ذیشان خان

Administrator
راوی کی روایت اور اس کے فتویٰ کا تعارض

✍ کفایت اللہ السنابلی

جب قرآن اور صحیح حدیث سے ایک مسئلہ ثابت ہوجائے تو اسی کو لیا جائے گا اس کے خلاف کسی بھی امتی کا قول نہیں لیا جاسکتا کیونکہ قرآن و حدیث وحی ہے جس میں غلطی کا امکان نہیں ہے جبکہ امتی کے قول میں غلطی کا امکان ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ امتی نے حالات یا کسی مصلحت کے سبب نص کے خلاف فتویٰ دیا ہوجس میں وہ معذورہوں ۔
حتیٰ کہ کوئی صحابی ایک حدیث روایت کریں اور خود اس کے خلاف فتویٰ دیں تو بھی ان کی روایت کردہ حدیث ہی کو لیا جائے گا نہ کہ اس کے خلاف ان کے فتویٰ کو ، کیونکہ ان کے اس طرح کے فتویٰ میں بھی مذکورہ احتمالات ہوسکتے ہیں، ایک مثال ملاحظہ ہو:
اگر ایک شوہر کی بیوی اس کے نطفہ سے حاملہ ہوجائے تو پھر ولادت کے بعد یہ بیوی جن جن کو دودھ پلائے گی وہ سب کے سب اس کے شوہر اور شوہر کے خونی اقرباء کے رضاعی رشتہ دار ہوں گے ، کیونکہ بیوی کو دودھ اس کے شوہر کے نطفہ کے سبب ہی ہوا ہے ، اس لئے اس دودھ کے ساتھ شوہر کا تعلق جڑا ہے۔ اسی مسئلہ کو’’ لفن الفحل‘‘ کہا جاتا ہے ، فحل سے مراد شوہر ہے اور لبن سے مراد بیوی کا دودھ ہے ، لیکن اسے شوہر کی طرف منسوب کرتے ہوئے’’ لفن الفحل‘‘ اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ شوہر کے نطفہ کے سبب ہی یہ دودھ وجود میں آتا ہے۔
’’ لفن الفحل‘‘ سے حرمت رضاعت ثابت ہوتی ہے اس سلسلے میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کہ یہ صریح حدیث ملاحظہ کیجئے:
امام بخاری رحمہ اللہ (المتوفی:۲۵۶)نے کہا:
حدثنا آدم، حدثنا شعبۃ، أخبرنا الحکم، عن عراک بن مالک، عن عروۃ بن الزبیر، عن عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا ، قالت:’’استأذن علی أفلح، فلم آذن لہ، فقال: أتحتجبین منی وأنا عمک، فقلت: وکیف ذالک؟ قال:أرضعتک امرأۃ أخی بلبن أخی، فقالت: سألت عن ذالک رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم فقال: صدق أفلح ائذنی لہ‘‘
اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:’’افلح رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے اندر آنے کی اجازت مانگی تو میں نے اسے اجازت نہ دی۔ وہ کہنے لگے۔ تم مجھ سے پردہ کرتی ہو، حالانکہ میں تو تمہارا چچا ہوں۔ میں نے کہا:وہ کیسے ؟ انھوں نے کہا:میرے بھائی کی بیوی نے تمہیں دودھ پلایا ہے وہ دودھ میرے بھائی کی وجہ سے تھا۔ اماں عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا:میں نے اس کا ذکر رسول اللہ ﷺ سے کیا تو آپ نے فرمایا:افلح سچ کہتا ہے (اسے اندر آنے کی )اجازت دو‘‘ [صحیح البخاری :۳؍۱۶۹،رقم:۲۶۴۴]
اس حدیث کو روایت کرنے والی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی ہیں ، لیکن اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے اس حدیث کے خلاف عمل ثابت ہے چنانچہ:
امام مالک رحمہ اللہ (المتوفی :۱۷۹)نے کہا:
عن عبد الرحمٰن بن القاسم، عن أبیہ، أنہ أخبرہ:’’ أن عائشۃ زوج النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم کان یدخل علیہا من أرضعتہ أخواتہا، وبنات أخیہا، ولا یدخل علیہا من أرضعہ نساء إخوتہا ‘‘
قاسم بن محمد رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ:’’اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس وہ لوگ جاسکتے تھے جن کو ان کی بہنوں یا بھتیجیوں نے دودھ پلایا ہے ، لیکن وہ لوگ نہیں جاسکتے تھے جن کو ان کے بھائیوں کی بیویوں نے دودھ پلایا ہے‘‘[موطأ مالک ت عبد الباقی:۲؍۶۰۴،وإسنادہ صحیح وأخرجہ البیہقی فی معرفۃ السنن :رقم:۱۵۴۲۷،من طریق عبد الرحمٰن بن القاسم بہ ، وأخرجہ أیضا سعید بن منصور فی سننہ: رقم:۹۶۳،من طرق عن القاسم بن محمد بہ ]
اس روایت میں یہ ذکر ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا اپنی بھابھیوں کا دودھ پینے والوں کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی تھیں ، حالانکہ’’ لفن الفحل‘‘ کے سبب یہ لوگ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے رضاعی رشتہ دار تھے اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے خود یہ یہ حدیث روایت کررکھی ہے کہ’’ لفن الفحل‘‘ سے رضاعی رشتہ ثابت ہوتا ہے اور ایسے رضاعی رشتہ والے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آسکتے ہیں ۔
یہ مثال احناف کے اس اصول کی دھجیاں بکھیر دیتی ہے کہ راوی جب اپنی روایت کے خلاف عمل کرے تو راوی کے عمل و فتویٰ کو لیا جائے گا ۔کیونکہ احناف نے بھی اس مسئلہ میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کے عمل وفتویٰ کو ترک کردیا ہے اوراماں عائشہ رضی اللہ عنہ کی حدیث کو اپنایا ہے۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ (المتوفی:۴۵۶)اس مثال کو لیکر احناف کے اس اصول کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وہذا خبر لم یروہ عن رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إلا عائشۃ وحدہا، وقد صح عنہا خلافہ، فأخذوا بروایتہا وترکوا رأیہا، ولم یقولوا: لم تخالفہ إلا لفضل علم عندہن، وقالوا: لا ندری لأی معنی لم یدخل علیہا من أرضعتہ نساء إخوتہا ‘‘
’’اس حدیث کو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے بھی روایت نہیں کیا ہے ، اور اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی سے اس کی مخالفت ثابت ہے ، تو ان لوگوں نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کو لے لیا اور ان کی رائے کو ترک کر دیا ، اور حسب عادت یہ نہیں کہا کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس لئے مخالفت کی ہوگی کہ ان کے پاس کوئی اضافی علم ہوگا ‘‘ [المحلی لابن حزم، ط بیروت:۱۰؍۱۸۳]
حافظ ابن حجررحمہ اللہ (المتوفی:۸۵۲)اس مثال کی روشنی میں احناف کے غلط اصول اور ان کی بے بسی کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:
’’وألزم بہ بعضہم من أطلق من الحنفیۃ القائلین أن الصحابی إذا روی عن النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم حدیثا وصح عنہ ثم صح عنہ العمل بخلافہ أن العمل بما رأی لا بما روی لأن عائشۃ صح عنہا أن لا اعتبار بلبن الفحل ذکرہ مالک فی الموطأ وسعید بن منصور فی السنن وأبو عبید فی کتاب النکاح بإسناد حسن وأخذ الجمہور ومنہم الحنفیۃ بخلاف ذالک وعملوا بروایتہا فی قصۃ أخی أبی القعیس وحرموہ بلبن الفحل فکان یلزمہم علی قاعدتہم أن یتبعوا عمل عائشۃ ویعرضوا عن روایتہا ولو کان روی ہذا الحکم غیر عائشۃ لکان لہم معذرۃ لکنہ لم یروہ غیرہا وہو الزام قوی ‘‘
’’احناف میں سے جن لوگوں نے علی الاطلاق یہ کہا ہے کہ جب ایک صحابی کوئی حدیث روایت کرے اور وہ سنداً اس سے ثابت ہو ، پھر اسی صحابی سے یہ بھی ثابت ہو کہ اس نے اس کے خلاف عمل کیا ہے تو اعتبار صحابی کے عمل وفتویٰ کا ہوگا نہ کہ صحابی کی روایت کردہ حدیث کا ۔اس اصول کا رد بعض اہل علم نے یہ الزامی جواب دیتے ہوئے کیا ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ عمل و فتویٰ ثابت ہے کہ’’ لفن الفحل‘‘ کا اعتبار نہیں ہوگا ، جیساکہ امام مالک نے مؤطا ، سعیدبن منصور نے سنن اور ابوعبید نے کتاب النکاح میں بسند حسن روایت کیا ہے ، لیکن جمہور بشمول احناف نے اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کی روایت کردہ حدیث کو لیا ہے ، جس میں ابوالقیس کے بھائی (افلح)کا واقعہ ذکر ہے اور ’’ لفن الفحل‘‘ کے سبب حرمت رضاحت کا اعتبار کیا ہے ۔ لہٰذا احناف پر لازم تھا کہ وہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے عمل کی پیروی کرتے اور ان کی روایت کردہ حدیث سے اعراض کرتے ، اور اگر اس حدیث کو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی اور صحابی نے روایت کیا ہوتا تو احناف کے لئے گنجائش تھی ، مگر صورت حال یہ ہے کہ اس حدیث کو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کسی نے بھی روایت نہیں کیاہے ، اس لئے اس احناف کو دیا گیا یہ الزامی جواب بہت قوی اور مضبوط ہے ‘‘ [فتح الباری لابن حجر، ط المعرفۃ:۹؍۱۵۲]
حقیقت یہ کہ اس مثال نے حنفیت کے اصول کے اصول کا جنازہ نکال دیا ہے اور پوری دنیائے حنفیت میں کسی کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں ہے ۔
بعض احناف نے ہمت جٹا کر یہ کہنے کی کوشش کی ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا جن لوگوں کو اپنے پاس نہیں آنے دیتی تھیں ، تو اس کی وجہ حرمت رضاعت کا عدم اعتبار نہیں بلکہ کوئی اور وجہ ہوگی ۔
عرض ہے کہ یہ جواب انتہائی لایعنی اور بے سود ہے کیونکہ روایت میں پوری طرح صراحت ہے کہ اجازت دینے اور نہ دینے کی وجہ حرمت رضاعت کا اعتبار اور عدم اعتبار تھا ۔چنانچہ جن کو اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے آنے کی اجازت دی ان کے تعلق سے الفاظ ہیں:
امام مالک رحمہ اللہ (المتوفی:۱۷۹)نے کہا: ’’ کان یدخل علیہا من أرضعتہ أخواتہا، وبنات أخیہا‘‘
’’اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس وہ لوگ جاسکتے تھے جن کو ان کی بہنوں یا بھتیجیوں نے دودھ پلایا ہے ‘‘
اور جن کو آنے کی اجازت نہ تھی ان کے تعلق سے الفاظ ہیں: ’’ ولا یدخل علیہا من أرضعہ نساء إخوتہا ‘‘
’’ لیکن وہ لوگ نہیں جاسکتے تھے جن کو ان کے بھابھیوں نے دودھ پلایا ہے‘‘
ملاحظہ فرمائیں روایت پوری طرح صراحت کررہی ہے کہ یہ سارا معاملہ صرف اور صرف حرمت رضاعت کی بنا پر تھا ۔
امام ابن حزم رحمہ اللہ (المتوفی:۴۵۶)اس لایعنی جواب کا رد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ وقال بعضہم:للمرأۃ أن تحتجب ممن شاء ت من ذوی محارمہا؟ فقلنا:إن ذلک لہا إلا أن تخصیصہا- رضی اللّٰہ عنہا- بالاحتجاب عنہم من أرضعتہ نساء أبیہا، ونساء إخوتہا، ونساء بنی أخواتہا، دون من أرضعتہ أخواتہا، وبنات أخواتہا، لا یمکن إلا للوجہ الذی ذکرنا، لا سیما مع تصریح ابن الزبیر-وہو أخص الناس بہا- بأن لبن الفحل لا یحرم، وأفتی القاسم بذالک، فظہر تناقض أقوالہم والحمد للّٰہ رب العالمین ‘‘
’’بعض نے یہ کہا ہے کہ:ایک عورت کی اپنی مرضی ہے کہ وہ محرم رشتہ داروں میں بھی جن کو چاہے اپنے پاس آنے سے روک دے ، تو ہمارا کہنا ہے کہ:بے شک عورت کو اس کا حق ہے ، لیکن یہاں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے جنہیں پاس آنے سے روکا ہے ان کی خاصیت یہ بتائی ہے کہ وہ ان کے والد ، بھائیوں اور بھتیجوں کی بیویوں کے رضاعی رشتہ دار ہیں ، اور جولوگ ان کی بہنوں ، اور نواسیوں کے رضاعی رشتہ دار ہیں انہیں اپنے پاس آنے کی اجازت دی ہے ، لہٰذا یہاں وجہ صرف وہی ہوسکتی ہے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے ، بالخصوص جبکہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے قریبی ابن زبیر رضی اللہ عنہ نے صراحت کے ساتھ یہ کہا ہے کہ’’ لفن الفحل‘‘ سے حرمت ثابت نہیں ہوتی ہے ، نیز قاسم بن محمد نے بھی یہی فتویٰ دیا ہے ،اس سے ان مقلدین کی باتوں کا تناقض ثابت ہوگیا۔ والحمدللہ ‘‘[المحلی لابن حزم، ط بیروت:۱۰؍۱۸۳]
 
Top