ذیشان خان

Administrator
صحیح بخاری کی ایک ایسی شرح جس سے بہت سارے لوگ نا واقف ہوں گے۔

✍فاروق عبد اللہ نراین پوری

حافظ ابن حجر نے فتح الباری میں سینکڑوں جگہوں پر اس سے استفادہ کیا ہے۔ اور اس کا حوالہ دیا ہے۔
اس کے مصنف ہیں: أبو محمد, عبد الله بن سعد بن سعيد بن أبي جمرة, الأزدي, الأندلسي، المالكي۔
یہ اندلس کے رہنے والے تھے۔ اور قاہرہ مصر میں سنہ 699 میں ان کی وفات ہوئی ہے۔
ان کی بعض دوسری کتابیں ہیں: «طبقات الحكماء»، و«تفسير القرآن», و«المرائي الحسان»۔

انہوں نے «جمع النهاية في بدء الخير وغاية الغاية» کے نام سے صحیح بخاری کے ایک حصے کا پہلے اختصار کیا تھا۔
پھر «بهجة النفوس وتحليها بمعرفة ما لها وما عليها» کے نام سے اس کی شرح لکھی۔
الحمد للہ یہ پانچ جلدوں میں مطبوع ہے۔ اصل کتاب چار جلدوں میں ہے۔ اور پانچویں جلد میں اپنے خوابوں کا تذکرہ کیا ہے جو دوران تصنیف انہوں نے دیکھی تھی۔ اس کا نام انہوں نے "المرائي الحسان" رکھا ہے۔

اس میں کسی حدیث کو تلاشنا آسان نہیں، کیونکہ ترتیب وار صحیح بخاری کی تمام احادیث اس میں موجود نہیں۔ اور نہ امام بخاری کی تبویب ہی کو انہوں نے نقل کیا ہے۔ بلکہ تمام احادیث پر خود اہنی طرف سے عنوان قائم کرتے ہیں اور اس کی بسط وتفصیل کے ساتھ شرح کرتے ہیں۔
صرف مالک بن صعصعہ کی معراج والی حدیث سے انہوں نے 59 مسائل کا بڑے ہی شرح وبسط کے ساتھ بیان کیا ہے۔
 
Top