْكَ شَيْئًا قَالَتْ مَا رَأَيْتُ مِنْكَ خَيْرًا قَطُّ (صحیح بخاری:29) مجھے جہنم دکھلایا گیا تو اس میں زیادہ تر میں نے عورتوں کو پایا، وجہ یہ کہ وہ نافرمانی کرتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ و سلم سے دریافت کیا گیا، کیا وہ کفر باللہ (یعنی اللہ کی نافرمانی) کرتی ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ وہ شوہر کی نافرمانی کرتی ہیں اور احسان تسلیم نہیں کرتی ہیں اگر تم زندگی بھر ان میں سے کسی عورت کے ساتھ احسان کرتے رہو، پھر تمہاری طرف سے کبھی کوئی ان کے خیال میں ناگواری کی بات ہو جائے، تو فورا کہہ دیں گی کہ میں نے کبھی بھی تم سے کوئی بھلائی نہیں دیکھی ہے-
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ احسان فراموشی بہت بڑا جرم ہے، لہٰذا ہم یاد کریں کہ ہمارے محسنین کتنے ہیں، ہمارے اوپر لوگوں کے احسانات کتنے زیادہ ہیں، علماء کے احسانات، اساتذہ کے احسانات، ائمہ کرام اور خطباء کے احسانات، ماں باپ کے احسانات، رشتہ داروں کے احسانات، بھائی بہن کے احسانات، دوستوں کے احسانات، شوہر اور بیوی کے احسانات، یا ہم عمومی بات کریں تو کسی نے ہمیں کھلایا ہوگا، کسی نے پلایا ہوگا، کسی نے پہنایا ہوگا، کسی نے علاج کرایا ہوگا، کسی نے قرض دیا ہوگا، کسی نے مال دیا ہوگا، کسی نے اچھا مشورہ دیا ہوگا، کسی نے ہدیہ دیا ہوگا، کس نے کچھ دیا ہوگا، کسی نے مشکل وقت میں ہمارا ساتھ دیا ہوگا، کسی نے ہماری مدد کی ہوگی، یہ کچھ ایسے احسانات ہیں جن سے کوئی بَری نہیں ہے ہر شخص ایک دوسرے کے احسانات تلے دبا ہوا ہے، لہٰذا ہم اپنے چھوٹے بڑے تمام محسنین کو ہمیشہ یاد رکھیں سبھوں کے حق میں دعاء خیر کریں، اور اچھا بدلہ دینے کی حتی المقدور کوشش کریں، جیسا کہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم ہدیہ قبول کرتے تھے اور اس کا بدلہ دیتے تھے، صحیح بخاری کی روایت ہے، ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: "كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا" (صحیح بخاری:2585) رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہدیہ قبول کرتے تھے اور اس کا بدلہ بھی دیا کرتے تھے-
خلاصہ کلام یہ ہے کہ احسان فراموشی بہت بڑا جرم ہے، ہم غور کریں کہ جب عورت اپنے شوہر کی ناشکری کرے اور اس کے احسانات کو فراموش کر جائے تو وہ عورت جہنم میں جائے گی تو اس عورت کا کیا حال ہوگا جو خالق حقیقی کی ناشکری کرے اور اللہ کے انعامات واحسانات کو بھول جائے، اللہ ہم سب کو ناشکری اور احسان فراموشی جیسی گھٹیا صفت سے بچائے اور ہم سب کو نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top