ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

قرآن کی تاثیر
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.......................................................
قرآن مجید آسمانی سب سے آخری کتاب ہے، قرآن مجید ایک انقلابی کتاب ہے اس کتاب کی ایک الگ ہی تاثیر ہے، جنہوں نے بھی اس کتاب کو پڑھا سنا تدبر کیا تو اس کے دل کی دنیا بدل گئی یہاں تک کہ اگر کافر نے بھی قرآن کو سنا تو اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا، اور بہتوں نے تو اسلام قبول کر لیا صرف قرآن سن کر، جیسے عمر فاروق رضی اللہ عنہ قبول اسلام سے قبل اسلام مخالف تھے مگر جب انہوں نے قرآن سنا تو فوراً مشرف بہ اسلام ہوگئے، حبشہ کا بادشاہ نجاشی عیسائی تھا، مکہ مکرمہ کے مظلوم مسلمان (صحابہ کرام) ہجرت کرکے حبشہ گئے، انہیں وہاں پناہ ملی، بالآخر مکہ کے کافروں نے بادشاہ سے ملاقات کی اور مسلمانوں کو مکہ واپس کرنے کی مانگ کی تو دربار میں مسلمانوں کو طلب کیا گیا، بادشاہ کے دربار میں بات چیت کرنے کے لیے جعفر طیار کھڑے ہوئے اور اسلام کی بہترین نمائندگی کی اور انہوں نے سورہ مریم کی ابتدائی کئی آیات تلاوت کی، بادشاہ کافر تھا مگر قرآن سن کر رونے لگا، اور پھر مسلمان ہوگیا-
نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم طائف سے جب واپس ہوئے اور وادی نخلہ میں نماز پڑھ رہے تھے اور قرآن پڑھ رہے تھے اسی درمیان جنوں کی جماعت تشریف لائی اور قرآن سن کر مسلمان ہوگئی، سوچیے جن اپنی سرکشی اور بغاوت میں معروف ہیں لیکن جب انہوں نے قرآن سنا تو اپنے آبائی جھوٹے مذہب کو چھوڑ دیا اور توحید کے راستے پر آگئے مزید دین کے داعی اور مبلغ بن گئے-
حضرت ثمامہ بن اثال کے قبول اسلام کا واقعہ بڑا دلچسپ ہے، المختصر یہ بےچارے مسلمانوں کے ہاتھوں گرفتار ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کو مسجد نبوی کے ستون میں تین روز تک باندھے رکھا، یہ نماز کی عبادت، قرآن کی تلاوت، صحابہ کرام کے آپسی سلوک اور نبی کے اخلاق سے اس قدر متاثر ہوئے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے انہیں آزاد کر دیا تو مدینہ سے واپس ہونے سے پہلے ہی غسل کرکے مسلمان ہوگئے-
جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ بدر میں گرفتار ہوئے، پہلے یہ کافر تھے، مسلمانوں سے لڑنے کے لیے بدر تشریف لائے تھے، بہرحال انہیں قیدی بناکر مدینہ لایا گیا، کچھ دنوں کے بعد ایک روز نبی نے سورہ طور کی تلاوت کی اور جب آپ اس آیت پر پہنچے، "ام خلقوا من غير شيء ام هم الخالقون" (الطور:35) تو جبیر بن مطعم کہتے ہیں کہ قریب تھا کہ میرا دل اڑنے لگے یعنی میں بےقابو ہو چکا تھا، پھر وہ اسی آیت کی وجہ سے مسلمان ہوگئے-
قارئین کرام! قرآن ایک انقلابی کتاب ہے کافر بھی اگر قرآن غور سے سنے تو اس سے ضرور متاثر ہوتا ہے گرچہ وہ اسلام قبول نہ کرے، بڑا مشہور واقعہ ہے آپ صلی اللہ علیہ و سلم حرم شریف میں سورہ نجم کی تلاوت کر رہے تھے، قرآن سننے والوں میں مومن کافر مشرک سب تھے، آپ نے سورہ نجم کی تلاوت کی اور اختتام پر سجدہ کیا، لوگ قرآن سن کر جھوم گئے تھے، نبی کے ساتھ مسلم، کافر اور مشرک سبھوں نے سجدہ کر دیا یہ بھی قرآن کی حیرت انگیز تاثیر کا نمایاں پہلو ہے-
مگر افسوس صد افسوس آج ہمارے پاس قرآن ہے، قرآن کا علم ہے، مگر ہم قرآن سے محروم ہیں، ہم نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے، قرآن جو ہدایت کی کتاب تھی ہم نے اس کو کتاب تلاوت بنا لیا ہے مردوں کو بخشوانے کا ذریعہ سمجھ لیا ہے، قرآن مجید کی حیرت انگیز تاثیر اور ہماری بےحسی کو ایک غیرمسلم شخص ڈاکٹر پنڈت شنکر دیال شرما صاحب نے کچھ اس طرح بیان کیا ہے-
عمل کی کتاب تھی
دعا کی کتاب بنا دیا
سمجھنے کی کتاب تھی
پڑھنے کی کتاب بنا دیا
زندوں کا دستور تھی
مردوں کا منشور بنا دیا
جو علم کی کتاب تھی
لاعلموں کے ہاتھ تھما دیا
تسخیر کائنات کا درس دینے آئی تھی
صرف مدرسوں کا نصاب بنا دیا
مردہ قوم کو زندہ کرنے آئی تھی
مردوں کی بخشش پر لگا دیا
اے مسلمانو! یہ تم نے کیا کیا؟
آج ہماری ذلت و رسوائی کا سبب یہی ہے کہ ہم نے قرآن کو چھوڑ دیا ہے، اسی پر علامہ اقبال نے کہا تھا ہم خوار ہوئے تارک قرآں ہوکر، لہٰذا ہم سب کو چاہیے کہ ہم سب قرآن سمجھ کر پڑھیں، اس پر عمل کریں اور قرآنی تعلیمات کو عام کریں، اللہ ہمیں نیک توفیق دے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top