ذیشان خان

Administrator
صحابی رسول عویمر عجلانی رضی اللہ عنہ کاواقعہ لعان اور ایک غلط فہمی کاازالہ

✍ کفایت اللہ السنابلی

بہت ساری کتب احادیث میں عویمرعجلانی رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی کے بیچ ہونے والے لعان کے واقعہ کا ذکر ہے ، اسے کئی صحابہ نے بیان کیا ہے جس میں ایک صحابی سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بھی ہیں ، ان سے ان کے شاگرد امام زہری رحمہ اللہ نے یہ حدیث بیان کی ہے پھر امام زہری سے ان کے بہت سے شاگردوں نے یہ حدیث بیان کی ہے ، جن میں امام مالک رحمہ اللہ کے الفاظ یہ ہیں:
قال سہل:’’فتلاعنا وأنا مع الناس عند رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فلما فرغا، قال عویمر:کذبت علیہا یا رسول اللّٰہ إن أمسکتہا، فطلقہا ثلاثا، قبل أن یأمرہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:’’ کہ تو ان دونوں نے لعان کیا ، اور میں بھی لوگوں کے ساتھ اللہ کے رسول ﷺ کے پاس موجود تھا ، تو جب یہ دونوں لعان سے فارغ ہوگئے تو عویمر رضی اللہ عنہ نے کہا:اے اللہ کے رسول ﷺ! اگراب میں اسے اپناتا ہوں تو سمجھو میں نے ہی اس پرجھوٹ بولا ہے ، تو انہوں نے اسے تین طلاق دے دیا اس سے پہلے کہ اللہ کے نبی ﷺ انہیں حکم دیتے‘‘[صحیح البخاری :۷؍۴۲،رقم :۵۲۵۹]
اس واقعہ سے استدلال کرتے ہوئے بعض لوگ کہتے ہیں کہ بیک وقت دی گئی تین طلاق واقع ہوجائے گی ۔
عرض ہے کہ:
اولاً:
لعان کا واقعہ عہد رسالت میں دو بار پیش آیا ہے۔
پہلا واقعہ :
ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کا واقعہ:
ان کے واقعہ کودرج ذیل تین صحابہ نے روایت کیاہے:
انس بن مالک رضی اللہ عنہ۔ دیکھئے :[صحیح مسلم :۳؍۱۱۳۴،رقم :۱۴۹۶]
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ۔ دیکھئے :[صحیح مسلم:۲؍۱۱۳۳،رقم:۱۴۹۵]
ابن عباس رضی اللہ عنہ۔ دیکھئے :[صحیح البخاری:۶؍۱۰۰،رقم :۴۷۴۷]
ان تینوں صحابہ کی کسی بھی روایت میں لعان کے بعد طلاق کا ذکر نہیں ہے،جو اس بات کی زبردست دلیل ہے کہ لعان یہ طلاق کا محتاج نہیں بلکہ محض لعان ہی سے میاں بیوی کے مابین دائمی وابدی جدائی ہوجاتی ہے۔
دوسرا واقعہ:
عویمر العجلانی رضی اللہ عنہ کا واقعہ:
ان کے واقعہ کودرج ذیل تین صحابہ نے روایت کیاہے:
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ۔ دیکھئے :[صحیح البخاری:۷؍۵۵،رقم :۵۳۱۱]
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ ۔ دیکھئے :[مسند أحمد ط المیمنیۃ:۱؍۳۳۵،وإسنادہ صحیح ]
سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ۔دیکھئے :[صحیح البخاری :۷؍۴۲،رقم :۵۲۵۹]
ان تینوں صحابہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی لعان کے بعد طلاق کا کوئی ذکر نہیں ہے ، جو اس بات کی دلیل ہے کہ اس واقعہ میں بھی صرف لعان ہی سے جدائی ہوئی ہے۔
اور سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث کو امام زہری نے روایت کیا ہے اور امام زہری کے شاگردوں میں بھی تمام اس بات پر متفق ہیں کہ لعان ہی سے جدائی ہوئی ہے۔
اور لعان کے بعد ان کے بعض شاگردوں مثلاً ابن ابی ذئب (بخاری :رقم:۷۳۰۴)، فلیح (بخاری: رقم:۴۷۴۶)، إبراہیم بن سعد (ابن ماجہ: رقم:۲۰۶۶ بسند صحیح)اور عقیل بن خالد (مسند أحمد:۵؍۳۳۷بسند صحیح)وغیرہ نے یہ ذکر کیا ہے کہ پھر عویمر نے اپنی بیوی کو ’’فارقہا ‘‘یعنی جدا کردیا ۔
اور امام زہری کے بعض شاگردوں نے یہ ذکر کیا کہ لعان کے بعد انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دے دی ، لیکن انہوں نے طلاق کی بات تین طرح ذکر کی ہے:
’’ طلقھا‘‘ (اسے طلاق دے دیا)، یعنی طلاق کا مجملاً ذکر ہے ، اسے امام زہری کے شاگردوں میں امام اوزاعی (بخاری:۴۷۴۵)،عبد العزیز بن أبی سلمۃ (مسند أحمد:۵؍۳۳۷،بسند صحیح)وغیرہ نے بیان کیا ہے۔
’’فطلقہا ثلاثا ‘‘(پھر انہوں نے تین طلاق دی)، یہاں طلاق کی تعداد تین کا ذکر ہے ، اسے امام زہری کے شاگردوں میں امام مالک (بخاری:۵۲۵۹)، ہلال (شرح معانی الآثار:رقم:۶۱۴۶بسند صحیح)وغیرہ نے بیان کیاہے۔
’’ ہی الطلاق ، ہی الطلاق ، ہی الطلاق‘‘ (اس کو طلاق ہے، اس کو طلاق ہے ،اس کو طلاق ہے) یہاں تینوں طلاق کی کیفیت کا ذکر ہے ، اسے امام زہری کے شاگردوں میں امام ابن اسحاق (مسند أحمد:۵؍۳۳۴)اور امام مالک (الفصل للوصل المدرج فی النقل:۱؍۳۱۸)نے بیان کیا ہے ، ابن اسحاق نے عن سے روایت کیا ہے لیکن امام مالک نے ان کی متابعت کردی ہے اس کی سند ضعیف ہے ، مگردونوں سند مل کر روایت حسن لغیرہٖ ہے۔
لعان سے متعلق ان تمام احادیث پر نگاہ ڈالیں تو نتیجہ یہ سامنے آتا ہے کہ ہلال بن امیہ رضی اللہ عنہ کے واقعہ میں کسی نے بھی طلاق کا ذکر نہیں کیا ، جو اس بات کی دلیل ہے کہ لعان نہ تو طلاق ہے اور نہ ہی اس میں طلاق کی ضرورت ہے۔
اور عویمر العجلانی رضی اللہ عنہ کے واقعہ کو روایت کرنے والے دو صحابہ عبداللہ بن عمر اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے اس واقعہ میں بھی طلاق کا کوئی ذکر نہیں کیا ہے جو اس بات کی دلیل ہے اس میں بھی طلاق نہیں دی گئی ہے۔
اور اس دوسرے واقعہ کو روایت کرنے والے تیسرے صحابی سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث کو امام زہری نے نقل کیا اور ان کے کئی شاگردوں نے بھی طلاق کا ذکر نہیں کیا ہے بلکہ صرف تفریق کا ذکر کیا ہے ۔اور بعض شاگردوں نے جو طلاق کا ذکر کیا ہے تو یہ امام زہری رحمہ اللہ کی طرف سے روایت بالمعنی ہے اس طرح کہ امام زہری نے اس تفریق کواپنے طور سے طلاق سمجھ لیا اور طلاق کے لفظ سے اس تفریق کو بیان کیا ۔
چنانچہ کبھی امام زہری نے تفریق کا ذکر کیا ، کبھی طلاق کا ذکر کیا اور کبھی تین طلاق کا ذکر کیا جس سے ان کی مراد تاکید تھی ، جیساکہ ابن اسحاق اور امام مالک کی روایت سے واضح ہے ۔
ابن اسحاق کی روایت پرحافظ ابن حجررحمہ اللہ کے اعتراض کا جواب دیتے ہوئے علامہ معلمی رحمہ اللہ نے یہی وضاحت کی ہے چنانچہ:
محمدبن اسحاق والی روایت پر حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے یہ اعتراض کیا ہے کہ:
’’ وقد تفرد بہذہ الزیادۃ ولم یتابع علیہا وکأنہ رواہ بالمعنی لاعتقادہ منع جمع الطلقات الثلاث بکلمۃ واحدۃ ‘‘
’’اس اضافہ کو بیان کرنے میں ابن اسحاق منفرد ہے اور اس کی متابعت نہیں کی گئی ہے ، اور گویا کہ انہوں نے روایت بالمعنی کیا ہے کیونکہ ان کا موقف یہ تھا کہ ایک ہی جملے میں اکٹھی تین طلاق نہیں دے سکتے ‘‘[فتح الباری لابن حجر، ط المعرفۃ:۹؍۴۵۱]
علامہ معلمی رحمہ اللہ اس کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ أقول: لم یذکر الزہری صفۃ الطلاق إلا فی ہذہ الروایۃ،وابن إسحاق أعلم باللّٰہ من أن یسمع من ابن شہاب قولہ: فطلقہا ثلاثًا فیری ہذا المعنی مخالفًا لرأیہ، فیعمد إلی إبدالہ بما یوافق مذہبہ علی أنہ من لفظ الملاعن، وہذا تبدیلٌ وتحریفٌ، لا روایۃ بالمعنی۔ولیس اتہامہ بذالک بأقوی من احتمال أن یکون الزہری کان ربما زاد لفظ ثلاثًا لما فہمہ من أن الطلاق کان باتًّا، بسبب أن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم فرق بینہما الفرقۃ الباتۃ، وظن أن سبب التفرقۃ تلک ہو الطلاق، وإن صارت السنۃ بعد ذالک الفرقۃ المؤبدۃ، ولو بلا لفظ طلاق۔وفی الصحیحین بعد ذکر الطلاق، قال ابن شہاب وہو الزہری: فکانت سنۃ المتلاعنین ، وفی روایۃ وکان ذالک تفریقًا بین کل متلاعنین۔ علی أن قولہ: فطلقہا ثلاثًا محتملٌ احتمالاً قریبًا أن یکون معناہ: کرَّر الطلاقَ ثلاثًا، فیکون طلَّق تطلیقۃ، ولکن أکّد تأکیدًا لفظیًا۔ویؤید ہذا اقتصار ابن شہاب تارۃً علی طلَّقہا ، وتارۃً علی فارقہا۔ وعلی ہذا، فروایۃ ابن إسحاق إنما کانت تفید طلقۃ واحدۃ، إلا أنہ أکّد اللفظ، فأعادہ ثلاثًا، کما فہمہ ابن حجر، فہی مفسَّرۃ للروایات الأخری، لا مخالفۃ ‘‘
’’میں(علامہ معلمی)کہتا ہوں کہ: زہری نے طلاق دینے کی کیفیت صرف ابن اسحاق کی اسی روایت میں بیان کی ہے اور ابن اسحاق اللہ کاخوف رکھنے والے ہیں وہ ایسا نہیں کرسکتے کہ ابن شہاب سے’’ فطلقہا ثلاثًا‘‘ (انہوں نے تین طلاق دی)کے الفاظ سنیں اور پھر ان الفاظ کو اپنے موقف کے خلاف پاکر اپنے موقف کے موافق بدل دیں اور یہ ظاہر کریں کہ لعان کرنے والے نے یہی الفاظ کہے ہیں ، یہ تو صریح تحریف و تبدیل ہے نہ کہ روایت بالمعنی ! اور ابن اسحاق رحمہ اللہ پر ایسی تہمت لگانے سے زیادہ قوی احتمال اس بات کا ہے کہ امام زہری رحمہ اللہ نے خود تین طلاق کے الفاظ اپنی طرف سے یہ سمجھ کر استعمال کئے ہوں کہ یہ معاملہ فائنل طلاق کا تھا ، کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ نے ان دونوں کے مابین ہمیشہ کے لئے جدائی کا فیصلہ کردیا ، تو امام زہری نے ا پنے طور پر یہ سمجھ لیا کہ اس جدائی کا سبب طلاق ہی ہے ، گرچہ اس کے بعد ابدی جدائی ہی کا طریقہ رہا ، اور گرچہ اس جدائی کے لئے طلاق کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا ۔اور صحیحین میں طلاق کے لفظ کے بعد امام زہری کے یہ الفاظ ہیں تولعان کرنے والوں کا یہی طریقہ رہا اور ایک روایت میں زہری کے الفاظ ہیں :اور یہ دولعان کرنے والوں کی بیچ تفریق تھی ۔ علاوہ بریں امام زہری کے الفاظ’’ فطلقہا ثلاثًا‘‘ (انہوں نے اسے تین طلاق دیا )میں تقریبا ًاسی معنی کا احتمال ہے کہ’’ کرَّر الطلاقَ ثلاثًا‘‘ (انہوں تین بار لفظ طلاق کا تکرار کیا )، ایسی صورت میں یہ ایک ہی طلاق تھی لیکن تاکید کے لئے انہوں نے لفظ طلاق کو دہرادیا ، اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ امام زہری کبھی’’ طلَّقہا‘‘ (اسے طلاق دیا)کا لفظ استعمال کرتے اور کبھی ’’فارقہا ‘‘( اسے جداکردیا)کا لفظ استعمال کرتے۔اس بنیاد پر ابن اسحاق کی روایت کا مطلب بھی یہی ہے کہ انہوں نے ایک ہی طلاق دی تھی مگر تاکید کے لئے لفظ طلاق کو دہرا دیا جیساکہ ابن حجررحمہ اللہ نے سمجھا ہے ، تو ابن اسحاق کی روایت دیگر روایات کی تفسیر ہی کرتی ہے لہٰذا یہاں کوئی مخالفت کی بات نہیں ہے ‘‘[آثار الشیخ العلامۃ عبد الرحمٰن بن یحییٰ المعلمی الیمانی: ۱۷؍ ۶۳۹]
علامہ معلمی رحمہ اللہ کے جواب سے اس بات کی وضاحت ہوگئی کہ ابن اسحاق کی روایت میں دیگر روایات کی تفسیر ہی ہے اس لئے ابن اسحاق اپنے بیان میں منفرد نہیں ہیں ، تاہم یہ بھی واضح ہو کہ امام مالک رحمہ اللہ نے عین ابن اسحاق کے الفاظ میں ہی ان کی متابعت بھی کردی ہے کمامضی اس لئے تفرد کی بات کسی طرح بھی درست نہیں ہے۔
اگر کوئی کہے کہ امام مالک نے الگ سے زہری سے جو روایت بیان کی ہے اس میں اس طرح کے الفاظ نہیں ہیں ، تو عرض ہے کہ امام مالک رحمہ اللہ نے دونوں طرح سے زہری سے روایت کیا ہے ، جیساکہ زہری ہی کے شاگر ابن جریج نے زہری سے کبھی’’ فطلقہا ثلاثا ‘‘کے الفاظ نقل کئے ہیں۔(صحیح البخاری:۷؍۵۴،رقم:۵۳۰۹)اورکبھی ’’ثم فارقہا‘‘ کے الفاظ نقل کئے ہیں۔[مستخرج أبی عوانۃ:۳؍۱۹۹،رقم:۴۶۷۵،واسنادہ صحیح]
یہی معاملہ امام مالک کا بھی ہے کہ انہوں نے بھی دونوں طرح کے الفاظ سے روایت کیا ہے۔
اس تفصیل سے واضح ہوگیا کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں بھی لعان کرنے والے صحابی کی طرف سے طلاق کا لفظ استعمال نہیں ہوا تھا بلکہ امام زہری رحمہ اللہ نے اپنے فہم کے مطابق روایت بالمعنی کرتے ہوئے تفریق کو طلاق سے تعبیر کردیا ۔
ثانیاً:
ابوداؤد الطیالسی کی روایت میں پوری صراحت ہے کہ لعان میں جدائی بغیر طلاق کے ہوئی تھی چنانچہ اس روایت کے الفاظ ہیں:
’’وقضی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم أن لا ترمی، ولا یرمی ولدہا، ومن رماہا ورمی ولدہا جلد الحد، ولیس لہا علیہ قوت ولا سکنی؛ من أجل أنہما یتفرقان بغیر طلاق ‘‘
’’اور اللہ کے رسول ﷺ نے فیصلہ فرمایا کہ نہ اس عورت کو تہمت لگائی جائے اور نہ اس کے بچے کو کوئی طعنہ دیا جائے،جس کسی نے اس عورت کو تہمت لگائی یا بچے کو طعنہ دیا تو اس پر حد نافذ کی جائے گی اور اس عورت کے لئے لعان کرنے والے پر طعام یا رہائش کا کوئی خرچ نہیں ہوگا کیونکہ یہ دونوں طلاق کے بغیر الگ ہورہے ہیں‘‘[مسند أبی داؤد الطیالسی:۴؍۳۹۱،رقم:۲۷۸۹،وإسنادہ صحیح، ومن طریق أبی داؤد أخرجہ ابن شبۃ فی تاریخ المدینۃ:۲؍۳۷۹،و ابن أبی حاتم فی تفسیرہ:۸؍۲۵۳۳،رقم:۱۴۱۸۲،والبیہقی فی سننہ:۷؍۶۴۷وفی الخلافیات :۶؍۳۶۰]
اس حدیث میں پوری طرح صراحت ہے کہ لعان میں ہونے والی جدائی بغیر طلاق کے ہوتی ہے۔یہ بھی اس بات کی دلیل ہے کہ لعان والے واقعہ میں طلاق نہیں دی گئی ہے اور جس روایت میں طلاق کی بات ہے وہ امام زہری کی طرف سے روایت بالمعنی ہے انہوں نے تفریق کو طلاق سمجھ کر اسے طلاق سے تعبیر کردیا ہے۔
ثالثاً:
اگر یہ مان بھی لیں کہ سہل بن سعد رضی اللہ عنہ کی حدیث میں طلاق کا لفظ لعان کرنے والے صحابی نے ہی استعمال کیا تھا ، تو بھی ماقبل میں تفصیل پیش کی جاچکی ہے کہ یہ ایک ہی طلاق دی گئی تھی لیکن تاکید و تکرار کے لئے لفظ طلاق کو دہرا دیا گیا تھا۔نیز یہاں طلاق کا لفظ اصطلاحی معنی میں استعمال نہیں ہوا ہے بلکہ لغوی معنی میں یعنی عورت کو چھوڑنے کے معنی میں استعمال ہوا جیساکہ خلع والی ایک حدیث میں بھی لغوی معنی میں طلاق کا لفظ استعمال ہوا ہے، اسے ابن عباس رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے ، اس میں خلع دینے والے شوہر سے نبی ﷺ نے فرمایا:
’’اقبل الحدیقۃ وطلقہا تطلیقۃ ‘‘، ’’باغ قبول کرلو اور انہیں آزاد کردو‘‘ [صحیح البخاری ۷؍۴۶،رقم : ۵۲۷۳]
اس حدیث میں طلاق لغوی معنی میں یعنی چھوڑنے اور آزاد کرنے کے معنی میں ہے ۔
چنانچہ خلع کے بارے میں ابن عباس رضی اللہ عنہ ہی فرماتے ہیں:
’’ إنما ہو فرقۃ وفسخ ، لیس بطلاق ‘‘’’ خلع یہ افتراق و فسخ ہے طلاق نہیں ہے‘‘[مصنف ابن أبی شیبۃ، ط الفاروق:۶؍۴۳۸،وإسنادہ صحیح]
اس سے واضح ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت کردہ خلع والی حدیث میں مستعمل لفظ طلاق کو لغوی معنی میں ہی لیا ہے ۔
رابعاً:
اگرہم یہ بھی تسلیم کرلیں کہ لعان کرنے والے صحابی نے بغیر تکرار و تاکید کے ایک جملے میں تین طلاق دیا تھا تو بھی یہ حدیث لعان سے متعلق ہے اس لئے طلاق سے اس کا کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔اور عویمر رضی اللہ عنہ نے لعان سے فراغت کے بعد جو تین طلاق دیا یہ بے محل ہے، کیونکہ محض لعان ہی سے ان کی بیوی ان سے جدا ہوکر اجنبی بن گئی اور اجنبی عورت کو طلاق دینا بے موقع و محل ہے ۔
محض لعان ہی سے عورت جدا ہوکر اجنبی بن جاتی ہے اس پر درج ذیل حدیث مزید واضح ہے، ابن عمررضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
’’ قال النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم للمتلاعنین:حسابکما علی اللّٰہ، أحدکما کاذب، لا سبیل لک علیہا ‘‘
’’اللہ کے نبی ﷺ نے دونوں لعان کرنے والوں سے کہا:تمہارا حساب تو اللہ تعالیٰ کے ذمے ہے لیکن تم میں سے ایک ضرور جھوٹا ہے۔ اب تمہاری بیوی پر تمہیں کوئی اختیار نہیں رہا‘‘ [صحیح البخاری :۷؍۵۵،رقم:۵۳۱۲]
اس کے علاوہ درج ذیل امور بھی اس پر دلالت کرتے ہیں کہ لعان کے بعد طلاق کا کوئی معنی نہیں ہے :
۱۔ طلاق کے بعد شوہر دوبارہ اپنی بیوی کو اپنا سکتا ہے، اگر طلاق رجعی ہے تو عدت میں رجوع کرسکتا ہے یا عدت کے بعد تجدید نکاح کرسکتا ہے ،اور اگر سنت کے مطابق تیسری طلاق دے دی ہے تو عورت دوسرے شوہر سے شادی کرنے کے بعد اتفاق سے اس سے بھی الگ ہوجائے تو اس صورت میں شوہر اس سے دوبارہ شادی کرسکتا ہے۔
لیکن لعان کے بعد شوہر کسی بھی صورت میں اپنی بیوی کو دوبارہ نہیں اپنا سکتا۔جیساکہ نبی ﷺ نے لعان والے شوہر سے فرمایا:
’’ لا سبیل لک علیہا ‘‘’’اب تمہاری بیوی پر تمہیں کوئی اختیار نہیں رہا‘‘[صحیح البخاری :۷؍۵۵، رقم: ۵۳۱۲]
۲۔ طلاق کے بعد اگر کوئی نومولود ہو تو اس کا نسب طلاق والے شوہر سے ہی مانا جاتا ہے لیکن لعان کے بعد نومولود ہو تو اس کا نسب لعان والے شوہر سے نہیں مانا جاتا ہے۔[صحیح البخاری :باب یلحق الولد بالملاعنۃ ، رقم:۵۳۱۵]
۳۔ طلاق کے بعد اگر کوئی نومولود ہو تو وہ طلاق والے شوہر کا وارث ہوتا ہے لیکن لعان کے بعد نومولود ہو تو وہ لعان شوہر والے شوہر کا وارث نہیں ہوتا۔ [صحیح البخاری:باب میراث الملاعنۃ :۸؍۱۵۳،رقم:۶۷۴۸]
ان دلائل سے واضح ہے کہ لعان طلاق ہر گز نہیں ہے اس لئے لعان کے بعد طلاق کا لفظ استعمال کرنا بے موقع ہے۔اس لئے اس سے استدلال بھی درست نہیں ہے۔
اب اگر کوئی کہے کہ گرچہ لعان طلاق نہیں ہے اور یہ طلاق کا کوئی موقع و محل نہیں تھا ، لیکن جب عویمر رضی للہ عنہ نے ایک ساتھ تین طلاق دیا تو اللہ کے نبی ﷺ کو اس پرٹوکنا چاہئے تھا لیکن اللہ کے نبی ﷺ خاموش رہے جس کا مطلب یہ ہوگا کہ اگر کسی اور موقع پر لعان سے ہٹ کر کوئی تین طلاق دے دے تو وہ معتبر ہوگی۔
تو عرض ہے کہ اس شبہ کے ہمارے پاس دو جوابات ہیں :
پہلا جواب:
اگر نبی ﷺ کی خاموشی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ تین طلاق دینے سے تین معتبر ہوگی ، تو پھر یہ بھی ماننا چاہئے کہ ایک ساتھ تین طلاق دینا بھی جائز اور یہ بدعت نہیں ہے کیونکہ اللہ کے نبی ﷺ نے ایک ساتھ تین طلاق دینے پر بھی تو نہیں ٹوکا ۔ لیکن فریق مخالف اس بات کو نہیں مانتا بلکہ اس کی نظر میں تو بیک وقت تین طلاق دینا خلاف کتاب وسنت ہونے کے سبب بدعت ہے۔
اب اس کا جو جواب بھی فریق مخالف کی طرف سے ہوگا وہی ہمارا جواب بھی ہے۔
دوسرا جواب:
دراصل عویمررضی اللہ عنہ نے یہاں اصطلاحی معنی میں طلاق کا لفظ استعمال ہی نہیں کیا ، کیونکہ اصطلاحی معنی میں طلاق دینے کا یہ وقت ہی نہیں تھا ، بلکہ عویمر رضی اللہ عنہ نے لغوی معنی یعنی چھوڑنے اور جدا کرنے کے معنی میں یہ لفظ استعمال کیا تھا اس کی دلیل یہ ہے کہ اسی روایت کے کئی طرق میں’’ طلَّقہا‘‘ (اسے طلاق دیا)کی جگہ ’’فارقہا ‘‘ (اسے جداکردیا)کا لفظ مستعمل ہے۔
تو جب یہ اصطلاحی طلاق تھی ہی نہیں تو اس پر ٹوکنے کی ضروت بھی نہ تھی ۔
بلکہ خلع کے مسئلے میں خود اللہ کے نبی ﷺ نے بھی لغوی معنی میں طلاق کا لفظ استعمال کیا ہے ، پھر ظاہر ہے کہ کسی صحابی کی طرف سے لغوی معنی میں یہ لفظ استعمال ہو تو اللہ کے نبی ﷺ انہیں کیونکر ٹوک سکتے ہیں ؟
 
Top