ذیشان خان

Administrator
کیا صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت میں تیرہ رکعات صلاۃ اللیل کا بیان ہے؟

✍ کفایت اللہ السنابلی

بعض لوگ کہتے ہیں کہ صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کی روایت کے اندر تیرہ رکعات صلاۃ اللیل کا ذکر ہے لیکن درست نہیں ہے۔ تفصیل ملاحظہ ہو:
امام بخاری رحمہ اللہ (المتوفی:۲۵۶)نے کہا:
حدثنا سعید بن أبی مریم، أخبرنا محمد بن جعفر، قال:أخبرنی شریک بن عبد اللّٰہ بن أبی نمر، عن کریب، عن ابن عباس رضی اللّٰہ عنہما، قال:’’ بت عند خالتی میمونۃ، فتحدث رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم مع أہلہ ساعۃ، ثم رقد، فلما کان ثلث اللیل الآخر، قعد فنظر إلی السماء ، فقال:(إن فی خلق السموات والأرض واختلاف اللیل والنہار لآیات لأولی الألباب)، ثم قام فتوضأ واستن فصلی إحدی عشرۃ رکعۃ، ثم أذن بلال، فصلی رکعتین ثم خرج فصلی الصبح‘‘
ہم سے سعید بن ابی مریم نے بیان کیا، کہا ہم کو محمد بن جعفر نے خبر دی، کہا کہ مجھے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے خبر دی، انہیں کریب نے اور ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ:’’میں ایک رات اپنی خالہ (ام المؤمنین) میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر رہ گیا۔ پہلے رسول اللہ ﷺنے اپنی بیوی (میمونہ رضی اللہ عنہا)کے ساتھ تھوڑی دیر تک بات چیت کی پھر سو گئے۔ جب رات کا تیسرا حصہ باقی رہا تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور آسمان کی طرف نظر کی اور یہ آیت تلاوت کی (إن فی خلق السموات والأرض واختلاف اللیل والنہار لآیات لأولی الألباب) ’’بیشک آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور دن و رات کے مختلف ہونے میں عقلمندوں کے لیے (بڑی)نشانیاں ہیں‘‘ اس کے بعد آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور وضو کیا اور مسواک کی، پھر گیارہ رکعتیں پڑھیں۔ جب بلال رضی اللہ عنہ نے (فجر کی) اذان دی تو آپ نے دو رکعت (فجر کی سنت)پڑھی اور باہر مسجد میں تشریف لائے اور فجر کی نماز پڑھائی‘‘ [ صحیح البخاری:۶؍۴۱،رقم:۴۵۶۹ ]
اس حدیث کو بغور پڑھیں اور دیکھیں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس واقعہ میں پوری صراحت کے ساتھ نبی ﷺ کی رات کی نماز کی تعداد گیارہ رکعات بتلائی ہیں جیساکہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی یہی تعداد بتلائی ۔
لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہ سے یہی واقعہ دوسری احادیث میں منقول ہے اور اس میں رکعات کی تعداد تیرہ بتلائی گئی ہے، چنانچہ:
حدثنا عبد اللّٰہ بن مسلمۃ، عن مالک بن أنس، عن مخرمۃ بن سلیمان، عن کریب، أن ابن عباس أخبرہ:’’أنہ بات عند میمونۃ وہی خالتہ فاضطجعت فی عرض وسادۃ واضطجع رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم وأہلہ فی طولہا، فنام حتی انتصف اللیل – أو قریبا منہ – فاستیقظ یمسح النوم عن وجہہ، ثم قرأ عشر آیات من آل عمران، ثم قام رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم إلی شن معلقۃ، فتوضأ، فأحسن الوضوء ، ثم قام یصلی، فصنعت مثلہ، فقمت إلی جنبہ، فوضع یدہ الیمنی علی رأسی وأخذ بأذنی یفتلہا، ثم صلی رکعتین، ثم رکعتین ثم رکعتین، ثم رکعتین، ثم رکعتین، ثم رکعتین، ثم أوتر، ثم اضطجع حتی جاء ہ المؤذن، فقام، فصلی رکعتین، ثم خرج، فصلی الصبح‘‘
ہم سے عبداللہ بن مسلمہ نے بیان کیا، ان سے امام مالک نے بیان کیا، ان سے مخرمہ بن سلیمان نے بیان کیا، ان سے کریب نے اور انہیں عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خبر دی کہ:’’آپ ایک رات اپنی خالہ ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا کے یہاں سوئے (آپ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ)میں تکیہ کے عرض میں لیٹ گیا اور رسول اللہ ﷺ اور آپ کی بیوی لمبائی میں لیٹیں، آپ ﷺ سو گئے جب آدھی رات گزر گئی یا اس کے لگ بھگ تو آپ ﷺ بیدار ہوئے نیند کے اثر کو چہرہ مبارک پر ہاتھ پھیر کر آپ ﷺ نے دور کیا۔ اس کے بعد آل عمران کی دس آیتیں پڑھیں۔ پھر ایک پرانی مشک پانی کی بھری ہوئی لٹک رہی تھی۔ آپ ﷺاس کے پاس گئے اور اچھی طرح وضو کیا اور نماز کے لیے کھڑے ہو گئے۔ میں نے بھی ایسا ہی کیا۔ آپ ﷺ پیار سے اپنا داہنا ہاتھ میرے سر پررکھ کر اور میرا کان پکڑ کر اسے ملنے لگے۔ پھر آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت، پھر دو رکعت سب بارہ رکعتیں پھر ایک رکعت وتر پڑھ کر آپ ﷺ لیٹ گئے، یہاں تک کہ مؤذن صبح صادق کی اطلاع دینے آیا تو آپ ﷺ نے پھر کھڑے ہو کر دو رکعت سنت نماز پڑھی۔ پھر باہر تشریف لائے اور صبح کی نماز پڑھائی‘‘ [صحیح البخاری :۲؍۲۴،رقم :۹۹۲ ]
ملاحظہ فرمائیں دونوں احادیث کو ابن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد کریب نے ہی یبان کیا ہے اور دونوں میں رات گزارنے کا واقعہ ہے اس حدیث کے تمام طریق کو جمع کرنے کے بعد بھی یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ یہ ایک ہی واقعہ ہے ۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’والحاصل أن قصۃ مبیت بن عباس یغلب علی الظن عدم تعددہا‘‘
’’حاصل بحث یہ ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ کے رات گزارنے کے واقعہ سے متعلق غالب ظن یہی ہے کہ ایک ہی دفعہ کا واقعہ ہے‘‘ [ فتح الباری لابن حجر، ط السلفیۃ:۲؍۴۸۴ ]
لہٰذا جب ایک ہی واقعہ ہے کہ تو ایک ساتھ گیارہ رکعات یا تیرہ رکعات دونوں کی تعداد صحیح نہیں ہوسکتی اس لئے تطبیق دینا لازم ہے اور تطبیق کی صرف یہی صورت ہے کہ تیرہ رکعات والی حدیث کو اس بات پر محمول کیا جائے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اس میں سنت عشاء کو بھی شامل کرکے بیان کیا ہے۔
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے خوب بحث و تحقیق کے بعد بالآخر یہی رائے دی ہے کہ :
’’والمحقق من عدد صلاتہ فی تلک اللیلۃ إحدی عشرۃ وأما روایۃ ثلاث عشرۃ فیحتمل أن یکون منہا سنۃ العشاء ‘‘
’’اور محقق بات یہی ہے کہ اس رات آپ ﷺ کی نماز کی تعداد گیارہ رکعات ہی تھی اور جس روایت میں تیرہ رکعات کا بیان ہے اس میں احتمال ہے کہ سنت عشاء کو بھی شامل کرکے بیان کیا گیا ہے‘‘ [ فتح الباری لابن حجر، ط السلفیۃ:۲؍۴۸۴ ]
بلکہ صحیح بخاری ہی کی ایک روایت سے صاف معلوم ہوتاہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ان رکعات میں سنت عشاء کو بھی شامل کیا تھا۔ چنانچہ امام بخاری رحمہ اللہ (المتوفی:۲۵۶)نے کہا:
حدثنا آدم، قال:حدثنا شعبۃ، قال:حدثنا الحکم، قال:سمعت سعید بن جبیر، عن ابن عباس، قال:’’بت فی بیت خالتی میمونۃ بنت الحارث زوج النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم وکان النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم عندہا فی لیلتہا، فصلی النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم العشاء ، ثم جاء إلی منزلہ، فصلی أربع رکعات، ثم نام، ثم قام، ثم قال:نام الغلیم أو کلمۃ تشبہہا، ثم قام، فقمت عن یسارہ، فجعلنی عن یمینہ، فصلی خمس رکعات، ثم صلی رکعتین، ثم نام، حتی سمعت غطیطہ أو خطیطہ، ثم خرج إلی الصلاۃ‘‘
ہم سے آدم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم کو شعبہ نے خبر دی، ان کو حکم نے کہا کہ میں نے سعید بن جبیر سے سنا، وہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے نقل کرتے ہیں کہ:’’ایک رات میں نے اپنی خالہ میمونہ بنت الحارث رضی اللہ عنہا زوجہ نبی کریم ﷺ کے پاس گزاری اور نبی کریم ﷺ (اس دن)ان کی رات میں ان ہی کے گھر تھے۔ آپ ﷺ نے عشاء کی نماز مسجد میں پڑھی، پھر گھر تشریف لائے اور چار رکعت (نماز نفل)پڑھ کر آپ ﷺ سو گئے، پھر اٹھے اور فرمایا کہ (ابھی تک یہ)لڑکا سو رہا ہے یا اسی جیسا لفظ فرمایا۔ پھر آپ (نماز پڑھنے)کھڑے ہو گئے اور میں (بھی وضو کر کے)آپ کی بائیں جانب کھڑا ہو گیا۔ تو آپ ﷺ نے مجھے دائیں جانب (کھڑا)کر لیا، تب آپ ﷺ نے پانچ رکعت پڑھیں۔ پھر دو پڑھیں، پھر آپ ﷺ سو گئے۔ یہاں تک کہ میں نے آپ ﷺ کے خراٹے کی آواز سنی، پھر آپ کھڑے ہو کر نماز کے لیے (باہر)تشریف لے آئے‘‘ [ صحیح البخاری :۱؍۳۴،رقم :۱۱۷ ]
اس روایت میں غور کریں کہ عشاء کے بعد نبی ﷺ کے گھر پہنچتے ہی ابن عباس رضی اللہ عنہ چار رکعات پڑھنا بیان کررہے ہیں جو صاف دلیل ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیان کردہ تعداد میں سنت عشاء کو بھی شامل کیا ہے۔
ممکن ہے کوئی کہے کہ بخاری کی اس روایت میں کل چار اور پھر پانچ یعنی کل نو رکعات کا ذکر ہے ، اور اس نو میں بھی شروع کی دو رکعات سنت تھی، تو اصل قیام کی کل تعداد صرف سات ہوتی ہے !
توعرض ہے کہ اس روایت میں ابن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد سعید بن جبیر نے یا ان سے نیچے کسی راوی نے صرف ابتداء کی چار رکعات بشمول سنت عشاء بیان کی ہے اور پھر آخر میں خاص وترکی پانچ رکعات بیان کردی ہے اور اختصار کرتے ہوئے بیچ کی چار رکعات کا ذکر نہیں کیا ہے۔
اس کی دلیل یہ ہے کہ خود سعید بن جبیر نے ہی دوسری روایت میں درمیاں کی چار رکعات بھی بیان کردی ہے چنانچہ
امام نسائی رحمہ اللہ (المتوفی۳۰۳)نے کہا:
أخبرنی محمد بن علی بن میمون قال نا القعنبی قال ثنا عبد العزیز وہو بن محمد الدراوردی عن عبد المجید عن یحیی بن عباد عن سعید بن جبیر أن بن عباس حدثہ :’’أن عباس بن عبد المطلب بعثہ فی حاجۃ لہ إلی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم وکانت میمونۃ ابنۃ الحارث خالۃ بن عباس فدخل علیہا فوجد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم فی المسجد قال بن عباس فاضطجعت فی حجرتہا وجعلت أحصی کم یصلی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ و سلم فجاء وأنا مضطجع فی الحجرۃ بعد أن ذہب اللیل فقال أرقد الولید قال فتناول ملحفۃ علی میمونۃ فارتدی ببعضہا وعلیہا بعض ثم قام فصلی رکعتین رکعتین حتی صلی ثمانی رکعات ثم أوتر بخمس۔۔۔‘‘الخ
سعیدبن جبیر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہیں ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بتایا کہ:’’ عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک ضرورت کے تحت اللہ کے نبی ﷺ کے پاس بھیجا اور ام المؤمنین میمونہ رضی اللہ عنہا ابن عباس رضی اللہ عنہ کی خالہ تھیں ، تو ابن عباس رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے لیکن اس وقت نبی ﷺ مسجد میں تھے ، ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہاپھر میں ان کے کمرے میں لیٹ گیا اور ارادہ کیا کہ میں گنوں گا کہ نبی ﷺ کتنی رکعات پڑھتے ہیں ، تو نبی ﷺ رات کو تشریف لائے اور میں کمرے میں لیٹا ہوا تھا ، آپ ﷺ نے کہا بچہ سوگیا پھر آپ ﷺ میمونہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ لحاف میں سوگئے ، پھر آپ ﷺ بیدار ہوئے پھر دو دو رکعات یعنی چار رکعات پڑھیں یہاں تک کہ کل آٹھ رکعات ہوگئیں (یعنی گھرآتے ہی پہلے جو چار پڑھ چکے تھے ان کے ساتھ یہ کل آٹھ رکعات ہوئیں)، پھر آپ ﷺ نے پانچ رکعات وتر پڑھیں۔۔‘‘الخ [ سنن النسائی الکبریٰ:۱؍۴۲۴،رقم:۱۳۴۲،واسنادہ صحیح ]
اس روایت میں غور کریں کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سعیدبن جبیر ہی کی روایت میں پانچ رکعات وترسے قبل آٹھ رکعات کا بیان ہے، یعنی مذکورہ روایت میں درمیان کی جن چار رکعات کا ذکر نہیں تھا اس کا ذکر اس روایت میں آگیا ہے، جو دلیل ہے کہ مذکورہ روایت میں اختصار سے کام لیتے ہوئے صرف ابتداء کی چار رکعات اور آخر کی پانچ رکعات وتر کا ذکر ہے، اور درمیان کی مزید چار رکعات کا ذکر نہیں ہے ۔
جہاں تک اس آخری روایت(سنن النسائی الکبریٰ:۱۳۴۲)کے سیاق کی بات ہے تو اس سیاق میں بھی پہلی روایت (صحیح البخاری :۱۱۷)کے سیاق کی کوئی صریح مخالفت نہیں ہے کیونکہ اس آخری روایت کی توجیہ یہ ہے کہ نبی ﷺ کے گھر آتے ہی عشاء بعد فوراً ان چار رکعات کا تفصیلا ًذکر نہیں ہے، جس کا بیان اوپر کی حدیث میں ہے، لیکن رات میں اٹھنے کے بعد چار رکعات کا ذکر ہے اور پھر مجموعی تعداد آٹھ بتا دی گئی ، جس کا مطلب یہ نکلا کہ اس سے قبل کی چار رکعات کو شامل کرکے کل آٹھ رکعات کی تعداد بتائی گئی ، اس کے بعد پانچ رکعت وتر کا بیان ہوا۔
اس کی تائید اس بات سے ہوتی ہے کہ اوپر والی حدیث یعنی سعیدبن جبیر کی صحیح بخاری والی حدیث میں چار رکعت کی ادائیگی کے بعد نبی ﷺ نے یہ پوچھا کہ نام الغلیم ؟ یعنی کیا یہ بچہ سوگیا ؟
جبکہ اس دوسری روایت یعنی سنن نسائی والی روایت میں بھی یہ سوال ان الفاظ میں ہے:أرقد الولید ؟ کیا بچہ سوگیا؟ لیکن اس سوال سے پہلے نبی ﷺ کے سونے اورچاررکعت نماز پڑھنے کا ذکر نہیں ہے جس کا مطلب یہ نکلا کہ اس روایت میں شروع کی چار رکعات کا تفصیلاً ذکر نہیں ہے، لیکن درمیان کی چار رکعات ذکر کرتے وقت شروع کی چار رکعات بھی شمار کی گئی ہیں ۔
الغرض یہ کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کی دونوں روایات کو ملا کر نتیجہ یہ نکلا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے اپنی روایت میں بعض دفعہ عشاء کے بعد کی سنت کو بھی شمار کیا ہے اس لئے کل تیرہ رکعات کی تعداد بتلائی ہے ۔
اور جس روایت میں عشاء کی سنت کو شمار نہیں کیا اس میں کل گیارہ رکعات کی تعداد بتلائی ہے ، اس طرح نہ صرف یہ کہ عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کی تمام روایات میں تطبیق ہوجاتی ہے بلکہ یہ بھی ثابت ہوجاتا ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی اماں عائشہ رضی اللہ عنہا ہی کی طرح اصل صلاۃ اللیل کی کل گیارہ کی تعداد ہی بیان کی ہے۔
رہی بات یہ کہ صحیح بخاری میں ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کریب کی جو دوسری روایت ہے جس میں تیرہ رکعات کا ذکر ہے اس کا سیاق کہتا ہے کہ ساری رکعتیں آپ ﷺ نے آدھی رات کے بعد ایک ساتھ اداکی تھیں جس کا مطلب یہ ہوا کہ ساری رکعات آدھی رات کی بعد پڑھی گئی ہیں اور آدھی رات کے بعد پڑھی جانے والی رکعات میں سنت عشاء کی شمولیت بعید ہے ۔
تو عرض ہے کہ یہ سیاق اس دلالت پر صریح نہیں ہے جبکہ دوسری طرف ابن عباس رضی اللہ عنہ کے شاگرد سعیدبن جبیر کی روایت صحیح بخاری ہی سے اوپر درج کی جاچکی ہے جس میں پوری صراحت ہے کہ نبیﷺ عشاء کے بعد گھر آتے ہی چار رکعات پڑھ کر سوگئے تھے اور جب دوبارہ بیدار ہوئے تھے تو باقی ماندہ رکعات ہی پڑھی تھیں ۔
لہٰذا اس صریح روایت کے ہوتے ہوئے ابن عباس رضی اللہ عنہ سے کریب والی مجمل روایت کا یہی مفہوم طے ہوگا کہ اس میں اختصار کرتے ہوئے اجمالاً ایک ساتھ ہی ساری رکعات کا ذکرکردیا گیا ہے ،چنانچہ ابن حجر رحمہ اللہ اس بارے میں فرماتے ہیں:
’’فیمکن أن یحمل قولہ صلی رکعتین ثم رکعتین أی قبل أن ینام ویکون منہا سنۃ العشاء وقولہ ثم رکعتین إلخ أی بعد أن قام‘‘
’’ممکن ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے پہلے جو دو دو رکعت (یعنی چار رکعات)بیان کیا ہے، اسے سونے سے قبل کے وقت پر محمول کیا جائے جس میں سنت عشاء کا بھی بیان ہے، اور آگے جو دو دو رکعت کا بیان ہے (یعنی بقیہ نو رکعات تو)اسے سونے کے بعد کے وقت پر محمول کیا جائے‘‘ [ فتح الباری لابن حجر، ط السلفیۃ:۲؍۴۸۴ ]
یعنی اللہ کے نبی ﷺ نے الگ الگ وقت میں یہ رکعات پڑھی تھیں لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں ایک روایت میں ایک ساتھ آخر میں بیان کردیا ہے ۔
اس توجیہ سے الحمدللہ یہ اشکال جڑ سے ختم ہوجاتا ہے کہ آدھی رات کے بعد پڑھی جانی والی رکعات میں سنت عشاء کیسے شامل کرسکتے ہیں ۔کیونکہ ابتدائی چار رکعات آدھی رات سے قبل ہی پڑھی گئی تھیں لیکن ابن عباس رضی اللہ عنہ نے ایک روایت میں ساری رکعات کو ایک ساتھ مجملاً بیان کردیا ہے ۔
تاہم اگر یہ بھی فرض کرلیا جائے کہ نبی ﷺ نے آدھی رات کے بعد ہی سنت عشاء پڑھی تھی تو بھی اس میں کوئی اشکال نہیں ہے۔کیونکہ صحیحین ہی کی حدیث سے یہ بھی ثابت ہے کہ نبی ﷺ نے ظہر کے بعد کی سنت عصر کے بعد پڑھی ہے۔ دیکھئے : [ صحیح بخاری :رقم:۱۲۳۳،صحیح مسلم :رقم:۸۳۴ ]
لہٰذا جب نبی اکرم ﷺ کبھی کبھار ظہر کے بعد کی سنت عصرکے بعد ادا کرسکتے ہیں تو عشاء کے بعد کی سنت آدھی رات کے بعد کیوں نہیں پڑھ سکتے ؟
اس تفصیل سے بعض حضرات مثلاً طاہر گیاوی صاحب (العدد الصحیح ص:۲۵)کے اس اعتراض کی کوئی حیثیت نہیں رہ جاتی کہ آدھی رات کے بعد سنت عشاء کیسے پڑھی جاسکتی ہے؟
خلاصۂ کلام:
یہ کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بھی نبی اکرم ﷺ کی صلاۃ اللیل کی تعداد گیارہ رکعات ہی بتلائی جیساکہ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کا بھی یہی بیان ہے۔
 
Top