ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.......................................................
احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کہتا ہے: "هَلْ جَزَاءُ الإحْسَانِ إلاَّ الإحسَانُ" (الرحمن:60) احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے-
اس آیت کریمہ کا مستفاد یہ ہے کہ احسان چکانا چاہیے، کبھی کسی کا احسان فراموش نہیں بننا چاہیے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہت بڑے احسان نواز تھے اور مزید دوسروں کا احسان چکاتے تھے، احسان کا اچھا بدلہ دیتے تھے، جیسا کہ صحیح بخاری شریف کی یہ روایت ہے، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم پر ایک شخص کا ایک خاص عمر کا اونٹ قرض تھا، وہ شخص آپ سے تقاضا کرنے کے لیے آیا تو آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ کرام سے کہا کہ ادا کر دو، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اس عمر کا اونٹ تلاش کیا لیکن نہیں ملا، البتہ اس سے زیادہ عمر کا مل گیا، آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا یہی بڑا اونٹ ان کو دے دو، اس پر اس آدمی نے کہا کہ آپ نے مجھے مکمل پورا حق دے دیا اللہ تعالٰی آپ کو بھی بدلہ دے، پھر نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا تم میں سے بہتر وہ لوگ ہیں جو قرض کو پوری طرح یا اچھی طرح ادا کر دیتے ہیں (صحيح بخاری:2305) یعنی احسان کرتے ہیں-
احسان کا بدلہ احسان ہوتا ہے گرچہ کافر کا ہی احسان ہو، اسے بھی دنیا میں چکانے کی کوشش کرنا چاہیے، جیسا کہ آپ نے جنگ بدر کے قیدیوں کے بارے میں فرمایا تھا کہ آج اگر مطعم بن عدی زندہ ہوتا اور ان قیدیوں کے بارے میں مجھ سے کچھ بات کرتا تو آج میں ان تمام قیدیوں کو فری میں چھوڑ دیتا (صحيح بخاری:3139) ہم سب جانتے ہیں کہ مطعم بن عدی یہ وہ واحد شخص ہے جس نے آپ کو مکہ میں پناہ دیا تھا جب آپ طائف سے واپس آرہے تھے تو اس وقت آپ کو کوئی پناہ نہیں دے رہا تھا، اس لیے فری میں قیدیوں کو آزاد کرنے کے لیے آپ نے کہا تھا-
آپ صلی اللہ علیہ وسلم احسانات اس قدر چکاتے تھے کہ مرے ہوئے لوگوں کے احسانات یاد کرتے تھے اور اس کا بدلہ دیتے تھے، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم جب بکری ذبح کرتے تھے تو آپ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی سہیلیوں کو گوشت کا ہدیہ پیش کرتے تھے (صحیح مسلم:6431) کیونکہ ام المؤمنین خدیجہ رضی اللہ عنہا کے احسانات آپ پر بہت زیادہ تھے-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اس دنیا سے رخصت ہوئے تو آپ نے سبھوں کے احسانات کو چکا دیا تھا سوائے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے، جیسا کہ آپ نے اپنی وفات کے چند روز قبل کہا تھا کہ میں نے سبھوں کے احسانات کا بدلہ دے دیا ہے مگر ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے احسانات کا بدلہ میں دنیا میں نہیں چکا سکتا ہوں (جامع ترمذی:3659/صحیح)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم احسان کا اچھا بدلہ دیتے تھے، لہٰذا ہم سب کو بھی چاہیے کہ ہم لوگوں کے احسانات کا حسب استطاعت اچھا بدلہ چکائیں، لیکن افسوس کی بات ہے کہ بہت سارے لوگ احسان لینے کے بعد احسان فراموش بن جاتے ہیں، یہ بہت بری بات ہے، اس لیے ہم سبھوں کو احسان چکانے اور محسنین کے حق میں خیر وبرکت کی دعا کرنا چاہیے، اللہ ہم سب کو نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top