ذیشان خان

Administrator
عالم دین کے لئے اہم ناصحانہ پیغام

تحریر: حافظ عبدالرشید عمری

(علماء کے لئے مفید چند عربی تحریروں کو یکجا جمع کرتے ہوئے اور ان کی اردو ترجمانی کرتے ہوئے یہ تحریر مذکورہ عنوان سے لکھی گئی ہے)

مابقى شيء يقرب من الجنة
و يباعد من النار إلا و قد بين لکم.

سلسلةالاحاديث الصحيحة(١٨٠٣)

مذکورہ حدیث کی روشنی میں ورثہء انبیاء کے زمرے میں شامل علماء کرام کی خصوصی طور پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جنت کا مستحق بنانےاور جہنم سے نجات دلانے والے
ہرچھوٹے بڑے قول و عمل کو عوام و خواص کے درمیان شرح و بسط اور تفصیل و توضیح کے ساتھ خوب کھول کھول کر بیان کرنے کی کوشش کریں ،
اور ہمارا یہ ایمان ہے کہ آخرت کی کامیابی ہی حقیقی اور ابدی کامیابی ہے
اللہ تعالٰی نے فرمایا:
فمن زحزح عن النار وأدخل الجنة فقد فاز وما الحيوة الدنيا إلا متاع الغرور ۔ (آل عمران )
پس جو شخص آگ سے ہٹا دیا جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے بےشک وہ کامیاب ہو گیا، اور دنیا کی زندگی تو صرف دھوکے کی جنس ہے۔
علماء کرام کو تادم حیات حصول علم نافع میں مفید صحیح عقیدہ و منھج اور فہم سلف کی حامل تفاسیر قرآن، شروحات حدیث اور مسائل وفتاوی کی کتابوں کے مطالعہ کو اپنی زندگی کا جزو لاینفک بنانے کی ضرورت ہے۔
راقم "الدين النصيحة"دین خیرخواہی کا نام ہے" کے تحت علماء کے لئے علمی نصیحت کے طور پر نہایت ہی مفید چند عربی تحریروں کی ترجمانی کرتے ہوئے اپنے لئے اور علماء کے لئے یہ ناصحانہ پیغام تحریر کیا ہے ۔

🔴 قال شيخ الإسلام -رحمه الله -:

"وأهل البدع لا يعتمدون على أحاديث النبي صلى الله عليه وسلم والصحابة والتابعين وأئمة المسلمين، فلا يعتمدون لا على السنة ولا على إجماع السلف وآثارهم، وإنما يعتمدون على العقل واللغة وتجدهم لا يعتمدون على كتب التفسير المأثورة والحديث، وآثار السلف وإنما يعتمدون على كتب الأدب وكتب الكلام التي وضعتها رءوسهم وهذه طريقة الملاحدة أيضا، إنما يأخذون ما في كتب الفلسفة وكتب الأدب واللغة وأما كتب القرآن والحديث والآثار، فلا يلتفتون إليها.
هؤلاء يعرضون عن نصوص الأنبياء إذ هي عندهم لا تفيد العلم وأولئك يتأولون القرآن برأيهم وفهمهم بلا آثار عن النبي صلى الله عليه وسلم وأصحابه"

📚مجموع الفتاوى | ١١٩/٧📚

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
نے کہا:
بدعتی لوگوں کے پاس احادیث نبویہ اقوال صحابہ اور سلف صالحین کے علم و فہم کا قابل ذکر سرمایہ بھی نہیں ہوتا ہے،
اسی لئے وہ لوگ نہ ہی سنت نبوی سے استدلال کرتے ہیں اور نہ ہی اقوال صحابہ سے اور نہ ہی سلف صالحین کے اجماع کو پیش نظر رکھتے ہیں اور نہ قرآن وسنت کےفہم میں علماء سلف کے علم وفہم سے کماحقہ استفادہ کرتے ہیں،
ان کے استدلال کی کل علمی پونجی اور سرمایہ نقل(قرآن و سنت کے صحیح فہم )کو پس پشت ڈال کر صرف عربی لغت کی کتابوں، ادبی کتابوں،فلسفہ کی کتابوں اور علم کلام ومنطق کی کتابوں سے استفادہ اور استدلال ہے
مذکور جن کتابوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی خود ساختہ بدعات اور باطل افکار کی تائید میں استدلال کیا جاتا ہے ان کتب کے مؤلفین اور مصنفین تقریبا سارے کے سارے دین بیزار،بے دین اور الحاد و زندقہ جیسے کفریہ اور شرکیہ عقائد کے حامل ہوتے ہیں،
ان بدعتی حضرات کی سب سے بڑی خامی اور کمزوری یہی ہے کہ یہ لوگ قرآن و سنت کے نصوص سے منہ موڑ لیتے ہیں یا اگر استدلال کرتے بھی ہیں توسلف صالحین کے فہم کو نظر انداز کرتے ہوئے صرف اپنی عقل اور اپنے خود ساختہ فہم کو پیش نظر رکھتے ہیں،اور قرآن و سنت کے نصوص کی من مانی تاویلات کرتے ہیں ۔
(مجموع الفتاوى لابن تیمیہ رحمہ اللہ ۔119/7)

اور یہ بات بھی ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ بدعتی علماء میں یہودی علماء کی مشابہت پائی جاتی ہے
کیوں کہ وہ حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط کر دیتے ہیں۔
حالانکہ اللہ تعالٰی نے فرمایا:
ولا تلبسوا الحق بالباطل و تکتموا الحق و أنتم تعلمون (البقرة)
اور حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ حق کو چھپاؤ تمہیں تو خود اس کا علم ہے ۔


علماء کے لئے قابل عمل سنہری نصیحت

📋قال ابن ابي الغز رحمه الله:
"فالواجب على من طلب العلم النافع أن يحفظ كتاب الله ويتدبره، وكذلك من السنة ما تيسر له، ويتضلع منها ويتروّى، ويأخذ معه من اللغة والنحو ما يصلح به كلامه، ويستعين به على فهم الكتاب والسنة، وكلام السلف الصالح - في معانيها - ثم ينظر في كلام عامة العلماء: الصحابة، ثم مَنْ بعدهم، ما يتيسر له من ذلك من غير تخصيص، فما اجتمعوا عليه لا يتعداه، وما اختلفوا فيه نظر في أدلتهم من غير هوى ولا عصبية، ثم بعد ذلك من يهد الله فهو المهتدي، ومن يضلل فلن تجد له ولياً مرشداً"
📔الاتباع، ص (88)

*ابن ابی العز رحمہ اللہ نے کہا:*

ايک عالم دین کے لئے ضروری
ہے کہ وہ قرآن حفظ کرے اور ہمیشہ تدبر کے ساتھ اس کی تلاوت کرتارہے،

اور اسی طرح احادیث نبویہ کے حفظ کا بھی اہتمام کرے،

اور ہمیشہ احادیث نبویہ سے اپنی علمی تشنگی دور کرنے کی کوشش کرتا رہے،

اور عربی زبان کا بھی کماحقہ علم و فہم حاصل کرے،

تاکہ قرآن و سنت کے معانی ومفاہیم اور مطالب کا صحیح علم،فہم سلف صالحین کے مطابق حاصل کرسکے،

اور اس کے لئے ضروری ہے کہ
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم تابعین،تبع تابعین اور ہر دور میں منہج سلف کو پیش نظر رکھ کر علم کو عام کرنے والے عرب وغیرعرب علماء متقدمین ومتأخرین کی کتابوں سے استفادہ کرتے ہوئے اپنے علم شرعی میں رسوخ (پختگی) پیدا کرنے کی کوشش کی جائے،

سلف صالحین کے اجماعی مسائل میں مخالفت نہ کی جائے،

اور سلف صالحین کا جن عملی مسائل میں اختلاف پایا جاتا ہے،

ان کے دلائل میں بغیر کسی بے جا عصبیت اور خواہش نفس کے غور و فکر کرے،

اور جن علماء کے بیان کردہ مسائل دلائل کے اعتبار سے قرآن و سنت سے قریب ہوں ان پر عمل پیرا ہونے کی کوشش کرے،

حق کامتلاشی اگر ان مذکورہ مفید رہنما ہدایات اور اصولوں کو پیش نظر رکھےگا،
تواللہ سے قوی امید ہے کہ وہ ایسے عالم دین کو اختلافی امور اور مسائل میں بھی حق کی صحیح معرفت عطا فرمائے گا۔

اور اللہ تعالٰی جس کو حق کی معرفت سے محروم کردے تو اس کو کوئی بھی صحیح راہ دکھا نہیں سکتا ہے ۔

اور یہ نصیحت بھی علماء کرام کو ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ گمراہ کن افکار و نظریات اور فہم سلف سے عاری مسلکی عصبیت پرمبنی تفاسیرقرآن ، شروحات حدیث اور مسائل وفتاوی کی کتابوں کی مثال ایسی ہی ہےجیسے کہ خالص دودھ میں پانی کی آمیزش کی گئی ہو
یا خالص شہد میں گڑ کے شیرہ کی آمیزش کی گئی ہو،
اسی لئے ہر عالم کو گمراہ کن افکار و نظریات اور مسلکی عصبیت سے پاک کتابوں کا مطالعہ کرنا چاہئے،
مفید تنقید کے لئے منہج سلف سے عاری اور مسلکی عصبیت پر مبنی کتابوں کا بھی مطالعہ کیا جاسکتا ہے لیکن درحقیقت ایسے راسخ اور محقق علماء تعداد میں کم ہی ہوتے ہیں ۔
کہیں ایسا نہ ہو کہ علمی رسوخ (پختگی) نہ رکھنے والے علماء دس فیصد موہوم علم نافع کے حصول کی امید میں صحیح عقیدہ و منھج اور فہم سلف سے عاری کتابوں کا مطالعہ کرتے ہوئے سو فیصد خالص اور صحیح اسلامی تعلیمات میں گمراہ کن افکار و نظریات اور شیطانی شکوک و شبہات کی آمیزش کے شکار نہ ہو جائیں ۔

اللہ تعالٰی علماء کرام کو صحیح عقیدہ و منھج اور فہم سلف کی حامل کتابوں کا مطالعہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور علم نافع عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین ۔
 
Top