ذیشان خان

Administrator
تین طلاق سے متعلق اثر حسن رضی اللّٰہ عنہ کی تحقیق

✍ کفایت اللہ السنابلی

بعض لوگ نواسۂ رسول حسن رضی اللہ عنہ کی طرف منسوب ایک روایت سے استدلال کرتے ہیں کہ ایک ساتھ دی گئی تین طلاقیں تین واقع ہوجاتی ہیں ، حالانکہ یہ اثر موضوع اور من گھڑت ہے ذیل میں اس کی تحقیق ملاحظہ ہو:
امام دارقطنی رحمہ اللہ (المتوفی:۳۸۵)نے کہا:
نا أحمد بن محمد بن زیاد القطان، نا إبراہیم بن محمد ،نا إبراہیم بن محمد بن الہیثم صاحب الطعام، نا محمد بن حمید، نا سلمۃ بن الفضل ،عن عمرو بن أبی قیس ،عن إبراہیم بن عبد الأعلی، عن سوید بن غفلۃ ،قال: کانت عائشۃ الخثعمیۃ عند الحسن بن علی بن أبی طالب رضی اللّٰہ عنہ،فلما أصیب علی وبویع الحسن بالخلافۃ ،قالت:لتہنک الخلافۃ یا أمیر المؤمنین ،فقال: یقتل علی وتظہرین الشماتۃ اذہبی فأنت طالق ثلاثا ،قال:فتلفعت نساجہا وقعدت حتی انقضت عدتہا وبعث إلیہا بعشرۃ آلاف متعۃ وبقیۃ بقی لہا من صداقہا،فقالت: متاع قلیل من حبیب مفارق ،فلما بلغہ قولہا بکی وقال: لولا أنی سمعت جدی ،أو حدثنی أبی ، أنہ سمع جدی یقول:أیما رجل طلق امرأتہ ثلاثا مبہمۃ أو ثلاثا عند الإقراء لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ لراجعتہا
سوید بن غفلہ کہتے ہیں کہ عائشہ خثعمیہ حسن بن علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما کے نکاح میں تھیں ، تو جب علی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے اور حسن رضی اللہ عنہ کی بیعت ہوئی تو ان کی اس بیوی نے کہا: امیر المؤمنین آپ کو خلافت مبارک ہو، تو حسن رضی اللہ عنہ نے کہا: علی رضی اللہ عنہ کی شہادت پر توخوشی کا اظہار کرتی ہے ، یہاں سے نکل جا تجھے تین طلاق ہے، راوی کہتے ہیں کہ پھر ان کی بیوی نے کپڑوں سے خود کو ڈھانک لیا اور گھر میں بیٹھ گئی اورجب عدت ختم ہوگئی تو حسن رضی اللہ عنہ نے ان کے پاس دس ہزار زائد اور بقایا مہر بھجوایا، تو ان اس نے کہا:بچھڑے محبوب کے مقابلہ میں یہ مال ومتاع کچھ نہیں ہے ، حسن رضی اللہ عنہ تک جب اس کی یہ بات پہنچی تو وہ روپڑے اورکہا: اگرمیں نے اپنے نانا سے یہ نہ سناہوتا اور مجھ سے میرے والد نے یہ نہ بتایا ہوتا کہ انہوں نے میرے نانا سے سنا ہے کہ جو شخص بھی اپنی بیوی کو اکٹھی تین طلاق دے دے یا الگ الگ تین طہر میں تین طلاق دے ڈالے تو وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوسکتی جب تک کہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرلے تو میں اس سے رجوع کرلیتا۔ [سنن الدارقطنی، ت الارنؤوط:۵؍۵۵، وأخرجہ الطبرانی فی معجبہ :۳؍۹۱،طریق علی بن سعید ،والبیہقی فی سننہ :۷؍۴۱۹،من طریق محمد بن إبراہیم بن زیاد الطیالسی، کلہم (إبراہیم بن محمد وعلی بن سعید ومحمد بن إبراہیم) من طریق محمد بن حمیدبہ۔وأخرجہ أیضا الدارقطنی فی سننہ رقم:۵؍۵۶،فقال:نا أحمد بن محمد بن سعید ،نا یحیی بن إسماعیل الجریری ،نا حسین بن إسماعیل الجریری ،نا یونس بن بکیر ، نا عمرو بن شمر،عن عمران بن مسلم ،وإبراہیم بن عبد الأعلی ،عن سوید بن غفلۃبہ]
یہ روایت جھوٹی اور من گھڑت ہے ۔سند میں ’’محمدبن حمیدرازی‘‘ موجود ہے جو کذاب تھا۔
امام بخاری رحمہ اللہ (المتوفی:۲۵۶)نے کہا:
’’فِیہِ نَظَرٌ ‘‘’’ اس میں نظر ہے‘‘[التاریخ الکبیر للبخاری:۱؍۶۹]
امام جوزجانی رحمہ اللہ (المتوفی:۲۵۹)نے کہا:
’’کان ردیء المذہب، غیر ثقۃ ‘‘’’ یہ برے مذہب ولا اور غیر ثقہ تھا ‘‘[أحوال الرجال للجوزجانی:ص:۳۵۰]
أبو حاتم محمد بن إدریس الرازی، (المتوفی:۲۷۷)نے کہا:
’’ہذا کذاب ‘‘’’ یہ کذاب یعنی بہت بڑا جھوٹا ہے ‘‘[الضعفاء لابی زرعہ الرازی:۲؍۷۳۹]
امام ابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی:۳۵۴)نے کہا:
’’کان ممن ینفرد عن الثقات بالأشیاء المقلوبات ‘‘’’ یہ ثقات سے تنہا الٹ پلٹ چیزیں روایت کرتا ہے ‘‘[المجروحین لابن حبان:۲؍۳۰۳]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی:۸۵۲)نے کہا:
’’حافظ ضعیف ، ‘‘’’یہ حافظ اور ضعیف ہے ‘‘[تقریب التہذیب لابن حجر: رقم:۵۸۳۴]
خان بادشاہ بن چاندی گل دیوبندی لکھتے ہیں:
کیونکہ یہ کذاب اوراکذب اورمنکرالحدیث ہے۔[القول المبین فی اثبات التراویح العشرین والرد علی الالبانی المسکین:ص:۳۳۴] نیز دیکھئے: رسول اکرم کاطریقہ نماز از مفتی جمیل صفحہ ۳۰۱ ۔
دارقطنی کی دوسر ی سند میں ’’عمرو بن شمر ‘‘ہے۔
یہ بھی کذاب اور جھوٹا راوی ہے ۔
امام ابن سعد رحمہ اللہ (المتوفی:۲۳۰)نے کہا:
’’کان ضعیفا جدا متروک الحدیث ‘‘’’ یہ سخت ضعیف اور متروک الحدیث تھا‘‘[الطبقات الکبری ط دار صادر:۶؍۳۸۰]
امام جوزجانی رحمہ اللہ (المتوفی:۲۵۹)نے کہا:
’’کذاب ‘‘’’ یہ بہت بڑا جھوٹا ہے‘‘[أحوال الرجال للجوزجانی، ت البَستوی:ص:۷۳]
امام أبو حاتم الرازی رحمہ اللہ (المتوفی:۲۷۷)نے کہا:
’’منکر الحدیث جدا ضعیف الحدیث لا یشتغل بہ ترکوہ ‘‘’’ یہ سخت منکر الحدیث ہے اس کی حدیث نہیں لی جائے گی لوگوں نے اسے ترک کردیا ہے‘‘[الجرح والتعدیل لابن أبی حاتم، ت المعلمی:۶؍۲۳۹]
امام نسائی رحمہ اللہ (المتوفی:۳۰۳)نے کہا:
’’متروک الحدیث کوفی ‘‘’’ یہ متروک الحدیث کوفی ہے‘‘[الضعفاء والمتروکون للنسائی:ص:۸۰]
امام ابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی:۳۵۴)نے کہا:
’’کان رافضیا یشتم أصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وکان ممن یروی الموضوعات عن الثقات فی فضائل أہل البیت وغیرہا‘‘
’’یہ رافضی تھا ، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو گالیاں دیتا تھا، یہ اہل بیت کے فضائل وغیرہ میں ثقات سے جھوٹی احادیث روایت کرتا تھا‘‘[المجروحین لابن حبان، تزاید:۲؍۷۵]
امام دارقطنی رحمہ اللہ (المتوفی:۳۸۵)نے کہا:
’’کوفی، متروک ‘‘’’ یہ کوفی متروک الحدیث ہے‘‘[سؤالات البرقانی للدارقطنی، ت الأزہری:ص:۱۱۳]
امام ذہبی رحمہ اللہ (المتوفی:۷۴۸)نے کہا:
’’رافضی متروک ‘‘’’ یہ رافضی اور متروک ہے‘‘[دیوان الضعفاء :ص:۳۰۳]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی:۸۵۲)نے کہا:
’’متروک‘‘’’ یہ متروک ہے‘‘[التمییز لابن حجر، ت دکتور الثانی:۲؍۵۶۰]
اس کے علاوہ اس سند میں’’ یحییٰ بن إسماعیل الجریری ‘‘اور’’ حسین بن إسماعیل الجریری‘‘ غیر معروف ہے ، نیز’’ أحمد بن محمد بن سعید ‘‘پر بھی کافی کلام ہے۔
خلاصہ یہ کہ یہ روایت جھوٹی اور من گھڑت ہے۔
 
Top