ذیشان خان

Administrator
امام بیہقی کا سنن ترمذی، نسائی وابن ماجہ کے پانے کا مسئلہ اور ایک بردر کی جرات

✍⁩فاروق عبد اللہ نراین پوری

پہلے تمہیدی طور پر ایک بات سمجھ لیں۔
امام بیہقی کا تعلق مذہب شافعی سے ہے۔ بلکہ مذہب شافعی کے آپ سب سے بڑے عالم مانے جاتے ہیں۔ امام الحرمین کہا کرتے تھے: "ما من شافعي المذهب إلا وللشافعي عليه منة إلا أحمد البيهقي، فإن له على الشافعي منة، فإنه كان أكثر الناس نصرا لمذهب الشافعي"۔ (مرآة الجنان وعبرة اليقظان 3/ 82)
اس لئے علمائے شافعیہ کے یہاں ان کی کتابیں بڑی قدر ومنزلت کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں۔ اپنے مسائل کی دلائل کے لئے وہ ان کی طرف ہی سب سے زیادہ رجوع کرتے ہیں۔
اس لئے بیہقی کی کتابوں میں ان کے مصادر کیا ہیں یہ کبار علمائے شافعیہ سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔
بہت سارے علمائے شافعیہ نے امام بیہقی کی حالات زندگی کو قلم بند کیا ہے، اور اس میں انہوں نے اس بات کی صراحت کی ہے کہ انہیں سنن ترمذی، نسائی وابن ماجہ نہیں ملی تھیں۔ مثلا: حافظ ذہبی، علامہ صفدی، علامہ ابو عبد اللہ الیافعی، علامہ سبکی، اور علامہ سیوطی رحمہم اللہ۔
یہ تمام معروف ومشہور علما اور حفاظ ہیں۔ علمائے شافعیہ میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ بیہقی کی کتابوں سے ان کا خصوصی تعلق ہے۔ خصوصا حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے امام بیہقی کی سنن کبری کا اختصار کیا ہے۔ ان کی یہ کتاب مطبوع بھی ہے۔یعنی ان کی نظر سے سنن کبری کی ایک ایک حدیث گزری ہے۔
کیا اس کے باوجود کوئی یہ تصور کر سکتا ہے کہ حافظ ذہبی جیسے جہبذ محدث اتنی چھوٹی سی بات نہ سمجھ پائیں جو عربی زبان سے نابلد ایک بردر چٹکی میں سمجھ لیتا ہے۔
میں نے گزشتہ کل ایک پوسٹ میں یہ بات ذکر کی تھی جس پر عصری کالج کے پڑھے ہوئے ایک بردر یہ اصرار کرنے لگے کہ حافظ ذہبی کی مذکورہ بات غلط ہے۔ میں نے کافی سمجھانے کی کوشش کی کہ انہیں غلط ثابت کرنے سے پہلے علما کے کلام کو سمجھنا سیکھیں، وہ کیا کہنا چاہتے ہیں پہلے اسے سمجھ لیں پھر ان پر تعقب کریں۔ لیکن جو علم حدیث کے ابجدیات سے ناواقف ہو، چند کتابوں کا ذاتی مطالعہ جس کی کل پونجی ہو اس کے لئے اس طرح کے مسائل کو سمجھنا کہاں آسان ہے۔
جس کے پاس علم ہوتا ہے اس کے پاس علما کی قدر بھی ہوتی ہے، اور انہیں غلط کہنے سے پہلے دس بار سوچتا ہے، بلکہ پہلے خود اپنا علمی مقام ومرتبہ ٹٹولتا ہے، پھر زبان کھولتا ہے۔ لیکن جو اس سے عاری ہو اس کے لئے سب کچھ آسان ہے۔

اب اس مسئلہ میں علما وحفاظ نے کیا کہاہے پہلے ان کا کلام ملاحظہ فرمائیں:
1 - حافظ ابن عبد الہادی رحمہ اللہ (متوفی 744ھ) طبقات علماء الحدیث (3/329 - 330) میں فرماتے ہیں: "لم يكن عنده "سنن النسائي"، ولا "سنن ابن ماجه"، ولا "جامع التّرمذيّ".
2 - حافظ ذہبی سیر اعلام النبلاء (18/165) میں فرماتے ہیں: "ولم يكن عنده "سنن النسائي"، ولا "سنن ابن ماجه"، ولا "جامع أبي عيسى"، بل عنده عن الحاكم وِقْرُ بعير أو نحو ذلك، وعنده "سنن أبي داود" عاليًا".
یہی بات تذکرۃ الحفاظ (3/1132)، اور تاریخ الاسلام ، (30/440) میں بھی انہوں نے کہی ہے۔
3 - علامہ صفدی الوافی بالوفیات (6/220) میں فرماتے ہیں: "لم يَقع لَهُ جَامع التِّرْمِذِيّ وَلَا سنَن النَّسَائِيّ وَلَا سنَن ابْن مَاجَه".
4 – علامہ ابو محمد عبد اللہ الیافعی مرآۃ الجنان (3/82) میں فرماتے ہیں: "سمع مصنفات عديدة ومع هذا فاته أشياء منها مسند الإمام هكذا قال في الأصل وكأنه يعنى الإمام أحمد ومنها سنن النسائي وابن ماجه وجامع الترمذي كل هذه ليست عنده إلا ماقل منها"۔
5 – علامہ سبکی طبقات الشافعیہ الکبری (4/9) میں فرماتے ہیں: "لم يقع له التّرمذيّ، ولا النسائي، ولا ابن ماجه"۔
6 - اور علامہ سیوطی فرماتے ہیں: "وَلم يكن عِنْده سنَن النَّسَائِيّ وَلَا جَامع التِّرْمِذِيّ وَلَا سنَن ابْن مَاجَه". (طبقات الحفاظ للسيوطي، ص: 433)
ان کے علاوہ بھی دوسرے علما جنہوں نے امام بیہقی پر کام کیا ہے اس بات کی صراحت کی ہے۔

علمائے کرام کی مذکورہ تصریحات سے دو باتیں واضح ہیں:

پہلی بات:
امام بیہقی کے پاس سنن ترمذی، نسائی وابن ماجہ کی روایت نہیں تھی۔ وہ صاحب روایت محدث ہیں، اپنی اسانید سے احادیث روایت کرتے ہیں۔ اور کسی کتاب کی روایت کے لئے کسی ایسے استاد سے اسے حاصل کرنا ضروری ہےجن کے پاس اس کی متصل سند موجود ہو۔
امام بیہقی نے طرق تحمل میں سے کسی طریقے سے سنن ترمذی ، نسائی وابن ماجہ کی روایت نہیں لی ہے۔ اسی لئے ان تینوں کتابوں کی احادیث ان کتب کے طریق سے وہ روایت نہیں کرتے۔ میں نے اپنی پوسٹ میں صاف طور پر یہ لکھا تھا کہ ”اسی لئے آپ ان کی کتابوں میں ان کتب کے طریق سے کوئی حدیث نہیں پائیں گے“۔ لفظ ”ان کتب کے طریق سے“ پر غور فرمائیں!! میں نے ان کتابوں کے طریق سے روایت کی نفی کی ہے۔ یہ نہیں کہا ہے کہ امام بیہقی کی سند میں ترمذی ، نسائی وابن ماجہ کا نام نہیں پائیں گے۔
حافظ ذہبی کی عبارت پر غور فرمائیں! انہوں نے جہاں اس بات کی صراحت کی ہے کہ انہیں یہ تنیوں کتابیں نہیں ملی تھیں، وہیں پر انہوں نے کہا ہے کہ ”بل عنده عن الحاكم وِقْرُ بعير أو نحو ذلك"
امام حاکم امام بیہقی کے سب سے مشہور استاد ہیں۔ ان سے ہزاروں احادیث انہوں نے روایت کی ہے۔ اور امام حاکم نے سنن ترمذی ونسائی کی احادیث متصل سند روایت کی ہے۔ لہذا ان سے یا دیگر اساتذہ سے روایت کرتے وقت امام بیہقی کی سند میں ترمذی ونسائی کا نام آجانا بالکل عام بات ہے۔ اس میں تعجب کی کوئی بات ہی نہیں۔
لیکن اس سے قطعا یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امام بیہقی کو سنن ترمذی، نسائی وابن ماجہ کی روایت مل گئی تھی۔
امام بیہقی کی بعض اسانید میں ترمذی ونسائی کا نام دیکھ کر حفاظ ومحدثین کے دعوے کو غلط کہنے کی جرات اس فن کا کوئی نو سیکھیا ہی کر سکتا ہے۔

دوسری بات:
علامہ ابو محمد عبد اللہ الیافعی کے کلام سے واضح ہوتا ہے کہ امام بیہقی کو سنن ترمذی، نسائی وابن ماجہ کا تھوڑا سا حصہ ملا تھا۔ انہوں نے کہا ہے: ”كل هذه ليست عنده إلا ماقل منها“۔ یہ تھوڑا سا حصہ انہوں نے بطور روایت حاصل کیا تھا یا بطور وجادہ یہ واضح نہیں۔ اگر اس تھوڑے سے حصے کے بارے یہ تسلیم بھی کر لیا جائے کہ انہوں نے بطور روایت ہی اسے حاصل کیا تھا پھر بھی اسے پانا نہیں کہا جائےگا۔ کیونکہ اصول ہے للاکثر حکم الکل۔ حالانکہ اقرب یہی ہے کہ انہوں نے اسے بطور وجادہ حاصل کیا تھا، بطور روایت نہیں، کیونکہ دوسرے تمام علما نے مطلقا نفی کی ہے۔
شیخ نایف المنصوری نے اسے ہی راجح قرار دیا ہے۔ دیکھیں: السلسبيل النقي في تراجم شيوخ البيهقي (ص: 91)

اور وجادہ وروایت میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔

آج بھی مارکیٹ میں یہ کتابیں دستیاب ہیں جسے کوئی بھی خرید کر حاصل کر سکتا ہے لیکن اس سے لازم نہیں آتا کہ کسی شیخ سے متصل سند کے ساتھ ان کتابوں کی اس نے روایت بھی لی ہے۔ کتاب حاصل کر لینا الگ بات ہے اور کسی مُسنِد شیخ سے متصل سند کے ساتھ اس کی روایت لینا بالکل الگ بات۔
انہیں بطور وجادہ تھوڑا سا حصہ ملا تھا جس سے وہ اپنی کتابوں میں نقل بھی کرتے ہیں۔ یہ چیز ان تمام ائمہ کے سامنے موجود تھی، اور اس کے باوجود انہوں نے مذکورہ دعوی کیا ہے، لہذا اس کا وہ مفہوم ہے ہی نہیں جسے یہ بردر سمجھ رہے ہیں۔
الحمد للہ ائمہ کا دعوی صحیح ہے۔ اور اس کا وہ مفہوم ہے جسے میں نے اوپر بیان کیا ہے۔ ان کی تغلیط قطعا درست نہیں۔ اللہ اعلم ، وعلمہ اتم واحکم۔
 
Top