ذیشان خان

Administrator
اگر کتاب اللہ کے ایک ایک کلمے ایک ایک حرف پر غور کیا جائے تو آنکھیں کھلی کی کھلی رہ جائیں!

✍⁩ ہدایت اللہ فارس (ذیشان)

سورة الزمر میں ایک جگہ ہے (حَتَّىٰۤ إِذَا جَاۤءُوهَا فُتِحَتۡ أَبۡوَ ٰ⁠بُهَا)، اسی سورت میں دوسری جگہ ہے (حَتَّىٰۤ إِذَا جَاۤءُوهَا وَفُتِحَتۡ أَبۡوَ ٰ⁠بُهَا )
سوال یہ ہے کہ پہلی آیت میں " فُتِحَتۡ أَبۡوَ ٰ⁠بُهَا" ہے یعنی بغیر واؤ کے۔ جبکہ دوسری آیت میں "وَفُتِحَتۡ أَبۡوَ ٰ⁠بُهَا" واؤ کے ساتھ ہے۔۔۔ ایسا کیوں؟

ج: واؤ کی کئی قسمیں ہیں ان میں سے ایک کو واؤ ثمانیہ کہا جاتا ہے۔ اسے ثمانیہ کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ سات اشیاء کے ذکر ہونے کے بعد آٹھویں کے ساتھ آتا ہے، اس سے پہلے ساتوں بغیر واؤ کے ہوتی ہیں۔ مثلا ہمارا کہنا: محمد عالم، فاھم، راسخ، تقي، نقي، زكي، ورع، وزاهد... (یہ عربی کا اسلوب ہے)

آئیے قرآن مجید میں اس کی مثالیں دیکھتے ہیں۔
📍التَّـٰۤىِٕبُونَ ٱلۡعَـٰبِدُونَ ٱلۡحَـٰمِدُونَ ٱلسَّـٰۤىِٕحُونَ ٱلرَّ ٰ⁠كِعُونَ ٱلسَّـٰجِدُونَ ٱلۡـَٔامِرُونَ بِٱلۡمَعۡرُوفِ وَٱلنَّاهُونَ عَنِ ٱلۡمُنكَرِ... (التوبة)
سات اوصاف ذکر کرنے کے بعد آٹھویں کا ذکر واؤ کے ساتھ کیا گیا۔
📍عَسَىٰ رَبُّهُۥۤ إِن طَلَّقَكُنَّ أَن یُبۡدِلَهُۥۤ أَزۡوَ ٰ⁠جًا خَیۡرࣰا مِّنكُنَّ مُسۡلِمَـٰتࣲ مُّؤۡمِنَـٰتࣲ قَـٰنِتَـٰتࣲ تَـٰۤىِٕبَـٰتٍ عَـٰبِدَ ٰ⁠تࣲ سَـٰۤىِٕحَـٰتࣲ ثَیِّبَـٰتࣲ وَأَبۡكَارࣰا. (التحريم)
اس آیت میں بھی آٹھویں کو واؤ کے ساتھ ذکر کیا
مزید دیکھیں کلمہ "ثمانية" کے ساتھ واؤ کا ذکر ہوا جبکہ باقی کے ساتھ نہیں۔

📍سَیَقُولُونَ ثَلَـٰثَةࣱ رَّابِعُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ وَیَقُولُونَ خَمۡسَةࣱ سَادِسُهُمۡ كَلۡبُهُمۡ رَجۡمَۢا بِٱلۡغَیۡبِۖ وَیَقُولُونَ سَبۡعَةࣱ وَثَامِنُهُمۡ كَلۡبُهُمۡۚ (الکھف)
نہ "رابعھم" میں واؤ کے ذریعے عطف کیا گیا نہ "سادسھم " میں، لیکن "ثامنھم" میں کیا۔

اسی طرح سے اللہ کا فرمان: " سَخَّرَهَا عَلَیۡهِمۡ سَبۡعَ لَیَالࣲ وَثَمَـٰنِیَةَ أَیَّامٍ۔۔۔"
اس سے زیادہ تعجب والی بات مذکورہ بالا آیتوں میں ہے۔ یعنی " حتی إذا جاءوها فتحت أبوابها" اور "حتی إذا جاءوها وفتحت أبوابها" میں!
ایک جگہ بغیر واؤ کے ہے جبکہ دوسری جگہ "وفتحت " واؤ کے ساتھ ہے۔
آئیے دیکھتے ہیں ایسا کیوں ہے ؟
پہلی آیت میں کفار کی حالت بیان کی جارہی ہے دخول جہنم کے سلسلے میں۔تو اس میں "فتحت أبوابھا" کہا بغیر واؤ کے، اور ہمیں معلوم ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں (وَإِنَّ جَهَنَّمَ لَمَوۡعِدُهُمۡ أَجۡمَعِینَ. لَهَا سَبۡعَةُ أَبۡوَ ٰ⁠بࣲ۔۔۔ الحجر)
اور دوسری آیت میں مومنین کی حالت بیان کی جارہی ہے دخول جنت کے سلسلے میں۔تو اس میں "وفتحت أبوابھا " یعنی واؤ کے ساتھ ذکر کیا گیا اور ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہیں۔
(عن سهل بن سعد الساعدي رضي الله عنه عن النبيﷺ قال: فِي الجَنَّةِ ثَمانِيَةُ أبْوابٍ، فِيها بابٌ يُسَمّى الرَّيّانَ، لا يَدْخُلُهُ إلّا الصّائِمُونَ.
صحيح البخاري ٣٢٥٧ )
(یہ کتاب اللہ ہے جو فصاحت وبلاغت، نکات ولطائف اور دقائق وعجائب سے بھرا ہوا ہے۔)
والله أعلم بالصواب
 
Top