ذیشان خان

Administrator
احناف کی مصطلحہ طلاق حسن کا جائزہ

✍ کفایت اللہ السنابلی

احناف کے یہاں طلاق سنت کی ایک قسم طلاق حسن بھی ہے ، اس کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر اپنی بیوی کو ایک طہر میں ایک طلاق دے اس کے بعد اگلا حیض گزرنے کے بعد دوسرے طہر میں دوسری طلاق دے اس کے بعد اگلا حیض گزرنے کے بعد تیسرے طہر میں تیسری طلاق دے ۔دیکھئے:[الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی ت نعیم:ج:۳،ص:۱۵۰]
اس طریقہ پر طلاق دینا طلاق حسن نہیں بلکہ طلاق بدعت ہے۔بلکہ طلاق بدعت میں بھی یہ سب سے بدترین طریقہ ہے ۔
کیونکہ جان بوجھ کر اور بلا ضرورت تین طلاق دلوائی جارہی ہے ۔جبکہ سب کا اس بات پر اتفاق ہے کہ عورت کو جدا کرنے کے لئے محض ایک طلاق دینا کافی ہے، اسی کو تو احناف طلاق احسن کہتے ہیں۔تو جب ایک طلاق سے عورت جدا ہوسکتی ہے ، اور عدت گزرنے کے بعد وہ دوسرے شوہر سے شادی کرسکتی ہے ، تو پھر بلاوجہ تین طلاق دے کر اسے جدا کرنا کہاں کی عقلمندی ہے ؟
بہر حال احناف اپنے اس طریقۂ طلاق کے حق میں دو روایات پیش کرتے ہیں ، ایک مرفوع اور ایک موقوف ، ذیل میں ان دونوں روایات کی حقیقت پیش کی جارہی ہے۔
مرفوع روایت:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تھی اس واقعہ سے متعلق متعدد روایات ہیں ، انہی میں سے ایک روایت عطاء الخراسانی کی سند والی ہے ، اس میں اللہ کے نبی ﷺ کے یہ الفاظ نقل ہوئے ہیں:
’’قد أخطأت السنۃ، والسنۃ أن تستقبل الطہر فتطلق لکل قرء‘‘
’’تم نے سنت کے خلاف کیا ہے ، سنت یہ ہے کہ تم طہر کا انتظار کرو اور ہر طہر میں طلاق دو‘‘[المعجم الکبیر للطبرانی: ۱۳؍۲۵۱،مسند الشامیین للطبرانی:۳؍۳۵۴،وإسنادہ ضعیف]
اس سے استدلال کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ نبی ﷺ نے ہر طہر میں طلاق دینے کاحکم دیاہے ، اور طلاق کی تعداد تین ہے، اس کا مطلب ہوا کہ ہر طہر میں باری باری تین طلاق دینی ہے۔
عرض ہے کہ:
یہ روایت ضعیف ومردود ہے ۔ لہٰذا اس سے استدلال درست نہیں ۔
موقوف روایت:
امام نسائی رحمہ اللہ (المتوفی:۳۰۳)نے کہا:
أخبرنا محمد بن یحیی بن أیوب قال حدثنا حفص بن غیاث قال حدثنا الأعمش عن أبی إسحاق عن أبی الأحوص عن عبد اللّٰہ أنہ قال:’’طلاق السنۃ تطلیقۃ وہی طاہر فی غیر جماع فإذا حاضت وطہرت طلقہا أخری فإذا حاضت وطہرت طلقہا أخری ثم تعتد بعد ذالک بحیضۃ ‘‘
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول ہے :’’کہ طلاق سنت یہ ہے کہ طہر کی حالت میں جماع کیے بغیر ایک طلاق دی جائے پھر جب وہ حیض کے بعد پاک ہو تو اسے دوسری طلاق دے دے پھر جب اسے حیض آئے اور وہ حیض سے پاک ہوجائے تو اسے تیسری طلاق دے دے پھر اس کے بعد وہ عورت ایک حیض عدت گزارے گی‘‘[سنن النسائی:۶؍۱۴۰،رقم:۳۳۹۴، السنن الکبریٰ للنسائی:۵؍۲۴۹، وأخرجہ أیضا ابن ماجہ فی سننہ: رقم:۲۰۲۱،وابن أبی شیبہ فی مصنفہ:۴؍۵۸،والطبرانی فی المعجم الکبیر:۹؍۳۲۱،والدارقطنی فی سننہ:۵؍۹،رقم:۳۸۹۱،والبیہقی فی سننہ:۷؍۵۴۳، کلہم من طریق حفص بن غیاث بہ]
یہ روایت ضعیف ہے ، اس میں کئی علتیں ہیں:
پہلی علت:
أبو إسحاق السبعی نے عن سے روایت کیا ہے اور یہ تیسرے طبقہ کے مدلس ہیں۔[طبقات المدلسین لابن حجر :ص:۴۲]
دوسری علت:
جس روایت میں أبو إسحاق السبعی نے سماع کی صراحت کی ہے اس میں بھی تین طلاق نہیں بلکہ صرف ایک ہی طلاق کی بات ہے۔چنانچہ:
امام إسماعیل بن إسحاق القاضی الجہضمی (المتوفی:۲۸۲)نے کہا:
حدثنا حجاج بن المنہال وحفص بن عمر وسلیمان بن حرب واللفظ لحجاج قال حدثنا شعبۃ قال اخبرنی ابو اسحاق قال سمعت ابا الاحوص قال:’’قال عبد اللّٰہ (یا أیہا النبی إذا طلقتم النساء فطلقوہن لعدتہن)قال الطلاق للعدۃ ان تطلقہا وہی طاہر ثم تدعہا حتی تنقضی عدتہا او تراجعہا ان شئت ، وزاد حجاج قال قال شعبۃ واہل الکوفۃ یقولون من غیر جماع‘‘
عوف بن مالک ابو الأحوص کہتے ہیں :’’کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (یا أیہا النبی إذا طلقتم النساء فطلقوہن لعدتہن)کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ عدت میں طلاق دینے کا مطلب یہ ہے کہ تم عورت کو پاکی کی حالت میں طلاق دو یہاں تک کہ اس کی عدت ختم ہوجائے یا تم اس سے رجوع کرلو اگر چاہو ، امام شعبہ کہتے ہیں کہ اہل کوفہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ بھی نقل کیا ہے کہ طہر میں جماع کے بغیر طلاق دی جائے‘‘[أحکام القرآن للجہضمی:ص:۲۳۵،رقم:۴۱۸،وإسنادہ صحیح فقد صرح أبواسحاق بالسماع، وأخرجہ الطبرانی فی المعجم الکبیر:۹؍۳۲۲،رقم:۹۶۱۳،فقال: حدثنا علی بن عبد العزیز، ثنا حجاج بن المنہال، ثنا شعبۃ بہ مع تصریح السماع من أبی إسحاق وإسنادہ صحیح أیضا]
ملاحظہ فرمائیں!
یہ سند صحیح ہے اور اس میں نہ صرف یہ کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ایک ہی طلاق دینے کی بات کہی ہے بلکہ اس ایک طلاق کے بعد دو ہی اختیار دیا ہے یا تو رجوع کرلیا جائے یا اس کی عدت ختم ہونے دی جائے اور عورت خود بخود جدا ہوجائے۔
تیسری علت:
ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد ابو الأحوص عوف بن مالک کے علاوہ جب ان کے دوسرے شاگردوں نے ان سے اس مفہوم کی روایت بیان کی تو اس میں ایک ہی طلاق کا ذکر ہے ۔مثلاً:
عبد الرحمن بن یزید کی روایت:
حدثنا عبد اللّٰہ بن إدریس ووکیع وحفص وأبو معاویۃ، عن الأعمش، عن مالک بن الحارث، عن عبد الرحمٰن بن یزید، عن عبد اللّٰہ،(فطلقوہن لعدتہن)قال:’’طاہرا فی غیر جماع ‘‘
عبدالرحمن بن یزید کہتے ہیں کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (فطلقوہن لعدتہن)کی تفسیر میں فرمایا:’’ کہ بغیر جماع کے طہر کی حالت میں طلاق دو‘‘[مصنف ابن أبی شیبۃ، ت الشثری:۱۰؍۸۵،وإسنادہ صحیح ، و عنعنۃ الأعمش مقبولۃ إذا روی عنہ حفص کما ہنا]
ابو وائل شقیق بن سلمہ کی روایت:
حدثنا محمد بن أحمد بن أبی خیثمۃ، ثنا إسحاق بن إبراہیم العبدی، ثنا یحیی بن زکریا الکوفی، ثنا الأعمش، عن شقیق، عن عبد اللّٰہ، (فطلقوہن لعدتہن)، قال عبد اللّٰہ:’’الطلاق فی طہر من غیر جماع ‘‘
ابو وائل شقیق بن سلمہ کہتے ہیں کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے (فطلقوہن لعدتہن)کی تفسیر میں فرمایا: ’’طلاق طہر میں بغیر جماع کے دی جائے‘‘[المعجم الکبیر للطبرانی:۱۰؍۲۰۲،رقم:۱۰۴۶۵،وإسنادہ صحیح ، عنعۃ الأعمش عن أبی وائل شقیق مقبولۃ کما قال الذہبی]
چوتھی علت:
ابواسحاق سے امام اعمش کے علاوہ ان کے دوسرے سات شاگردوں نے بھی یہ روایت بیان کی ہے لیکن ان ساتوں میں سے کسی نے بھی تین طلاق کا ذکر نہیں کیا ہے۔ملاحظہ ہو ان کی روایات کے حوالے:
شعبہ عن أبی إسحاق [المعجم الکبیر للطبرانی:۹؍۳۲۲]
سفیان عن أبی إسحاق [مصنف عبد الرزاق الصنعانی:۶؍۳۰۳]
شریک عن أبی إسحاق [سنن سعید بن منصور:۱؍۲۹۸]
زکریا عن أبی إسحاق [المعجم الکبیر للطبرانی:۹؍۳۲۲]
إسرائیل عن أبی إسحاق [مصنف ابن أبی شیبۃ :۵؍۴]
سلام بن سلیم عن أبی إسحاق [مصنف ابن أبی شیبۃ :۵؍۱]
زہیر بن معاویۃ عن أبی إسحاق [أحکام القرآن للطحاوی:۲؍۳۲۱،وانظر:مختصر اختلاف العلماء :۲؍۳۷۶]
ابو اسحاق کے ان شاگردوں میں سے کسی نے بھی تین طلاق کی بات ذکر نہیں کی جیساکہ اعمش نے ایک روایت میں ذکر کیا ہے ۔
امام إسماعیل بن إسحاق القاضی الجہضمی (المتوفی :۲۸۲)نے اسی علت کی بناپر اس روایت کو ضعیف قراردیتے ہوئے فرمایا:
’’ ہذا الحدیث لا احسبہ محفوظا عن ابی اسحاق لان غیر واحد قد روی عن ابی اسحاق ہذا الحدیث علی خلاف ذالک ‘‘
’’اس حدیث کو میں نہیں سمجھتا کہ ابواسحاق سے محفوظ (ثابت شدہ )ہے کیونکہ ابو اسحاق سے کئی ایک نے اس حدیث کو اس کے خلاف روایت کیا ہے‘‘[أحکام القرآن للجہضمی:ص:۲۳۵]
امام طحاوی رحمہ اللہ (المتوفی:۳۲۱)بھی اسی علت کے سبب اس روایت کو ضعیف قراردیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ وقد خالف الأعمش فی ہذا جماعۃ منہم شعبۃ والثوری والزہری وزہیر بن معاویۃ کلہم عن أبی إسحاق عن أبی الأحوص عن عبد اللّٰہ فی قول اللّٰہ (فطلقوہن)أن یطلقہا طاہرا من غیر جماع ثم یدعہا حتی تنقضی عدتہا أویراجعہا إن شاء و لم یذکر الطلاق عند کل طہروہؤلاء مقدمون فی حفظ حدیث ابی إسحاق عن الأعمش ‘‘
’’اس روایت میں اعمش کی مخالفت ایک جماعت نے کی ہے جن میں شعبہ ، سفیان ثوری ، زہری اور زہیر بن معاویہ ہیں ، ان سب نے أبو إسحاق عن أبی الأحوص کے طریق سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ نقل کیا کہ انہوں نے (فطلقوہن)کی تفسیر میں فرمایا کہ :عورت کو اس کے طہر میں جماع کے بغیر طلاق دے ، پھر اسے چھوڑ دے یہاں تک کی اس کی عدت ختم ہوجائے یا اس سے رجوع کرلے اگر اس کی مرضی ہو ، یہاں ہر طہر کے وقت طلاق کا ذکر نہیں ہے ، اور یہ رواۃ ابواسحاق کی حدیث کو یاد کرنے میں اعمش پر مقدم ہیں‘‘[مختصر اختلاف العلماء للطحاوی :۲؍ ۳۷۶]
کیا علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح کہا ہے؟
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زیر بحث روایت علامہ البانی رحمہ اللہ کی کتاب صحیح سنن النسائی میں درج ہے اور اس کے بعد لکھا ہے:
[صحیح ارواء الغلیل:۲۰۵۱]
[صحیح سنن النسائی للألبانی:ص:۴۶۷،رقم :۳۳۹۴]
لیکن ارواء الغلیل میں محولہ نمبر( ۲۰۵۱)کے تحت علامہ البانی رحمہ اللہ نے ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد عبد الرحمن بن یزید والی روایت کو صحیح کہا ہے ۔
لیکن أبو الأحوص والی روایت جو ابواسحاق السبیعی کے طریق سے مروی ہے جو کہ سنن نسائی وغیرہ میں ہے اسے صحیح نہیں کہا ہے بلکہ آگے علامہ البانی رحمہ اللہ نے سنن بیہقی سے أبو إسحاق السبیعی عن أبی الأحوص والی روایت نقل کرنے کے بعدکہا:
’’ وإسنادہ صحیح لولا أن أبا إسحاق وہو السبیعی عنعنہ عن أبی الأحوص وکان مدلسا ‘‘
اس کی سند صحیح ہوتی اگر ابواسحاق جوکہ السبیعی ہے اس نے أبو الأحوص سے ’’عن ‘‘سے روایت نہ کیا ہوتا ، کیونکہ یہ مدلس ہے ۔[إرواء الغلیل:۷؍۱۱۸،رقم :۲۰۵۱]
صاف ظاہر ہے کہ علامہ البانی رحمہ اللہ نے اس روایت کو صحیح نہیں کہا ہے بلکہ ضعیف کہا ہے۔
اب ضعیف سنن نسائی میں علامہ البانی رحمہ اللہ کی طرف غلط نسبت کس کی طرف سے ہے ، یہ اللہ ہی بہتر جانتا ہے ، ممکن ہے علامہ البانی رحمہ اللہ کے ساتھ تعاون کرنے والے ان کے کسی شاگرد کی چوک سے ایسا ہوا ہے ، یا خود علامہ البانی رحمہ اللہ ہی کو وہم ہوگیا ہو ، واللہ اعلم۔
لیکن جو بھی معاملہ ہو اس حکم کی بنیاد علامہ البانی رحمہ اللہ کی دوسری کتاب ارواء الغلیل ہے اور اس کتاب میں اس سند کی تصحیح نہیں بلکہ تضعیف ہے۔
حافظ زبیر علی زئی صاحب کا حکم:
حافظ زبیر علی زئی صاحب کی تخریج سے سنن النسائی کا جو نسخہ دار السلام سے مطبوع ہے اس میں اس حدیث کی تخریج میں لکھاہے:
’’حسن ، أخرجہ ابن ماجہ ، الطلاق ، باب طلاق السنۃ :ح:۲۰۲۱من حدیث حفص بہ وہو فی الکبریٰ: ح:۵۵۸۷ وصححہ ابن حزم فی المحلی: ۱۰؍ ۱۷۲ ، مسئلۃ : ۱۹۴۹، وللحدیث شواہد عن ابن أبی شیبہ وغیرہ أبواسحاق عنعن ‘‘
’’حسن ہے ، اسے ابن ماجہ نے کتاب الطلاق ، باب طلاق السنہ :حدیث نمبر :۲۰۲۱،میں حفص کے طریق سے روایت کیا ہے یہ حدیث امام نسائی کی السنن الکبریٰ میں بھی حدیث نمبر :۵۵۸۷،کے تحت ہے ، اسے امام ابن حزم نے محلی:۱۰؍۱۷۲،مسئلۃ:۱۹۴۹،میں صحیح کہا ہے ، اور ابن ابی شیبہ وغیرہ کے یہاں اس حدیث کے شواہد ہیں ، یہاں سند میں ابواسحاق نے عن سے روایت کیا ہے‘‘[سنن نسائی :مطبوعہ دار السلام :ص:۲۸۴،رقم :۳۴۲۳]
سب سے پہلے تو ہم یہ واضح کردیں کہ امام ابن حزم رحمہ اللہ نے المحلی میں محولہ مقام پر جس روایت کو صحیح کہا ہے وہ اس طرح ہے:
ومن طریق أحمد ابن شعیب أنا عمرو بن علی نا یحیی بن سعید القطان عن سفیان الثوری عن أبی اسحاق السبیعی عن أبی الاحوص۔عن عبد اللّٰہ بن مسعود قال:’’طلاق السنۃ أن یطلقہا طاہرا من غیر جماع، وہذا فی غایۃ الصحۃ عن ابن مسعود‘‘
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے کہا:’’طلاق سنت یہ ہے کہ عورت کو طہر کی حالت میں بغیر ہمبستری کے طلاق دے ، (ابن حزم کہتے ہیں:)ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی یہ روایت حددرجہ صحیح ہے‘‘ [المحلی لابن حزم ط ۔دار الفکر:۱۰؍۱۷۲، دوسرا نسخہ المحلی لابن حزم، ت بیروت:۹؍۴۰۰]
قارئین ملاحظہ فرمائیں!
ابن حزم رحمہ اللہ جس روایت کو صحیح کہہ رہے ہیںاس میں تین بار طلاق دینے کی بات نہیں ہے بلکہ صرف ایک ہی بار طلاق دینے کی بات ہے ، اور یہ چیز ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے بالکل ثابت ہے ، جیساکہ ابو اسحاق السبیعی کی مصرح بالسماع والی روایت میں ہے کما مضی۔
اس کے بعد اس کے آگے امام ابن حزم رحمہ اللہ نے اعمش کی تین طلاق والی روایت بھی پیش کی ہے ، مگر اسے صحیح قطعاً نہیں کہا ہے ، بلکہ یہ روایت اس صفحہ (۱۷۲)پر موجود ہی نہیں ہے جس کا حوالہ مرحوم حافظ زبیر علی زئی صاحب نے دیا ہے۔بلکہ یہ اگلے صفحہ (۱۷۳)پر موجود ہے ۔دیکھئے:[المحلی لابن حزم مطبوعۃ ادارۃ الطباعۃ المنیرریۃ ، بتحقیق محمد منیر الدمشقی: ج:۱۰،ص:۱۷۲۔۱۷۳]
اس سے صاف ظاہر ہے موصوف سے چوک ہوئی ہے کیونکہ انہوں نے سنن نسائی والی جس روایت سے متعلق امام ابن حزم رحمہ اللہ کی تصحیح کے لئے المحلی کے جس صفحہ کا حوالہ دیا ہے وہاں پر یہ روایت ہے ہی نہیں بلکہ دوسری روایت موجود ہے ۔
اس وضاحت کے بعد عرض ہے کہ حافظ زبیر علی زئی صاحب ابواسحاق کے عنعنہ کے سبب اس سند کا ضعیف ہونا تسلیم کررہے ہیں جیساکہ آخر میں انہوں نے لکھ دیا ، لیکن موصوف نے بعض شواہد کو ابن ابی شیبہ وغیرہ کی طرف منسوب کرکے اس کی بنیاد پر اس روایت کو حسن کہا ہے۔
عرض ہے کہ ابن ابی شیبہ ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں کتب احادیث واثار کے جتنے بھی مطبوعہ اور غیرمطبوعہ ذخیرے موجود ہیں کسی میں بھی اس روایت کا کوئی شاہد نہیں ہے، نہ صحیح سند سے، نہ ضعیف سند سے ، بلکہ موضوع ومن گھڑت سند سے بھی اس کا کوئی شاہد دنیا کے کسی کونے میں وجود نہیں رکھتا ۔
غالباً حافظ زبیرعلی زئی صاحب نے مصنف ابی شیبہ وغیرہ میں سرسری طور پر دیکھ کر ایسا لکھ دیا ، لیکن بعد میںانہیں خود پتہ چل گیا کہ یہ بات تو خلاف حقیقت ہے ، اس لئے موصوف نے اپنی کتاب انوار الصحیفہ کے آخری ایڈیشن میں اسے ضعیف تسلیم کرلیا اور لکھا:
(۳۴۲۳۔۳۴۲۴):طلاق السنۃ تطلیقۃ وہی طاہر…إسناد ضعیف؍جہ ۲۰۲۰۔۲۰۲۱،أبوإسحاق عنعن
سنن نسائی حدیث نمبر۳۴۲۳(ترقیم غ۳۳۹۴)اور حدیث نمبر ۳۴۲۴(ترقیم غ۳۳۹۵)، جس کے الفاظ ہیں :’’طلاق سنت یہ ہے کہ طہر کی حالت میں طلاق دی جائے۔یہ سند ضعیف ہے ، یہ ابن ماجہ حدیث نمبر :۲۰۲۰،اور حدیث نمبر:۲۰۲۱میں بھی موجود ہے اس میں ابواسحاق نے عن سے روایت کیا ہے‘‘[أنوار الصحیفۃ ضعیف سنن النسائی : ص:۳۷۴،و انظر ایضا:ضعیف سنن ابن ماجہ: ص:۴۵۱]
عرض ہے کہ:
موصوف نے یہ بہت اچھا کام کیا اپنی غلطی سے رجوع کرلیا اور جس مردود روایت کو حسن کہا تھا اسے ضعیف تسلیم کر لیا، لیکن افسوس کہ اس مردود روایت کو ضعیف کہنے کے ساتھ ساتھ انہوں نے سنن نسائی اور ابن ماجہ والی اس روایت کو بھی ضعیف کہہ دیا جس میں ایک ہی طلاق کا ذکر تھا جبکہ یہ بات ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے ثابت ہے کیونکہ ان الفاظ والی روایت میں ابواسحاق السبیعی نے امام إسماعیل القاضی اور امام طبرانی کی سند میں سماع کی صراحت کردی ہے ۔ [أحکام القرآن للقاضی اسماعیل:ص:۲۳۵،المعجم الکبیر للطبرانی:۹؍۳۲۲]
بہر حال ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی تین طلاق والی جس روایت کو موصوف نے پہلے حسن کہا تھا بعد میں اس کا ضعیف ہونا تسلیم کرلیا ہے ۔لہٰذا سنن النسائی اور سنن ابن ماجہ مطبوعہ دارالسلام میں ان کی جو تحسین ہے وہ غلط ہے۔
خلاصہ کلام یہ کہ:
احناف کی مصطلحہ طلاق حسن کے تائید میں پیش کی جانے والی مرفوع اورموقوف دونوں روایات ضعیف ہیں ۔
تنبیہ :
طلاق ثلاثہ سے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہ والی مسند احمد کی حدیث کے اخیر میں ہے:
’’فکان ابن عباس یری أنما الطلاق عند کل طہر ‘‘
’’ابن عباس رضی اللہ عنہ فتویٰ دیتے کہ طلاق الگ الگ طہر میں ہی معتبر ہوگی‘‘[مسند أحمد ط المیمنیۃ: ۱؍۲۶۵، رقم:۲۳۸۷]
احناف تو اس سند کو ضعیف گردانتے ہیں جس کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنہ کی یہ حدیث اور ان کا یہ فتویٰ منقول ہے ، لیکن یہ حدیث بالکل صحیح وثابت ہے ۔اور اس کے اخیر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا جو یہ فتویٰ منقول ہے کہ ان کا خیال تھا کہ طلاق ہر طہر میں ہوگی ۔تو کوئی اس سے یہ نہ سمجھے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما بھی یہ موقف رکھتے ہیں کہ یکے بعد دیگرے مسلسل تین طہر میں طلاق دینا سنت ہے ، جسے احناف طلاق حسن کہتے ہیں۔
کیونکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے اس فتویٰ میں یہ صراحت قطعاً نہیں ہے کہ وہ تین طہر میں مسلسل طلاق دینے کی بات کرتے ہیں بلکہ ان کا مقصود یہ ہے کہ ایک ہی طہر میں دی گئی تین طلاق معتبر نہ ہوگی البتہ اگر الگ الگ طہر میں سنت کے مطابق طلاق ہوچکی ہے ، یعنی دو طلاق کے بعد رجوع یا تجدید نکاح ہوگیا ہے پھر تیسری طلاق بھی طہر میں ہی دی گئی تو ایسی طلاق ہی معتبر ہوگی۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ دوسرے مقامات پر طریقۂ طلاق سے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنہماکا فتویٰ وبیان نقل ہوا ہے اور وہاں انہوں نے مسلسل تین طہر میں تین طلاق دینے کی بات نہیں کہی ہے مثلاً :
امام دارقطنی رحمہ اللہ (المتوفی:۳۸۵)نے کہا:
نا دعلج، نا الحسن بن سفیان،نا حبان ،نا ابن المبارک،أنا سیف،عن مجاہد،قال:’’جاء رجل من قریش إلی ابن عباس ،فقال:یا ابن عباس إنی طلقت امرأتی ثلاثا وأنا غضبان ،فقال:إن ابن عباس لا یستطیع أن یحل لک ما حرم علیک عصیت ربک وحرمت علیک امرأتک، إنک لم تتق اللّٰہ فیجعل لک مخرجا ،ثم قرأ :{إذا طلقتم النساء فطلقوہن لعدتہن}طاہرا من غیر جماع‘‘
مجاہد کہتے ہیں :’’کہ قریش کا ایک شخص ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس آیا اور کہا:اے ابن عباس ! میں نے اپنی بیوی کو تین طلاق دے دی اور میں غصہ میں تھا ، تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا:ابن عباس کے پاس اس بات کی طاقت نہیں ہے کہ جو چیز تم پر حرام ہوگئی اسے حلال بنادیں ، تم نے اپنے رب کی نافرمانی کی اورتمہاری بیوی تم پر حرام ہوچکی ہے ، تم نے اللہ کا تقویٰ اختیار نہیں کیا کہ اللہ تمہارے لئے کوئی راہ نکالتا، پھر ابن عباس رضی اللہ عنہما نے قرآن کی یہ آیت پڑھی (جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دوتو ان کی عدت میں طلاق دو)یعنی ان کی پاکی کی حالت میں ہمبستری سے پہلے‘‘ [سنن الدارقطنی، ت الارنؤوط:۵؍۲۵،وإسنادہ صحیح]
یہاں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے قرآن کی تفسیر کرتے ہوئے طریقۂ طلاق بتایا لیکن مسلسل تین طہر میں طلاق دینے کی بات نہیں کی ۔
اسی طرح ایک روایت میں عکرمہ ہی نے ابن عباس رضی اللہ عنہ کی جائز طلاق کی قسمیں نقل کی ہیں ان میں بھی طلاق حسن والی کیفیت نقل نہیں کی ۔چنانچہ:
امام عبد الرزاق رحمہ اللہ (المتوفی۲۱۱)نے کہا:
عن وہب بن نافع، أن عکرمۃ أخبرہ أنہ سمع ابن عباس یقول:’’الطلاق علی أربعۃ وجوہ: وجہان حلال، ووجہان حرام، فأما الحلال، فأن یطلقہا طاہرا عن غیر جماع، أو حاملا مستبینا حملہا، وأما الحرام، فأن یطلقہا حائضا، أو حین یجامعہا لا یدری أشتمل الرحم علی ولد أم لا؟‘‘
عکرمہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے ابن عباس رضی اللہ عنہما کو فرماتے ہوئے سنا:’’طلاق کی چار قسمیں ہیں ، دو حلال ہیں اور دو حرام ہیں ، جہاں تک حلال طلاق کی بات ہے تو اس کی ایک قسم یہ ہے کہ طہر کی حالت میں بغیر جماع کے طلاق دے ، اور دوسری قسم یہ ہے کہ حمل کی حالت میں حمل ظاہر ہوجائے توطلاق دے ، اور جہاں تک حرام طلاق کی بات ہے تو اس کی ایک قسم یہ ہے کہ یہ حیض کی حالت میں طلاق دے اور دوسری قسم یہ ہے کہ جماع کے بعد طلاق دے اور اسے پتہ نہ ہو کہ رحم میں بچہ ہے یا نہیں ؟‘‘[مصنف عبد الرزاق، ت الأعظمی:۶؍۳۰۷،وإسنادہ حسن ، وہب بن نافع ذکرہ ابن حبان فی الثقات واحتج بہ ابن حزم فی محلاہ ولم یغمزہ أحد بشیء ، ومن طریق عبدالرزاق أخرجہ الدارقطنی فی سننہ: رقم :۳۸۹۰،و أیضا :رقم:۳۹۹۰،والبیہقی فی سننہ: رقم:۱۴۹۱۶]
اس روایت میں غور کیجئے کہ اسے عکرمہ ہی نقل کررہے ہیں اور اس میں ابن عباس رضی اللہ عنہما نے طلاق کی جائز قسموں کو بتایا ہے لیکن مسلسل تین طہر میں طلاق دینے کا کوئی طریقہ نہیں بتایا ہے ۔یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما احناف کی مصطلحہ طلاق حسن والی طلاق کو سنت نہیں سمجھتے اور مسند احمد میں منقول ان کے فتویٰ کا مطلب وہی ہے جس کی وضاحت اوپر ہوچکی ہے۔
امام ابن جریر الطبری رحمہ اللہ (المتوفی:۳۱۰)نے کہا:
حدثنی علی، قال:ثنا أبو صالح، قال:ثنی معاویۃ، عن علی:’’ عن ابن عباس، فی قولہ:(فطلقوہن لعدتہن)یقول:لا یطلقہا وہی حائض، ولا فی طہر قد جامعہا فیہ، ولکن یترکہا حتی إذا حاضت وطہرت طلقہا تطلیقۃ، فإن کانت تحیض فعدتہا ثلاث حیض، وإن کانت لا تحیض فعدتہا ثلاثۃ أشہر، وإن کانت حاملا، فعدتہا أن تضع حملہا ‘‘
علی بن ابی طلحہ کہتے ہیں:’’ کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ (فطلقوہن لعدتہن)کی تفسیر میں فرماتے تھے کہ : عورت کو حیض کی حالت میں طلاق نہیں دے گا اور نہ ایسے طہر میں جس میں جماع کیا ہے ، بلکہ عورت کو چھوڑ دے یہاں تک کہ جب اسے حیض آئے اور پھر وہ پاک ہو تو ایک طلاق دے ، پھر اگر اسے حیض آئے تو اس کی عدت تین حیض ہے، اور اگر اس کا حیض بند ہوجائے تو اس کی عدت تین ماہ ہے ، اور اگر وہ حمل سے ہو تو اس کی عدت وضع حمل ہے ‘‘ [تفسیر الطبری، ط ہجر:۲۳؍۲۹]
اس روایت سے بھی معلوم ہوا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہما ایک طہر کے بعد دوسرے طہر میں طلاق دینے کے قائل نہیں ہیں کیونکہ وہ اس کے بعد تین حیض عدت بتارہے ہیں ۔
دکتور حکمت بن بشیر بن یاسین الموصلی نے اس کی سند کو حسن کہا ہے ۔دیکھئے :[الصحیح المسبور من التفسیر بالمأثور:۴؍۴۹۸]
علی ابن ابی طلحہ تک سند حسن ہے کیونکہ یہ نسخہ کی روایت ہے مگر علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بیچ کا واسطہ معلوم نہیں ہے ہمارے نزدیک یہی راجح ہے۔
لیکن بعض اہل علم کا خیال ہے علی اور ابن عباس رضی اللہ عنہ کے بیچ کا واسطہ معلوم ہے اور وہ مجاہد یا عکرمہ یا سعید بن جبیر ہیں اور یہ سب ثقہ ہیں ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی:۸۵۲)رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’بعد أن عرفت الواسطۃ وہی معروفۃ بالثقۃ حصل الوثوق بہ‘‘
’’ جب علی بن ابی طلحہ اور ابن عباس رضی اللہ عنہما کے بیچ کا واسطہ معلوم ہوگیا کہ یہ ثقہ تو اس کا قابل اعتماد ہونا ثابت ہوگیا ‘‘[الأمالی المطلقۃ لابن حجر:ص:۶۲]
دکتور حکمت بن بشیر بن یاسین الموصلی کی تحقیق یہ ہے کہ یہ واسطہ مجاہد کا ہے جو کہ ثقہ ہیں، دیکھئے:[الصحیح المسبور من التفسیر بالمأثور:۱؍۴۷]
اسی لئے انہوں نے اس سند کو حسن کہا ہے ۔
عطیہ بن نوری بن محمد کی تحقیق یہ ہے کہ یہ واسطہ مجاہد کا ہے جو کہ ثقہ ہیں، دیکھئے:[أسانید نسخ التفسیر :ص:۴۱۵]
ان اہل علم کی تحقیق جن حضرات کی نظر میں راجح ہے ان کے نزدیک یہ روایت بھی اسی بات کی دلیل ہے جسے ہم نے اوپر واضح کیا ہے۔
نیز ابن عباس رضی اللہ عنہما کے شاگردامام طاؤس رحمہ اللہ کا فتویٰ بھی صحیح سند سے ملاحظہ ہو:
امام عبد الرزاق رحمہ اللہ (المتوفی:۲۱۱)نے کہا:
عن معمر،عن ابن طاوس،عن أبیہ،فی قولہ تعالٰی:(فطلقوہن)قال:’’إذا أردت الطلاق فطلقہا حین تطہر،قبل أن تمسہا تطلیقۃ واحدۃ،ولا ینبغی لک أن تزید علیہا حتی تخلو ثلاثۃ قروء ، فإن واحدۃ تبینہا،ہذا طلاق السنۃ‘‘
امام طاؤس رحمہ اللہ (فطلقوہن)کی تفسیر میں فرماتے ہیں :’’کہ اگر تم طلاق کا ارادہ کرو تو عورت کو طہر کی حالت میں جماع سے پہلے ایک طلاق دو ، اور یہ درست نہیں ہے اس کے بعد مزید طلاق دو یہاں تک کہ تین حیض کی عدت گزر جائے اس کے بعد اس ایک طلاق سے وہ عورت جدا ہوجائے گی ، یہی سنی طلاق ہے‘‘[تفسیر عبد الرزاق :۳؍ ۳۱۶،وإسنادہ صحیح]
امام طاؤس رحمہ اللہ نے بہت صریح لفظوں میں کہا ہے کہ طہر میں ایک طلاق دینے کے بعد رک جائے اور مزید طلاق نہ دے اور تین حیض کی عدت گزرنے دے کیونکہ یہ ایک طلاق اسے جدا کردے گی یہی طلاق سنت ہے ۔
بہت ممکن ہے کہ امام طاؤس رحمہ اللہ کا ماخذ ابن عباس رضی اللہ عنہما ہی کی تفسیر ہو کیونکہ وہ تفاسیر ابن عباس کے رواۃ میں ایک اہم راوی ہیں ۔
علاوہ بریں امام طاؤس رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہما کے اقوال پر بہت اعتماد کرتے تھے اور انہی کے اقوال پرفتویٰ بھی دیا کرتے تھے ، حتیٰ کہ جس مسئلہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہ دیگر علماء سے منفرد رائے رکھتے اس میں بھی امام طاؤس رحمہ اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی کے قول پر فتویٰ دیتے تھے ۔
محمد بن إسحاق المکی الفاکہی (المتوفی:۲۷۲)نے کہا:
حدثنا محمد بن منصور، قال:ثنا سفیان، عن ابن أبی نجیح، قال:تکلم طاوس، فقال:’’الخلع لیس بطلاق، إنما ہو فراق ، فأنکر ذالک علیہ أہل مکۃ، فقالوا:إنما ہو طلاق، فاعتذر إلیہم، وقال: لم أقل ہذا، إنما قالہ ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما‘‘
ابن ابی نجیح کہتے ہیں کہ طاؤس نے فتویٰ دیا اور کہا:’’خلع طلاق نہیں ہے بلکہ افتراق ہے ، تو اہل مکہ نے اس بات کو غلط قرار دیتے ہوئے ان پر نکیر کی اور کہا بلکہ یہ طلاق ہے ، تو طاؤس رحمہ اللہ نے اپنی تائید میں کہا کہ :یہ بات میں ہی نہیں کہتا بلکہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی یہ فتویٰ دیا ہے‘‘[أخبار مکۃ للفاکہی :۳؍۷۰،وإسنادہ حسن ، وقال الحافظ فی الفتح :۹؍۴۰۳،أخرج إسماعیل القاضی بسند صحیح عن بن أبی نجیح…فذکرہ ]
اس لئے بہت ممکن ہے کہ امام طاؤس رحمہ اللہ کی مذکورہ تفسیر کا ماخذ بھی ابن عباس رضی اللہ عنہ کاقول ہے ، ایسی صورت میں ان کی یہ تفسیر بھی ابن عباس رضی اللہ عنہ کے موقف کی نمائندگی کرتی ہے۔
 
Top