ذیشان خان

Administrator
تین طلاق اور علی رضی اللّٰہ عنہ

✍ کفایت اللہ السنابلی

علی رضی اللہ عنہ کی طرف صراحتاً یہ فتویٰ منسوب ہے کی آپ ایک وقت میں دی گئی تین طلاق کو ایک طلاق مانتے تھے۔
امام ابن مغیث( المتوفی:۴۵۹)لکھتے ہیں:
فقال علی ابن أبی طالب وا بن مسعود رضی اللّٰہ عنہما:’’تلزمہ طلقۃ واحدۃ وقالہ ابن عباس رضی اللّٰہ عنہ…وقال مثلہ الزبیر بن العوام وعبدالرحمٰن بن عوف رضی اللّٰہ عنہما روینا ذالک کلہ عن ابن وضاح‘‘
علی بن ابی طالب اور ابن مسعود رضی اللہ عنہما نے کہا کہ:’’ (بیک وقت تین طلاق دینے سے)ایک ہی طلاق واقع ہوگی اور یہی ابن عباس رضی اللہ عنہ کا بھی قول ہے…نیز یہی قول زبیر بن العوام اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کا بھی ہے …ان سے یہ اقوال ہم نے ابن وضاح سے روایت کیا ہے‘‘[المقنع لابن مغیث :ص:۸۰]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی:۸۵۲)فرماتے ہیں:
’’نقل عن علی وبن مسعود وعبد الرحمٰن بن عوف والزبیر مثلہ نقل ذالک بن مغیث فی کتاب الوثائق لہ وعزاہ لمحمد بن وضاح‘‘
’’تین طلاق کے ایک ہونے کا فتویٰ علی ، ابن مسعود ، عبدالرحمن بن عوف اور زبیر رضی اللہ عنہم سے مروی ہے ، اسے ابن مغیث نے کتاب الوثائق میں نقل کیا ہے اور محمدبن وضاح کی روایت کی طرف منسوب کیا ہے‘‘ [فتح الباری لابن حجر، ط المعرفۃ:۹؍۳۶۳]
لیکن اس فتویٰ کی سند دستیاب نہیں ہے۔
تاہم ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور میں اسی طرح عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور کے ابتدائی دو سال تک امت کا جو اجماعی موقف تھا کہ ایک وقت میں دی گئی تین طلاق ایک ہی شمار ہوگی اس سے علی رضی اللہ عنہ کا اختلاف کرنا ثابت نہیں ہے۔
بعض حضرات کچھ ضعیف ومردود روایات پیش کرکے یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ علی رضی اللہ عنہ ایک وقت کی تین طلاق کو تین شمار کرتے تھے ذیل میں ان روایات کی پوزیشن ملاحظہ ہو:
پہلی روایت:
امام بیہقی رحمہ اللہ (المتوفی:۴۵۸)نے کہا:
أخبرنا أبو عمرو الرزجاہی حدثنا أبو بکر الإسماعیلی قال قرأت علی أبی محمد إسماعیل بن محمد الکوفی حدثنا أبو نعیم الفضل بن دکین حدثنا حسن عن عبد الرحمٰن بن أبی لیلی عن علی رضی اللّٰہ عنہ فیمن طلق امرأتہ ثلاثا قبل أن یدخل بہا قال :’’لا تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ ‘‘
علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ:’’ جس نے اپنی بیوی کو دخول سے قبل تین طلاق دے دیا تو وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوسکتی جب تک کہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرلے‘‘[السنن الکبری للبیہقی، ط الہند:۷؍۳۳۴]
یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے، سند میں موجود أبو محمد إسماعیل بن محمد الکوفی یہ أبو محمد إسماعیل بن محمد المزنی الکوفی ہے ۔امام ذہبی نے اسے أبو بکر الإسماعیلی کا استاذ اور ابونعیم کا شاگرد بتلایا ہے۔[تاریخ الإسلام ت بشار:۶؍۹۲۰]
یہ بہت بڑا جھوٹا اور کذاب شخص تھا ۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ (المتوفی:۳۸۵)نے:
’’ کذاب ‘‘’’ یہ بہت بڑا جھوٹا ہے‘‘[کتاب الضعفاء والمتروکین للدارقطنی ت الأزہری:ص:۸۵]
نیز أبو نعیم الفضل بن دکین کا استاذ حسن بھی نا معلوم کون ہے ۔
دوسری روایت:
امام ابن أبی شیبہ رحمہ اللہ (المتوفی:۲۳۵)نے کہا:
حدثنا وکیع، عن الأعمش، عن حبیب، قال:جاء رجل إلی علی، فقال: إنی طلقت امرأتی ألفا!قال: ’’بانت منک بثلاث ، واقسم سائرہن بین نسائک ‘‘
حبیب بن ابی ثابت کہتے ہیں کہ:’’ ایک شخص علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا:میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دے دی ہے !اس پر علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:تین طلاق سے تیری عورت جدا ہوگئی اور باقی طلاقوں کو تو اپنی دیگر بیویوں میں تقسیم کردے ‘‘[مصنف ابن أبی شیبۃ۔سلفیۃ:۵؍۱۳،واسنادہ ضعیف و منقطع واخرجہ ایضا الدارقطنی : ۵؍۳۸، من طریق فضیل بن عیاض عن الأعمش بہ ]
یہ روایت ضعیف ہے اس میں تین علتیں:
اول: اعمش عن سے روایت کررہے ہیں اوریہ تیسرے طبقے کے مدلس ہیں۔تفصیل کے لئے دیکھئے:( ہماری کتاب یزید بن معاویہ پر الزامات کا تحقیقی جائزہ:ص:۳۹۵تا۳۹۹)
دوم: حبیب بن أبی ثابت الکوفی بھی تیسرے طبقہ کے مدلس ہیں ۔دیکھئے:[طبقات المدلسین لابن حجر ت القریوتی: ص:۳۷]
اور یہاں انہوں نے اپنا ماخذ بتایا ہی نہیں ہے۔
سوم: حبیب بن أبی ثابت کا علی رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں ہے ۔چنانچہ:
امام علی بن المدینی رحمہ اللہ (المتوفی:۲۳۴)نے کہا:
’’حبیب بن أبی ثابت ، لقی ابن عباس ، وسمع من عائشۃ ، ولم یسمع من غیرہما من أصحاب رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ‘‘
’’حبیب بن أبی ثابت نے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی ہے اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا ہے اور ان دو صحابہ کے علاوہ کسی اور صحابی سے انہوں نے نہیں سنا ہے‘‘[العلل لابن المدینی، ت الأزہری:ص:۱۱۳،وانظر: جامع التحصیل للعلائی:ص:۱۵۸،تحفۃ التحصیل فی ذکر رواۃ المراسیل: ص:۶۰]
تیسری روایت:
امام ابن أبی شیبہ رحمہ اللہ (المتوفی:۲۳۵)نے کہا:
حدثنا ابن فضیل، عن الأعمش، عن حبیب، عن رجل من أہل مکۃ ، قال:’’جاء رجل إلی علی فقال:إنی طلقت امرأتی ألفا ؟ قال:الثلاث تحرمہا علیک ، واقسم سائرہن بین أہلک ‘‘
حبیب بن ابی ثابت مکہ کے ایک آدمی سے روایت کرتے ہیں کہ:’’ ایک شخص علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: میں نے اپنی بیوی کو ایک ہزار طلاق دے دی ہے ! اس پر علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:تین طلاقیں تیری بیوی کو تجھ پر حرام کرتی ہیں اور باقی طلاقوں کو تو اپنی دیگر بیویوں میں تقسیم کردے ‘‘[مصنف ابن أبی شیبۃ۔سلفیۃ:۵؍۱۴،واسنادہ ضعیف واخرجہ ایضا البیھقی فی السنن الکبریٰ:۷؍۵۴۷،من طریق أبی نعیم عن الأعمش بہ]
یہ وہی ماقبل والی روایت ہے اس میں حبیب نے اپنے سے اوپر کا واسطہ ذکر کیا ہے لیکن نام نہیں بتایا ، یہ روایت بھی تین وجوہات کے سبب ضعیف ہیں ۔
پہلی اور دوسری وجہ تو وہی ہے جس کا ذکر ماقبل میں ہوچکا ۔
اور تیسری وجہ یہ ہے کہ حبیب بن ابی ثابت نے جس شخص کے واسطے سے یہ روایت بیان کی ہے اس کانام نہیں بتایا لہٰذا اس شخص کا مجہول ہونا بھی اس روایت کے ضعیف ہونے کی ایک وجہ ہے۔
چوتھی روایت:
امام ابن أبی شیبہ رحمہ اللہ (المتوفی:۲۳۵)نے کہا:
حدثنا حاتم بن إسماعیل ، عن جعفر ، عن أبیہ ، عن علی قال:’’إذا طلق البکر واحدۃ فقد بتہا، وإذا طلقہا ثلاثا لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ ‘‘
علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے فرمایا:’’جب کوئی شخص باکرہ (غیرمدخولہ)کو ایک طلاق دے تو وہ طلاق بائن ہوگی اور جب تین طلاق دے دے تو اس کے لئے تب تک حلال نہ ہوگی جب تک کہ کسی اور سے بھی شادی نہ کرلے‘‘[مصنف ابن أبی شیبۃ۔سلفیۃ:۵؍۲۲،اسنادہ منقطع واخرجہ البیھقی فی السنن الکبریٰ ط الہند: ۷؍ ۳۳۵، من طریق أبی نعیم عن حاتم بن إسماعیل نحوہ]
یہ روایت منقطع ہونے کے سبب ضعیف ہے کیونکہ جعفر کے والد محمد بن علی بن الحسین بن علی بن أبی طالب أبو جعفر الباقر کا سماع علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے ۔بلکہ یہ تو علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے سولہ (۱۶)سال بعد پیدا ہوئے ہیں علی رضی اللہ عنہ کی وفات رمضان ۴۰؁ہجری میں ہوئی ہے چنانچہ:
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی:۸۵۲)نے کہا:
’’مات فی رمضان سنۃ أربعین ‘‘’’ علی رضی اللہ عنہ کی وفات رمضان ۴۰؁ہجری میں ہوئی ہے‘‘[تقریب التہذیب لابن حجر:رقم:۴۷۵۳]
اور محمد بن علی بن الحسین کی پیدائش ۵۶؁ہجری میں ہوئی چنانچہ:
امام صفدی رحمہ اللہ (المتوفی:۷۶۴)نے کہا:
’’مولدہ سنۃ ست وخمسین ‘‘’’ ان کی تاریخ پیدائش ۵۶؁ہجری ہے‘‘[الوافی بالوفیات للصفدی: ۴؍ ۷۷]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے بھی یہی تاریخ پیدائش ثابت کی ہے۔[تہذیب التہذیب لابن حجر، ط الہند:۹؍۳۵۱]
معلوم ہوا کہ محمد بن علی بن الحسین کا علی رضی اللہ عنہ سے سننا محال و ناممکن ہے اسی لئے محدثین نے پوری صراحت کے ساتھ کہا ہے کہ محمد بن علی بن الحسین کی علی رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل یعنی منقطع ہے ۔چنانچہ:
امام أبو زرعۃ الرازی رحمہ اللہ (المتوفی:۲۶۴)نے کہا:
’’محمد بن علی بن الحسین، عن علی، مرسل ‘‘’’ محمد بن علی بن الحسین کی علی رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل (منقطع)ہے‘‘[المراسیل لابن أبی حاتم ت قوجانی:ص:۱۸۵،واسنادہ صحیح]
امام بیہقی رحمہ اللہ (المتوفی:۴۵۸)نے کہا:
’’حدیث جعفر عن أبیہ عن علی مرسل ‘‘’’ جعفرکے والد محمد بن علی بن الحسین کی علی رضی اللہ عنہ سے روایت مرسل (منقطع)ہے‘‘[السنن الکبریٰ للبیہقی، ط الہند:۶؍۱۲۲]
امام ذہبی (المتوفی:۷۴۸)اور امام علائی (المتوفی:۷۶۱)وغیرہما نے بھی یہی بات کہی ہے ۔دیکھیں:[سیر أعلام النبلاء للذہبی:۴؍۴۰۱، جامع التحصیل للعلائی:ص:۲۶۶، تہذیب التہذیب لابن حجر، ط الہند:۹؍۳۵۲]
معلوم ہوا کہ یہ روایت صریح اور واضح طور پر منقطع ہے ،شیخ سعد بن ناصر الشثری اپنے نسخہ میں اس روایت پر حاشیہ لگاتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’منقطع ابو جعفر لایروی عن علی ‘‘’’یہ روایت منقطع ہے ابوجعفر(محمد بن علی بن الحسین)علی سے (ڈائریکٹ)روایت نہیں کرتے‘‘[مصنف ابن أبی شیبۃ۔إشبیلیا:۱۰؍۱۲۰حاشہ:۴]
پانچویں روایت:
امام ابن أبی شیبہ رحمہ اللہ (المتوفی:۲۳۵)نے کہا:
حدثنا حمید بن عبد الرحمٰن ، عن علی بن عمر بن حسین ، عن جعفر ، عن أبیہ ، عن علی ؛ فی رجل طلق امرأتہ حمل بعیر ، قال:’’لا تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ ‘‘
علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا جس نے اپنی بیوی کو اونٹ کے بوجھ کے برابر طلاق دی کہ:’’ وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوسکتی جب تک کہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرلے ‘‘[مصنف ابن أبی شیبۃ۔سلفیۃ:۵؍۷۸]
یہ روایت بھی ضعیف و مردود ہے ۔
اس کے اندر ایک علت تو وہی ہے جو پچھلی روایت میں بیان ہوئی یعنی جعفر کے والد محمد بن علی بن الحسین بن علی بن أبی طالب أبو جعفر الباقر کا سماع علی رضی اللہ عنہ سے ثابت نہیں ہے۔
اس کے ساتھ اس میں ایک دوسری علت یہ بھی ہے کہ اس سند میں موجود علی بن عمر بن حسین غیرمعروف ہے۔
شیخ سعد بن ناصر الشثری اپنے نسخہ میں اس روایت پر حاشیہ لگاتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’مجھول منقطع ، علی بن عمر بن حسین مجھول ، و ابو جعفر لایروی عن علی ‘‘
’’یہ روایت مجہول راوی سے ہے اور منقطع ہے، علی بن عمر بن حسین مجہول ہے، اور ابوجعفر(محمد بن علی بن الحسین) علی سے (ڈائریکٹ)روایت نہیں کرتے ‘‘[مصنف ابن أبی شیبۃ۔إشبیلیا:۱۰؍۲۱۵،حاشیہ :۵]
معلوم ہوا کہ یہ روایت بھی ضعیف و مردود ہے۔
چھٹی روایت:
امام سعید بن منصور رحمہ اللہ (المتوفی:۲۲۷)نے کہا:
حدثنا سعید قال:نا ہشیم، قال:أنا ابن أبی لیلی، عن رجل حدثہ عن أبیہ،’’ عن علی، رضی اللّٰہ عنہ مثل ذالک (یعنی رجل طلق امرأتہ ثلاثا قبل أن یدخل بہا، قال:الثلاث والواحدۃ للبکر سواء )‘‘
’’علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس آدمی نے اپنی عورت کو دخول سے قبل تین طلاق دے دیا تو اس کے حق میں تین طلاق اور ایک طلاق برابر ہے‘‘ [سنن سعید بن منصور:۱؍۳۰۷،واسنادہ ضعیف جدا]
یہ روایت درج ذیل وجوہات کی بناپرسخت ضعیف ہے۔
اول: علی رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والا نامعلوم ہے اس کا نام تک ذکر نہیں ۔
دوم: ابن ابی لیلیٰ کا شیخ رجل بھی نامعلوم ہے اس کا نام تک ذکر نہیں ۔
سوم : ابن ابی لیلیٰ یہ محمد بن عبد الرحمن بن أبی لیلیٰ الکوفی ہے ، اور یہ سخت ضعیف ہے۔
امام شعبۃ بن الحجاج رحمہ اللہ (المتوفی:۱۶۰)نے کہا:
’’ما رأیت أحدا أسوأ حفظا من ابن أبی لیلی ‘‘’’میں نے ابن ابی لیلیٰ سے زیادہ برے حافظہ والا نہیں دیکھا‘‘[الجرح والتعدیل لابن أبی حاتم، ت المعلمی: ۷؍ ۳۲۲،واسنادہ صحیح]
امام أحمد بن حنبل رحمہ اللہ (المتوفی:۲۴۱)نے کہا:
’’کان سیء الحفظ مضطرب الحدیث ‘‘
’’یہ سیء الحفظ اور مضطرب الحدیث ہے‘‘[الجرح والتعدیل لابن أبی حاتم، ت المعلمی:۷؍۳۲۳]
امام ابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی:۳۵۴)نے کہا:
’’کان ردیء الحفظ کثیر الوہم فاحش الخطأ یروی الشیء علی التوہم ویحدث علی الحسبان فکثر المناکیر فی روایتہ فاستحق الترک ترکہ أحمد بن حنبل ویحیی بن معین ‘‘
’’یہ بدتر حافظے والا ، بہت زیادہ وہم کا شکار ہونے والا اور فحش غلطی کرنے والا ہے ، یہ وہم وگمان کی بناپر حدیثیں بیان کردیتا تھا جس کے سبب اس کی احادیث میں منکرات کی بھرمار ہوگی اور نتیجۃً یہ متروک ہونے کے قابل ٹھہرا امام احمد اور امام ابن معین نے اسے ترک کردیا‘‘[المجروحین لابن حبان:۲؍۲۴۴]
محمد بن طاہر ابن القیسرانی رحمہ اللہ (المتوفی:۵۰۷)نے کہا:
’’ممن أجمع علی ضعفہ ‘‘’’ یہ ان لوگوں میں سے ہے جس کے ضعیف ہونے پر اجماع ہے‘‘[تذکرۃ الحفاظ لابن القیسرانی: ص:۲۳۶]
اس کے علاوہ اور بھی بہت سارے محدثین نے اس پر جرح کی بعض نے اس کے سچے ہونے کی گواہی دی ہے لیکن اس کے سییٔ الحفظ اور ضعیف ہونے پر سب کا اتفاق واجماع ہے جیساکہ ابن طاہر القیسرانی نے کہا ہے کما مضی ۔
ساتویں روایت:
امام عبد الرزاق رحمہ اللہ (المتوفی:۲۱۱)نے کہا:
عن أبی سلیمان، عن الحسن بن صالح، عن مطرف، عن الحکم، أن علیا، وابن مسعود، وزید بن ثابت قالوا:’’إذا طلق البکر ثلاثا فجمعہا، لم تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ، فإن فرقہا بانت بالأولی، ولم تکن الأخریین شیئا ‘‘
حکم بن عتیبہ الکندی علی رضی اللہ عنہ اور ابن مسعود و زید بن ثابت رضی اللہ عنہما کے حوالے سے روایت کرتے ہیں کہ ان حضرات نے کہا:’’جب کوئی شخص (اپنی)باکرہ (غیرمدخولہ بیوی)کو بیک زبان تین طلاق دے دے تو وہ اس کے لئے حلال نہیں ہوسکتی جب تک کہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرلے ، اور اگر الگ الگ جملے میں تین طلاق دے تو ایک جملہ سے عورت جدا ہوجائے گی اور بقیہ دو کا کوئی شمار نہ ہوگا‘‘[مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمی:۶؍۳۳۶]
یہ روایت ضعیف ومردود ہے کیونکہ اسے علی رضی اللہ عنہ سے نقل کرنے والا الحکم بن عتیبہ الکندی ہے اور اس کا علی رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت نہیں بلکہ اس کی پیدائش علی رضی اللہ عنہ کی وفات کے دس(۱۰)سال بعد ہوئی ہے ۔چنانچہ علی رضی اللہ عنہ کی وفات رمضان سن ۴۰ہجری میں ہوئی ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی:۸۵۲)نے کہا:
’’ مات فی رمضان سنۃ أربعین ‘‘’’ علی رضی اللہ عنہ کی وفات رمضان ۴۰؁ہجری میں ہوئی ہے‘‘[تقریب التہذیب لابن حجر:رقم:۴۷۵۳]
اور الحکم بن عتیبہ الکندی کی پیدائش سن پچاس(۵۰)ہجری میں ہوئی ہے چنانچہ:
امام ابن حبان رحمہ اللہ (المتوفی:۳۵۴)نے کہا:
’’ولد سنۃ خمسین فی ولایۃ معاویۃ ‘‘’’ اس کی پیدائش امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور امارت میں سن پچاس (۵۰)ہجری میں ہوئی ہے‘‘[الثقات لابن حبان ط االعثمانیۃ:۴؍۱۴۴]
أبو بکر ابن منجویہ(المتوفی:۴۲۸)نے کہا:
’’ولد سنۃ خمسین فی ولایۃ معاویۃ ‘‘’’ اس کی پیدائش امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے دور امارت میں سن پچاس (۵۰)ہجری میں ہوئی ہے‘‘[رجال صحیح مسلم لابن منجویہ:۱؍۱۴۰]
نیز دیکھئے:[تہذیب الکمال للمزی:۷؍۱۲۰]
معلوم ہوا کہ الحکم بن عتیبہ الکندی کا علی رضی اللہ عنہ سے کوئی روایت سننا ناممکن و محال ہے ۔لہٰذا علی رضی اللہ عنہ سے اس کی روایت منقطع وضعیف ہوگی ۔
امام بیہقی رحمہ اللہ (المتوفی:۴۵۸)علی رضی اللہ عنہ سے الحکم بن عتیبہ کی ایک روایت کے بارے میں فرماتے ہیں:
’’وہذا منقطع ، الحکم لم یدرک علیا ‘‘’’ یہ منقطع ہے الحکم بن عتیبہ نے علی رضی اللہ عنہ کا دور نہیں پایا ہے‘‘[معرفۃ السنن والآثار للبیہقی:۱۴؍۳۹۹]
نیز دیکھئے:[تحفۃ التحصیل فی ذکر رواۃ المراسیل :ص:۸۱]
واضح رہے کہ اس روایت میں الحکم بن عتیبہ نے علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ ابن مسعود اور زید بن ثابت رضی اللہ عنہما سے بھی یہی بات نقل کررکھی ہے ۔لیکن ان دونوں صحابہ سے بھی اس کی ملاقات نہیں کیونکہ یہ دونوں صحابہ اس کی پیدائش سے پہلے ہی فوت ہوچکے تھے ۔
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی وفات عثمان رضی اللہ عنہ سے بھی پہلے بتیس (۳۲)یا تینتیس (۳۳)ہجری میں ہوئی ہے۔ دیکھئے:[التاریخ الأوسط للبخاری ت زائد:۱؍۶۰، تہذیب الکمال للمزی:۱۲۶؍۱۶]
اور زیدبن ثابت رضی اللہ عنہ کی وفات پینتالیس (۴۵)ہجری میں ہوئی ہے۔دیکھئے:[الوفیات لابن قنفذ: ص:۶۱ ،تاریخ مولد العلماء ووفیاتہم:۱؍۱۴۴]
آٹھویں روایت:
امام ابن عدی رحمہ اللہ (المتوفی:۳۶۵)نے کہا:
حَدثنا مُحمد بن عَبد الوہاب بن ہشام، حَدثنا علی بن سلمۃ اللبقی، حَدثنا أَبو أسامۃ، عن الأَعمَش، قال:’’کان بالکوفۃ شیخ یقول: سَمعتُ علی بن أبی طالب یقول: إذا طلق الرجل امرأتہ ثلاثا فی مجلس واحد یرد إلی واحدۃ، والناس عنقا واحدا إذ ذاک یأتونہ ویسمعون منہ، قال: فأتیتہ فقرعت علیہ الباب فخرج إلی شیخ، فقلت لہ:کیف سمعت علی بن أبی طالب یقول:إذا طلق الرجل امرأتہ ثلاثا فی مجلس واحد؟ قال:سمعت علی بن أبی طالب یقول:إذا طلق رجل امرأتہ ثلاثا فی مجلس واحد فإنہ یُرد إلی واحد۔قال:فقلت لہ:أَنَّی سمعت ہذا من علی؟ قال:أُخرج إلیک کتابی، فأخرج کتابہ فإذا فیہ:بسم اللّٰہ الرحمٰن الرحیم، ہذا ما سمعت علی بن أبی طالب یقول:إذا طلق الرجل امرأتہ ثلاثا فی مجلس واحد فقد بانت منہ، ولا تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ ۔ قال: قلتُ: ویحک ہذا غیر الذی تقول! قال:الصحیح ہذا، ولکن ہؤلاء أرادونی علی ذالک ‘‘
امام اعمش کہتے ہیں کہ:’’ کوفہ میں ایک شیخ تھا جو کہتا تھا کہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب آدمی ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے تو اسے ایک مانا جائے گا۔اورلوگ جوق درجوق اس کے پاس آتے اور اس سے سنتے ۔کہتے ہیں کہ پھر میں اس کے پاس آیا اس کا دروازہ کھٹکھٹایا تو میرے سامنے یہ شیخ نکلا تو میں نے اس سے پوچھا تم نے علی رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے کیسے سنا ہے کہ جب کوئی شخص ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے ؟ تو اس نے کہا:میں نے علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا کہ جب آدمی ایک ہی مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے دے تو اسے ایک مانا جائے گا۔کہتے ہیں پھر میں نے اس سے کہا:تم نے علی رضی اللہ عنہ سے یہ کہاں سنا ہے ؟ اس نے کہا میں آپ کو اپنی کتاب دکھا تاہوں ، پھر اس نے اپنی کتاب نکالی تو اس میں لکھا تھا:بسم اللہ الرحمن الرحیم یہ میں نے علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو ایک مجلس میں تین طلاق دے دے تو وہ اس سے جدا ہوجائے گی اور اس کے لئے تب تک حلال نہ ہوگی جب تک کہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرلے ۔کہتے ہیں پھر میں نے کہا:تیرا ستیاناس ہو یہ تو اس کے برعکس ہے جو تو بیان کرتا ہے !تو اس نے کہا:صحیح یہی ہے لیکن یہ لوگ مجھ سے یہی سننا چاہتے ہیں ‘‘[الکامل لابن عدی طبعۃ الرشد:۱؍۳۳۲،ومن طریق ابن عدی اخرجہ الخطیب فی الکفایۃ ، ت السورقی:ص:۱۵۰،و البیہقی فی السنن الکبریٰ ط الہند:۷؍۳۳۹،وذکرہ السیوطی فی الدر المنثور:۱؍۶۶۹]
امام اعمش نے جس کوفی شیخ کے حوالے سے یہ روایت بیان کی ہے اس کا نام ذکر نہیں کیا ہے نا معلوم یہ شخص کون ہے ! اس لئے اس کا کوئی بیان ہی معتبر نہیں ۔
نیز اس روایت سے اس کا کذاب ہوناظاہر ہے کیونکہ یہ باعتراف خود اپنی لکھی گئی بات کے خلاف ڈنکے کی چوٹ پر روایت بیان کرتا ہے جو صریح جھوٹ ہے اس لئے اس جھوٹے شخص کی کسی بات کا اعتبار نہیں ۔
نویں روایت:
امام عبد الرزاق رحمہ اللہ (المتوفی:۲۱۱)نے کہا:
عن إبراہیم بن محمد، عن شریک بن أبی نمر قال:’’جاء رجل إلی علی، فقال:إنی طلقت امرأتی عدد العرفج قال:تأخذ من العرفج ثلاثا، وتدع سائرہ ‘‘
شریک بن ابی نمر کہتے ہیں کہ:’’ ایک شخص علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا:میں نے اپنی بیوی کو عرفج (ایک پودے کانام)کی تعداد کے برابر طلاق دی ہے تو علی رضی اللہ عنہ نے کہا:عرفج سے تین کی عدد لے لو اور باقی چھوڑ دو‘‘ [مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمی:۶؍۳۹۴]
یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے ۔اسے بیان کرنے والا امام عبدالرزاق کا استاذ إبراہیم بن محمد یہ إبراہیم بن محمد بن أبی یحییٰ الأسلمی ہے اور یہ کذاب ہے ۔
امام یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ (المتوفی:۱۹۸)نے کہا:
’’کنا نتہمہ بالکذب ‘‘’’ ہم اسے کذب سے متہم کرتے تھے‘‘[ضعفاء العقیلی:۱؍۶۳،واسنادہ صحیح]
امام ابن معین رحمہ اللہ (المتوفی:۲۳۳)نے کہا:
’’ إبراہیم بن أبی یحیی لیس بثقۃ کذاب ‘‘
’’ابراہم بن ابی یحییٰ ثقہ نہیں ہے یہ بہت بڑا جھوٹا ہے‘‘[الجرح والتعدیل لابن أبی حاتم :۲؍۱۲۶]
امام علی بن المدینی رحمہ اللہ (المتوفی:۲۳۴)نے کہا:
’’ ابراہیم بن أبی یحیی کَذَّاب ‘‘
’’ابراہم بن ابی یحییٰ بہت بڑا جھوٹا ہے ‘‘[سؤالات ابن أبی شیبۃ لابن المدینی:ص:۱۲۴]
امام أبو حاتم الرازی رحمہ اللہ (المتوفی:۲۷۷)نے کہا:
’’ إبراہیم بن أبی یحیی کذاب متروک الحدیث‘‘
’’ابراہیم بن ابی یحییٰ بہت بڑا جھوٹا اور متروک الحدیث ہے‘‘[الجرح والتعدیل لابن أبی حاتم :۲؍۱۲۶]
یہ صرف وہ اقوال ہیں جن میں اہل فن نے راوی مذکور کو کذاب کہا ہے ، اس کے علاوہ جو شدید جرحیں اس پر ہوئی ہیں اس کے لئے تہذیب اور عام کتب رجال کی طرف مراجعت کی جائے۔
معلوم ہوا کہ یہ روایت موضوع اور من گھڑت ہے۔
اس کے علاوہ علی رضی اللہ عنہ سے اس روایت کو بیان کرنے والے شریک بن عبد اللہ بن أبی نمر ہیں اورعلی رضی اللہ عنہ سے ان کی ملاقات ثابت نہیں ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے انہیں پانچویں طبقہ کا راوی بتلایا ہے۔[تقریب التہذیب لابن حجر:رقم:۲۷۸۸]
اوراس طبقہ کے رواۃ کی صرف ایک دو صحابہ ہی سے ملاقات ہے ۔[تقریب التہذیب لابن حجر، ت عوامۃ :ص: ۷۴]
یعنی کبار صحابہ سے ان کی ملاقات نہیں ہے۔
لہٰذا یہ روایت موضوع و من گھڑت ہونے کے ساتھ ساتھ سنداً منقطع بھی ہے ۔
تنبیہ: امام بیہقی رحمہ اللہ (المتوفی:۴۵۸)نے کہا:
أخبرنا أبو محمد عبد اللّٰہ بن یوسف، أنا أبو سعید بن الأعرابی، نا الحسن بن محمد بن الصباح الزعفرانی، نا یزید بن ہارون، أنا ہشام بن حسان، عن محمد بن سیرین، عن عبیدۃ السلمانی، عن علی رضی اللّٰہ عنہ قال:’’ما طلق رجل طلاق السنۃ فیندم أبدا‘‘
علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ :’’جو سنت کے مطابق طلاق دے گا وہ ہمیشہ ندامت میں نہیں رہے گا‘‘ [السنن الکبری للبیہقی، ت عطا:۷؍۵۳۲،رقم :۱۴۹۱۷، وأخرجہ أیضا الضیا المقدسی فی المختارۃ:۲؍۲۴۸، من طریق یزید بہ ، وانظر: المطالب العالیۃ:۸؍۴۱۱]
ممکن ہے کہ کوئی کہے کہ اس اثر کا مفہوم مخالف یہ نکلا کہ اگر کوئی طلاق بدعی دے گا یعنی ایک ساتھ تین طلاق دے گا تو وہ نادم ہوگا ۔
تو عرض ہے کہ یہ مفہوم مخالف نکل سکتا ہے لیکن اس سے یہ ثابت نہیں ہوگا کہ تین طلاق کے وقوع پر علی رضی اللہ عنہ کا فتویٰ ہے ، کیونکہ یہ مسلم ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے تین طلاق دینے والوں کے لئے سرکاری فرمان جاری کردیا تھا کہ ان کی تین طلاق نافذ کردی جائے گا۔
تو علی رضی اللہ عنہ کا یہ قول اسی تناظر میں ہوسکتا ہے کہ اگر کوئی سنی طلاق دے تو رجوع کرسکتا ہے اس کو رجوع سے کوئی روکنے والا نہیں ہے ،لیکن اگر کوئی بدعی طلاق دے گا توفرمان فاروقی کے تحت اس کی بیوی الگ کردی جائے گی اور وہ ہمیشہ کے لئے پچھتاتا رہے گا۔
یا درہے کہ علی رضی اللہ عنہ سے بسند صحیح یہ صریح فتویٰ ثابت نہیں ہے کہ تین طلاق دینے سے تین واقع ہوجائے گی ، بلکہ ان سے تین طلاق کے ایک ہونے کا فتوی مروی ہے جیساکہ ماقبل میں گزرا۔
 
Top