ذیشان خان

Administrator
کیا بیس (۲۰) رکعات تراویح قران سے ثابت ہے؟

✍کفایت اللہ السنابلی

بعض الناس نے اپنا یہ معمول بنالیا ہے کہ اپنے ہرمسئلہ پر اتفاق بلکہ اجماع کا دعوی کرتے پھرتے ہیں ،حتی کی ان مسائل میں بھی اجماع کا دعوی کربیٹھتے ہیں جن میں خود ان کے ہی اکابرین کی آراء مختلف ہوتی ہیں ، اسی طرح کچھ مسکین لوگ ایسے بھی ہیں جو اپنی ہربات کوقران سے ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں حتی کہ شخصیات کی مدح وذم کاثبوت بھی قران سے فراہم کردیتے ہیں ، چنانچہ بعض غریبوں پرجب یزیدبن معاویہ رحمہ اللہ کی مذمت کابھوت سوار ہوتا ہے تو ان کی مذمت قران سے ثابت کرنے لگ جاتے ہیں ،اس کے برخلاف جب ابوحنیفہ کی مدح میں مدہوش ہوتے اس مظلوم امام کی فضیلت قران سے ثابت کرنے بیٹھ جاتے ہیں ، کچھ اسی قسم کا کرتب جاء الحق نامی کتاب کے مولف مفتی احمدیار گجراتی نے بھی دکھایا ہے اوراپنی عظیم فقہاہت کا ثبوت دیتے قران مجید سے بیس رکعات تراویح کا ثبوت بھی ڈھونڈ نکالا۔

اس طرح کے لطیفے دیکھ کرہمیں سخت حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ اپنے آپ کومقلدکیونکرکہتے ہیں جبکہ اجتہادواستدال میں ایسا ملکہ رکھتے ہیں امام اعظم بھی شرماجائیں، ایک طرف تقلید کا دعوی اوردوسری طرف نہ صرف یہ کہ مفتی کے لقب پرقبضہ بلکہ افتاء واجتہاد میں ابوحنیفہ کو بھی مانت دے دینا سخت حیرت واستعجاب کاباعث ہے۔۔۔ابوالفوزان السنابلی۔

کچھ لوگوں نے بہت ہی عجیب وغریب دعوی کردیا اور وہ یہ قران مجیدسے (۲۰) رکعات تراویح کا ثبوت ملتا ہے ،

ملاحظہ ہو:

بریلویوں کے مفتی احمد یار گجراتی لکھتے ہیں:

’’ہم بفضلہ تعالی اس کا ثبوت قران پاک کی ترتیب احادیث صحیحہ اقوال علماء عقلی دلائل سے دیتے ہیں۔۔۔۔(آگے چل کرلکھتے ہیں) ۔۔۔ ۔۔دیکھنا یہ ہے قرانی رکوع کو رکوع کیوں کہتے ہیں کتب قرات سے معلوم ہوا کہ حضرت عمر اور عثمان رضی اللہ عنہما تراویح میں جس قدر قران پڑھ کر رکوع فرماتے تھے اس حصہ کا نام رکوع رکھا گیا ، چونکہ تراویح بیس رکعات پڑھی جاتی تھی اور ستائیسویں رمضان کو ختم ہوتا تھا اس لحاظ سے قران پاک کے کل پانچ سو چالیس رکوع ہونے چاہئے لیکن چونکہ ختم کے دن بعض رکعتوں میں چھوٹی چھوٹی دو سورتیں پڑھ لی جاتی تھیں اس لئے قران کریم کے پانچ سو ستاون رکوع ہوئے اگر تراویح اٹھ رکعت ہوتی تو رکوع دو سوسولہ ہونے چاہئے تھے ، قرآنی رکوعات کی تعداد بتارہی ہے کہ تراویح بیس رکعت چاہئے ، کیا کوئی وہابی صاحب آٹھ رکعت تراویح مان کر رکوعات قرانی کی وجہ بتاسکیں گے ؟ (جاء الحق : ۴۳۹).

مذکورہ بالا عبارت میں مفتی صاحب نے قران مجیدکے رکوعات سے بیس رکعات تراویح ثابت کی ہے ، اورعوام کو یہ تاثر دیا ہے کہ قران مجید سے بیس رکعات تراویح کاثبوت ملتا ہے ۔

مفتی صاحب نے اپنے استدلال کی عمارت اس بنیاد پر قائم کی ہے کہ عمربن الخطاب و عثمان رضی اللہ عنہما کے دور میں ایک ہی بار قران ختم ہوتا تھا اور ہررکعت میں ایک رکوع کی تلاوت کی جاتی تھی ۔

عرض ہے کہ ہمیں ان باتوں کا سرے سے کوئی ثبوت ملاہی نہیں کہ صحابہ تراویح میں صرف ایک بارقران ختم کرتے تھے اور ہر رکعت میں ایک رکوع کی تلاوت فرماتے تھے۔

البتہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ماہ میں قران کریم ختم کرنے کا عمومی حکم دیا ہے چنانچہ:

امام أبوداؤد رحمہ اللہ (المتوفی:275)نے کہا:

حدثنا سلیمان بن حرب ثنا حماد عن عطاء بن السائب عن أبیہ عن عبد اللہ بن عمرو قال : قال لی رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم ” صم من کل شہر ثلاثۃ أیام واقرأ القرآن فی شہر ” فناقصنی وناقصتہ فقال ” صم یوما وأفطر یوما ” قال عطاء واختلفنا عن أبی فقال بعضضنا سبعۃ أیام وقال بعضنا خمسا . (سنن أبی داود: 1/ 442 رقم 1389 واسنادہ صحیح)۔

صحابی رسول عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہر مہینہ میں تین روزے رکھا کر اور مہینہ بھر میں ایک قرآن ختم کیا کر، پھر روزوں کی تعداد اور ختم قرآن کی مدت میں میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان اختلاف ہوا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اچھا تو پھر ایک دن روزہ رکھ اور ایک دن چھوڑ دے، عطاء کہتے ہیں کہ میرے والد سے لوگوں نے روایت کرنے میں اختلاف کیا ہے بعض نے ختم قرآن کی آخری مدت سات دن بتائی اور بعض نے پانچ دن۔

لہٰذا ممکن ہے کہ صحابہ کرام ماہ رمضان میں کم از کم ایک بار ختم قران کا اہتام کرتے ہوں واللہ اعلم۔

لیکن جہاں تک مفتی صاحب کی دوسری بات ہے کہ ہررکعت میں ایک رکوع کی تلاوت ہوتی تھی تو یہ سفید جھوٹ ہے کیونکہ پہلی بات تو یہ کہ کسی بھی مستند روایت میں اس کا ثبوت نہیں بلکہ یہ مسلمہ بات ہے قران کی رکوعاتی تقسیم عہد صحابہ کے بعد کی ہے آج بھی عربوں کے یہاں قران کے جو عام نسخے ہیں ان میں رکوعات کا کوئی نام ونشان نہیں ہوتا اس لئے یہ دعوی قطعا غلط ہے کہ صحابہ ایک رکعت میں ایک رکوع پڑھتے تھے اوراسی لے اس مجموعہ آیات کا نام رکوع پڑا۔

دوسری بات یہ کہ صحیح روایت میں اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں ایک رکعت میں ایک رکوع میں شامل آیات سے زیادہ آیات کی تلاوت کرتے تھے مثلا سو یا ساٹھ یا پچاس یا تیس وغیرہ بلکہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے حکم سے ایک رکعت میں جنتی آیات پڑھی جاتی تھی اس سے متعلق مفتی صاحب کا اصول بروئے کار لائے جائے توثابت ہوگا قرانی آیات سے بیس رکعات تراویح کے بجائے آٹھ رکعات تراویح کا ثبوت ملتاہے۔

چنانچہ مفتی صاحب کی یہ بات ذہن میں رکھیں کی عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے دور میں صرف ایک بار قران ختم ہوتا وہ بھی کچھ دن قبل ، اب ذیل کی روایت ملاحظہ فرمائیں جس میں یہ ذکرہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے قراء کرام کو ایک ایک رکعت میں کتنی آیات پڑھنے کا حکم دیا تھا ، چنانچہ:

امام ابن أبی شیبۃ رحمہ اللہ (المتوفی: 235)نے کہا:

حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ، عَنْ عَاصِمٍ، عَنْ أَبِی عُثْمَانَ، قَالَ: دَعَا عُمَرُ الْقُرَّاء َ فِی رَمَضَانَ، فَأَمَرَ أَسْرَعَہُمْ قِرَاء َۃً أَنْ یَقْرَأَ ثَلَاثِینَ آیَۃً، وَالْوَسَطَ خَمْسًا وَعِشْرِینَ آیَۃً، وَالْبَطِیء َ عِشْرِینَ آیَۃً(مصنف ابن أبی شیبۃ: 2/ 162 رقم 7672 واسنادہ صحیح علی شرط الشیخین)۔

ابوعثمان النہدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے رمضان میں قراء کو بلایا اور تیزرفتار میں قرات کرنے والے کو حکم دیا کہ ایک رکعت میں تیس آیات پڑھے اور متوسط رفتار میں قرات کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ ایک رکعت میں پچیس آیات پڑھے اور سست رفتار میں قرات کرنے والے کو حکم دیا کہ وہ ایک رکعت میں بیس آیات پڑھے ۔

یہ روایت بخاری ومسلم کی شرط پر صحیح ہے اس صحیح روایت کے مطابق تینوں رفتار میں پڑھنے والے قراء اگر آٹھ رکعات تراویح پڑھیں گے تبھی رمضان میں صرف ایک بار قران ختم ہوگا نیز ر اختتام رمضان سے کچھ دن قبل ہی ختم ہوگا جیساکہ مفتی صاحب نے کہا:

’’اور ستائیسویں رمضان کو ختم ہوتا تھا ۔۔۔‘‘ (جاء الحق : ۴۳۹).

تفصیل ملاحظہ ہو:

تیزرفتار قاری کی قرات اور رکعات تراویح:

عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے تیزرفتار قاری کو ایک رکعات میں تیس (۳۰) آیات پڑھنے کاحکم دیا چنانچہ اگریہ قاری آٹھ رکعات میں تیس تیس آیات پڑھے گا تو ایک دن میں کل ۲۴۰ آیات پڑھی جائیں گی اور تیس دن میں ۷۲۰۰ آیات پڑھی جائیں گی، اورآخری دنوں میں آیات بہت مختصرہوتی ہیں اس لئے ظاہر ہے ان دنوں میں مزید آیات پڑھی جائیں گی ، اور قران میں کل ۶۲۳۶ آیات ہیں ۔

یعنی ہررکعت میں تیس آیات کی تلاوت کی جائے اوراسی طرح پورے ماہ تک آٹھ رکعات پڑھی جائے تو اس حساب سے رمضان میں کچھ دن قبل ایک بار قران ختم ہوجاتاہے جیساکہ مفتی صاحب کا دعوی ہے۔

متوسط رفتار قاری کی قرات اور رکعات تراویح:

عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے متوسط رفتار قاری کو ایک رکعات میں پچیس (۲۵) آیات پڑھنے کاحکم دیا چنانچہ اگریہ قاری آٹھ رکعات میں پچیس پچیس آیات پڑھے گا تو ایک دن میں کل ۲۰۰ آیات پڑھی جائیں گی اور تیس دن میں ۶۰۰۰ آیات پڑھی جائیں گی،اورآخری دنوں میں آیات بہت مختصرہوتی ہیں اس لئے ظاہر ہے ان دنوں میں مزید آیات پڑھی جائیں گی، اور قران میں کل ۶۲۳۶ آیات ہیں ۔

یعنی ہررکعت میں پچیس آیات کی تلاوت کی جائے اوراسی طرح پورے ماہ تک آٹھ رکعات پڑھی جائے تو اس حساب سے بھی رمضان میں کچھ دن قبل ایک بار قران ختم ہوجاتاہے جیساکہ مفتی صاحب کا دعوی ہے۔

سست رفتار قاری کی قرات اور رکعات تراویح:

عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے سست رفتار قاری کو ایک رکعات میں بیس (۲۰) آیات پڑھنے کاحکم دیا چنانچہ اگریہ قاری آٹھ رکعات میں پچیس پچیس آیات پڑھے گا تو ایک دن میں کل ۱۶۰ آیات پڑھی جائیں گی اور تیس دن میں ۴۸۰۰ آیات پڑھی جائیں گی،اورآخری دنوں میں آیات بہت مختصرہوتی ہیں اس لئے ظاہر ہے ان دونوں میں مزید آیات پڑھی جائیں گی، اور قران میں کل ۶۲۳۶ آیات ہیں ۔

یعنی ہررکعت میں پچیس آیات کی تلاوت کی جائے اوراسی طرح پورے ماہ تک آٹھ رکعات پڑھی جائے تو اس حساب سے بھی رمضان میں کچھ دن قبل ایک بار قران ختم ہوجاتاہے جیساکہ مفتی صاحب کا دعوی ہے۔

اس کے برخلاف اگراکیس رکعات پڑھی جائے تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے حکم کے مطابق تیزرفتار اور متوسط رفتار سے پڑھنے والے قاری کے یہاں دو بار قران مکمل ختم ہوجائے گا اورتیسری بار بھی شروع ہوجائے گا۔

اسی طرح سست رفتارپڑھنے والے کے یہاں ایک بار مکمل ختم ہونے کے ساتھ ساتھ دوسری بارنصف سے زائد حصہ پڑھا جائے گا ، جبکہ مفتی صاحب کا دعوی ہے کہ عمرفاروق رضی اللہ عنہ کے وور میں قران ایک ہی بارختم ہوتا تھا وہ بھی ماہ کے اختتام سے قبل ، ایسا اسی صورت میں ممکن ہے جب تراویح میں صرف آٹھ رکعات ہوں۔

اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ قرانی آیات یا رکوعات سے بیس رکعات تراویح کا قطعا ثبوت نہیں بلکہ اگر مفتی صحاب کے اصول پر بات کی جائے تو کہا جاسکتا ہے کہ قرآنی آیت سے آٹھ رکعات تراویح ہی کا ثبوت ملتاہے۔
 
Top