ذیشان خان

Administrator
کیا ”الرفیق“ اسمائے حسنی میں سے ہے؟

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

بہت سارے علما جنھوں نے اسمائے حسنی کو جمع کرنے کا اہتمام کیا ہے انھوں نے ”الرفیق“ کو اللہ کے ناموں میں سے شمار نہیں کیا ہے۔ مثلا: جعفر صادق، سفیان بن عیینہ، خطابی، حلیمی، بیہقی، ابن العربی، ابن الوزیر، حافظ ابن حجر، عبد الرحمن بن ناصر السعدی، نور الحسن خان بن نواب صدیق حسن خان وغیرہ۔
جب کہ بعض علما نے اسے اسمائے حسنی میں سے مانا ہے، مثلا: ابن مندہ، ابن حزم، قرطبی، ابن القیم، اور معاصرین میں سے شیخ ابن عثیمین، سعید بن علی بن وہف القحطانی اور محمد بن خلیفہ التمیمی ہیں۔
صحیح یہ ہے کہ ”الرفیق“ اللہ کے بے شمار پیارے ناموں میں سے ایک پیارا نام ہے۔
اس کی دلیل یہ حدیث ہے: «إِنَّ اللَّهَ رَفِيقٌ يُحِبُّ الرِّفْقَ، وَيُعْطِى عَلَيْهِ مَا لاَ يُعْطِى عَلَى الْعُنْفِ».
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات والی حدیث میں ہے: «اللهم الرفيق الأعلى».
علامہ ابن القیم اپنے ”نونیہ“ میں فرماتے ہیں:
وهُوَ الرَّفِيقُ يُحبُّ أهل الرِّفْقِ بَلْ ... يُعطيهمُ بالرِّفقِ فَوْق أمَانِي
 
Top