ذیشان خان

Administrator
کتب زوائد کی مختصر تاریخ

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

"زوائد" سے مراد کسی خاص کتاب پر دوسری کتاب کی زائد احادیث ہیں۔
مثلا: صحیح مسلم کی وہ احادیث جو صحیح بخاری میں نہیں ہیں انہیں "زوائد مسلم على البخاري" کہا جائےگا۔
کتب زوائد پر پہلی کتاب علامہ مغلطائی رحمہ اللہ نے لکھی تھی۔ آپ نے صحیحین پر ابن حبان کے زوائد کو جمع کیا تھا۔ حافظ ابن حجر فرماتے ہیں کہ میں نے ان کے اپنے ہاتھ کی لکھی ہوئی تحریر میں اسے دیکھا ہے۔
کتب زوائد کا اصل فکرہ علامہ عراقی رحمہ اللہ کا تھا، گرچہ اس کی شروعات پہلے ہو چکی تھی اور علامہ مغلطائی کی کتاب اس نوع کی پہلی تصنیف کہی جاتی ہے لیکن اس کے اصل محرک علامہ عراقی ہی تھے۔
آپ نے خود تو اس موضوع پر کوئی کتاب نہیں لکھی لیکن اپنے تین شاگردوں کو اس میدان میں خوب لگایا، اور ان تینوں نے اس موضوع کا حق ادا کر دیا۔ وہ تینوں ہیں: 1 – علامہ ہیثمی، 2 – علامہ بوصیری، اور 3 – حافظ ابن حجر
علامہ ہیثمی نے سب سے زیادہ اس موضوع پر کتابیں تصنیف کیں۔ آپ نے کتب ستہ پر مسند احمد کے زوائد کو ایک کتاب میں، مسند ابو یعلی کے زوائد کو ایک کتاب میں، مسند بزار کے زوائد کو ایک کتاب میں، معجم کبیر للطبرانی کے زوائد کو ایک کتاب میں، اور ان کی معجم صغیر واوسط کے زوائد کو ایک کتاب میں جمع کیا۔ پھر ان تمام کتب کو اسانید کے حذف کے ساتھ ”مجمع الزوائد ومنبع الفوائد“نامی کتاب میں جمع کر دیا۔ اس کتاب کی ایک خوبی یہ ہے کہ اس میں اکثر وبیشتر سند پر انہوں نے اپنا حکم لگایا ہے۔ لیکن یہ خیال رہنا چاہئے کہ علامہ ہیثمی کو محدثین حکم لگانے میں متساہلین میں سے شمار کرتے ہیں۔
اسی طرح آپ نے صحیح ابن حبان اور مسند حارث کے زوائد کو بھی مستقل کتابوں میں جمع کیا ہے۔ مسند حارث کا آج کہیں کوئی وجود نہیں ہے، نہ مطبوعہ شکل میں نہ مخطوط کی شکل میں، لیکن الحمد للہ علامہ ہیثمی کی "بغية الباحث في زوائد مسند الحارث" نے اس کتاب کو ہمارے لئے محفوظ کر رکھا ہے۔ یہ کتب زوائد کی سب سے بڑی خوبی اور علمی قیمت ہے کہ ان کتب نے بہت ساری ایسی احادیث کی کتابوں کو محفوظ کر لیا ہے جن کی اصل ضائع ہو چکی ہے۔ اگر یہ زوائد کی کتابیں نہ ہوتیں تو اصل کتب کی احادیث آج ہم تک نہ پہنچتیں۔
حافظ ابن حجر نے اس نوع کی ایک سے زائد کتابیں تصنیف کیں، لیکن سب سے بڑی اور اہم کتاب آپ کی ”المطالب العالية بزوائد المسانيد الثمانية“ ہے۔ اس کتاب میں آپ نے کتب ستہ اور مسند احمد پر آٹھ مسانید کے زوائد کو مع سند جمع کیا ہے۔ وہ آٹھوں مسانید ہیں: مسند الطياليسي (ت204هـ)، ومسند أبي بكر الحميدي (ت219هـ)، ومسند ابن أبي عمر العدني (ت243هـ)، ومسند عبد بن حميد الكشي (ت249هـ)، ومسند مسدد بن مسرهد (ت228هـ)، ومسند أحمد بن منيع البغوي (ت244هـ)، ومسند أبي بكر بن أبي شيبة (ت235هـ)، ومسند الحارث بن أبي أسامة (ت282هـ).
اور حافظ بوصیری نے بھی ایک سے زائد کتابیں تصنیف کیں، لیکن آپ کی سب سے اہم کتاب ”إتحاف الخيرة المهرة بزوائد المسانيد العشرة“ ہے۔ اس میں کتب ستہ پر مذکورہ آٹھوں مسانید کے علاوہ مسند ابو یعلی الکبیر اور مسند اسحاق بن راہویہ کے زوائد کو آپ نے جمع کیا ہے۔
زوائد پر اپنی نوعیت کا ایک منفرد کام علامہ ابن الملقن رحمہ اللہ نے انجام دیا ہے۔ آپ نے صحیح بخاری پر صحیح مسلم کے زوائد کو، پھر دونوں پر ابو داود کے زوائد کو، پھر تینوں پر جامع ترمذی کے زوائد کو، پھر چاروں پر سنن نسائی کے زوائد کو، پھر پانچوں پر سنن ابن ماجہ کے زوائد کو جمع کیا ہے۔ اور ان کی مستقل شرح بھی لکھی ہے۔
علامہ سیوطی نے بھی اس نوع پر بعض کتابیں لکھی ہیں، مثلا: زوائد شعب الایمان، زوائد نوادر الاصول للحكيم الترمذي، الذیل علی مجمع الزوائد وغیرہ۔
آخر میں ایک کتاب ذکر کرنا چاہوں گا وہ ہے: الإيماء إلى زوائد الأمالي والأجزاء
اس کتاب میں (346) امالی واجزاء کے زوائد کو شیخ نبیل سعد الدین جرار نے جمع کیا ہے۔ یہ کتاب آٹھ جلدوں میں مطبوع ہے۔
 
Top