ذیشان خان

Administrator
علی رضی اللہ عنہ کے پاس زبیر رضی اللہ عنہ کا سر لایا جانا

تحریر: محبوب انصاری

گزشتہ روز فیس بک پر ایک تحریر نشر کی گئی جس میں محرر نے شیخ کفایت اللہ سنابلی حفظہ اللہ کی کتاب ”یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ“ (صفحہ 375) پر موجود ایک روایت کی صحت پر بعض شبہات وارد کئے یہ تحریر انہی شبہات کے جوابات پر مشتمل ہے ۔سب سے پہلے یہ روایت مع سند ملاحظہ فرمالیں:
”أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ قَال:أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ زَائِدَۃَ بْنِ نَشِیطٍ ، عَنْ أَبِیہِ ، عَنْ أَبِی خَالِدٍ یَعْنِی الْوَالِبِیَّ قَالَ:’’دَعَا الأَحْنَفُ بَنِی تَمِیمٍ فَلَمْ یُجِیبُوہُ ، ثُمَّ دَعَا بَنِی سَعْدٍ فَلَمْ یُجِیبُوہُ ، فَاعْتَزَلَ فِی رَہْطٍ ، فَمَرَّ الزُّبَیْرُ عَلٰی فَرَسٍ لَہُ یُقَالُ لَہُ: ذُو النِّعَالِ ، فَقَالَ الأَحْنَفُ: ہَذَا الَّذِی کَانَ یُفْسِدُ بَیْنَ النَّاسِ ، قَالَ:فَاتَّبَعَہُ رَجُلاَنِ مِمَّنْ کَانَ مَعَہُ فَحَمَلَ عَلَیْہِ أَحَدُہُمَا فَطَعَنَہُ ، وَحَمَلَ عَلَیْہِ الْآخَرُ فَقَتَلَہُ ، وَجَاء َ بِرَأْسِہِ إِلَی الْبَابِ فَقَالَ :ائْذَنُوا لِقَاتِلِ الزُّبَیْرِ ، فَسَمِعَہُ عَلِیٌّ فَقَالَ :بَشِّرْ قَاتَلَ ابْنِ صَفِیَّۃَ بِالنَّارِ ، فَأَلْقَاہُ وَذَہَبَ‘‘
”ابوخالد الوالبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ: احنف نے بنوتمیم کو دعوت دی مگر انہوں نے قبول نہ کی ، پھر اس نے بنوسعد کو دعوت دی انہوں نے بھی قبول نہ کی ، پس ایک دن زبیررضی اللہ عنہ اپنے ایک گھوڑے پر جارہے تھے جس کا نام ذوالنعال تھا ، تو احنف نے کہا:یہی وہ شخص ہے جو لوگوں کے مابین فساد برپاکرتاہے ، راوی کہتے ہیں کہ پھر احنف کے ساتھیوں میں سے دولوگوں نے ان کا پیچھا کیا پھر ایک نے ان پرحملہ کرکے انہیں زخمی کردیا اور دوسرے نے حملہ کرکے انہیں قتل کرڈلا ۔ اس کے بعد احنف زبیررضی اللہ عنہ کا سر لے کر علی رضی اللہ عنہ کے دروازے پر پہنچا اورکہا:قاتل زبیر کو اجازت دیں ، علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات سن لی اورکہا: ابن صفیہ کے قاتل کو جہنم کی بشارت دے دو ، پھر احنف نے زبیررضی اللہ عنہ کے سر کو وہیں رکھا اوررخصت ہوگیا“ [الطبقات الکبریٰ لابن سعد:3/ 110 واسنادہ صحیح]

اصل موضوع شروع کرنے سے قبل موصوف معترض نے شیخ حفظہ اللہ کے متعلق لکھا۔
’’جناب مولوی کفایت اللہ سنابلی نے حمایت یزید میں اصول حدیث کے ساتھ وہ کھلواڑ کیا ہے جو شاید ہی کسی نے کیا ہو صحیح کو ضعیف اور ضعیف کو صحیح‘‘

عرض ہے محرر صاحب یہی بات تو شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ پر بھی کی گئی ہے ملاحظہ کریں:
’’اس روایت کا جواب مشہور غیر مقلد احادیث کی توڑ پھوڑ یعنی صحیح کو ضعیف اور ضعیف کو صحیح بنانے کے ماہر زبیر علی زئی نے یوں دیا ہے‘‘ [قافلہ حق :جلد:۵،شمارہ نمبر:۴،صفحہ:56]
شیخ زبیر رحمہ اللہ ہی پر بس نہیں اس طرح کی بات تو جمیع اہل حدیث پر کی گئی ہے چنانچہ مولانا ابو بکر غازی پوری صاحب نے اپنی کتاب ’’حدیث کے بارے میں غیر مقلدین کا معیار رد و قبول‘‘کے ابتدائی صفحات پر بھی اس طرح کا کلام کیا ہے جس میں محرر صاحب آپ خود بھی شامل ہیں معلوم ہوا اس طرح کی بات شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ اور محرر صاحب آپ پر خود ہے لہٰذا ہم یہی کہتے ہیں’’ما کان جوابک فھو جوابی‘‘
اب آتے ہیں اصل موضوع کی طرف موصوف نے اس روایت میں دو علت پیش کی ہے:
اول: زائدہ بن نشیط مجہول ہیں
دوم: ابو خالد الوالبی اور علی رضی اللہ کے درمیان انقطاع ہے

✿ پہلی علت کا جائزہ:
موثقین زائدہ بن نشیط
① امام ترمذی رحمہ اللہ۔انہوں نے ان کی روایت کی تحسین کی ہے۔ [سنن الترمذی:4/ 346]
② امام ابن حبان رحمہ اللہ۔انہوں نے ان کو’’الثقات‘‘میں ذکر کیا ہے۔[الثقات لابن حبان:6/ 339]
ساتھ ہی ان کی روایت کی تصحیح بھی کی ہے۔[صحیح ابن حبان:393]
جو ان کی توثیق کے معتبر ہونے پر دال ہے تفصیل دیکھیں :کتاب ’’چار دن قربانی کتاب و سنت۔۔۔للشیخ سنابلی :ص :60‘‘
③ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ۔ان کی روایت کی تصحیح کی ہے۔[صحیح ابن خزیمۃ:۲؍ ۱۸۸]
④ امام ذہبی رحمہ اللہ۔’’ثقۃ‘‘ [الکاشف للذہبی:1/400]
ان کی روایت کی تصحیح بھی کی ہے۔[المستدرک علی الصحیحین مع تعلیق الذہبی:2/ 481]
⑤ امام حاکم رحمہ اللہ۔انہوں نے بھی ان کی روایت کو صحیح قرار دیا ہے۔[المستدرک علی الصحیحین مع تعلیق الذہبی:2/ 481]
⟐ بلکہ یہ راوی خود شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی ثقہ ہے بلکہ آپ نے بعض مقامات پر ثابت بھی کیا ہے چنانچہ ایک مقام پر لکھتے ہیں:
’’ابو خالد الوالبی وزائدۃ بن نشیط وثقہما ابن خزیمۃ وابن حبان والحاکم وغیرہم‘‘ [سنن ابن ماجہ:5/ 510 ،ت حافظ زبیر،سنن ترمذی:4/ 482 ،انگریزی مترجم نسخہ]
یہاں صاف طور پر شیخ زبیر رحمہ اللہ نے ابن خزیمہ ابن حبان و حاکم وغیرہم رحمہم اللہ سے ثبوت توثیق کا اشارہ کیا ہے ان مذکورہ ائمہ کی توثیق کی تفصیل آپ اوپر دیکھ سکتے ہیں۔
⟐ اسی طرح شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری حفظہ اللہ کے نزدیک بھی یہ راوی معتبر ہے انہوں نے بھی ایک مقام پر ان کی روایت کی تحسین کی ہے۔[اخلاق النبیﷺ و آدابہ:168]

✿ دوسری علت کا جائزہ:
معترض نے اس روایت میں ابو خالد الوالبی اور علی رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع کا دعویٰ کیا ہے لیکن اس پر کوئی صحیح و معتبر دلیل نہیں دی ہے۔بلکہ صرف ایک معاصر کا کلام اور ابن عبدالبر رحمہ اللہ کا حوالہ پیش کیاہے۔
معاصرکا قول تو دلیل ہے ہی نہیں ،رہا ابن عبدالبر رحمہ اللہ کا حوالہ تو ان کے الفاظ یہ ہیں:
’’وروی عن علی ولم یسمع منہ فیما ذکروا ‘‘’’اس نے علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے اور ان سے سنا نہیں ہے جیساکہ لوگوں نے ذکر کیا ہے‘‘[الاستغناء فی معرفۃ المشہورین من حملۃ العلم بالکنی:1/ 592]
اب یہ بات کن لوگوں نے ذکر کی ہے ؟ اور کہاں ذکر کی ہے ؟ اس کا کوئی حوالہ ابن عبدالبر رحمہ اللہ نے پیش نہیں کیا ہے ، اس لئے ابن عبدالبر رحمہ اللہ کی اصل بنیاد نامعلوم ہونے کے سبب یہ قول غیر معتبر ہے۔
ہاں امام ابوحاتم رحمہ اللہ نے یہ کہا ہے کہ :
”أدرک علیا وروی عن جابر بن سمرۃ، وأبی ہریرۃ، و روایتہ عن علی مرسل“
”انہوں نے علی رضی اللہ عنہ کو پایا ہے اور جابربن سمرہ ، ابوہریرہ رضی اللہ عنہماسے روایت کی ہے اور علی رضی اللہ عنہ سے ان کی روایت مرسل ہے“ [الجرح والتعدیل:9/ 120 ]
لیکن اس قول میں مطلقا سماع کا انکار نہیں ہے بلکہ پہلے ادراک کی بات کہنے کے بعد علی رضی اللہ عنہ سے ان کی روایت کو مرسل کہا گیا ہے ، جس کا مطلب صرف یہ ہے علی رضی اللہ عنہ سے ان کی مرفوع روایت مرسل ہوگی ، لیکن یہ علی رضی اللہ عنہ کا کوی قول یا واقعہ بیان کریں تو اس میں سماع کا انکار نہیں کیا جاسکتا ہے ۔اور اگر کوی اس قول کو مطلق سماع کے انکار پر محمول کرے توپھر یہ قول غیر مقبول ہوگا کیونکہ انہوں نے ساتھ میں ادراک علی رضی اللہ عنہ کی بات بھی کہی ہے۔
مزید یہ کہ علی رضی اللہ عنہ سے ابوخالد الوالبی کے سماع کا ثبوت صحیح سند سے الگ سے بھی موجود ہے ۔
امام ابن سعد رحمہ اللہ نے انہیں علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والا بتایا ہے نیز علی رضی اللہ عنہ سے ان کے سماع کا ثبوت بھی پیش کیا ہے۔ چنانچہ کہا:
”أخبرنا محمد بن عبید، عن فطر عن أبی خالد الوالبی قال:’’ خرج علینا علی بن أبی طالب ونحن قیام ننتظرہ لیتقدم فقال ما لی أراکم سامدین“
”ابوخالد والبی کہتے ہیں کہ: ہمارے پاس علی رضی اللہ عنہ آئے اورہم کھڑے ہوکر ان کا انتظار کررہے تھے تاکہ وہ ہماری امامت کرائیں تو علی رضی اللہ عنہ جب آئے تو کہا کہ:تمہیں کیا ہوگیا ہے تم سراٹھا اٹھاکر دیکھ رہے ہو“ [الطبقات الکبریٰ:6/ 128 وسندہ صحیح]
’’محمد بن عبید الطنافسی‘‘ اور’’ فطر بن خلیفہ‘‘ یہ دونوں بخاری کے ثقہ راوی ہیں ، عام کتب رجال ۔
اس صحیح روایت سے معلوم ہوا ان دونوں کے مابین انقطاع کا دعویٰ غلط ہے۔لہٰذا محرر مذکور کی طرف سے اس روایت پر کئے گئے دونوں اعتراضات فضول ہیں ، اور یہ روایت صحیح وثابت ہے۔اس پر مستزا یہ کہ اس واقعے کی اور بھی صحیح سندیں ہیں ، لیکن اس قدر وضاحت ہی کافی ہے۔
(محبوب انصاری)
 
Top