ذیشان خان

Administrator
فتح الباری کی مدت تالیف

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

”صحیح بخاری“ کی مدت تالیف 16 سال ہے۔
بے شمار علما نے اس کی شرحیں لکھیں، لیکن جو شہرت حافظ ابن حجر کی ”فتح الباری“ کو حاصل ہوئی، وہ کسی دوسرے کے حصے میں نہ آئی۔ اسے پڑھنے کے بعد لگتا ہے کہ واقعی آپ نے اس کی شرح کا حق ادا کر دیا ہے۔
یہ عظیم شرح حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کی مسلسل 26 سالہ محنت شاقہ کا ثمرہ ہے۔ آپ نے سنہ 817 ہجری میں اس کی شروعات کی تھی، اور یکم رجب 842 کو یہ پایہ تکمیل کو پہنچی۔ لیکن اس کے بعد بھی اپنی وفات سے کچھ پہلے تک اس میں بعض چیزیں اضافہ کرتے رہے۔
کتاب مکمل ہونے کے بعد شکرانے کے طور پر آپ نے 8 شعبان 842 کو ایک زبردست دعوت کا انتظام کیا۔ حافظ سخاوی فرماتے ہیں کہ میں بھی اس میں حاضر تھا، میں اس وقت چھوٹا سا بچہ تھا۔
واضح رہے کہ حافظ سخاوی کی سنہ ولادت 831 ہے۔ آٹھ سال کی عمر سے ہی حافظ ابن حجر سے آپ نے کسب فیض شروع کر دیا تھا۔ آپ کا گھر بھی حافظ ابن حجر کے گھر کے قریب ہی تھا۔ حافظ ابن حجر کی سوانح پر آپ نے ایک زبردست کتاب بھی لکھی ہے، نام ہے: الجواهر والدرر في ترجمۃ شيخ الإسلام ابن حجر
حافظ ابن حجر نے فتح الباری کی تصنیف کا بہترین طریقہ اپنایا تھا۔ اپنے شاگردوں کو روزانہ تھوڑا تھوڑا کرکے املا کرواتے تھے۔ پھر ہفتے میں ایک دن بحث واستفسار اور مقابلہ ومقارنہ کے لئے ان کا اجتماع ہوتا تھا۔ مجلس کے قاری آپ کے مشہور شاگرد علامہ ابن خضر ہوتے تھے۔ انھوں نے حرف بحرف پوری کتاب آپ پر پڑھی ہے۔ ان کی وفات بھی حافظ ابن حجر کے ساتھ 852 کو ہوئی ہے۔ رحمہم اللہ رحمۃ واسعۃ۔
 
Top