ذیشان خان

Administrator
بسم الله الرحمن الرحيم وبه نستعين

دھوکہ نہ دیں
ازقلم: عبیداللہ بن شفیق الرحمٰن اعظمیؔ محمدیؔ مہسلہ
.......................................................
موجودہ زمانے میں جس گناہ کو ہم بار بار کرتے ہیں وہ گناہ دھوکہ دھڑی ہے، آج دھوکہ اتنے خوبصورت انداز سے دیا جاتا ہے کہ بات چیت کے وقت رہبر اور رہزن میں فرق کرنا بڑا مشکل کام ہو جاتا ہے، شریعت اسلامیہ نے دھوکہ دھڑی کو نفاق کی علامت بتائی ہے، پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: "آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلاَثٌ إِذَا حَدَّثَ كَذَبَ، وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ، وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ" (صحیح بخاری:33) منافق کی تین نشان ہے، جب بات کرے تو جھوٹ بولے، اور جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور جب امانت دی جائے تو خیانت کرے-
دھوکہ یہ پیارے نبی صلی اللہ علیہ و سلم کی تعلیمات کے سراسر خلاف ہے، آپ نے فرمایا: "وَمَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا" (صحيح مسلم:294) اور جو ہمیں دھوکہ دے وہ ہم میں سے نہیں ہے-
ایک بڑا مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک غلہ بیچنے والے کے پاس سے گذرے تو آپ نے غلہ میں ہاتھ داخل کیا تو غلے کے نیچے والا حصہ بھیگا تھا، آپ نے فرمایا: "مَا هَذَا يَا صَاحِبَ الطَّعَامِ؟ اے غلہ والے یہ کیا ہے ؟ اُس نے کہا اے اللہ کے رسول بارش کا پانی اِس میں پڑ گیا ہے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" أَفَلاَ جَعَلْتَهُ فَوْقَ الطَّعَامِ كَىْ يَرَاهُ النَّاسُ" تم نے اِسے غلہ کے اُوپر کیوں نہیں رکھا تاکہ لوگ اِسے دیکھ لیں، سنو "مَن غَشَّ فَلیسَ مِنیِّ" جِس نے دھوکہ دیا وہ مجھ میں سے نہیں ہے (صحیح مسلم:102)
ان دلائل سے معلوم ہوا کہ دھوکہ یہ حرام اور مذموم صفت ہے، اسلام کے سراسر خلاف ہے، مگر افسوس صد افسوس آج دھوکہ دینے کو ایک فن اور مہارت سمجھا جاتا ہے، دھوکہ دینے والے کی ہوشیاری کی مثال پیش کی جاتی ہے، کھانے پینے کی خالص چیزوں کا ملنا بہت مشکل بلکہ ناممکن بنتا جا رہا ہے دودھ، دہی، گھی وغیرہ مارکیٹ میں اصلی نہیں مل رہا ہے، پہلے دودھ کے اندر پانی ڈال کر بیچتے تھے مگر اب تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پانی میں ہی دودھ ملایا جاتا ہے، اللہ کی قسم یہ بھی دھوکہ ہے ایسے لوگوں کی کمائی حلال نہیں ہے، لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم تعلیم میں، کاروبار میں، تجارت میں، معاملات میں، لین دین میں اور زندگی کے ہر شعبے میں سچ بولیں، امانت دار اور دیندار بنیں، اور ہر قسم کے چھوٹے بڑے دھوکے سے بچیں، کوشش کریں کہ اپنی ذات سے کسی کا بھلا ہو جائے، یہ اچھی سوچ ہے، لیکن کسی کا نقصان پہنچانا، دھوکہ دے کر کسی کا حق مارنا یہ بہت گھٹیا سوچ ہے، منافق کی پہچان ہے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو نفاق کے مرض سے بچائے اور آپس میں (مسلمانوں کے درمیان) اخوت اور بھائی چارگی قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے آمین-
══════════ ❁✿❁ ══════════
 
Top