ذیشان خان

Administrator
ابن حجرِ ثاني آسمانِ علم حديث كے آفتاب ومہتاب شیخ محمد علی آدم الاثیوبي

عالم اسلام کے علمی حلقوں میں یہ خبر انتہائی افسوس کے ساتھ سنی گئی کہ حجاز مقدس مکہ کے ایک محقق عصر ہستی ،لغت عربی کے استاذ کامل ،فنون وعلومِ حدیث کے مجدد،عمیق النظر فقیہ ،بلند پایہ محدث علامہ محمد علی آدم الاثیوبی رحمہ اللہ جمعرات کے دن بتاریخ 21صفر 1442ھ بمطابق 8اکتوبر 2020ء کو مکہ مکرمہ میں دوہفتہ کی شدید علالت کے بعد یہ آفتاب علم وعرفان ہمیشہ کے لئے غروب ہوگیا۔إنا لله وإنا إليه راجعون

ہر آنکہ زاد بنا چار بایدش نوشید
زجام دہر کل من علیہا فان

پروردگار کے حکم کے آگے چارہ نہیں ۔ بڑے بڑے انبیا، اولیا، اور صديقين کے لیے بھی یہی راہ ہے جو ہم گناہگاروں کے لیے، مگر نقصان ،خصوصاً ناقابلِ تلافی نقصان پر صدمہ ہونا ایک فطری امر ہے۔ شيخ کو جو لوگ جانتے ہیں ، ان کے لیے تو ان کا نام ہی کافی ہے، مگر جو لوگ شیخ کو نہیں جانتے ان کے لیے اتنا بتلانا کفایت کرتا ہے کہ شيخ اس قحط الرجال کے زمانہ میں ایک بے نظیر عالم تھے۔ تصنیف و تالیف مع تدریس آپ کا شغل تھا۔ فنِ حدیث کے جملہ شعبوں سے آپ کو شوق ہی نہ تھا بلکہ شغف تھا، آپ نے بعض کتب حدیث کی بہترين مفصل طويل شرحیں لکھیں ، غرض اچھے خاصے جامع الفنون ومحدث کی حیثیت سے پہچانے جاتے تھے۔

{أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّا نَأْتِي الْأَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ أَطْرَافِهَا } (سورہ الرعد 50)
ترجمہ:
کیا وہ نہیں دیکھتے؟ کہ ہم زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں
سیدنا عبداللہ بن عباس رضى الله عنهما قرآن کریم کے اِس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں :
"زمین کی خرابی اور ویرانی فقہاء ، علماء اور اہلِ خیرکی موت سے ہوتی ہے۔ (تفسير ابن کثیر : 472/4)

ہلال بن خباب نے سعید بن جبیر رح سے پوچھا ابو عبداللہ لوگوں کی ہلاکت کی نشانی کیا ہے.؟فرمایا: جب ان میں علماء فوت ہونا شروع ہوجائیں. (سنن دارمى ج1ص309حديث247 و سند ه صحيح)

سنہ 2020 کا سال ہمارے لئے عام الحزن کا سال ثابت ہورہا ہے آئے دن ہمارے درمیان سے وہ اہم شخصیات غم زدہ کرکے چلے جارہے ہیں جن کی خدمات کو چند کلمات میں پیش کرنے سے قاصر ہیں۔

گزشتہ چند ماہ سے علماء بکثرت دار فانی سے دار بقاء کی طرف کوچ کر رہے ہیں اور جيسا كہا جاتا ہے"موت العالِم موت العالَم" ایک عالِم کی موت پورے عالَم کی موت ہوا کرتی ہے۔اور عالم دین کی موت ایک ایسی آفت ہے جس کا ازالہ نہیں ہوسکتا اور ایک ایسا خلا جو پُرنہیں کیا جاسکتا۔

افق کے اس پار کوئى علمى اکٹھ ہے شاید
بڑی تمکنت سے اہل دل اٹھے جارہے ہیں

میرے ناقص علم کےمطابق علم الحدیث والرجال کے سب سے بڑے عالم تھے، مجھے شیخ سے شرف تلمذ حاصل رہا، شیخ سےمیں نے دار الحدیث الخیریہ مکہ میں زمانہ طالب علمی کے دوران دوسال استفادہ کیا،شیخ سے تدريب الرواي جو مصطلح الحديث كی مایہ ناز کتاب ہے اور دوسری کتاب جو ہم نے شیخ کی اپنی خصوصی انداز میں سنن الترمذی کی شرح پڑھی تھی اور شیخ دونوں فن میں ید طولی ومہارت تامہ رکھتے تھے،جب شرح کرنے لگتے تھے تو ایسا لگتا تھا کہ علم کے خزانےپھوٹ رہے ہیں شیخ علم حدیث ومصطلح میں سمندرکے مانند ،شیخ غیر معمولی خصوصیات کے حامل تھے اور ہماری ناقص عقل شیخ کے متبحرانہ کلام کے سامنے دنگ رہ جاتی۔

اگر یہ کہا جائے تو شاید مبالغہ نہ ہوگا کہ علومِ حدیث ورجال پر وسعت عبور کے اعتبار سے نویں صدی ہجری کے محقق ،حافظ حدیث حافظ ابن حجر کے بعد شیخ محمد علی آدم الاثیوبی پہلے شخص ہیں جو رجال وعلل احادیث پر مجتہدانہ کلام کرتے ہیں اور اس میں کسی قسم کی "تقلید" سےکام نہیں لیتے ،ورنہ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ کے بعد آنے والے علمائے کرام نقدِ احادیث ورجال کے سلسلے میں حافظ ابن حجر ہی پراکثر اعتماد کرتے ہیں ۔

اس امر کا ہمیں شیخ سے پڑھتے ہوےاندازہ ہوا جب شیخ سنن ترمذی میں یا پھر تدریب الراوی میں ابن حجر کے اقوال کا تذکرہ کرتے۔علمائے جرح وتعدیل ومحدثین عظام سے شیخ موصوف والہانہ شیفتگی رکھتے تھے۔

محدثین کرام ان کے مسلک اور کارنامے ہائے زریں گہرے تعلق کے خاطر کا نتیجہ یہ ہوا کہ شیخ ممدوح نے اپنی زندگی اسی راہ میں صرف کردی،اور حدیث کی شروح میں مایہ ناز کتابیں لکھی جن کا ذکر آگے ہوگا۔

شیخ محترم کا پورا نام محمد بن علی بن آدم بن موسی الاثیوبی ہے،اتیوبی یا اثیوبی کہ سکتے ہیں لکن شیخ اکثراپنی کتابوں میں اتیوبی لکھا کرتے تھے ۔لکن اكثر اہل علم میں اثیوبی سے معروف تھے۔

شیخ کی پیدائش ایتھوپیا میں1366ھ ہوئی۔

شیخ کےوالد محترم جو کہ خود ایک بہت بڑے اصولی محدث اور جید عالم دین تھے۔انہوں نے اپنے بیٹے کی بہترین پرورش ودینی تربیت کی،اور شیخ میں شرعی علوم سے رغبت کی لہر پیدا کی ،جس کے نتیجے میں شیخ بچپن ہی سے محب علم ہوگئے۔اور شیخ اکثر اپنے والد محترم کا ذکر خیر کرتے اور کہتے اگر میرے والد نے مجھ پہ توجہ نہ دی ہوتی تو آج میں کچھ بھی نہ ہوتا۔

والدمحترم نے بچپن میں خود حفظ قران شروع کروادیا ،پھر اپنے علاقہ کے معروف شیخ محمد قیو رحمہ اللہ سے حفظ مکمل کی ،اس کے بعد اپنے علاقے کی ديني مدرسہ میں پڑہائی شروع کردی اور اپنے علاقے کے مشائخ سے استفادہ بھی کرتے رہے،مدرسہ کے علاوہ۔

شیخ کے بہت سارے اساتذہ ہیں اور سب کا ذکر اس مختصر تحریر میں ممکن نہیں لکن مختصرا شیخ کے بعض اساتذہ کا ذکر کردیتے ہیں:
1- اپنے والد محترم سے عقائد اور فقہ حنفی اور اصول الفقہ ومختلف فنون پڑھی اور ان سے اجازہ حاصل کیا۔
2- الشیخ محمد قیو بن ودی رحمہ اللہ جن سے مکمل حفظ قران کیا۔
3- الشیخ محمد زین بن محمد الدانی جن پے انہوں صحیح مسلم مع شرح النووی ومختلف کتب پڑھی۔
4- الشیخ محمد سعید بن الشیخ علی الدری جن کے پاس شیخ تین سال ٹھرے اور ان سے صحیحین ،نحو،صرف،بلاغہ،منطق،مقولات عشر،آداب البحث والمناظرہ،اصول الفقہ،فواکہ الجنیہ فاکہی کی،الفیہ ابن مالک مع شرح ابن عقيل مع حاشیہ الخضری،مجیب النداء شرح قطر الندي مع حاشیہ یاسین الحمصی ،مغنی اللبیب مع حاشیتی الدسوقی والامیر،شافیہ ابن حاجب مع شرحہ،بلاغہ میں تلخیص القزوینی کی شروحات اور حواشی کے ساتھ ،منطق میں سلم المنورق اوراس کے شروحات وحواشی کے ساتھ،ایساغوجی شروحات کے ساتھ، شمسہ کی متن ،مقولات عشر ،علم الوضع، اصول الفقہ میں المنار اور اس کی شروحات وحواشی کے ساتھ، شیخ نے ان سے علوم العربیہ ومختلف علوم الالہ میں پختگی حاصل کی ۔
5- شیخ عبدالباسط بن محمد بن حسن الاثیوبی البورنی المناسی رحمہ اللہ سے بھی علوم عربیہ سیکھی ۔
6- علامہ الشیخ محمد بن رافع بن بصیری سے کتب الستہ، سوائے بخاری کے ساری پڑہی اور اجازہ بھی حاصل کی۔
7- مفسر شیخ محمد ثانی بن حبیب الاثیوبی شیخ نے ان پر سبکی کی جمع الجوامع مع شروحات وحواشی پڑھی اور شاطبیہ کے بعض حصہ و مختلف فنون وعلوم بھی سیکھی۔
8- شیخ عبد الجلیل بن الشیخ علی البریدی پر دو بار تفسیر پڑہی۔
9- محدث شیخ محمد المنتصر الکتانی کے بعض دروس میں حاضر ہوے اور حدیث کا اجازہ بھی شیخ کو دیا۔
10-شیخ ادریس قیو پر اما م نووی کی منهاج الطالبین کے اکثر اجزاء پڑھے جو کہ فقہ شافعی کی کتاب ہے۔
تلك عشرة كاملة

شیخ صاحب کمیونزم کے باعث ایتھوپیا سے ہجرت کر کے مکہ مکرمہ تشریف لائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب شیخ محترم مکہ آئے تو ان کے پاس ڈگری نہیں تھی۔شیخ کے آحباب مکہ نے ترغیب دی کہ ادہر کسی مدرسہ میں پڑھائیں اور جب مدارس میں بطور استاذ کے لیے گئے تو انہوں نے ڈگری مانگی شیخ کے پاس علم توہے لکن ڈگری نہ ہونے کی بنا پرکام نہ کرسکے، چنانچہ انہوں نے معہد الحرم(حرم مکی کے اندر دینی درسگاہ) میں داخلہ لیا پھر معہد میں کچھ سال پڑھنے کے بعد دار الحديث چلے گئے تعلیم مکمل کرنے کی غرض سے،اور جب داخلہ ٹیسٹ ہوا تو ممتحن نے پہچان لیا کہ یہ کوئی عام طالب علم نہیں بلکہ بڑا عالم ہے،اور دار الحديث کے مدیر الشیخ علی بن عامر العقلا کو کسی نے بتلایا کہ یہ زبردست عالم ہیں۔ وہ کہنے لگے ہمیں بھی علم کی ہی ضرورت ہے، ڈگری کی نہیں۔ چنانچہ ان کا نام دار الحديث کی مجلس اعلی کو بھجوا دیا گیا جس کے رئیس مفتی اعظم سعودیہ شیخ عبدالعزیز ابن باز رحمه الله تھے۔ مجلس اعلی نے انہیں ڈگری کے بغیر ہی استاذ مقرر کر دیا۔ اس کے بعد شیخ دار الحديث مکہ میں ہی مدرس رہے۔شیخ جدہر پڑھنے آئے تھے ادہر پڑھانے لگ گئے۔اللہ اکبر

دار الحدیث ابھی تو مکہ میں حرم سے دور عوالی میں ہے لکن اس سے پہلے حرم کے قریب جب اجیاد میں تھی تو شیخ صبح پڑھاتے تھے دار الحدیث خیریہ میں اور رات کو دار الحدیث کی مسجد میں شیخ علمی دروس بھی دیا کرتے تھےاور الحمدللہ میں نے جب دار الحدیث میں داخلہ لیا تھا تب میں نے پڑھائی کی شروعات اجیاد سے کی،مجھے یاد پڑتا ہے کہ شیخ اس وقت روازانہ مغرب یا عشاء کے بعد مسجد میں کوئی کتاب پڑھایا کرتے تھے۔

شروع شروع میں جب شیخ نے تصنیف کا کام شروع کیاتھا تب شیخ اپنے ہاتھ سے لکھا کرتے تھے اور ان کا خط قدیم مخطوطات کی طرح غیر واضح ہوتا، بلکہ خط پہچاننا بہت مشکل تھا، پھر کسی محب ِشیخ نے کمپیوٹر پر کیبورڈ کے ذریعہ لکھنا سیکھا دیا ، شروعات میں شیخ کو کیبورڈ پر لکھنے کے لئے بڑی دشواریاں پیش آئی اسکے بعد شیخ جہاں بھی جاتے لیپ ٹاپ لے جاتے اور ذرہ بھی فرصت کیا ملے لیپ ٹاپ کھول کر لکھنا شروع کردیتے، صبح وشام جب موقع ملے لکھتے تھے بلکہ میں نے کئی بار شیخ کو دیکھا کہ پیرڈ کے درمیان کوئی دس پندرہ منٹ کا وفقہ بھی ہو تو اس میں بھی لکھتے، حتی کہ ایک وقت ایسا آیا کہ شیخ نے لکھنے میں اتنی مہارت حاصل کر لی کہ بڑے بڑے کمپوزروں کو پیچھے چھوڑ دیا،شروع میں شیخ اپنی کتابیں چھپوانے کا کوئی معاوضہ نہیں لیتے تھے ، بعض ناشرین نے اس کا بدترین فائدہ اٹھایا،اور شيخ صاحب کا خرچہ بڑھ گیا پھر بعض مشائخ کی نصیحت پر شیخ نے معاوضہ لینے کی حامی بھر لی صرف اس لیئے تاکہ تصنیف کا کام جار ی وساری رہ سکے اور کوئی رکاوٹ نہ آئے۔
شیخ کی تمنا تھی کہ وہ حرم میں پڑھائیں لکن حرم میں غیر ملکیوں کو پڑھانے کی اجازت نہ تھی اس وقت ، شیخ کے نشر ِعلم کے جذبہ نے ان کو نیشلٹی لینے کی کوشش پے لگادی، میں مکہ میں دار الحدیث میں پڑھتے ہوئے مکہ کہ ایک معروف شیخ ابو عبدالعزیز عبد اللہ بن احمد البخیت کے پاس ویکنڈ میں ان کی خدمت اور ان کے لیے کام کرتا تھا ،وه حکومت کے ایک اہم منصب پر فائز تھے وہ مکہ کے نیشنل سیکیوڑٹی گاڈ کے دینی شعبہ کے سربراہ تھے اور بڑے بڑےلوگوں تک شیخ کی پہنچ تھی اور بادشاہ سے بھی اچھے تعلقات تھے ، ابھی تو شیخ بخیت صاحبِ فراش ہیں اللہ ان کو شفا دے، آمین، اصل واقعہ کی طرف آتے ہیں ایک دن میں شیخ بخیت کے ساتھ حرم کے قریب فائیو سٹار ہوٹل گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ شیخ اثیوبی شیخ کا انتظار کررہے ہیں شیخ بخیت کے ملنے کے بعد میں شیخ اثیوبی سے ملا اور سر پر بوسہ دیا ،پھر شیخ اثیوبی متعجبانہ انداز میں دیکھتے ہوئے مجھ سے پوچھنے لگے تم شیخ بخیت کے بیٹے ہو؟ میں اور شیخ بخیت نے مسکراہتے ہوئے شیخ کو بتایا: نہیں شیخ میں تو شیخ بخیت کے پاس پارٹ ٹایم خدمت و کام کرتا ہوں تو شیخ مسکرانے لگے، پھر شیخ بخیت نے مجھے بتایا کہ ہم فلان امیر یعنی شہزادہ جو شاہی خاندان کا فر د ہے اور سعودی وزارت داخلہ میں بڑے اہم منصب پر فائز ہے اس سے شیخ کے معاملہ میں بات کرنے آئے ہیں تم ذرا احتیاط سے پیش آنا میں ڈر گیا پتہ نہیں اتنا بڑا کیا مسئلہ ہوگیا کہ ملک کے اتنے بڑے شخصیت سے ملنے آگئے بہرحال جب امیر صاحب تشریف لائے تومجھے شیخ بخیت نے کہا بہتر ہے تم قریب والے صوفہ پے بیٹھ جاؤ شائد امیر یا شیخ اثیوبی میں سے کوئی بُرا منا لے،میں ساتھ والے صوفہ پے بیٹھ گیا لکن انسانی فطرت کے تجسس نے مجھے سننے پر مجبور کردیا،میں اتنی بات سمجھی کہ شیخ بخیت امیر صاحب کو اس بات کا قائل کروا رہے ہیں کہ شیخ اثیوبی جنسیہ (سعودی نیشنلٹی) کے مستحق ہیں اور شیخ کو نیشنلٹی دینے سے حکومت کا بہت فائدہ ہے وغیرہ وغیرہ،جب مجلس ختم ہوئی تو میں نے شیخ اثیوبی سے پوچھ لیا تو بتانے لگے:بیٹا میں نیشنلٹی لینے کی کوشش میں ہوں کیونکہ میری تمنا ہے کہ میں مرنے سے پہلے حرم مکی میں پڑھا لوں اور حرم میں درس دینے کی شرطوں میں سے ایک شرط یہ ہے کہ سعودی نیشلٹی والا ہو اس لیے میں صرف درس دینے کے لئیے نیشنلٹی کے پیچھے پڑا ہوں مجھے نیشنلٹی، مال ومتاع کی لیے ہرگز نہیں چاہیے بس میرے لیے دعا کرو کہ میں مرنے سے پہلے حرم میں درس دوں،میں نے کہا: شیخ صاحب ان شاء اللہ بازن اللہ آپ کو نیشنلٹی ضرور ملے گی ۔

اس معاملہ کو مہینوں اور سال گزر گئے لکن جواب ندارد شیخ کو نیشنلٹی نہیں ملی لکن شیخ نےاپنے علمی دروس مکہ کے ایک مسجد میں جاری رکھے، اس کے کچھ عرصہ بعد جب میں دار الحدیث سے فارغ ہوا اور الحمدللہ ریاض میں جامعہ امام میں پڑہتے ہوئے مجھے یہ خوشخبری ملی کہ شیخ کو حرم میں اپنے علمی دروس دینے کی اجازت مل گئی اور نیشنلٹی کی شرط میں حکومت نے تھوڑی سی لچک پیدا کرلی ہے، الحمدللہ۔

اگر ہم اسی طرح بات کرتے رہے تو باتیں ختم نہیں ہوں گی اس مختصر سی تحریر میں جو طویل ہوتی جارہی ہے، کیا کیالکھے بندہ اور کیا کیا چھوڑ دے، شیخ کے متعلق یہ مختصر تحریر نا کافی ہے بلکہ شیخ کے متعلق پوری کتاب لکھنی چاہیے۔

اور افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ہمارے طلبہ تو چھوڑیے بہت سے مشائخ کو شیخ کا نہیں پتہ۔

اب شیخ کی تصنیفات وتالیفات کا بالاختصار ذکر کرتے ہیں ۔

1-"ذخيرة العقبى في شرح المجتبى" جو کہ سنن نسائی کی سب سے بہترین شروح میں سے ایک ہےاو ر یہ مفصل وطویل شرح جو 42 جلدوں پر مشتمل ہےجس میں شیخ نے اسانید اور متونِ حدیث پر دقیق گفتگو کی ہے،اور 170صفحہ پر بمشتمل بہترین مقدمہ لکھا ہے جو لائق مطالعہ ہے،اور اس شرح كو لکھنے میں شیخ کو 15پندرہ سال لگے،يمن كے معروف عالم شیخ مقبل بن ہادی الوادعی فرماتے ہیں اس کتاب کے متعلق :یہ شرح بہترین شروحات حدیث میں سے ایک ہےاور فتح الباری کے انداز میں لکھی گئی ہے اور اکثر شیخ کی ترجیحات پر میں مطمئن ہوتا ہوں کیونکہ وہ دلیل پر مبنی ہوتی ہیں،محدث مدینہ شیخ عبدالمحسن العباد سے پوچھا گیا کہ سنن نسائی کی سب سے بہترین شرح کونسی ہےتو جواب میں فرماتے ہیں:شیخ محمد علی آدم الاثیوبی کی شرح ،اور جب فضیلہ الشیخ صالح الفوزان دار لحدیث آے تھے تو شیخ کو کہتے ہیں شیخ ہم آپ کی نسائی کی شرح سے بہت استفادہ کرتے ہیں تو شیخ نےمسکراتے ہوئے اپنی عاجزی وانکساری کا اظہار کیا۔اور اسی طرح بڑے بڑے علماء نے اس شرح کی تعریف کی ہے۔
2-"البحر المحيط الثجاج في شرح صحيح الإمام مسلم بن الحجاج" یہ کتاب صحیح مسلم کی شرح ہی جو 45 جلدوں پر مشتمل ہے۔
3-"مَشَارِق الْأَنْوَار الوهاجة ومطالع الْأَسْرَار البهاجة فِي شرح سنَن الإِمَام ابْن مَاجَه" جوکہ سنن ابن ماجہ کی شرح ہےجو کہ 4 جلدوں پر مشتمل ہےلکن یہ مکمل نہ ہوسکی۔
4-"إتحاف الطالب الأحوذي بشرح جامع الإمام الترمذي "جو کہ 6جلدوں پرمشتمل ہے اور شیخ اپنی بیماری کہ وجہ سے یہ مکمل نہ کرسکے اور اخری دروس میں یہی تمنا کرتے تھے کہ کاش میں اس شرح کو اپنی موت سے پہلے مکمل کرلوں لکن اس دنیا فانی سے چلے بسے۔
5-"الدرة المضية في نظم توحيد رب البرية "جو کہ شیخ کی توحید پر منظوم کتاب ہے اور اس کتاب کو الفیہ التوحیدبھی کہا جاتا ہے اس میں توحید کا بیان 1002ابیات میں کیا گیا ہے،اور اس کی شرح شیخ نےکی ہے بعنوان" المنة الرضية شرح الدرة المضية."
6-"إسعاف ذوي الوطر في شرح نظم الدرر" یہ شیخ کی الفیہ السیوطی پر مختصر شرح کیونکہ شیخ کی دوسری شرح جو مفصل وطویل ہے و ہ فی الحال چھپ نہ سکی اور نہ مکمل ہے، یہ کتاب دو جلدوں میں ہے۔
7-"قرة عين المحتاج في شرح مقدمة صحيح مسلم" جو کہ شیخ کی مقدمہ امام مسلم کے مقدمہ کی بہترین شرح ہےجو کہ 2دو جلدوں پر مشتمل ہے۔
8-"منظومة عمدة المحتاط في معرفة أسماء من رمي بالاختلاط" یہ شیخ کی منظوم کتاب ہے جس میں شیخ ان ثقات رواة کا ذکر کیا ہے جن کے اختلاط کے متعلق گفتکو کی گئی ہے اور اسی پے شیخ کی اپنی شرح " عدة أولي الاغتباط في شرح عمدة المحتاط"بھی موجود ہے ۔
9-"الجوهر النفيس في نظم أسماء ومراتب الموصوفين بالتدليس" یہ شیخ کی منظوم کتاب جس میں شیخ نے مدلسین کا بیان کیا ہے اس میں تقریبا 118ابیات ہیں۔
10-"شافية الغلل بمهمات علم العلل" یہ علم العلل کی الفیہ ہے جس میں ایک ہزار سے زائد ابیات علم العلل پر پیش کی گئی ہے جس میں شیخ نے علل الترمذی اور شرح علل الترمذی لابن رجب کا خلاصہ پیش کیا ہے،اور ساتھ میں اس منظوم کی مختصر شرح بعنوان " مزيل الخلل عن ابيات شافية الغلل" بھی شائع کی ہے۔
11-"إتحاف النبيل بمهمات علم الجرح و التعديل" یہ بھی شیخ کی منظوم کتابوں میں سے ہے جو انہوں نے جرح وتعدیل پر لکھی تھی اور اس میں 700کے قریب ابیات ہیں،اور ان منظوم ابیات کی شرح شیخ نے اپنی کتاب " إيضاح السبيل شرح إتحاف النبيل بمهمات علم الجرح والتعديل "میں کی ہے۔
12-"تذكرة الطالبين في بيان الموضوع وأصناف الوضاعين" یہ بھی منظوم ہے اور اس میں 150ابیات میں موضوع احادیث اور اس کے اصناف کا بیان ہے۔اور اس کی شرح شیخ نے اس کتاب "الجليس الأمين شرح تذكرة الطالبين في بيان الموضوع وأصناف الوضاعين"میں کی ہے۔
13-"الجليس الأمين شرح تذكرة الطالبين في بيان الموضوع وأصناف الوضاعين " یہ شیخ کی پچھلی کتاب پر مختصر شرح ہے۔
14-"قُرَّة العَين في تلخِيص تَراجم رجَال الصَّحِيحَين" اس کتاب میں شیخ نے رجال الصحیحین کا مختصرانہ انداز میں ذکر کیا ہے اور یہ کتاب شیخ نے بعض طلبہ کے ساتھ ہدیہ بھی کی تھی اور حفظ کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے،کیونکہ انہوں نے یہ خود حفظ کرنے کے لیئے کاغذات کے ٹکروں پر لکھی تھی بعد میں شیخ کو بعض احباب نے ترتیب کرنے اور شائع کرنی کی ترغیب دلائی تھی،اور یہ کتاب دراصل پانچ کتابوں کا خلاصہ الخلاصہ ہے۔
15-"التحفة المرضية في نظم المسائل الأصولية على طريقة أهل السنة السَّنِية" یہ شیخ کی اصول الفقہ پر منظوم کتاب ہے جس میں تقریبا 3074علمی ابیات ہے۔
16-"المنحة الرضية في شرح التحفة المرضية في نظم المسائل الأصولية على طريقة أهل السنة السنية" یہ ان کی شرح ہے پچھلی کتاب پرجو کہ 3 تین جلدوں پر مشتمل ہے ۔
17-"الجليس الصالح النافع بتوضيح معاني الكوكب الساطع" یہ امام سیوطی کی منظوم کتاب کوکب الساطع کی شرح ہے ،جوکہ اصول الفقہ کی بہترین کتابوں میں سے ہے۔
18-"فتح الكريم اللطيف شرح أرجوزة التصريف" یہ شیخ نے اپنے استاذ اور سیبویہ وقت شیخ عبد الباسط بن محمد بن حسن البورني المناسي رحمہ اللہ کی منظوم کتاب "ارجوزة التصریف"جو کہ 770 بیت پر مشتمل ہے اس کی شیخ نے لطیف ومختصر شرح کی ہے۔
19-"البهجة المرضية فى نظم المتممة الآجرومية لتقريب المسائل النحوية" یہ شیخ نے نحو کی معروف کتاب "المتممة الاجرومیة" کو منظوم شکل میں ڈالنے کی ایک بہترین کاوش کی ہے جو کہ تقریبا 762ابیات پر مشتمل ہے۔
اور یہ کتاب "المنة المرضية شرح البهجة المرضية"اس منظوم پر شیخ کی شرح ہے۔
20-"رفع الغين في ثبوت زيادة ( وبركاته ) في التسليم من الجانبين" یہ مختصر رسالہ نماز کے اخر میں تسلیم کے وقت لفظ "وبرکاتہ"کی ثبوتیت پر ہے۔
21-"قصيدة في الرد على بكر بن حماد الشاعر المغربي في ذمه علم الحديث وأهله "یہ شیخ کے قصائد ہیں حدیث اور محدثین عظام کے دفاع میں ایک مغربی شاعر کے رد میں لکھی ہے۔
22-"الفوائد السمية في قواعد وضوابط علمية" اس علمی منظوم میں شیخ نےمختلف علوم کے فوائدِ علمیہ ونکات جلیلہ کا ذکر منظوم انداز میں کیا ہے اور دار الحدیث کے بعض طلبہ یہ فوائد یاد کیا کرتے تھے۔
23-"الرد المبكي على المجرم الدنماركي "ڈنمارک میں جب رسول اللہ ﷺ پر خاکہ بنائے گیے تو شیخ نے اس کے رد میں بہترین قصائد پیش کیے۔
اب میں مختصرا کتابوں کا سرسری نام لکھ دیتا ہوں ۔
24- نظم إتحاف أهل السعادة بمعرفة أسباب الشهادة.
25- بغية طالب السعادة شرح إتحاف أهل السعادة.
26-فتح القريب المجيب شرح مدني الحبيب نظم مغني اللبيب۔
27- نظم مختصر في علم الفرائض.
28- البحر المحيط الأزخر في شرح نظم الدرر في علم الأثر.
29- مجمع الفوائد ومنبع العوائد بذكر الأثبات والأسانيد.
30- مواهب الصمد لعبده محمد في أسانيد كتب العلم الممجد،یہ شیخ کی اپنی اسانید اور اجازے والی کتاب ہے اور اسی تصنیف لطیف سے میں نے شیخ سے اجازہ لی تھی۔
31- نظم الأحاديث المتواترة.
32- رجز في علمي العروض والقوافي.
33- إتحاف ذوي الهمة بمسائل مهمة.
34- منهج الطلاب لتحصيل الآراب.
35- الدرة المحبرة في وجوه الترجيحات المحررة.
36- الباعث الحثيث في نصيحة طلاب دار الحديث.
37- بهجة العقول في نظم ما بُنِي للمجهول.
38- نيل المأمول من معاني بهجة العقول.
39- نظم خاتمة المصباح.
40-نظم رسالة علوم التفسير لابن تيمية.
41-شرح عقود الجمان في البلاغة.
شیخ کی اور بھی بہت سی کتابیں ہیں جو ابھی تک زیور طبع سے آراستہ نہیں ہوئی اور بعض کتابیں جن کا میرے علم میں نہیں۔شیخ اپنی کتابوں کے عنوان میں اپنے ناموں کے آگے بڑے بڑے القابات سے گریز کرتے اور اکثر لکھا کرتے"خويدم العلم" یعنی علم کا خادم ۔
شیخ کی بڑی کتابیں ہم طلبہ دار الحدیث خریدنے کی تمنا کیا کرتے تھے تو كبھی کبھی شیخ کے بعض محبین جو مالدار ہوتے وہ شیخ کی بڑی بڑی کتابیں ٹرک بھر کے لاتے اور بعض طلبہ میں تقسیم کرتے،میں نے خود بعض طلبہ کو کتابیں ملنے پر فرط محبت و خوشی سے روتے ہوئے سجدہ شکر کرتے دیکھا ہے،ماشاء اللہ کیساعلمی ماحول اور یادگار زمانہ تھا ۔

بس مجھے آفسوس ہے تو اس بات کا کہ میں اس آب صافی سے اپنے آپ کو سیراب نہ کر سکا،شیخ کے جو خاص طلبہ ہیں وہ ایں خانہ ہما آفتاب اند ہیں ان میں سے اکثر دارالحدیث میں پڑھاتے ہیں اور وہ ایک سے بڑھ کر ایک ذہین اور حفظ میں اعلی درجہ والے ہیں۔

شیخ کے اکثر دروس او کتابیں نیٹ پے دستیاب ہیں جوکہ آسانی سے مل جاتی ہے میری ہر طالب علم سے نصیحت ہے کہ شیخ کی کتابوں اور دروس علمیہ سے بھرپور استفادہ کیا جائے۔

رحمہ اللہ ،اللہ شیخ کوجنت الفردوس میں مقام عظیم عطا فرمائے۔

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے
سبزہ نورستہ اس گھر کی نگہبانی کرے

(ويرحم الله عبداً قال آمينا)

شریکِ غم وغمگسار: سیف اللہ ثناء اللہ بلتستانی مکى
 
Top