ذیشان خان

Administrator
احتجاج سے پہلے اصلاح عمل کی بات کرنے والے

✍ کفایت اللہ السنابلی

بعض علماء وقائدین ونام نہاد مصلحین اوردو نمبر کے متقیوں نے اپنی نااہلی اورناکارے پن پر پردہ ڈالنے ، اپنی ذمہ داری سے فراراور اپنی پٹتی عزت کو برقراررکھنے کے لئے یہ آسان سا فارمولہ اپنا رکھا ہے کہ ہرمشکل اور ہرمصیبت کو عذاب الہٰی کانام دے کر صرف اصلاح اعمال پر بات کرکے قصہ ختم کردیتے ہیں۔

ایسے بدبخت اور جعلی متقیان جب کبھی بیمار ہوں اورچھوٹی یا بڑی کسی بھی مرض میں گرفتار ہوں تو انہیں ڈاکٹروں کو اپنے قریب بھی نہیں پھٹکنے دینا چاہئے،اوراگر ان کا ایمان متزلزل ہوجائے تو تیمارداروں کو چاہئے کہ انہیں تلقین کریں کہ حضرات پہلے اپنے اعمال درست کرلیں پھر علاج ومعالجہ کرائیں۔

بعض کہتے ہیں کہ جنگ احد میں مسلمانو ں کی شکست یاان کا بھاری نقصان صرف اس لئے ہوا کہ انہوں نے اللہ کے نبی ﷺ کے ایک فرمان کی اطاعت نہیں کی ، لیکن یہ نہیں بھولنا چاہئے یہ فرمان نبوی، روزہ رکھنے یا تہجد پڑھنے کا نہیں تھا بلکہ تیر وکمان لے کردشمن کے ایک راستے کو بند کرنے کاتھا ۔

بداعمالی صرف اسی کانام نہیں ہے کہ آدمی روزہ نماز کی پابندی نہیں کرتا، بلکہ بداعمالی یہ بھی ہے کہ آدمی ظالم کو اس کے ظلم سے نہیں روکتا اوراس بابت نبی ﷺکے فرمان :’’اُنْصُرْ أَخَاكَ ظَالِمًا أَوْ مَظْلُومًا‘‘[بخاری۲۴۴۳] کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔

جس طرح ظلم ایک مصیبت ہے اسی طرح بیماری بھی ایک مصیبت ہے ، قرآن میں جن مصیبتوں کو ہاتھوں کے کرتوت کا نتیجہ کہا گیا ہے ان میں بیماری جیسی مصیبت بھی شامل ہے ،اور جب بیماری کے خاتمہ کے لئے صرف دعاواصلاح اعمال کی تلقین کافی نہیںہے بلکہ علاج ومعالجہ بھی ناگزیرہے ۔توٹھیک اسی طرح ظلم وبربریت سے بچاؤ کے لئے بھی دعاواعمال کے ساتھ ساتھ رفع ظلم کے لئے ہر ممکن اقدام کی سخت ضرورت ہے۔

افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جولوگ دوسروں کی انفرادی یا اجتماعی مصیبتوں کو عذاب الہٰی کہتے نہیں تھکتے ان کے خود کے پاؤں میں ایک کانٹا بھی چبھ جائے تو وہ ان کی نظر میں صرف منجانب اللہ ایک آزمائش اور آخرت میں درجات کی بلندی کا باعث ہی ہے ۔یہ طرزفکر نہ صرف منافقانہ ہے ، بلکہ ان یہود ونصاریٰ کے مزاج سے ہم آہنگ ہے جن کا دعویٰ قرآن نے یوں نقل کیا کہ : {نَحْنُ أَبْنَاء ُ اللّٰهِ وَأَحِبَّاؤُهُ}’’ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں)‘‘[۵/المائدہ:۱۸]

ضرورت اس بات کی ہے کہ ہمیں ذاتی ،انفرادی اوراجتماعی ہر سطح پر اچھے گمان ،اور مثبت سوچ سے کام لینا چاہئے، اور اللہ کے عذاب کا خوف بھی ہوناچاہئے نیزنیک اعمال اور اللہ سے تعلق ہر حال میں برقراررہنا چاہئے اور مصائب ومشکلات کے وقت ان میں اضافہ بھی ہونا چاہئے ، مگر بات یہیں ختم نہیں ہونی چاہے بلکہ مصیبتوں سے نجات کے لئے اقدامی حرکت بھی ہونی چاہئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ابوالفوزان سنابلی
 
Top