ذیشان خان

Administrator
طلاق حیض کے عدم وقوع پر ابن عمر رضی اللہ عنہ کا فتویٰ

✍ کفایت اللہ السنابلی

امام ابن حزم رحمہ اللہ (المتوفی۴۵۶)نے کہا:
نا یونس بن عبید اللّٰہ نا ابن عبد اللّٰہ بن عبد الرحیم نا أحمد بن خالد نا محمد بن عبد السلام الخشنی نا ابن بشار نا عبد الوہاب بن عبد المجید الثقفی نا عبید اللّٰہ بن عمر عن نافع مولی ابن عمر عن ابن عمر أنہ قال فی الرجل یطلق امرأتہ وہی حائض، قال ابن عمر:’’لا یعتد بذالک‘‘
نافع رحمہ اللہ عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دیا ، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے :’’کہ اس کی طلاق کا کوئی شمار نہیں ہوگا‘‘ [المحلی لابن حزم، ت بیروت:۹؍۳۷۵، أیضا :۹؍۳۸۱،وإسنادہ صحیح ، إغاثۃ اللہفان ط عالم الفوائد :۱؍۵۲،وقال المحقق :إسنادہ صحیح]
امام ابن حزم رحمہ اللہ (المتوفی۴۵۶)نے کہا:
’’ الروایۃ الصحیحۃ ‘‘ ’’صحیح روایت‘‘[المحلی لابن حزم، ت بیروت:۹؍۳۸۱]
امام ابن قیم رحمہ اللہ (المتوفی:۷۵۱)نے کہا:
’’ وہذا إسناد صحیح ‘‘ ’’یہ سند صحیح ہے‘‘[عون المعبود مع حاشیۃ ابن القیم:۶؍۱۷۱]
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (المتوفی:۸۵۲)نے کہا:
’’وإسنادہ صحیح ‘‘ ’’اس کی سند صحیح ہے‘‘[التمییز لابن حجر، ت دکتور الثانی:۵؍۲۴۳۵]
ایک شبہ اور اس کا ازالہ:
امام ابن أبی شیبہ رحمہ اللہ (المتوفی:۲۳۵)نے کہا:
حدثنا عبد الوہاب الثقفی، عن عبید اللّٰہ بن عمر، عن نافع ، عن ابن عمر، فی الذی یطلق امرأتہ وہی حائض، قال:’’لا تعتد بتلک الحیضۃ ‘‘
نافع روایت کرتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں کہا :’’جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی کہ اس کی بیوی اس حیض کا شمار نہیں کرے گی‘‘ [مصنف ابن أبی شیبۃ۔سلفیۃ:۵؍۵، وإسنادہ صحیح وأخرجہ أیضا ابن الأعرابی فی معجمہ:۲؍۸۵۰،والبیہقی فی سننہ:۷؍۴۱۸،من طریق ابن معین عن عبدالوہاب بہ]
اس روایت کی بنیاد پر بعض لوگ کہتے ہیں کہ ابن حزم کی روایت میں جس چیز کو شمار نہ کرنے کی بات ہے وہ طلاق نہیں بلکہ حیض ہے جیساکہ دوسری روایت میں صراحت ہے ۔
عرض ہے کہ ابن حزم کی روایت مجمل نہیں ہے بلکہ بالکل صریح اور واضح ہے کہ انہوں نے طلاق کو شمار نہ کرنے کی بات کہی ہے ، اسی طرح جس طریق میں حیض کو شمار نہیں کرنے کی بات ہے وہ بھی بالکل صریح اور واضح ہے۔اس لئے دوسری روایت پہلی روایت کی تشریح نہیں ہے بلکہ دونوں روایات میں الگ الگ بات ہے اور دونوں ہی ثابت شدہ ہیں۔
دراصل ابن عمر رضی اللہ عنہ کا مکمل کلام یہی ہے کہ وہ حیض کی حالت میں طلاق دینے پر نہ تو طلاق شمار کرتے تھے اور نہ ہی ایسی طلاق کے بعدبطور عدت حیض کو شمار کرتے تھے ، عبدالوہاب الثقفی نے اپنے طریق سے یہ دونوں باتیں نقل کی ہیں لیکن انہوں نے بعض دفعہ پہلی بات بیان کی ہے اور بعض دفعہ دوسری بات بیان کی ہے۔
اور دیگر رواۃ کے یہاں بھی روایت کا یہ طرز عمل ملتا ہے چنانچہ :
عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ نے اپنے دورخلافت میں صدقۃ الفطر کی ادائیگی کے لئے یہ فرمان جاری کیا تھا کہ طعام یا نصف درہم وصول کیا جائے۔
ابواسامہ نے عوف کے طریق سے یہ دونوں باتیں نقل کی ہیں لیکن انہوں نے بعض دفعہ صرف طعام والی بات بیان کی ہے اور بعض دفعہ صرف نصف درہم والی بات بیان کی ہے۔
چنانچہ :
امام ابن أبی شیبہ رحمہ اللہ (المتوفی:۲۳۵)نے کہا:
حدثنا أبو أسامۃ، عن عوف، قال:سمعت کتاب عمر بن عبد العزیز إلی عدی یقرأ بالبصرۃ فی صدقۃ رمضان:’’ علٰی کل صغیر أو کبیر، حر أو عبد، ذکر أو أنثی، نصف صاع من بر، أو صاع من تمر‘‘
بصرہ میں عدی کے پاس عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا فرمان پڑھا گیا جس میں تھا کہ :’’ہر چھوٹے بڑے ، آزاد غلام اور مرد عورت کی طرف سے نصف صاع گیہوں یا ایک صاع کھجورکی ادائیگی واجب ہے‘‘ [مصنف ابن أبی شیبۃ، ت الشثری:۶؍۲۸۹،وإسنادہ صحیح، وأخرجہ أیضا الطحاوی فی شرح معانی الآثار:۲؍۴۷،من طریق عبد اللہ بن حمران عن عوف بہ]
یہاں ابواسامہ نے عوف کے طریق سے صرف طعام والی بات نقل کی ہے ۔ اب اگلی روایت دیکھیں:
امام ابن أبی شیبہ رحمہ اللہ (المتوفی:۲۳۵)نے کہا:
حدثنا أبو أسامۃ، عن عوف، قال:سمعت کتاب عمر بن عبد العزیز یقرأ إلی عدی بالبصرۃ: ’’یؤخذ من أہل الدیوان من أعطیاتہم، عن کل إنسان نصف درہم ‘‘
بصرہ میں عدی کے پاس عمربن عبدالعزیز رحمہ اللہ کا فرمان پڑھا گیا جس میں تھا کہ:’’سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں سے نصف درہم ہر انسان کے طرف سے (بطور فطرہ )لیا جائے گا‘‘ [مصنف ابن أبی شیبۃ، ت الشثری: ۶؍ ۲۹۳، وإسنادہ صحیح وأخرجہ ابن زنجویہ فی الأموال:۳؍۱۲۶۸،من طریق ابن المبارک عن عوف بہ ]
یہاں ابواسامہ نے اسی طریق سے یہ روایت نقل کی مگر صرف نصف درہم والی بات بیان کی ہے۔
یہی معاملہ عبد الوہاب الثقفی کا بھی ہے انہوں نے ایک روایت کے الگ الگ حصے کو الگ الگ موقع سے بیان کیا ہے اور ساری باتیں ثابت ہیں ۔
اگرعبیداللہ نے نافع کے طریق سے ابن عمررضی اللہ عنہ کا طلاق سے متعلق صرف ایک ہی فتویٰ نقل کیا ہوتا تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ ایک روایت دوسری روایت کی تشریح ہے ، لیکن حقیقت یہ ہے کہ عبیداللہ نے نافع کے طریق سے ابن عمررضی اللہ عنہ کی طرف سے طلاق ہی سے متعلق کئی باتیں نقل کی ہیں ، جن کی درج ذیل دو قسمیں ہیں:
(الف) پہلی قسم : ابن عمر رضی اللہ عنہ کے واقعہ حیض سے متعلق
(۱) ابن عمر رضی اللہ عنہ کے طلاق حیض کا واقعہ:
عن عبید اللّٰہ، أخبرنی نافع، عن ابن عمر:’’ أنہ طلق امرأتہ وہی حائض، فأتی عمر النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم، فاستفتاہ فقال:مر عبد اللّٰہ فلیراجعہا، حتی تطہر من حیضتہا ہذہ، ثم تحیض حیضۃ أخری، فإذا طہرت فلیفارقہا قبل أن یجامعہا، أو لیمسکہا، فإنہا العدۃ التی أمر أن تطلق لہا النساء‘‘
عبیداللہ نے نافع سے انہوں نے ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا :’’کہ ابن عمررضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی تو عمررضی اللہ عنہ نبی ﷺ کے پاس آئے اور ان سے فتویٰ پوچھا ، تو آپ ﷺ نے فرمایا: عبدللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہو کہ وہ اپنی بیوی واپس لیں یہاں تک کہ وہ اس حیض سے پاک ہوجائے پھر اسے دوسری بار حیض آئے پھر اس کے بعد جب وہ پاک ہو تو اسے جماع سے پہلے الگ کردیں ، یہاں اسے روک لیں یہی وہ عدت ہے جس میں عورتوں کو طلاق دینے کاحکم ہے‘‘[مسند أحمد ط المیمنیۃ:۲؍۵۴،وإسنادہ صحیح]
یہاں عبیداللہ نے نافع کے طریق سے صرف ابن عمررضی اللہ عنہ کے طلاق حیض کا واقعہ نقل کیا ہے۔
(۲) ابن عمررضی اللہ عنہ کے واقعہ طلاق حیض سے متعلق یہ وضاحت کہ انہوں نے ایک طلاق دی تھی:
قال عبید اللّٰہ: ’’وکان تطلیقہ إیاہا فی الحیض واحدۃ غیر أنہ خالف فیہا السنۃ ‘‘
عبیداللہ کہتے ہیں :’’کہ ابن عمررضی اللہ عنہ نے حالت حیض میں جو طلاق دی تھی وہ ایک طلاق تھی یہ اور بات ہے کہ انہوں نے اس میں سنت کی مخالفت کی تھی‘‘[مسند عمر بن الخطاب للنجاد :ص :۴۹،وإسنادہ صحیح]
یہاں عبیداللہ نے نافع کے طریق سے ابن عمررضی اللہ عنہ کے واقعہ طلاق حیض کو بیان کرنے کے بعد یہ وضاحت کی کہ انہوں نے ایک طلاق دی تھی ۔
(۳) ابن عمررضی اللہ عنہ کے واقعہ طلاق حیض سے متعلق نافع کا قول کہ اسے شمار کیا گیا تھا:
قال عبید اللّٰہ:’’ قلت لنافع: ما صنعت التطلیقۃ؟ قال: واحدۃ اعتد بہا ‘‘
عبیداللہ نے کہا:’’میں نے نافع سے پوچھا:اس طلاق کا کیا ہوا؟ تو نافع نے جواب دیا:یہ ایک طلاق تھی جسے شمار کیا گیا‘‘[صحیح مسلم :رقم :۱۴۷۱]
یہاں عبیداللہ نے نافع کے طریق سے ابن عمررضی اللہ عنہ کے واقعہ طلاق حیض کو سننے کے بعد نافع سے سوال کیا جس کے جواب میں نافع نے کہا کہ اس طلاق کو شمار کیا گیا ، (یہ شمار کرنے والے ابن عمررضی اللہ عنہ تھے جیساکہ دیگرروایات میں ہے)
(۴) ابن عمررضی اللہ عنہ کے واقعہ طلاق حیض سے متعلق یہ بیان کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے طلاق کو شمار کیا اور ان کی بیوی کا عمل کہ انہوں نے اس طلاق کی عدت نہیں گزاری :
عبید اللّٰہ بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر:’’ أنہ طلق امرأتہ علی عہد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وہی حائض قال: فاعتد ابن عمر بالتطلیقۃ، ولم تعتد امرأتہ بالحیضۃ ‘‘
عبیداللہ نے نافع سے وہ ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں :’’کہ انہوں نے اللہ کے رسول ﷺکے دور میں اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دے دی ، تو ابن عمررضی اللہ عنہ نے اس طلاق کو شمار کیا اور ان کی بیوی نے اس حیض سے عدت نہیں گزاری‘‘[معرفۃ السنن والآثار للبیہقی:۱۱؍۲۹،وإسنادہ حسن]
(ب) دوسری قسم : ابن عمر رضی اللہ عنہ کے دیگر عام فتاویٰ
(۱) ابن عمررضی اللہ عنہ کا یہ عام فتویٰ کہ طلاق حیض کی عدت شمار نہیں ہوگی:
عن عبید اللّٰہ بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر:’’فی الذی یطلق امرأتہ وہی حائض، قال:لا تعتد بتلک الحیضۃ ‘‘
عبیداللہ نے نافع سے وہ ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں :’’کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں کہا جس نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دی کہ اس کی بیوی اس حیض کا شمار نہیں کرے گی‘‘ [مصنف ابن أبی شیبۃ۔سلفیۃ:۵؍۵، وإسنادہ صحیح وأخرجہ أیضا ابن الأعرابی فی معجمہ:۲؍۸۵۰،والبیہقی فی سننہ:۷؍۴۱۸،من طریق ابن معین عن عبدالوہاب بہ]
(۲) ابن عمررضی اللہ عنہ کا یہ عام فتویٰ کہ طلاق حیض شمار نہیں کی جائے گی:
عبید اللّٰہ بن عمر عن نافع مولی ابن عمر عن ابن عمر :’’أنہ قال فی الرجل یطلق امرأتہ وہی حائض، قال ابن عمر:لا یعتد بذالک‘‘
عبیداللہ نے نافع سے وہ ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں :’’کہ جس شخص نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دے دیا ، تو عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ اس کی طلاق کا کوئی شمار نہیں ہوگا‘‘[المحلی لابن حزم، ت بیروت:۹؍۳۷۵، أیضا:۹؍۳۸۱،وإسنادہ صحیح ، إغاثۃ اللہفان ط عالم الفوائد :۱؍۵۲،وقال المحقق :إسنادہ صحیح]
(۳) ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ عام فتویٰ کہ غیر مدخولہ کو دی گئی بیک وقت تین طلاق تین شمارہوگی:
عبید اللّٰہ بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر…’’فی الرجل یطلق امرأتہ ثلاثا قبل أن یدخل بہا، قالوا:لا تحل لہ حتی تنکح زوجا غیرہ ‘‘
عبیداللہ نے نافع سے وہ ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں:’’ کہ انہوں نے اس شخص کے بارے میں کہا جو اپنی بیوی کو دخول سے پہلے تین طلاق دے دے ، اس کی بیوی اس کے لئے تب تک حلال نہ ہوگی جب تک کہ وہ دوسرے شوہر سے شادی نہ کرلے‘‘[مصنف ابن أبی شیبۃ، ط الفاروق :۶؍۳۴۱،إسنادہ صحیح وأخرجہ أیضا البیہقی فی سننہ:۷؍۳۳۵،من طریق سفیان عن عبید اللہ بن عمر بہ ، وأخرجہ أیضا الطحاوی فی شرح معانی الآثار، ت النجار:۳؍۵۷،من طریق محمد بن إیاس بن البکیر عن ابن عمر بہ ]
(۴) ابن عمر رضی اللہ عنہ کا یہ فتویٰ کہ طلاق البتہ تین طلاق تین شمارہوگی:
عبید اللّٰہ بن عمر، عن نافع، عن ابن عمر:’’ فی البتۃ ثلاث تطلیقات ‘‘
عبیداللہ نے نافع سے وہ ابن عمررضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں :’’کہ انہوں نے طلاق البتہ کو تین طلاق قراردیا‘‘[مصنف ابن أبی شیبۃ، ط الفاروق:۶؍۳۸۷،رقم:۱۸۴۲۷،وإسنادہ صحیح]
ملاحظہ فرمائیں کہ عبیداللہ نے نافع کے طریق سے طلاق سے متعلق جو باتیں بیان کی ہیں ان کی دوقسم ہے اور ہرقسم میں چارچار طرح کی باتیں ہیں:
پہلی قسم میں ایسی باتیں ہیں جو ابن عمررضی اللہ عنہ کے خاص واقعہ حیض سے تعلق رکھتی ہیں ۔
ان میں انہوں نے کبھی صرف ابن عمر رضی اللہ عنہ کے واقعہ طلاق حیض کو بیان کیا ہے، کبھی اس واقعہ کے بیان کے بعد خود یہ وضاحت کی کہ اس واقعہ میں حالت حیض میں ایک ہی طلاق دی گئی تھی ، کبھی نافع سے اپنے سوال اور اس پر ان کے جواب کو بیان کیا کہ یہ ایک طلاق شمار کی گئی تھی (یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہ کی طرف سے)، کبھی نافع کے طریق سے ابن عمر رضی اللہ عنہ کے عمل کو بیان کیا کہ انہوں نے اس طلاق کو شمار کیا اور ان کے بیوی نے اس کی عدت نہیں گزاری ۔
دوسری قسم میں ایسی باتیں ہیں جو ابن عمررضی اللہ عنہ کے خاص واقعہ حیض سے تعلق نہیں رکھتی ہیں بلکہ طلاق سے متعلق ان کے دیگرعام فتاویٰ ہیں۔
ان میں کبھی ان کا یہ فتویٰ بیان کیا کہ طلاق حیض کی عدت شمار نہیں ہوگی ، اور کبھی ان کا یہ فتویٰ بیان کیا کہ طلاق حیض کو شمار نہیں کیا جائے گا ، اور کبھی ان کا یہ فتویٰ بیان کیا کہ غیر مدخولہ کو دی گی بیک وقت تین طلاق تین شمار ہوگی، اورکبھی ان کا یہ فتویٰ کہ طلاق البتہ تین طلاق شمار ہوگی۔
عبیداللہ کی نافع کے طریق سے بیان کردہ دونوں قسم کی ان باتوں کو ثابت شدہ مانا جاتا ہے اور کسی بات کو دوسری بات کے معارض بتا کررد نہیں کیا جاتا، مثلاً پہلی قسم یعنی واقعہ حیض سے متعلق روایات کو بنیاد بنا کر ، دوسری قسم یعنی دیگر عام فتاویٰ کی روایات کو رد نہیں کیا جاتا، بالخصوص غیرمدخولہ کو بیک وقت دی گئی تین طلاق کوتین شمار کرنے کا فتویٰ ، جوکہ دیگر روایات سے الگ تھلگ ہے، اسی طرح طلاق البتہ کو تین طلاق قراردینا جو کہ سب سے بالکل ہی الگ چیز ہے۔
لہٰذا عبیداللہ نے نافع کے طریق سے ابن عمررضی اللہ عنہ کا جویہ فتویٰ نقل کیا ہے طلاق حیض شمار نہیں کی جائے گی ، اسے بھی الگ اور مستقل فتویٰ مانا جائے گا اور ابن عمر رضی اللہ عنہ سے یہ بھی ثابت مانا جائے گا۔
خلاصہ: دراصل طلاق سے متعلق ابن عمررضی اللہ عنہ کا دو فتویٰ ہے ایک یہ کہ طلاق بدعت واقع نہیں ہوگی ، مثلاً بیک وقت تین طلاق ایک ہی ہوگی ، اسی طرح حالت حیض میں دی گئی طلاق کا شمار نہیں ہوگا ۔یہی ان کا اصلی اور شرعی فتویٰ ہے ۔ لیکن ان کے والد نے جب طلاق بدعت کو بھی تعزیرا ًنافذ کرنے کا فرمان جاری کیا تو اس کی رعایت میں وہ طلاق بدعت کے وقوع کا فتویٰ دیتے ، یعنی بیک وقت تین طلاق کو تین بتلاتے اور طلاق حیض کو بھی شمار کرتے ۔ یہ ان کا اصلی فتویٰ نہیں تھا بلکہ سرکاری فرمان کے تحت سیاسی اور عارضی فتویٰ تھا ۔
اس طرح ان کے دونوں فتاویٰ میں کوئی تعارض نہیں رہ جاتا ہے ، بلکہ دونوں کے مابین اس طرح تطبیق ہوجاتی ہے کہ طلاق کے عدم وقوع کا فتویٰ ان کا اصل فتویٰ ہے ، جو ان کی روایت کردہ حدیث کے موافق ہے ، جبکہ وقوع طلاق کا فتویٰ مصلحت اور سیاسی ضرورت کے پیش نظر تھا جو عارضی اور وقتی تھا ۔ والحمدللہ
 
Top