ذیشان خان

Administrator
بسم اللہ الرحمن الرحیم

شیخ ضیاءالرحمن اعظمی رحمہ اللہ سے ایک ملاقات

از:ڈاکٹرسعیداحمدفیضی
(امیر جمعیت اہل حدیث مہاراشٹر)

ہندوستانی غیر مسلم عوام کو اسلام سے متعارف کرانے کی مجھ میں بڑی تڑپ تھی. اللہ کے فضل وکرم سےتفسیرا حسن البیان اردوکا مراٹھی زبان میں ترجمہ، جس کااجراء ممبئ حج ہاؤس24جنوری2010ءمیں ہو چکا تھا ۔ اس کے باوجودمیری بڑی خواہش تھی کہ اے کاش یہ مجمع الفہد سے شائع ہوجائے تاکہ پانچ کروڑ مراٹھی بولنے والوں کے لئے ان کی اپنی زبان میں ایک سلفی تفسیر مہیا ہوجائے ۔حج پر جاتے ہوئے میں نےتفسیرکی ایک پرنٹیڈ کاپی اور C.D،جس میں پوری تفسیرموجود تھی اور ایک Pen Drawساتھ میں ر کھ لیا کہ شاید کوئی موقع ملےتومیں اسے وہاں پیش کردوں. مکہ میں شیخ وصی اللہ عباس حفظہ اللہ سے رابطہ کیا لیکن بات کچھ بنی نہیں ۔پھر مدینہ جانا ہوا تاریخی مقامات کی زیارت کے لئے جس بس میں سوار ہوئے وہیں مہسلہ کے شیخ سفیان قاضی مدنی( فارغ جامعہ محمدیہ منصورہ مالیگاؤں )سے ملاقات ہوگئی اور میں نے اس بات کا تذکرہ کیا تو ایک دم جوش میں آگئےکہ شیخ مجیب اللہ دوستے (کمپیوٹر انجینئر)اسی سلسلےمیں بات کررہے ہیں اور پھر فوراً انہیں فون کرکے اطلاع دی ۔شیخ مجیب اللہ صاحب فوراً سے پیشتر تشریف لے آئے اور تفسیر کی کاپی دیکھ کر ان کی خوشی کا ٹھکانہ نارہا۔میں نے اپنا ارادہ ظاہرکیا ۔انہوں نے سوچنے کے بعد اس کا تذکر ہ شیخ دکتور ضیاء الرحمن اعظمی ؒ سے کیا۔
شیخ ضیاءالرحمن اعظمی سے ملکر میں نے انہیں تفسیراحسن البیان کے مراٹھی تر جمہ کے بارے میں بتایا تو وہ بہت جذباتی ہوگئے اور بہت خوشی کااظہار کیا اس وقت وہ خود قرآن کی انسائیکلوپیڈیا (ہندی)پر کام کررہےتھے۔اور غیر مسلم ہندوستانیوں کی اسلام کے بارے میں لاعلمی اور غلط فہمیوں کے بارے میں بات ہونے لگیں ۔انہیں اس بات کا دلی قلق تھا کہ اردو کو چھوڑکر دوسری ہندوستانی زبانوں میں اسلامی علوم کی کتابیں بہت کم تھیں اور خودغیر اردو داں مسلم عوام کے علاوہ عام مسلمانوں میں شریعت کی صحیح معلومات نہ ہونے اور ان کے غیر شرعی امور میں ملوث ہونے سے اسلام کی صحیح تصویر ان پر واضح نہیں ہےمسلمانوں کے رسوم ورواج وبدعات وخرافات کو ہی وہ اسلام سمجھتے ہیں جوکہ لوگوں کے اسلام کی طرف راغب ہونے اور اسلام قبول کرنے میں ایک بہت بڑا روڑاہے۔خیر انہوں نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور پورے تعاون کا یقین دلایا۔
جنہوں نے مجمع کےایک ذمہ دارشیخ ف عبدالرحیم حفظہ اللہ سے اس کا تذکرہ کیااوردوسرےروز اپنے گھر ہمیں ظہرانے کی دعوت دی اور ساتھ ہی شیخ ف عبدالرحیم حفظہ اللہ سےملاقات کروائی ۔
شیخ ف عبدالرحیم حفظہ اللہ نے مجمع کے قواعد وضوابط سے ہمیں آگاہ کیا کہ یہ کام بہت مشکل ہےکہ مجمع کی شرائط میں یہ بھی ہے کہ جو بھی ترجمہ ہو وہ کسی مستند عالم کے ذریعے ہونا چاہئیے دوسرے یہ کہ یہ ترجمہ عربی زبان سے ڈئریکٹ مراٹھی زبان میں ہو نا چاہئیے عربی سے اردو اور پھر اردوسے مراٹھی یہ ناقابل قبول ہے۔ پھر بھی ہم نے ان سے درخواست کی کہ وہ دیکھیں کہ اس میں ہماری کیا مدد کرسکتے ہیں کیونکہ ایسا کوئی آدمی ملنے سے رہا ۔دوسرے روز شیخ مجیب اللہ حفظہ اللہ کے گھر دعوت طعام میں شریک رہے لیکن بات نہیں بنی۔اس کے چند سال بعد پھر عمرہ ادا کرنے کے لئے جانا ہوا. مد ینہ میں دو تین روز ہی قیام رہا ۔شیخ ف عبدالرحیم سے پھر ملاقات کی سبیل نکالی ۔جامعہ میں دکتورہ کا مناقشہ تھا ۔
بہار کے نورالحسن صا حب اپنی Thesis پر اپنا جواب دے رہے تھے۔اس مناقشہ میں شرکت کی سعادت حاصل ہو ئی اس کےبعد شیخ ف عبدالرحیم سے پھرملاقات کی مگراس وقت پہلے سے زیادہ مشکل ضوابط کا ذکر ہو ا اور بات وہیں ختم ہوگئی اور اللہ تعالی کی مشیت کہ ہم اپنی کوشش میں پھر ناکام ہوگئے ،
ان کےعلمی کاموں کےکرنےمیں، میں نے نوٹ کیا کہ ان کی لا ئبریری میں بیج کمرے میں ایک Revolving Rackتھا جوکہ ہاتھ کے ہلکے اشارے سے گھوم جاتاتھا۔اس گھومنےوالےRackپر All Raund خانے بنے ہوئے تھے اور اس پر کتابیں رکھیں ہوئی تھیں ۔شیخ اعظمی ؒ جس عنوان پر کام کررہے تھے وہ اپنے ریفرنس کی کتابیں ان خانوں میں رکھ لیتے تھے اور وہیں کرسی پربیٹھ کر کام کیاکرتے تھے ریفرنس کی کتابوں کے لئے انہیں اٹھ کر الماریوں کی طرف جانانہیں پڑتاتھا ۔
وہیں بیٹھے بیٹھے Revolving Rackکوگھماکر اپنےمطلب کی کتاب لےلیاکرتے تھے کہ اس سےوقت اور انرجی ضائع نہیں ہوتی تھی ،ہے معمولی سی بات ،لیکن مجھے بہت اچھا لگا۔

اللہ تعالی سے دعا ہےکہ وہ مراٹھی میں سلفی تفسیر قرآن مجید کی اشاعت کےلئے آسانیاں پیدا فرمائے اور شیخ ضیاء الرحمن اعظمی رحمہ اللہ کی مغفرت فرمائے اور امت مسلمہ کو بہتر نعم البدل عطاء فرمائے ۔آمین
 
Top