ذیشان خان

Administrator
کتابوں کی کہکشاں میں (دکتورضیاءالرحمن اعظمی علیہ الرحمہ کی علمی کتابوں کا مختصرتعارف)

✍⁩حافظ سہیل معظم ہرپن ہلی


تصنیف وتالیف باقاعدہ ایک فن ہے۔اپنے علم وافکارکو زندہ وباقی رکھنے اور اس سے بڑھ کر اپنے بعد بھی نیکیوں میں اضافہ کا ایک اہم ترین ذریعہ بھی۔ عربی کا مشہور شعرہے؎

یلوح الخط فی القرطاس دھرا
وکاتبہ رمیم فی التراب

دکتورضیاءالرحمن اعظمی عمری مدنی علیہ الرحمہ کے علمی وزن،تصنیف وتالیف میں ان کی محنت ولگن اور بالخصوص حدیث کے باب میں ان کی کتابوں اور کارناموں سے علمی دنیا بخوبی واقف ہے۔ہمیشہ کتابوں کے درمیان محصور رہنے ،کتابوں کو اپنا اوڑھنابچھونا بنانے اور کتابوں سے حددرجہ لگاؤرکھنےکی بنا انہیں دودۃ الکتب کہاجائے تو مبالغہ نہ ہو ؎

مریں گے ہم کتابوں پر ورق ہوگا کفن اپنا

ہم طلبہ‘ جامعہ دارالسلام عمرآباد کی تعلیمی زندگی میں دکتوراعظمی علیہ الرحمہ سے متعلق بہت کچھ سناکرتے تھے ۔خصوصا راتوں کو جاگ کر پڑھنے میں تو وہ ضرب المثل بن گئے تھے۔عمریوں کی تصنیف وتالیف کی بات آتی تو اردو میں مولانا جلال الدین صاحب حفظہ اللہ اور عربی میں دکتوراعظمی علیہ الرحمہ کا نام سرفہرست ہوتا۔ بڑی جماعتوں میں پہنچے تو ہمارے اساتذہ دکتوراعظمی علیہ الرحمہ کی علمی کتابوں کے حوالے دیاکرتے تھے۔مجھے اچھی طرح یادہے،الجامع الکامل کا نام میں نے پہلی مرتبہ فضیلت سال اول میں سنا۔استاذمحترم مولاناسید علیم الحق صاحب عمری مدنی حفظہ اللہ ترمذی کادرس دے رہے تھے،حدیث کی تصحیح وتضعیف کی بات نکلی تو جامعہ کے قابل فخرفرزند کانام یادآیا اور استاذمحترم نے اپنے خاص لب ولہجے میں ہم طلبہ سے کہا کہ دیکھو بابا!احادیث کی تصحیح کے باب میں دکتورضیاءالرحمن اعظمی عمری مدنی حفظہ اللہ نے بہت بڑاکام کیاہےجو بہت محنت اوروقت طلب کام ہے۔ تقریبا چودہ پندرہ سال کے لیل ونہار کی محنت وجستجو کانتیجہ ہے۔یہ اتنا بڑاتحقیقی کام ہے کہ تاریخ میں اس کی مثال نہیں ملتی ۔ اللہ کا شکر ہےکہ اس نے یہ کام ہمارے ایک ابن جامعہ سےلیاہے۔ اس سے بڑھ کر جامعہ او ر ہم ابناءجامعہ کے لیے فخرکی بات کیاہوسکتی ہے؟؟؟ پھر استاذمحترم نے آیت کا یہ ٹکڑاپڑھا، *لمثل ھذافلیعمل العاملون*۔استاذمحترم کی زبانی دکتوراعظمی علیہ الرحمہ کی کتاب کانام اور تحقیقی کام سن کرمیرے دل میں علمی رعب ایسابیٹھا‘گویاآج بھی تازہ محسوس ہوتاہے؎

دریاؤں کے دل جس سے دہل جائیں وہ طوفاں

یقینادکتوراعظمی علیہ الرحمہ کی کتابیں بہت سنجیدہ ،علمی اور مواد سے لبریزہوتی ہیں،اور ان کتابوں کا علمی وسنجیدہ ہونا خود شخصیت کی متانت،سنجیدگی اورعلمی وقارپردلالت کرتاہے۔بالکل خوشبوکی طرح ؎

مشک آنست کہ خودببویدنہ کہ عطاربگوید

دکتوراعظمی علیہ الرحمہ نے اپنی زندگی میں چھوٹے بڑے مضامین ومقالات،دروس ومحاضرات کے علاوہ ہزاروں صفحات اور دسیوں مجلدات پر مشتمل تقریبا15بڑی بڑی اور مستند کتابیں تحقیق وتالیف کیں۔ہرکتاب اپنی مثال آپ ہے۔ ان کتابوں کو ہم دوحصوں میں تقسیم کرسکتے ہیں۔
1. فن حدیث میں تحقیق وتالیف
2. فن حدیث کے علاوہ
متعددموضوعات پر تصانیف

فن حدیث میں تحقیق وتالیف:

1. دراسات فی الجرح والتعدیل: فن حدیث سے تعلق رکھنے والا ہرفرد جانتاہے کہ اسانید کی تصحیح ،تحسین اور تضعیف میں علم جرح وتعدیل کا کیاکردار ہوتاہے۔ دکتوراعظمی علیہ الرحمہ نے اسی علم جرح وتعدیل کے قواعد ومصطلحات پر مشتمل یہ کتاب تصنیف کی ہے۔سن1402ہجری میں جامعہ سلفیہ سے اس کی پہلی طباعت ہوئی۔اس کے بعد اس کے پانچ ایڈیشن شائع ہوئے۔

2. معجم مصطلحات الحدیث ولطائف الأسانید: حدیث کی اصطلاحات اور اسانید کی باریکیوں سے متعلق یہ کتاب ایک ڈکشنری کی حیثیت رکھتی ہے۔مکتبہ أضواءالسلف سے اس کی پہلی طباعت 1420ہجری میں ہوئی ۔ اس کے بعد اس کے تین ایڈیشن شائع ہوئے۔

3. المنة الکبری شرح وتخریج السنن الصغری: یہ کتاب’’السنن الصغری‘‘ دراصل امام بیہقی رحمہ اللہ کی تصنیف ہے۔جس پر دکتوراعظمی علیہ الرحمہ نے مفصل مقدمہ تحریر کرنے کے ساتھ ساتھ اس کتاب کی مکمل تحقیق کی ہے۔ اس کتاب میں دکتور اعظمی علیہ الرحمہ نے فقہ المقارن للمذاھب الأربعة پر بہت ساری دلیلوں کا اضافہ بھی کیاہے۔ لہذا یہ کتاب تخریج کے ساتھ ساتھ فقہ المقارن پر بھی بہت مفید ہے۔اس کی پہلی طباعت 1422ہجری میں مکتبہ الرشد ریاض سے ہوئی۔پھر1426ہجری میں اس کی دوبارہ اشاعت ہوئی۔

4. ابو هريره فی ضوءمرویاته: یہ کتاب دراصل دکتور اعظمی علیہ الرحمہ کے ماجستیرکا رسالہ ہے۔ جس میں شیخ اعظمی علیہ الرحمہ نے جلیل القدراور کثیرالروایہ صحابی سیدناابوہریرۃ رضی اللہ عنہ کے حوالے سےمستشرقین اور ہوس پرستوں کی جانب سےکئے گئے اعتراضات کاعلمی دفاع کیاہے۔یقینا یہ بہت مشکل موضوع اور علمی کام تھا۔یہی وجہ ہے کہ امام البانی علیہ الرحمہ دکتور اعظمی علیہ الرحمہ کو ’’صاحب أبی ہریرۃ‘‘ کےلقب سے یاد کیاکرتے۔اس رسالہ کی تلخیص بھی ہوئی ہے، اوراس کی اشاعت قاہرہ مصر کے ایک مکتبہ سے سن 1399ہجری میں ہوئی۔

5. تحفة المتقین فی ماصح من الأذکاروالرقی والطب عن سید المرسلین: یقینا یہ کتاب متقیوں کے لیے تحفہ سےکم نہیں۔ جس میں دکتوراعظمی علیہ الرحمہ نے نبی کریم ﷺسے مروی دعاؤں ،اذکار،رقیہ اور طب کےحوالے سے صحیح ترین معلومات واحادیث پیش کی ہیں۔اس کی پہلی طباعت سن 1436ہجری میں پاکستان سے ہوئی۔اور دوسری طباعت سن 1436ہی میں مادرعلمی جامعہ دارالسلام عمرآباد کےادارہ تحقیقات اسلامی سےہوئی ۔ اس کتاب کا اردوترجمہ بھی ہوا ،مترجم مولانا شفیق الرحمن الدراوی ہیں ۔یہ کتاب دہلی کے ایک مکتبہ مختارفاؤنڈیشن سے شائع ہوئی۔

6. أقضیة الرسول ﷺ: یہ کتاب دراصل ابن طلاع قرطبی متوفی298ھ کی تالیف ہے۔رسول اللہ ﷺکے اہم فیصلوں کوانہوں نے کتابی شکل دی ہے،اور دکتور اعظمی علیہ الرحمہ نے اس کامکمل دراسہ وتحقیق کرکےاعلی رتبہ کے ساتھ دکتوراہ کی سند حاصل کی ہے۔ اس کی پہلی طباعت سن 1401ہجری میں ہوئی۔عدالت کے اصول وضوابط اور کتاب کی اہمیت وافادیت کے تئیں پاکستانی علماءکی ایک ٹیم نے اس کا اردو ترجمہ کیاہے۔تاکہ اردو داں طبقہ کے ساتھ ساتھ قاضی حضرات بھی خصوصا اس سے مستفید ہوسکیں۔یہ ترجمہ لاہورپاکستان سے متعددبار شائع ہوا۔

7. فتح الغفورفی وضع الأیدی علی الصدور: یہ محمد حیاۃ السندی علیہ الرحمہ کی تالیف ہے۔نماز میں سینےپر ہاتھ باندھنے کی احادیث کا تحقیقی جائزہ لیاگیاہے۔دکتوراعظمی علیہ الرحمہ نےاس کی مکمل تحقیق کی ہے۔مصراور مدینہ منورہ سے اس کی متعدد بار طباعت ہوئی۔

8. التمسك بالسنة فی العقائد والأحکام: یہ مختصرمگرجامع کتاب عقائدواحکام کے باب میں سنت نبوی کو تھامنے سے متعلق ہے۔اس دور میں اس کتاب کی اہمیت اس لیے بھی بڑھ گئی ہے کہ ایک فرقہ وجود میں آیاہےجو حدیث کامنکراورصرف قرآن کوہی عقائدواحکام کے باب میں حجت ماننے پر تلا ہواہے۔عربی کی اس کتاب کا دومرتبہ ترجمہ ہواہے۔ پہلے مترجم ڈاکٹرحافظ طاہر صاحب ہیں جن کا ترجمہ متعددبارشائع ہوا۔اب1440ھ میں کچھ اہم اضافہ اورتعدیل کے ساتھ یہ کتاب دوبارہ منظرعام پر آئی ہے۔جس کے مترجم کامران عبدالعزیزقاضی ہیں۔ اس ترجمہ کی اشاعت ہندوستان کے ایک ادارہ ’’دارالہدی‘‘اڈپی کی جانب سے ہوئی ہے۔ یہ ترجمہ بھی دستیاب ہے۔

9. ثلاثة مجالس من أمالی بن مردویہ: اس کتاب میں دکتوراعظمی علیہ الرحمہ نےسنت نبوی کے حوالے سے ابن مردویہ متوفی 210ھ علیہ الرحمہ کی جہودومساعی کی تحقیق کی ہےاوراس پر مفصل مقدمہ بھی لکھاہے۔اس کا پہلا ایڈیشن 1410ھ میں امارات سے شائع ہواہے۔

10. الجامع الکامل فی الحدیث الصحیح الشامل: یہ کتاب دکتوراعظمی علیہ الرحمہ کی خود تالیف کردہ اوران کی زندگی کا سب سے بڑاکارنامہ ہے۔اب یہ کتاب اتنی معروف ہوگئی ہے کہ اس کے تفصیلی تعارف کی ضرورت نہیں ۔اللہ کےحبیب ﷺکی ساری صحیح احادیث کا یہ مجموعہ اور انسائیکلوپیڈیاہےجو سعودی عرب سے 12جلدوں اور پاکستان سے 19جلدوں میں چھپاہے۔ اللہ تعالی کے فضل وکرم اور اس کی تائید ونصرت کےبعد دکتوراعظمی علیہ الرحمہ کی مسلسل چودہ پندرہ سال کی محنتوں کانتیجہ ہے۔دکتوراعظمی علیہ الرحمہ نے اس کتاب کی تحقیق وتالیف میں کتنی محنت،جانفشانی اورعرق ریزی سےکام لیا ہےآپ انہی کی عبارتوں سے اندازہ لگائیے۔کہتے ہیں! وقد استغرقت تأليفه عدة سنوات متتالية،عملت خلالها ليل نهار،منقطعا عن الزيارات واللقاءات ،تاركا الأسفار والرحلات،معتذرا عن عدم حضور الندوات والمؤتمرات ليكون هذا الجامع بإذن الله تعالى منارا للهدي لمحبي سنة المصطفى صلى الله عليه وسلم والسائرين علي طريقته المثلي ومقتفي سيرته العطرة ومتبعي أسوته الحسنة،فمن كان في بيته هذا الكتاب فكأنما في بيته نبي يتكلم.(الجامع الکامل)

ایک اور جگہ رقمطراز ہیں: وقد واجهني خلال العمل صعوبات عدة،لايقدرها إلا من قام بإعداد موسوعة علمية مثل هذا،ومارس علم التخريج الذي يعد من أصعب العلوم الإسلامية،لأن هذا العلم يحتاج إلي معرفة الجرح والتعديل ومايقبل منه ومالايقبل،وعلل الحديث قادحة وغير قادحة،ومعرفة الوصل والإرسال،والرفع والوقف،والإنقطاع والإعضال،والتصحيف والتحريف،ووقوع الشذوذ والنكارة في الإسناد والمتن،وما روي باللفظ والمعني وغيرها من العلوم الحديثية.(الجامع الکامل)
یہاں ایک بات کی وضاحت ضروری ہےکہ دکتوراعظمی علیہ الرحمہ کے اندر اس بہترین وبےمثال مشروع کا خیال کیسے پیداہوا؟؟؟اس سلسلے میں دوباتیں عرض ہیں۔

پہلی بات: ہم نے یہ بات اپنے اساتذہ سے سنی ہےکہ جب دکتوراعظمی علیہ الرحمہ جامعہ دارالسلام میں چھٹی جماعت کے طالب علم تھے تو اپنے استاذشیخ التفسیر مولاناعبدالکبیر علیہ الرحمہ سے حدیث کی کتاب’’ المنتقی‘‘کے درس کے دوران سوال کیاکہ کیاہمارے پاس کوئی ایسی کتاب ہےجس میں تمام صحیح احادیث کوجمع کیا گیاہو؟؟شیخ التفسیر علیہ الرحمہ نے نفی میں جواب دیااورپھر دکتور اعظمی علیہ الرحمہ سے مخاطب ہوکر کہاکہ تم یہ کام کرسکتے ہو!

دوسری بات: اس کتاب کی تالیف سے متعلق خود دکتوراعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: وقدسئلت كثيرا من مختلف الفئات فقالوا إنكم تقولون إن السنة حجة في الدين فهل عندكم كتاب جامع شامل نرجع إليه لمعرفة أقوال النبي صلى الله عليه وسلم ونحن مطمئنون بصحتها؟فلما رأيت كل ذالك شعرت بأهمية تأليف كتاب يجمع الصحاح والحسان والجياد من الأحاديث المسندة المرفوعة المتفرقة في دواوين السنة.فاستخرت الله تعالى وطلبت منه العون والتوفيق وشمرت عن ساعد الجد لإكمال هذا المشروع المبارك۔

الحمدللہ اس مبارک کتاب کی تلخیص کاکام مکمل ہوچکا ہےاوراس کام کو خود دکتوراعظمی علیہ الرحمہ نے انجام دیاہے۔ یہ تلخیص عنقریب زیورطبع سے آراستہ ہوگی ا ن شاءاللہ ۔اس تلخیص کا اردوترجمہ بھی ہوا ہے۔بڑی خوشی کہ بات ہے اللہ تعالی نے اس مبارک کام کو ہمارے استاذمحترم
حافظ عبدالحسیب عمری مدنی حفظہ اللہ کی زیرنگرانی ‘مختلف منجھے ہوئے علماءکی ٹیم کے ذریعے پایہ تکمیل کو پہنچایاہے،الحمدلله على ذلك۔استاذمحترم کے بقول یہ ترجمہ مراجعہ کے مرحلہ سےگزررہا ہےجو ان شاءاللہ بہت جلد منظرعام پر آئے گا۔

متعددموضوعات پر دکتوراعظمی علیہ الرحمہ کی تصانیف:

فن حدیث کے علاوہ دکتوراعظمی علیہ الرحمہ کو متعددموضوعات سے دلچسپی تھی۔ صرف دلچسپی ہی نہیں بلکہ ان موضوعات میں وہ ماہر بھی تھے۔ بنابریں کچھ ایسی کتابیں بھی لکھیں جوبعض مدارس میں داخل نصاب بھی ہیں۔

1. القاموس الموضوعی للقرآن الکریم(قرآن مجید کا انسائیکلوپیڈیا): قرآن مجید کے تقریباچھ سو موضوعات پر مشتمل یہ کتاب ہندی زبان میں لکھی گئی۔ اشاعت کے بعدہی لوگوں میں کافی مقبول ہوئی۔ بہت کم مدت میں اس کے متعددایڈیشن شائع ہوئے۔ اب قریب میں ڈاکٹر عبدالرحمن فریوائی حفظہ اللہ کی زیرنگرانی اس کا اردو ترجمہ ہواجوفریوائی اکاڈمی سے شائع ہواہے۔اس کا انگریزی ترجمہ بھی ڈاکٹرصہیب حسن حفظہ اللہ کی زیرنگرانی مکمل ہوچکاہے۔ان شاءاللہ وہ بھی عنقریب شائع ہوجائےگا۔
قرآن مجید کے موضوعات کو سمجھنے میں یہ کتاب کافی ممدومعاون ثابت ہوگی جس میں اسلامی عقائد،اخلاق،احکام،مسائل اور تاریخ کو بڑے سلیقے سے ترتیب دیاگیاہے۔

2. سیرۃ المصطفی الصحیحه علی منہج المحدثین: سیرۃ النبی ﷺپر ہزاروں کتابیں لکھی گئیں۔مگران سب میں یہ ایک منفردکتاب ہےجس میں محدثین کے منہج واصول کو سامنے رکھتے ہوئےنبی کریم ﷺکی سیرت کوبیان کیاگیاہے۔ دکتوراعظمی علیہ الرحمہ کے قول کے مطابق سیرۃ النبیﷺ پرلکھنے کایہ اسلوب پانچویں صدی تک ہی جاری رہا،پھردکتوراعظمی علیہ الرحمہ نے اس اسلوب پر کام کرتے ہوئےاس کو دوبارہ زندہ کیاہےیعنی نبی کریم ﷺکی حیات مبارکہ کو صحیح سندوں کے ساتھ جمع کیاگیا اور جو باتیں غیرصحیح ہیں ان کی بھی نشاندہی کی گئی۔

3. الأدب العالی: یہ اسلامی آداب واخلاق کا مجموعہ ہے۔ جس میں دکتوراعظمی علیہ الرحمہ نے مکارم اخلاق،حسن سلوک وصلہ رحمی ،مسلمانوں کی صفات اور آپسی حقوق،یتیموں‘ پڑوسیوں کے حقوق،اٹھنے بیٹھنے ،کھانے پینے،چلنے پھرنے،اجازت طلبی ، لباس کے آداب اوراخلاق رذیلہ وغیرہ جیسے اہم موضوعات پر روشنی ڈالی ہے۔جامعہ دارالسلام کے ایک قابل استاذمولانا صادق محی الدین عمری ندوی حفظہ اللہ نے اس کتاب کو اردو قالب میں ڈھالاہے۔اس ترجمہ کی پہلی طباعت گزشتہ سال 2019میں جامعہ دارالسلام کے ادارہ تحقیقات اسلامی سے ہوئی ۔

4. الیہودیة والنصرانیة: کتاب کے نام سے ہی ظاہر ہے کہ یہ کتاب یہودیوں اور عیسائیوں کے باطل عقائد پرردکرتے ہوئے تحریرکی گئی ہے۔ ساتھ ساتھ یہودیوں اور عیسائیوں کی تاریخ ،ان کی اصل،ان کی مقدس کتابوں اور ان کے فرقوں پر سیرحاصل بحث کی گئی ہے۔اس کاپہلا ایڈیشن 1409ھ میں مکتبہ الدار مدینہ سے شائع ہوا۔

5. فصول فی أدیان الہند: یہ کتاب ہندومت،جین مت،بدھ مت،اور سکھ مت کے عقائدپر مشتمل ہے۔ ساتھ ساتھ ان مذاہب کی کتابوں،ان کے طبقات،ان کے فرقےاوران کے عائلی نظام واحکام پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے۔چندسال قبل قاری کی سہولت اوردونوں کتابوں کاایک ہی موضوع ہونے کی وجہ سے ان دونوں کتابوں (الیہودیه والمسیحیه اورفصول فی أدیان الہند)کی ایک ہی تجلید کی گئی۔

دکتوراعظمی علیہ الرحمہ کی کتابوں سے متعلق یہ بہت سرسری اور اوپری معلومات ہیں۔ حق بات تو یہ ہےدکتورعلیہ الرحمہ کی ہرکتاب پڑھنے سے تعلق رکھتی ہےاوربلاشبہ ہرکتاب کی حیثیت مرجع سے کم نہیں ۔

اللہ تعالی‘ دکتوراعظمی علیہ الرحمہ کی تصنیفی خدمات کو قبول فرمائے۔ہرکتاب کونفع عام وخاص بنائے۔ساری کتابیں دکتوراعظمی علیہ الرحمہ کے حق میں صدقہ جاریہ ثابت ہوں۔آمین
 
Top