ذیشان خان

Administrator
مصافحہ کے بعد ”یغفر الله لنا ولکم“ کہنے کی شرعی حیثیت

✍ فاروق عبد اللہ نراین پوری


اسلام ایک ایسا مکمل دین ہے جس نے زندگی کے ہر شعبہ میں انسان کی مکمل رہنمائی کی اور روز مرہ پیش آنے والے زندگی کے مختلف امور کو عبادت وبندگی سے جوڑ دیا تاکہ انسان کسی وقت اللہ تعالی کے ذکر سے غافل نہ رہے اور وہ آخرت میں اس کی بلندی درجات کا سبب بنے۔
ان میں سے ایک بہت ہی مبارک عمل ملاقات کے وقت تحفۂ سلام پیش کرنا ہے ۔جس میں ایک شخص اپنے بھائی کے لیے سلامتی اور رحمت وبرکت کی دعا کرتا ہے ۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام کے وقت مصافحہ کرنے کی تعلیم بھی دی ہے اور اس کی فضیلت بیان کی ہے ۔آپ کا ارشاد ہے:
«مَا مِنْ مُسْلِمَيْنِ يَلْتَقِيَانِ فَيَتَصَافَحَانِ، إِلَّا غُفِرَ لَهُمَا قَبْلَ أَنْ يَتَفَرَّقَا»(جب دو مسلمان ملاقات کے وقت مصافحہ کرتے ہیں تو ان کے جدا ہونے سے پہلے ہی ان کو بخش دیا جاتا ہے)[سنن ابی داود،حدیث نمبر۵۲۱۲/ جامع ترمذى، حدیث نمبر۲۷۲۷/ سنن ابن ماجہ، حدیث نمبر۳۷۰۳۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے سلسلہ صحیحہ (۲/۵۶) حدیث نمبر (۵۲۵) میں اس کی تخریج کرتے ہوئے کہا ہے : ”یہ حدیث تمام طرق اور شاہد کی بنا پر صحیح یا کم از کم حسن درجے کی ہے“۔]
اور ایک دوسری حدیث میں ہے، براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ بِي وَأَخَذَ بِيَدِي، ثُمَّ قَالَ: يَا بَرَاءُ تَدْرِي لِأَيِّ شَيْءٍ أَخَذْتُ بِيَدِكَ؟ ، قَالَ: قُلْتُ: لَا يَا نَبِيَّ اللهِ، قَالَ: لَا يَلْقَى مُسْلِمٌ مُسْلِمًا فَيَبَشُّ بِهِ، وَيُرَحِّبُ بِهِ، وَيَأْخُذُ بِيَدِهِ إِلَّا تَنَاثَرَتِ الذُّنُوبُ بَيْنَهُمَا كَمَا يَتَنَاثَرُ وَرَقُ الشَّجَرِ [شعب الایمان:۱۱/۲۸۹، حدیث نمبر۸۵۵۵، اس کی سند حسن ہے]
(میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے مجھے مرحبا کہا اور میرا ہاتھ پکڑ کر فرمایا: اے براء تم جانتے ہو کہ میں نے کس وجہ سے تمھارا ہاتھ پکڑا ہے؟ میں نے کہا: نہیں اے اللہ کے نبی۔ آپ نے فرمایا: جب کوئی مسلمان کسی مسلمان سے ملاقات کرتا ہےاور اس سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملتا ہے، اس کو مرحبا کہتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑتا ہے تو دونوں کے گناہ اس طرح جھڑتے ہیں جس طرح درخت کے پتے جھڑتے ہیں)
تو اتنی عظیم فضیلت ہے سلام کے ساتھ مصافحہ کرنے کی کہ اللہ رب العزت ان کے جدا ہونے سے پہلے ہی ان کی مغفرت فرما دیتا ہے اور ان کے گناہوں کو درختوں کے پتوں کی طرح جھاڑ دیتا ہے۔
اس موقع پر بہت سارے حضرات کو ایک خاص ذکر کا وِرد کرتے ہوئے سنا جاتا ہے۔ وہ مصافحہ کے بعد کہتے ہیں : ”یغفر اللہ لنا ولکم“ جس میں وہ اپنےاور سامنے والے کے لیے اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کرتے ہیں۔
حدیث مذکور میں خندہ پیشانی کے ساتھ ملنے، مرحبا کہنے اورمصافحہ کرنے کا ذکر ہے۔ اور انھی امور کی فضیلت بیان کی گئی ہے۔اس موقع پر اللہ تعالی سے طلب مغفرت کی کوئی دعا نہیں سکھلائی گئی ہے۔
البتہ ”یغفر اللہ لنا ولکم“ کہنےکے لیے ایک حدیث بطور دلیل پیش کی جاتی ہے جو درج ذیل ہے:
براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
«إذا التقَى المُسْلِمان، فتصافحا، وحَمِدا الله عزَّ وجلَّ واستَغْفَرَاه، غُفر لهما» (جب دو مسلمان آپس میں ملاقات ہونے پر مصافحہ کرتے ہیں اور اللہ تعالی کی حمد وثنا اور اس سے مغفرت طلب کرتے ہیں تو ان دونوں کو بخش دیا جاتا ہے)
اس حدیث کو امام بخاری نے ”تاریخ کبیر“(۳/۳۹۶) میں، ابو داود نے ”سنن“(۷/۵۰۲، حدیث نمبر۵۲۱۱) میں، دولابی نے ”کنی“(۲/۴۷۸) میں، ابو یعلی نے ”مسند“(۳/۲۳۴، حدیث نمبر ۱۶۷۳) میں اور بیہقی نے ”شعب الایمان“(۱۱/۲۸۸، حدیث نمبر۸۵۵۴) و”سنن کبری“ (۷/۱۶۰) میں ”هشيم عن أبي بلج عن زيد بن أبي الشعثاء عن البراء بن عازب رضي الله عنه“ کے طریق سے مرفوعًا روایت کیا ہے۔
اس حدیث سے استدلال کیا جاتا ہے کہ اس میں مصافحہ کے بعد استغفار کی رہنمائی کی گئی ہے اس لیے مصافحہ کے بعد اس پر عمل کرتے ہوئے ”یغفر اللہ لنا ولکم“ کہنا چاہیے ۔
لیکن یہ حدیث درج ذیل اسباب کی بنا پر ضعیف ہے:
پہلی علت: براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت کرنے والے زید بن ابو الشعثاءمجہول ہیں۔ابن حبان کے علاوہ کسی دوسرے سے ان کی توثیق نہیں ملتی۔ابن حبان نے انھیں اپنی کتاب ”الثقات“ میں ذکر کیا ہے۔ جب کہ حافظ ذہبی نے کہا ہے کہ ان سے صرف ابو بلج نے روایت کیا ہے اور وہ غیر معروف ہیں۔ اورحافظ ابن حجر نے انھیں ”مقبول“ کہا ہے۔ ان کے مقبول کہنے کا مطلب ہوتا ہے کہ متابعت کی صورت میں مقبول ہیں ورنہ ”لین الحدیث“ ہیں ۔[الثقات لابن حبان (۴/۲۴۸)، ميزان الاعتدال (۲/۱۰۴)، تقريب التہذيب، ترجمہ نمبر(۲۱۴۱)]
اور یہاں کسی کی جانب سے ان کی متابعت نہ مل سکی۔
دوسری علت: اس کے اسناد میں اضطراب ہے۔
ابو بلج سے اس حدیث کو تین لوگوں نے روایت کیا ہے: (۱) ہشیم بن بشیر (۲) ابو عوانہ (۳) زہیر بن معاویہ
ان تینوں نے اس حدیث کو ابو بلج سے روایت کرتے وقت ابو بلج کے شیخ کے نام میں اختلاف کیا ہے، جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:
۱۔بعض روایتوں میں انھیں زید ابو الحکم یا ابو الحکم زید کہا گیا ہے۔ [السنن لابی داود، حدیث نمبر ۵۲۱۱، التاریخ الکبیر للبخاری۳/۳۹۶، الکنی للدولابی۲/۴۸۷، شعب الایمان للبیہقی۱۱/۲۸۹، حدیث نمبر ۸۵۵۴]
۲۔بعض روایتوں میں زید بن ابو الشعثاء ہے۔ [المسند لابی یعلی۳/۲۳۴، حدیث نمبر۱۶۷۳، شعب الایمان للبیہقی۱۱/۲۸۹، حدیث نمبر۸۵۵۴، السنن الکبری للبیہقی۷/۱۶۰]
۳۔بعض میں جابر بن زید ابو الشعثاء ہے۔ [عمل الیوم واللیلہ لابن السنی ص۱۲۷-۱۲۸، حدیث نمبر ۱۹۳]
۴۔بعض میں بغیر کسی نسبت کے فقط زید ہے۔ [التاریخ الکبیر للبخاری:۳/۳۹۶]
یہ تمام روایات ہشیم بن بشیر کی ہیں۔
۵۔بعض میں ابو الحکم ہے۔ [مصدر سابق]
۶۔بعض میں زیاد ابو الحکم البجلی ہے۔ [مسند الطیالسی، حدیث نمبر۷۸۷]
۷۔بعض میں علی ابو الحکم البصری ہے۔ [مصدر سابق، مسند احمد۳۰/۵۵۸، حدیث نمبر۱۸۵۹۴]
۸۔بعض میں صرف الحکم ہے، مگر یہ مردود ہے، کیونکہ اس سے روایت کرنے والا مجہول شخص ہے۔ چنانچہ ابن وہب کی الجامع (ص۲۷۷، حدیث نمبر۱۸۵) میں ہے:
”أخبرني أشهل بن حاتم، عن رجل، حدثه عن الحكم، عن البراء بن عازب“۔
امام بخاری نے ”التاریخ الکبیر“(۳/۳۹۶، ترجمہ نمبر۱۳۲۴) میں اس اضطراب کی طرف اشارہ کیا ہے، اور حافظ منذری نے ”الترغیب والترہیب“(۳/۲۹۰، حدیث نمبر۴۱۱۱) میں اس حدیث کو ذکر کرنے کے بعد کہا ہے: “وإسناد هذا الحديث فيه اضطراب”۔ (اور اس حدیث کے اسناد میں اضطراب ہے)
تیسری علت: اس حدیث کو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے اپنی ”مسند‘‘(۳۰/۵۵۷-۵۵۸، حدیث نمبر۱۸۵۹۴) میں ایک دوسرے طریق سے روایت کیا ہے۔ اس میں زید بن ابو الشعثاء کی جگہ ”ابو الحکم علی البصری“ ہے۔ اور اس کے اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے درمیان ”ابو بحر“ نامی ایک راوی کا واسطہ ہے۔ امام احمد فرماتے ہیں:
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو بَلْجٍ يَحْيَى بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو الْحَكَمِ عَلِيٌّ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَبِي بَحْرٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: أَيُّمَا مُسْلِمَيْنِ الْتَقَيَا، فَأَخَذَ أَحَدُهُمَا بِيَدِ صَاحِبِهِ، ثُمَّ حَمِدَا اللهَ، تَفَرَّقَا لَيْسَ بَيْنَهُمَا خَطِيئَةٌ
امام ابن ابی حاتم نے اس طریق سے اس حدیث کے متعلق اپنے والد امام ابو حاتم رازی سے سوال کیاتو انھوں نے جواب دیا:
قَدْ جَوَّد زهيرٌ هَذَا الحديثَ، وَلا أَعْلَمُ أَحَدًا جَوَّد كَتَجْوِيدِ زُهَيْرٍ هَذَا الْحَدِيثَ. قلتُ لأَبِي: هو محفوظٌ؟ قَالَ: زهيرٌ ثقة [علل الحديث لابن ابى حاتم۶/۶۴، سوال نمبر۲۳۱۸]
حافظ ذہبی نے ”میزان الاعتدال“(۲/۱۰۴، ترجمہ نمبر ۳۰۱۱) میں اس طریق کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے:قيل: بينه وبين البراء رجل۔
حافظ ابن حجر ”تعجیل المنفعہ“(۲/۲۸-۲۹) میں فرماتے ہیں:
وَخَالفهُم زُهَيْر بن مُعَاوِيَة، فَرَوَاهُ عَن أبي بلج، قَالَ: حَدثنِي عَليّ أَبُو الحكم، فَسَماهُ عليًّا، وَانْفَرَدَ بذلك، وَمن طَرِيقه أخرجه أَحْمد، وَخَالف زُهَيْر أَيْضًا فِي السَّنَد، فَأدْخل بَين أبي الحكم والبراء بن عَازِب رَاوِيًا وَهُوَ أَبُو بَحر(اور زہیر بن معاویہ نے ان کی مخالفت کی ہے اور اسے یوں روایت کیا ہے: ”عَن أبي بلج، قَالَ: حَدثنِي عَليّ أَبُو الحكم“۔ تو اس کا نام علی ذکر کیا ہے اور وہ اس میں منفرد ہیں۔ انھی کے طریق سے امام احمد نے روایت کیا ہے۔ زہیر نے اس کی سند میں یہ مخالفت بھی کی ہے کہ ابو الحکم اور براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے درمیان ایک راوی کو داخل کیا ہے اور وہ ابو بحر ہیں)
ابو بحر کو امام ابو حاتم رازی، حافظ ذہبی، علامہ حسینی اور حافظ ابن حجر رحمہم اللہ نے مجہول کہا ہے۔ [تعجیل المنفعہ (۲/۴۱۴)، المغني في الضعفاء (۲/۷۷۱) ترجمہ نمبر (۷۳۰۹)، الاكمال في ذكر من لہ روایۃ في مسند الامام احمد من الرجال سوى من ذكر في تهذيب الكمال للحسيني (۱/۴۸۹) ترجمہ نمبر (۱۰۳۵)، لسان الميزان (۹/۲۰) ترجمہ نمبر (۸۷۶۰)]
چوتھی علت: اس حدیث کو براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے زید بن ابو الشعثاء کے علاوہ کئی راویوں نے روایت کیا ہے مگر انھوں نے استغفار کا ذکر نہیں کیا ہے۔وہ ہیں:
(الف) ابو بحر:
مسند احمد کے حوالے سے اوپر ان کی حدیث گزر چکی ہے۔ اس میں استغفار کا ذکر نہیں ہے۔
(ب) ابو اسحاق السبیعی:
امام ابو داود نے ان کی حدیث روایت کی ہے۔فرماتے ہیں:
حدَّثنا أبو بكر بنُ أبي شيبةَ، حدَّثنا أبو خالدٍ وابنُ نُمير، عن الأجلحِ، عن أبي إسحاق عن البراء، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ما مِن مُسلِمَينِ يلتقيانِ، فيتصافحان، إلا غُفِر لهُما قبلَ أن يَفْتَرِقا۔ [سنن ابی داود:۷/۵۰۲، حدیث نمبر۵۲۱۲]
اس میں ابو اسحاق السبیعی مدلس ہیں اور انھوں نے عنعنہ سے روایت کیا ہے۔ [طبقات المدلسین: ص۴۲]
نیز وہ اختلاط کے بھی شکار ہو گئے تھے اور یہ معلوم نہ ہو سکا کہ اجلح بن عبد اللہ الکندی نے ان سے اختلاط سے پہلے سنا ہے یا بعد میں۔ [الكواكب النیرات، ص۳۴۱]
اس حدیث کے متعلق علامہ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا ہے: ”یہ حدیث تمام طرق اور شاہدکی بنا پر صحیح یا کم از کم حسن درجے کی ہے“۔ [سلسلۃ الاحادیث الصحیحہ:۲/۵۹، حدیث نمبر۵۲۵]
(ج) ابو العلاء بن الشخیر:
امام طبرانی نے ان کی حدیث روایت کی ہے، فرماتے ہیں:
حدثنا موسى بن زكريا، حدثنا الصلت بن مسعود الجحدري، حدثنا عمرو بن حمزة، حدثنا المنذر بن ثعلبة، حدثنا أبو العلاء بن الشخير، عن البراء بن عازب قال: لقيني رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخذ بيدي، فصافحني، فقلت: يا رسول الله، إن كنت أحسب المصافحة إلا في العجم. قال: «نحن أحق بالمصافحة منهم، ما من مسلمين يلتقيان فيأخذ أحدهما بيد صاحبه بمودة ونصيحة إلا ألقى الله ذنوبهما بينهما»[المعجم الاوسط:۸/۱۸۲]
اس کی سندمیں عمرو بن حمزہ قیسی بصری ضعیف یا مجہول ہیں۔ [میزان الاعتدال، لسان المیزان۴/۳۶۱، تعجیل المنفعہ۷۸۸]
(د) یزید بن براء بن عازب:
امام بیہقی نے ”شعب الایمان‘‘(۱۱/۲۸۹، حدیث نمبر۸۵۵۵) میں ان کی حدیث روایت کی ہے، فرماتے ہیں:
أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ يُوسُفَ، حدثنا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، قَالَ: الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ، قَالَ: حدثنا حُسْنُ بْنُ عَطِيَّةَ، قَالَ: حدثنا قَطَرِيٌّ الْخَشَّابُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ بِي وَأَخَذَ بِيَدِي، ثُمَّ قَالَ: يَا بَرَاءُ تَدْرِي لِأَيِّ شَيْءٍ أَخَذْتُ بِيَدِكَ؟ ، قَالَ: قُلْتُ: لَا يَا نَبِيَّ اللهِ، قَالَ: لَا يَلْقَى مُسْلِمٌ مُسْلِمًا فَيَبَشُّ بِهِ، وَيُرَحِّبُ بِهِ، وَيَأْخُذُ بِيَدِهِ إِلَّا تَنَاثَرَتِ الذُّنُوبُ بَيْنَهُمَا كَمَا يَتَنَاثَرُ وَرَقُ الشَّجَرِ
اس کی سند حسن ہے۔ محقق کتاب ڈاکٹر عبد العلی عبد الحمید حامد نے بھی اس کی سند کو حسن قرار دیا ہے۔
ان تمام روایتوں میں، خصوصا یزید بن براء بن عازب کی روایت میں استغفار کا ذکر نہ ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے یہ لفظ ثابت نہیں ہے۔
خلاصۂ کلام یہ کہ مذکورہ چاروں علتوں کی بنا پر حدیث براء بن عازب استغفار کے سیاق کے ساتھ ضعیف ہے، قابل عمل نہیں۔ علامہ البانی رحمہ اللہ نے ”سلسلۃ الاحادیث الضعیفہ“(حدیث نمبر۲۳۴۴) میں استغفار کے سیاق کے ساتھ اسے ضعیف کہا ہے۔
اور چونکہ دعائیں اور ذکر واذکار توقیفی ہیں، یعنی کسی کو ان میں کمی یا زیادتی کا کوئی اختیار نہیں، اس لیے مصافحہ کے بعد ”یغفر اللہ لنا ولکم“ کا اضافہ ایک غیر مشروع عمل ہے ۔ کیونکہ بلا شبہ یہ ایک ذکر ہے جسے ہم نے ایک خاص وقت کے ساتھ متعین کر لیا ہے ۔ جس کی کوئی صحیح دلیل نہیں ملتی ۔
شیخ الاسلام علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أما اتخاذ ورد غير شرعي واستنان ذكر غير شرعي فهذا مما ينهى عنه (کسی غیر شرعی ورد اورغیر شرعی ذکر کو سنت بنانے سے منع کیا گیا ہے) ۔ [مجموع الفتاوى،۲۲/۵۱۰-۵۱۱]
اور علامہ ابن عثیمین رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الضابط في الأذكار أو في غيرها من العبادات ما جاءت به السنة, فما جاءت به السنة فهو حق, وما لم تأت به السنة فهو بدعة، لأن الأصل في العبادات الحظر والمنع حتى يقوم الدليل على أنها مشروعة[لقاءات الباب المفتوح:۱/۲۷۶](اذکار اور دوسرے عبادات کا ضابطہ یہ ہےکہ جس پر سنت سے دلیل موجود ہو وہ سنت ہے اور جس پر سنت سے دلیل موجود نہ ہو وہ بدعت ہے ۔ اس لیے کہ عبادات میں اصل منع ہے یہاں تک کہ اس کی مشروعیت پر دلیل قائم ہو جائے)
اس لیے ملاقات کے وقت سنت پر عمل کرتے ہوئے مصافحہ کے ساتھ فقط ”السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ“ پر ہی اکتفا کرنا چاہیے اور اس کے بعد ”یغفر اللہ لنا ولکم“ کا اضافہ نہیں کرنا چاہیے۔
اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہم سب کو اسلام کی صحیح سمجھ عطا فرمائے اور اس کے احکام وفرامین پر کما حقہ عمل پیرا ہونےکی توفیق عطا فرمائے۔
 
Top