ذیشان خان

Administrator
آٹھویں صدی ہجری کے تین کبار علما

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری

ابن المُلَقِّن
بُلقِینی
عراقی
ابن الملقن کثرت تصانیف میں، بلقینی مذہب شافعی کی معرفت میں، اور عراقی حدیث وعلوم حدیث کی مہارت میں بے نظیر تھے۔
عجیب اتفاق دیکھیں کہ تینوں کی ولادت ووفات بالترتیب ایک ایک سال کے وقفے پر ہوئی ہے۔
ابن الملقن کی ولادت 723 اور وفات 804 ہجری میں ہوئی ہے۔
سراج الدین بلقینی کی ولادت 724 اور وفات 805 ہجری میں ہوئی ہے۔
اور حافظ عراقی کی ولادت 725 اور وفات 806 ہجری میں ہوئی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے ایک لمبی مدت تک ان تینوں مشایخ سے کسب فیض کیا ہے۔ اس لئے حافظ ابن حجر کی کتابوں سے ایسا لگتا ہے کہ انھوں نے ان تینوں کے علوم کو اپنے اندر سمیٹ لیا ہے۔
علامہ بلقینی ہی پہلے استاد ہیں جنھوں نے حافظ ابن حجر کو تدریس وافتاء کی اجازت دی تھی۔ پھر ابن الملقن اور دوسرے اساتذہ نے بھی اجازت دی۔
حافظ ابن حجر کی عظمت شان کا اندازہ لگائیں کہ جب آپ تغلیق التعلیق کے پہلے جزء کی تصنیف سے فارغ ہوئے تو یہ کتاب اپنے استاد علامہ بلقینی کے سامنے پیش کی، جس پر انھوں نے اپنے ہاتھ سے یہ جملہ تحریر فرمایا تھا:
"الجزء الأول مِنْ "تغليق التعليق"، جمع الشيخ الحافظ، المحدِّث المتقن المحقق، شهاب الدين أبي الفضل أحمد ابن الفقير إلى اللَّه تعالى، الفاضل المرحوم نور الدين عليّ، الشهير بابن حجر، نفع اللَّه تعالى به وبفوائده آمين". (الجواهر والدرر في ترجمة شيخ الإسلام ابن حجر، 1/267)
ایک طالب کے لئے اس سے عظمت کی اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ بلقینی جیسے استاد کی طرف سے اس طرح کا تزکیہ ملے۔
 
Top