ذیشان خان

Administrator
سوال: قرآن میں کہیں من حیث، من قبل، من بعد یعنی "من" کے ساتھ ہے اور کہیں بغیر من کے، اس کی کیا وجہ ہے؟

✍⁩ ہدایت اللہ فارس

جواب: اگر ظروف یعنی " بعد، قبل، حیث، عند، تحت، فوق " میں حرف جر "من" داخل ہوجائے تو ایسی صورت میں ظرف تحدید کا فائدہ دیتا ہے جیسے اللہ کا فرمان (وَلَمَّا دَخَلُوا۟ مِنۡ حَیۡثُ أَمَرَهُمۡ أَبُوهُم) یعنی وہ لوگ اسی جگہ سے داخل ہوئے جس جگہ کو ان کے والد(یعقوب علیہ السلام)نے ان کے لیے منتخب کردیا تھا۔
اور اگر ظرف پر حرف جر"من" داخل نہ ہو تو اس وقت ظرف مطلق اور عموم کا فائدہ دیتا ہے جیسے اللہ کا فرمان (یَتَبَوَّأُ مِنۡهَا حَیۡثُ یَشَاۤءُۚ )یہاں عموم کا فائدہ دے رہا ہے یعنی یوسف علیہ السلام جہاں چاہتے رہتے تھے،اور جہاں چاہتے آتے جاتے تھے۔(یہ اللہ تعالیٰ کا یوسف علیہ السلام پر اکرام تھا)
دوسرے مقام پر فرمایا:( وَلَقَدۡ خَلَقۡنَا فَوۡقَكُمۡ سَبۡعَ طَرَاۤىِٕقَ) یہاں بھی ظرف مطلق ہے، کیوں کہ یہ ساتوں آسمان ہم سے قریب نہیں،کتنی اونچائی پر واقع ہے اس کی تعیین نہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
 
Top