ذیشان خان

Administrator
ہر ایک کے ساتھ علمی گفتگو علم کو ذلیل کرنا ہے

✍ کفایت اللہ السنابلی

ہر دور میں ایسے لوگ رہے ہیں جن کا کوئی علمی مقام نہیں ، لیکن ان کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ وہ علماء کے ساتھ بحث کریں ، اور آج کے دور میں تو ایسے لوگوں کی بڑی کثرت ہے بلکہ آج کے دور میں تو جسے عربی زبان تک نہیں آتی وہ بھی انٹر نیٹ اور سوشل میڈیا پر تھوڑا بہت پڑھ لینے کے بعد علماء سے مناقشہ اور بحث ومباحثہ کا شوق پالتا ہے ، بلکہ حد یہ ہوگئی ہے کہ ایک جاہل اور مزدور بھی یوٹیوب پر کچھ ویڈیوز دیکھ کر خود کو اس قابل سمجھ لیتا ہے کہ کسی عالم کو چیلنج کرسکے ۔ علماء کو چاہئے ایسے لوگوں سے دور رہیں اور ان کو قطعاً منہ نہ لگائیں ، ذیل میں اسی سلسلے میں اہل علم کے چند اقوال پیش خدمت ہیں:
امام مالک رحمہ اللہ (المتوفی:۱۷۹)نے کہا: ’’ من إہانۃ العلم أن تحدث کل من سألک ‘‘
’’ یہ علم کو ذلیل کرنا ہے کہ ہر شخص کے مطالبہ پر اس کے ساتھ علمی گفتگو شروع کردو‘‘[الجامع لأخلاق الراوی: ۱؍ ۲۰۵،وإسنادہ صحیح]
امام مالک رحمہ اللہ (المتوفی:۱۷۹)نے مزید کہا:
’’ إن من إذالۃ العالم أن یجیب کل من کلمہ، أو یجیب کل من سأل ‘‘
’’یہ عالم کی توہین ہے کہ وہ ہر اس شخص کا جواب دے جو اس کے ساتھ بحث کرنا چاہے ، یا ہر اس شخص کو جواب دے جو اس سے کچھ بھی سوال کر بیٹھے‘‘[الفقیہ والمتفقہ:۲؍۴۱۸،وإسنادہ حسن ]
امام مالک کے شاگرد امام شافعی رحمہ اللہ (المتوفی :۲۰۴)سے اسی سے ملتا جلتا قول منقول ہے:
’’ من إذالۃ العلم أن تناظر کل من ناظرک وتقاول کل من قاولک ‘‘
’’ یہ علم کو ذلیل کرنا ہے کہ ہروہ شخص جو آپ سے مناظرہ کرنا چاہے اس سے مناظرہ کرنے بیٹھ جائیں، یا ہر وہ شخص جو آپ سے بحث کرنا چاہے اس کے ساتھ بحث شروع کردیں‘‘[مناقب الشافعی للبیہقی:۲؍۱۵۱،وفی إسنادہ بعض من لم أجد لہم توثیقا]
امام شعبۃ بن الحجاج رحمہ اللہ (المتوفی:۱۶۰)فرماتے ہیں:
’’ رآنی الأعمش یوما وأنا أحدث قال:ویحک أو ویلک یا شعبۃ، لا تعلق الدر فی أعناق الخنازیر‘‘
’’مجھے امام اعمش رحمہ اللہ نے دیکھا میں کچھ لوگوں کو حدیث سنا رہا تھا تو امام اعمش نے کہا:شعبہ یہ کیا کررہے ہو! سور کی گردن میں موتیاں نہ پہناؤ‘‘[مسند ابن الجعد :ص:۱۲۹،وإسنادہ صحیح]
امام احمد رحمہ اللہ نے امام اعمش کے اس قول کی یہ تشریح کی ہے کہ’’نا اہلوں کے ساتھ علمی گفتگو نہ مت کرو ‘‘[الآداب الشرعیۃ لابن مفلح:۲؍۱۰۸]
علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’فما ینبغی لطلاب العلم أن یہتموا بنعیق کل ناعق، لأن ہذا باب لا یکاد ینتہی، کلما خطر فی بال أحدہم خاطرۃ وہو أجہل من أبی جہل فنحن نعتد بہ، ونرفع کلامہ من أرضہ، ونقیم لہ وزنا ومناقشۃ ومحاضرۃ وإلی آخرہ ‘‘
’’طلاب علم کے لئے یہ مناسب نہیں کہ وہ ہر ایرے غیرے شخص کی چیخ وپکار پرکان دھریں ، کیونکہ یہ سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوسکتا ، جاہلوں میں سے کسی کے دماغ میں جب بھی کوئی بات آئے اور وہ اسے بک دے جبکہ وہ خود ابو جہل سے بھی بڑا جاہل ہو ، اور ہم اس کی بات پردھیان دیں ، اسے نشر کریں ، اسے اہمیت دیں ، اس کا رد کریں اور اس پر بحث کریں ، یہ بالکل مناسب نہیں ‘‘[سلسلۃ الہدیٰ والنور:۸۶۰]
دکتور الشریف حاتم بن عارف العونی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
’’کثیرا ما یجادلنی شباب قلیلوا العلم ، وہم یظنون أن لدیہم معارف کافیۃ لیخالفوا ویناقشوا ۔فأحتمل ذلک منہم ، بل أفرح بہذہ الروح التی لا تقبل العبودیۃ الفکریۃ وترفض فرض الکہنوت علی العقول ۔لکن ہذا القبول والفرح ینتہی إذا تعالی الجاہلُ بجہلہ ، حتی ظنک دونہ فی العلم ، واستکثر علی نفسہ أن یستفید منک ‘‘
’’اکثر مجھ سے کم علم نوجوان بحث کرنا شروع کردیتے ہیں ، اور یہ سمجھ بیٹھتے ہیں کہ ان کے پاس اتنا علم ہوگیا ہے کہ وہ اختلاف کرسکیں اور مناقشہ کرسکیں ، میں ان کے اس طرزعمل کو برداشت کرلیتا ہوں ، بلکہ اس جذبہ پر خوشی ہوتی ہے کہ وہ فکری غلامی کوقبول نہیں کرتے اور ذہنوں پر احبار ورھبان کے تسلط کے قائل نہیں ۔ لیکن یہ برداشت اور خوشی اس وقت کافور ہوجاتی ہے جب جاہل اپنی جہالت کو لیکر تعلی پر اتارو ہوجاتا ہے حتیٰ کہ آپ کو کم علم باورکرنے لگتا ہے اور خود کو اس سے کہیں بالاتر سمجھتاہے کہ آپ سے استفادہ کرے‘‘ ( فیس بک پوسٹ)
شیخ ثناء اللہ ساگر تیمی حفظہ اللہ فرماتے ہیں:
’’جواب انہی باتوں کا دیجیے جن کا جواب نہ دینا فتنے کا باعث ہو جائے ورنہ اکثر خاموشی اور تجاہل عارفانہ سے کام لیجیے۔کچھ بد قماش اسی ادھیڑ بن میں لگے رہتے ہیں کہ وہ آپ کو جادہ مستقیم سے منحرف کر سکیں اور بے فائدہ قسم کے مباحثوں میں الجھا کر آپ کو انسانیت کے مقام رفعت سے حیوانیت کی پستی میں دھکیل دیں، یہ وہ لوگ ہیں جن کا کوئی کام نہیں، نٹھلے ہیں، اپنا ضمیر اور قلم بیچ کر اپنے شیطان پیٹ کی بھوک مٹاتے ہیں ‘‘(فیس بک پوسٹ)
 
Top