ذیشان خان

Administrator
صحیح مسلم کی ایک حدیث میں بعض مدرج الفاظ اور شوال کے روزوں سے متعلق بعض اہل علم کا اس سے استدلال

✍ کفایت اللہ السنابلی

امام مسلم رحمہ اللہ (المتوفی:۲۶۱)نے کہا:
حدثنا أحمد بن عبد اللّٰہ بن یونس، حدثنا زہیر، حدثنا یحیی بن سعید، عن أبی سلمۃ، قال: سمعت عائشۃ رضی اللّٰہ عنہا، تقول:’’کان یکون علی الصوم من رمضان، فما أستطیع أن أقضیہ إلا فی شعبان، الشغل من رسول اللّٰہ ﷺ، أو برسول اللّٰہ ﷺ‘‘
ابوسلمہ نے کہا:میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا وہ فرماتی تھیں کہ:’’ مجھ پر جو رمضان کے روزے قضا ہوتے تھے تو میں ان کو قضا نہ کر سکتی تھی مگر شعبان میں اور وجہ اس کی یہ تھی کہ میں مشغول ہوتی تھی رسول اللہ ﷺکی خدمت میں (اور فرصت نہ پاتی تھی)‘‘[صحیح مسلم:رقم:۱۱۴۶]
اس حدیث کے اخیر میں جو یہ الفاظ ہیں کہ: ’’الشغل من رسول اللّٰہ ﷺ، أو برسول اللّٰہ ﷺ‘‘
’’اور وجہ اس کی یہ تھی کہ میں مشغول ہوتی تھی رسول اللہ ﷺکی خدمت میں (اور فرصت نہ پاتی تھی)‘‘
انہیں الفاظ کے سبب بعض اہل علم نے اس حدیث سے یہ استدلال کیا ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نفلی روزے رکھتی ہی نہیں تھی ، پھر اسی بنیاد پر یہ اہل علم ان لوگوں پر رد کرتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ اس حدیث سے پتہ چلتاہے کہ رمضان کے قضاء والے روزوں سے پہلے شوال کے روزے رکھ سکتے ہیں ، چنانچہ شیخ بن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’فلا یظن بہا أن تصوم النوافل، وتؤخر الفرائض، ما دامت تفطر لأجل حاجۃ الرسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم إلی أہلہ، فکونہا تفطر فی النوافل من باب أولی‘‘
’’اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ امید نہیں کی جاسکتی کہ وہ فرض روزوں کو مؤخر کرکے نفل روزے رکھتی تھیں ، جبکہ فرض روزے وہ اس لئے چھوڑتی تھیں کہ اللہ کے نبی ﷺکو ان کی ضرورت پڑتی تھی ، لہٰذا وہ نفل روزوں کو بدرجۂ اولیٰ چھوڑتی ہوں گی‘‘[فتاویٰ نور علی الدرب لابن باز:۱۶؍۴۴۵]
عرض ہے کہ:
اس استدلال کی عمارت جن الفاظ پر کھڑی ہے وہ الفاظ اصل حدیث میں ثابت ہی نہیں ہیں نہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کے الفاظ سے نہ ہی ان کے کسی شاگرد کے الفاظ سے بلکہ یہ الفاظ نچلے راوی یحییٰ بن سعید کے ہیں جو انہوں نے اپنے گمان واندازے سے کہے ہیں ، چنانچہ صحیح بخاری میں صراحت ہے:
’’قال یحیٰی:الشغل من النبیﷺ‘‘
’’یحییٰ نے کہا کہ یہ نبی کریم ﷺکی خدمت میں مشغول رہنے کی وجہ سے تھا‘‘[صحیح البخاری:رقم:۱۹۵۰]
حافظ ابن حجررحمہ اللہ بخاری کی شرح میں فرماتے ہیں:
’’ووقع فی روایۃ مسلم المذکورۃ مدرجا لم یقل فیہ قال یحیی فصار کأنہ من کلام عائشۃ أو من روی عنہا‘‘
’’اورمسلم کی مذکورہ روایت میں یہ الفاظ مدرجا ًواقع ہوئے ہیں ان میں راوی نے یہ نہیں کہا کہ :ایسا یحییٰ نے کہا ہے ، جس سے ایسا لگتاہے کہ یہ کلام اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کا یا ان کے شاگرد کا ہے‘‘ [فتح الباری لابن حجر، ط المعرفۃ:۴؍۱۹۱]
امام ابن قیم رحمہ اللہ (المتوفی:۷۵۱)فرماتے ہیں:
’’ہذہ اللفظۃ مدرجۃ فی الحدیث من کلام یحیی بن سعید قد بین ذالک البخاری فی صحیحہ ‘‘
’’یہ الفاظ حدیث میں مدرج ہیں اور یہ یحییٰ بن سعید کا قول ہے ، اسے امام بخاری رحمہ اللہ نے اپنی صحیح میں بیان کردیا ہے‘‘[عون المعبود مع حاشیۃ ابن القیم:۷؍۲۴]
صاحب تحفۃ عبدالرحمن مبارکپوری رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’وہذہ الزیادۃ مدرجۃ من قول یحیی بن سعید الأنصاری کما بینہ الحافظ فی الفتح ‘‘
’’اور یہ اضافہ مدرج ہے جو یحییٰ بن سعید انصاری کا قول ہے جیساکہ حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے فتح الباری میں بیان کیا ہے‘‘[تحفۃ الأحوذی:۳؍۴۱۵]
علامہ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ’’وہی عند البخاری من قول یحییٰ بن سعید،فہی مدرجۃ ‘‘
’’اور بخاری میں ہے کہ یہ یحییٰ بن سعید کا قول ہے اس لئے یہ الفاظ مدرج ہیں‘‘[إرواء الغلیل،۴؍۹۸]
واضح رہے امام مسلم رحمہ اللہ اس بات سے غافل نہیں ہیں کہ یہ الفاظ مدرج ہیں بلکہ انہوں نے خود اس روایت کے بعد دیگر روایات نقل کرتے ہوئے ان الفاظ کے ادراج کو بہت اچھی طرح واضح کردیا ہے چنانچہ امام مسلم رحمہ اللہ مدرج والی روایت کے فوراً بعد کہتے ہیں:
’’وحدثنیہ محمد بن رافع، حدثنا عبد الرزاق، أخبرنا ابن جریج، حدثنی یحیی بن سعید، بہذا الإسناد، وقال:فظننت أن ذالک لمکانہا من النبی ﷺیحیی یقولہ۔وحدثنا محمد بن المثنی، حدثنا عبد الوہاب، ح وحدثنا عمرو الناقد، حدثنا سفیان، کلاہما عن یحیی بہذا الإسناد، ولم یذکرا فی الحدیث الشغل برسول اللّٰہ ﷺ‘‘
’’اور محمدبن رافع نے ہم کو اور ان کو عبدالرزاق نے اور ان کو ابن جریج نے اور ان کو یحییٰ بن سعید نے اسی سند سے بیان کیا اور اس میں یحییٰ بن سعید کے الفاظ ہیں:میراگمان ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺکی وجہ سے ایسا کرتی تھی ، یہ یحییٰ بن سعید ہی کا قول ہے ۔ اور ہم کو محمدبن مثنی نے اوران کو عبدالوھاب نے ، نیز ہم کو عمروالناقد نے اور ان کو سفیان نے بیان کیا، دونوں کو یحییٰ بن سعید نے اسی سند سے یہ روایت بیان کیا اور ان دونوں کی روایت میں نبی ﷺ کے ساتھ اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کی مشغولیت والے الفاظ نہیں ہیں‘‘[صحیح مسلم :۳؍۸۰۳]
ملاحظہ فرمائیں ! کہ کتنے واضح لفظوں میں امام مسلم رحمہ اللہ نے وضاحت فرمادی ہے کہ مشغولیت والے الفاظ اصل حدیث کا حصہ نہیں ہیں بلکہ امام یحییٰ بن سعید کا اپنا گمان ہے جیساکہ ان کا یہ صراحتاً بیان بھی امام مسلم نے نقل فرمادیا ہے۔
اور صحیح مسلم کی یہ اہم خوبی ہے کہ اس میں امام مسلم رحمہ اللہ علل وشذوذ وادراج وغیرہ کی طرف بھی اشارہ کردیتے ہیں جیساکہ انہوں نے مقدمہ میں صراحت بھی کی ہے۔
حافظ ابن حجررحمہ اللہ نے مزید تفصیل پیش کرتے ہوئے ان الفاظ کو مدرج ثابت کرنے کے بعد آخرمیں کہا:
’’وفی الحدیث دلالۃ علی جواز تأخیر قضاء رمضان مطلقا سواء کان لعذر أو لغیر عذر لأن الزیادۃ کما بیناہ مدرجۃ فلو لم تکن مدرجۃ لکان الجواز مقیدا بالضرورۃ‘‘
’’اس حدیث میں اس بات کی دلیل ہے کہ رمضان کے قضاء روزوں میں تاخیر کرنا مطلقاً جائز ہے چاہے کوئی عذر ہو یا نہ ہو ، کیونکہ مشغولیت والے الفاظ کا اضافہ مدرج ہے جیساکہ ہم نے بیان کردیا ہے ، اور اگر یہ الفاظ مدرج نہ ہوتے تو قضاء روزوں میں تاخیر کا مطلقاً جواز نہ ہوتا بلکہ اسے ضرورت کے ساتھ مقید کیا جاتا‘‘[فتح الباری لابن حجر، ط المعرفۃ:۴؍۱۹۱]
معلوم ہوا کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کی طرف سے تاخیر قضاء کو عذر سے مقید کرنا درست نہیں ہے۔
اور رہی یہ روایت:
عن عبد اللّٰہ البہی، عن عائشۃ قالت:’’ما کنت أقضی ما یکون علی من رمضان إلا فی شعبان، حتی توفی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم‘‘
عبداللہ البہی روایت کرتے ہیں کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا:’’میں رمضان کے قضاء روزے شعبان میں ہی مکمل کرتی تھی یہاں تک کی اللہ کے رسول ﷺکی وفات ہوگئی ‘‘[سنن الترمذی ت شاکر : رقم:۷۸۳]
تو یہ سیاق اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کے دوسرے شاگرد ابو سلمہ کے بیان کے خلاف ہے جوکہ کتب ستہ کے ثقہ شاگرد اور بہت بڑے امام ہیں ، جبکہ عبداللہ البہی کو امام ابوحاتم نے مضطرب الحدیث کہا ہے ۔[علل الحدیث لابن أبی حاتم: ۲؍۴۸]
مزید یہ کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے عبداللہ البہی کے سماع میں اختلاف ہے ، امام احمد، امام ابن مہدی، امام دارقطنی اور امام ابن ابی حاتم سماع کے قائل نہیں ہیں ۔[مسائل أحمد روایۃ أبی داؤد السجستانی:ص:۴۵۴، المراسیل لابن أبی حاتم ت الخضری:ص:۱۱۵، الإلزامات والتتبع للدارقطنی، ت دار الآثار:ص:۵۶۰، علل الحدیث لابن أبی حاتم:۲؍۴۸]
امام بخاری نے تاریخ میں سماع ذکر کیا ہے مگر تاریخ میں ان کے منہج کے مطابق ہر جگہ ان کا اثبات سماع مقصود نہیں ہوتا ، قدرے تفصیل ہماری یزید والی کتاب میں ہے، البتہ متعدد محدثین نے اس طریق پر صحت کا فیصلہ کیا ہے، واللہ اعلم۔
نیز روایت کے الفاظ میں عہد رسالت میں وفات رسول تک ایک فعل کی حکایت ہے جس سے نبی ﷺکے اقرار کی دلیل لینا مقصود ہے اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ بعد میں اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کا عمل بدل گیا ہو اور اگر بدل بھی گیا ہو تو یہ ایک اختیاری معاملہ ہوسکتا ہے یہ اس بات کی صریح دلیل نہیں کہ عہد رسالت والا معاملہ کسی عذر ہی کی بناپر تھا ۔
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ اس بات کی کوئی دلیل نہیں کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کا یہ عمل کسی عذر کی بنا پر تھا ، لہٰذا اس بنیاد پر یہ استدلال کرنا بھی غلط ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا اس دوران دیگر نفلی روزے بھی نہیں رکھتی تھی۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’لأن عائشۃ أخبرت أنہا کانت تقضی رمضان فی شعبان،ویبعد أن لا تکون تطوعت بیوم، مع أن النبی ﷺکان یصوم حتی یقال:لا یفطر،ویفطر حتی یقال:لا یصوم،وکان یصوم یوم عرفۃ وعاشوراء ،وکان یکثر صوم الاثنین والخمیس، وکان یصوم ثلاثۃ أیام من کل شہر‘‘
’’کیونکہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ کہا ہے کہ وہ شعبان میں رمضان کی قضاء کرتی تھیں ، اور یہ بات بہت بعید ہے کہ انہوں نے اس سے پہلے کسی دن بھی نفلی روزہ نہیں رکھا ، جبکہ اللہ کے نبی ﷺکثرت سے نفلی روزے رکھتے تھے ، یہاں تک کہ کہاجاتا کہ اب آپ روزہ رکھنا بند ہی نہیں کریں گے ، اور جب روزہ رکھنا بند کردیتے تو کہا جاتا اب آپ روزہ نہیں رکھیں گے ، نیز آپ ﷺعرفہ اور عاشوراء کا روزہ رکھتے تھے ، پیر اور جمعرات کا روزہ رکھتے تھے ، اور ہر ماہ میں تین دن کا روزہ رکھتے تھے‘‘[شرح العمدۃ لابن تیمیۃ :کتاب الصیام:۱؍۳۵۸]
اور ایک زبردست دلیل یہ بھی ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا سے اس دوران نفل روزے رکھنا ثابت بھی ہے چنانچہ قاسم بن محمد کہتے ہیں:
’’أن عائشۃ أم المؤمنین کانت تصوم یوم عرفۃ‘‘
’’اماں عائشہ رضی اللہ عنہا عرفہ کے دن کا روزہ رکھتی تھیں‘‘[موطأ مالک ت عبد الباقی : رقم:۱۳۳،وإسنادہ صحیح]
بلکہ بعض روایات سے اشارہ ملتاہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا عرفہ کے علاوہ دیگر نفلی روزے بھی رکھتی تھیں چنانچہ:
امام ابن أبی شیبۃ رحمہ اللہ (المتوفی:۲۳۵)نے کہا:
حدثنا غندر، عن شعبۃ، عن أبی قیس، عن ہزیل، عن مسروق، عن عائشۃ قالت:’’ما من السنۃ یوم أحب إلی أن أصومہ من یوم عرفۃ‘‘
’’اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ پورے سال میں عرفہ کے دن سے زیادہ پسندیدہ کوئی اوردن نہیں ہے جس میں میں روزہ رکھوں‘‘[مصنف ابن أبی شیبۃ، ت الشثری:۶؍۱۱۰،وإسنادہ صحیح وأخرجہ علی بن الجعد فی مسندہ :رقم:۵۲۷، والطبری فی تہذیب الآثار:۱؍۳۶۵، والبیہقی فی شعب الإیمان:۵؍۳۱۵،من طرق عن شعبہ بہ]
اس روایت سے اشارہ ملتا ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نہ صرف عرفہ کا روزہ رکھتی تھیں ، بلکہ دیگر نفلی روزے بھی کثرت سے رکھتی تھیں ، اور یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا عرفہ وغیرہ کا روزہ وفات رسول کے بعد رکھتی تھی کیونکہ وہ اس دن کے روزے کو سب سے زیادہ محبوب بتارہی ہیں پھر کیسے ممکن ہے کہ اس محبوب روزے کو عہد رسالت میں ترک کرتی ہوں ۔
لہٰذا ان روایات سے پتہ چلتا ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا رمضان کے قضاء والے روزے کو شعبان تک مؤخر کرتی تھی لیکن اس دوران وہ دیگر نفلی روزے رکھتی تھی ، بلکہ بعید نہیں رمضان کے قضاء روزوں میں تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی رہی ہو کہ وہ اس دوران نفلی روزے رکھتی تھی کیونکہ ان میں تاخیر کی گنجائش نہ تھی اس طرح قضاء والے روزے مؤخر ہوتے جاتے بالآخر شعبان میں ان کی بھی قضاء کرلیتیں ، واللہ اعلم۔
خلاصۂ کلام یہ کہ:
اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نبی ﷺکی خدمت کے سبب رمضان کے قضاء روزوں کو مکمل نہیں کرپاتی تھی ، لہٰذا اس بنیاد پر یہ کہنا بھی درست نہیں کہ وہ اس دوران دیگر نفلی روزے نہیں رکھتی تھی۔ لہٰذا جو اہل علم اماں عائشہ رضی اللہ عنہ کے اس طرزعمل سے یہ استدلال کرتے ہیں کہ قضاء روزوں سے پہلے نفلی روزے رکھے جاسکتے ہیں مثلاً شوال کے روزے ، تو یہ استدلال درست ہے ، واللہ اعلم۔
 
Top