ذیشان خان

Administrator
فرض نماز کے وقت سنت پڑھنا
=================
تحریر: مقبول احمد سلفی
اسلام میں فرض کا درجہ سنت سے اوپر کا ہے جس کا واضح مطلب یہ نکلتا ہے کہ فرض نماز کے وقت سنت نہیں پڑھی جائے گی ۔ یہی آپ ﷺ کا واضح فرمان بھی ہے ۔
چند دلائل دیکھیں :
(1) عن أبی ھریرة قال قال رسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم:إذا أُقيمتِ الصلاةُ فلا صلاةَ إلا المكتوبةُ(صحيح مسلم:710)
ترجمہ: ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جب جماعت کھڑی ہو جائے (یعنی اقامت ہو جائے) پھر کوئی نماز نہیں سوائے نماز فرض کے یعنی وہی نماز جس کی تکبیر کہی جائے۔
یہ حدیث اپنے معنی اور مفہوم کے اعتبار سے بالکل واضح ،صاف اور عام ہے لہذا اس کا معنی بدلنا یا اس میں معنوی تحریف کرنایا اسے کسی وقت سے خاص کرنا کسی کے لئے جائز نہیں ہے ۔
ابن قدامہ رحمہ اللہ نے "اذا اقیمت الصلاۃ" کا معنی لکھا ہے کہ نفل کے ذریعہ فرض نماز سے غافل نہ ہوجائے چاہے ایک رکعت ملنے کا خوف ہو یا نہ ہو۔یہی بات حضرت ابو هريرة ،حضرت ابن عمر , عروة , ابن سيرين , سعيد بن جبير , امام شافعي , اسحاق اور ابو ثوررحمہم اللہ نے کہی ہے ۔(المغني:1/272)
ابن قدامہ نے ایک رکعت والی بات کا اشارہ امام ابوحنیفہ ؒ وغیرہم کی طرف کیا ہے ۔
امام صاحب کا کہنا ہے کہ جو شخص مسجد میں داخل ہو اور فجر کی نماز جاری ہو اگر اسے یہ امید ہو کہ وہ امام کے ساتھ صرف ایک رکعت پا لے گا اور دوسری رہ بھی جائے تو وہ فجر کی دو سنتیں ضرور پڑھ لے اور اس کے بعد وہ امام کے ساتھ مل جائے۔ (المحلی بالآثار:2/147)
(2) إذا أقيمتِ الصلاةُ فلا صلاةَ إلا المكتوبةَ ، قيل يا رسولَ اللهِ : ولا ركعتي الفجرِ ؟ قال : ولا ركعتي الفجرِ۔
ترجمہ : نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب نماز جماعت کھڑی ہو جائے تو پھر کوئی نماز نہیں مگر وہی فرض نماز (جس کے لیے تکبیر کہی گئی) صحابہ رضی اللہ عنہ میں سے کسی نے عرض کیا، یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا نہ پڑھیں دو رکعت سنت فجر کی بھی، آپ نے فرمایا نہ پڑھو دو رکعت سنت فجر کی بھی ۔
٭ حافظ ابن حجرؒ نے اس حدیث کو حسن قرار دیا ہے ۔(فتح الباري لابن حجر:2/174)
یہ حدیث اپنے معنی ومفہوم کے اعتبار سے اور بھی واضح ہے ۔
(3) أنَّ رسولَ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ مرَّ برجُلٍ يصلِّي . وقد أُقيمت صلاةُ الصبحِ . فكلَّمه بشيءٍ ، لا ندري ما هو . فلما انصرفْنا أَحطْنا نقول : ماذا قال لك رسولُ اللهِ صلَّى اللهُ عليه وسلَّمَ ؟ قال : قال لي " يوشِكُ أن يُصلِّيَ أحدُكم الصبحَ أربعًا " (صحيح مسلم:711)
ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسے آدمی کے پاس سے گذرے جونمازپڑھ رہاتھا جبکہ فجرکی نمازکی اقامت ہوچکی تھی پس آپ نے کچھ کہا مگر پتہ نہیں کیا کہا۔ جب ہم لوگ نماز سے فارغ ہوئے تو سارے اس شخص کے ارد گرد جمع ہو گئے اور پوچھ رہے تھے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نےتمہیں کیا کہا؟توانہوں نے کہاکہ نبی ﷺ نے فرمایا: کیا صبح کی چار رکعتیں ہو گئیں؟
یہ حدیث بتلاتی ہے کہ اقامت کے بعد کوئی نماز نہیں پڑھناچاہئے سوائے فرض کے کیونکہ نبی ﷺ نے اس صحابی کو منع کیا جو اقامت کے بعد بھی نماز پڑھ رہاتھا۔
(4) رأى النَّبيُّ صلَّى الله عليْهِ وسلَّمَ رجلاً يصلِّي بعدَ صلاةِ الصُّبحِ رَكعتينِ فقالَ النَّبيُّ صلَّى الله عليْهِ وسلَّمَ أصلاةَ الصُّبحِ مرَّتينِ فقالَ لَهُ الرَّجلُ إنِّي لم أَكن صلَّيتُ الرَّكعتينِ اللَّتينِ قبلَها فصلَّيتُهما , قالَ فسَكتَ النَّبيُّ صلَّى الله عليْهِ وسلَّم(صحيح ابن ماجه: 954)
ترجمہ :نبی ﷺ نے ایک آدمی کو فجر کی نماز کے بعد دو رکعت پڑھتے ہوئے دیکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: کیا فجرکی نماز دو مرتبہ ہے ؟ تو اس آدمی نے کہا کہ فجرکی نماز سے پہلی والی دو رکعت سنت نہیں پڑھ سکا تھا جسے ادا کیا ہوں۔تو آپ ﷺ خاموش ہوگئے ۔
یہ حدیث بتلائی ہے کہ جب کوئی مسجد میں اس وقت آئے جب فجر کی اقامت ہوگئی ہو یا فجر کی جماعت ہورہی ہو تو وہ جماعت میں شریک ہوجائے اور فرض پڑھنے کے بعد دو رکعت سنت ادا کرلے ۔
(5) مَن لم يصلِّ رَكْعتيِ الفجرِ فليُصلِّهما بعدَ ما تطلعُ الشَّمسُ(صحيح الترمذي: 423)
ترجمہ : نبی ﷺ کا فرمان ہے کہ جس نے فجر کی دو سنت نہ پڑھی ہو وہ سورج طلوع ہونے کے بعد پڑھ لے ۔
یہ صحیح حدیث بھی بتلاتی ہے کہ سنت چھوٹ جانے پہ طلوع شمس کے بعد اسے کرلے ،اس کا دوسرا مطلب یہ ہواکہ فرض چھوڑکے سنت نہ پڑھے ۔
فجر کی چھوٹی سنت کی ادائیگی فرض کے بعد ہی کرلے تو بہترہے تاکہ سستی سےیہ سنت رہ نہ جائے اور اگر سستی کا امکان نہ ہو تو طلوع شمس کے بعد بھی ادا کرسکتا ہے ۔
ان حادیث کے برخلاف بعض لوگوں کے یہاں اقامت ہونے کے بعد بھی یعنی فجر کی جماعت ہوتے وقت بھی فجر کی سنت پڑھنا جائزہے ۔
ان کے دلائل کا جائزہ ۔
پہلی دلیل : لا تدَعوهُما وإن طردَتكُمُ الخيلُ ( يعني ركعتي سُنَّةَ الفجرِ )(ابوداؤد)
ترجمہ : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فجر کی دو رکعت (سنت) نہ چھوڑو اگرچہ گھوڑوں سے تم کو روندیا جائے۔
اس حدیث سے یہ استدلال کیا جاتاہے کہ فجر کی سنت کی اتنی اہمیت ہے کہ اسے کسی بھی حال میں نہیں چھوڑی جائے گی چہ جائیکہ فجرکی جماعت قائم ہوگئی ہوجبکہ یہ روایت قابل استدلال نہیں ہے ۔ اسے شیخ البانی نے ضعیف قرار دیاہے ۔ (ضعيف أبي داود: 1258)
دوسری دلیل : إذا أُقيمَت الصَّلاةُ فلا صلاةَ إلَّا المكتوبةَ إلَّا ركعتَي الفجرِ(بیہقی)
ترجمہ:نبی ﷺنے فرمایا: جب نماز جماعت کھڑی ہو جائے تو سوائے نماز فرض کے اور کوئی نماز نہیں مگر دو رکعت سنت فجر۔
٭ اس روایت کے متعلق امام بیہقی خود ہی فرماتے ہیں کہ اس میں زیادتی کی کوئی اصل نہیں ہے ۔ (فوائد مجموعہ:24)
تیسری دلیل : من أدرك ركعة من الصلاة مع الإمام ، فقد أدرك الصلاة(صحيح مسلم:607)
ترجمہ: جس نے امام کے ساتھ ایک رکعت پالی تو اس نے نماز پالی ۔
اس حدیث سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ سنت فجر پڑھنے سے ایک رکعت بھی چھوٹ جائے تو کوئی حرج نہیں ۔
اولا نبی ﷺ کا حکم ہی اولی ہے اور آپ ﷺ کا فرمان ہے کہ جب اقامت ہوجائے تو کوئی نماز نہیں سوائے فرض نماز کے ۔
ثانیا: فرض نماز کا فوت ہونا مصلی کے لئے بہت خسارے کا باعث ہے گوکہ ایک رکعت ہی کیوں نہ ہو۔ حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ سے صحیح سند کے ساتھ روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
إن أحدكم ليصلي الصلاة وما فاته من وقتها أشد عليه من أهله وماله۔
ترجمہ : تم میں سے جس کسی کی نماز کا وقت فوت ہوجاتا ہے وہ اس کے اہل وعیال اور اس کی مال ودولت سے بھی سخت (خسارہ) ہے ۔
٭ اس حدیث کو ابن عبدالبر نے قوی السند بتلایا ہے ۔ (فتح البر4 / 167)۔
چوتھی دلیل : نهى عن الصلاةِ بعدَ الفجرِ حتى تَطلُعَ الشمسُ، وبعدَ العصرِ حتى تغرُبَ الشمسُ(صحيح البخاري:584)
ترجمہ : رسول اللہﷺ نے دو وقتوں میں نمازوں سے منع فرمایا۔ فجر کی نمازکے بعد یہاں تک کہ سورج نکل آئے اور عصر کی نماز کے بعد یہاں تک کہ سورج غروب ہوجائے۔
فجر کی سنت فجر کی نماز کے بعد پڑھنا حدیث سے ثابت ہے ، اس لئے فجر کی سنت پڑھ سکتے ہیں۔
پانچویں دلیل : عن ابن مسعود ، أنه دخل المسجد وقد أقيمت الصلاة فصلى إلى أسطوانة في المسجد ركعتي الفجر ثم دخل في الصلاة(رواه ابن أبي شيبة 2 \ 251)، وعبد الرزاق في مصنفه 2 \ 444 رقم 4021، وابن المنذر في الأوسط (5 \ 231) .​
ترجمہ : روایت کی جاتی ہے کہ حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ مسجد میں داخل ہوئے اس حال میں کہ نماز کے لئے اقامت ہوچکی تھی تو آپ نے مسجد مین ایک ستون کے قریب فجر کی دو سنتیں ادا فرمائیں پھر نماز میں شامل ہوئے۔
اس کے علاوہ بھی صحابہ کے بعض آثار ملتے ہیں ۔ ان تمام اثر کے متعلق یہ کہاجائے گا کہ ان صحابیوں کو نبی ﷺ کے اقامت کے بعد نماز نہ پڑھنے کی خبر نہیں تھی اگرہوتی تو صحابہ نبی ﷺ کے عمل کے خلاف عمل نہ کرتے ۔
صحابہ سے تو یہ ثابت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور ان کے بیٹے اقامت کے بعد سنت پڑھنے والے کو ماراکرتے ۔
بیہقی شریف کی روایت ہے :
إنه کان إذا رأی رجلاً یُصلّی وھو یسمع الاقامة ضرب۔
’یعنی حضرت عمررضی اللہ عنہ جب کسی آدمی کو دیکھتے کہ نماز پڑھتا ہے حالانکہ تکبیر سن چکا ہے تو آپ اس کو مارتے۔
یہ سزا خلیفہ کی طرف سے تعزیرا تھی ۔
اسی طرح بیہقی کی روایت ہے :
عن ابن عمر أنه أبصر رجلا يصلي الركعتين والمؤذن يقيم ، فحصبه۔( السنن الکبری للبیہقی: 4551)
ترجمہ: عبداللہ بن عمرؓ نے دیکھا ایک شخص کو کہ وقت اقامت مؤذن کے سنت فجر کی پڑھنےلگا تو اس کو کنکر مارا۔
خلاصہ کلام یہ ہے کہ فجر نماز کی اقامت ہوتے ہوئے، یا اقامت ہونے کے بعد یا فرض نماز کی جماعت ہوتے وقت نفل و سنت پڑھنا خلاف سنت ہے ۔
لہذا ان تمام لوگوں کا موقف غلط ہے جنہوں نے کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(1) اگر امام کے ساتھ فجر کی ایک رکعت پاسکتا ہو تو وہ سنت پڑھ لے ۔
(2) مسجد کے کسی کونے میں یا مسجد سے باہر فرض ہوتے وقت سنت ادا کرلے ۔
(3) فرض نماز کے وقت صرف فجر کی سنت پڑھنا جائز ہے بقیہ بقیہ سنت نہیں۔
(4) فرض کے وقت سنت پڑھنا صحابہ کا عمل ہے اس لئے یہ عمل سنت ہے ۔
میں تمام مسلمان بھائیوں سے گذارش کرتاہوں کہ ہمارے یہاں سنت رسول ﷺ کی صریخ خلاف ورزی ہورہی ہے لہذا اسے مضمون کو کثرت سے شیئر کریں تاکہ عوام تک یہ بات پہنچے اور اقوال رجال کو چھوڑکرسنت کو گلے لگائے۔
 
Top